Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1163

1163 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُنَّ حَدَّثْنَهُ، أَنَّ اللَّهَ دَلَّ نَبِيَّهُ عَلَى دَلِيلٍ، فَقَالَ لَهُنَّ: ادْلُلْنَنِي عَلَى مَا دَلَّ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ: «إِنَّ اللَّهَ دَلَّهُ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہیں امہات المومنین رضی اللہ عنہن نے بتایا کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی ایک دلیل کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔(عبداللہ ) نے ان سے کہا :آپ مجھے بھی اس بات کی راہنمائی کریں جس کی راہنمائی اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمائی ۔انہوں نے جواب دیا :اللہ تعالی نے رات کی عبادت پر ان کی راہنمائی کی ہے ۔۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُنَّ حَدَّثْنَهُ، أَنَّ اللَّهَ دَلَّ نَبِيَّهُ عَلَى دَلِيلٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1163

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1164

1164 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھاتا ہے اور اگر اس کی بیوی انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار دیتاہے اور اللہ تعالی اس خاتون پر رحم فرمائے جو رات کو عبادت کرتی ہے اور اپنے شوہر کو اٹھاتی ہے اگر شوہر اٹھنے سے انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Hadith 1164

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1165

1165 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُهُ؟ «كَانَ يُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي بِقَدْرِ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ» ، وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ «قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت یعلی بن مملک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام شلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کے وقت کی قرات کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : تمہیں کیا معلوم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نما کے متعلق ؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے ، پھر اتنی دیر آرام کرتے جتنی ندیر نماز پڑھی ، پھر جتنی دیر آرام کیا اتنی دیر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر نماز پڑھی ، اتنی دیر آرام کرتے ۔صبح صادق تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی معمول رہتا اور ام المومنین رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح قرات کر کے سنائی تو ایک ایک حرف الگ الگ کر کے واضح طور پڑھا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ، ← يَعَلَی بْنِ مَمْلَکٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ ← عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكه ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 1165

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1166

1166 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ «إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعَ صَوْتَهُ طَوْرًا، وَخَفَضَهُ طَوْرًا» ، وَكَانَ يَذْكُرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو خالد الوالبی کہتے ہیں :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب رات کو قیام کرتے تو کبھی بلند آواز ست تلاوت کیا کرتے اور کبھی آہستہ آواز سے اور آپ بتایا کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← أَبِي ← محمد بن أيوب أنبأ محمد بن عبد الله بن نمير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ

Hadith 1166

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1167

1167 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ كَانَ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: «كُلَّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا يَجْهَرُ، وَرُبَّمَا يُسِرُّ» . قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» شَاهِدٌ لِحَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ "

حضرت عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں : انہوں نےام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت قرات بلند آواز سے کرتے تھے یا آہستہ ؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : دونوں طرح ہی کیا کرتے تھے ، کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ (عبداللہ ) کہتے ہیں :میں نے کہا :شکر ہے اس پروردگار کا ، جس نے احکام میں وسعت رکھی ہے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یہ ابو خالد کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی شاہد ہے ۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1167

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1168

1168 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ. قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ؟» فَقَالَ: قَدْ أَسَمِعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ فَقَالَ: «مَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْتِسَبُ بِهِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، قَالَ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا» . وَقَالَ لِعُمَرَ: «اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو قتادہ سے روایت ہےکہ (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر کے پاس سے گزرے تو وہبہت آہستہ آواز میں تلاوت کر رہے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے (تو دیکھا ) وہ بہت بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے (حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : جب یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابو بکر ! میں تیرے پاس سے گزراتو تم بہت پست آواز میں نماز پڑھ رہے تھے ( اتین آہستہ کیوں پڑھتے ہو ؟) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کیا ( اس لئے کہ ) میں اسی کو سنا رہا ہوتا ہوں جس کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتاہوں ( اور اس کو سنانے کے لئے بلند آواز میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے )پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں تیرے قریب سے گزرا تو تم بہت بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے (کیوںِ؟)انہوں نے جواباً عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثواب کی نیت سے اور اونگھنے والوں کو بیدار کرنے کے لئے (ایسا کرتا ہوں )حضور نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز ذرا بلند کر لو اور عمر سے فرمایا :تم اپنی آواز کچھ پست کر لو ۔۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Hadith 1168

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1169

1169 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اعْتَكَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَقَالَ: «أَلَا كُلُّكُمْ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْنَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو سعید خدر ی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف کیا تو لوگوں نے سنا کہ وہ بلند آواز میں قراءت کر رہےتھے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ اٹھا کر فرمایا :خبردار!تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے ،اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف مت دو اور نماز میں بلند آواز سے قرات مت کرو ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 1169

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1170

1170 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَا: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ بِاللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى، وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ صَدَقَةً مِنْ رَبِّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا عَلَّلَاهُ بِتَوْقِيفٍ رُوِيَ عَنْ زَائِدَةَ «

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص سونے سے پہلے یہ ارادہ رکھتا ہو کہ وہ رات میں اٹھ کر عبادت کرے گا لیکن پھر اس پر نیند کا غلبہ ہو جائے(اور وہ اٹھ نہ سکے ) حتی کہ صبح ہو جائے، اس کو وہ ثواب دے دیا جائے گا جس کی اس نے (سونے سے پہلے )نیت کی تھی اور اس کی نیند اللہ کی طرف سے اس کے لئے تحفہ شمار ہو گی اور وہ نیند کے عوض صدقہ کا ثواب پائے گا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اور میرا یہ خیال ہے کہ شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اس کو اس وجہ سے معلل قرار دیا ہے کہ اس کو ایک سند میں زائد تک موقوف رکھا گیا ہے (جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے )

أَبِي الدَّرْدَاءِ،يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُلَیْمَانَ ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أبو كريب وموسى بن عبد الرحمن المسروقي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Hadith 1170

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1171

1171 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَهَذَا مِمَّا لَا يُوهِنُ فَإِنَّ» الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ أَقْدَمُ وَأَحْفَظُ وَأَعْرَفُ بِحَدِيثِ زَائِدَةَ مِنْ غَيْرِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ "

حضرت زائدہ نے اپنی سند کے ہمراہ مذکورہ قول حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ہے ۔ اس طرح کا ایفاف ، حدیث کو ضعیف نہیں کرتا کیونکہ حسین بن علی الجعفی ،زائدہ کی احادیث کو دوسرے راویوں کی بہ نسبت زیادہ جانتے تھے اور زیادہ حافظ اور دوسروں سے مقدم تھے (واللہ اعلم)

مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن النضر

Hadith 1171

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1172

1172 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، وَلَا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صرف جمعہ کا دن روزے کے لئے خاص مت کرو اور دیگر راتوں کو چھوڑ کر شب جمعہ کو عبادت کے لئے خاص مت کرو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُوسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Hadith 1172

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1173

1173 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا اللَّيْثُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ» كِلَا «الْإِسْنَادَيْنِ صَحِيحَانِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» فَشَوَاهِدُهَا كُلُّهَا صَحِيحَةٌ: فَمِنْهَا مُتَابَعَةُ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ وَمَكْحُولٍ الْفَقِيهِ وَالْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ "

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھے ، اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ، چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو بعد میں ، دو رکعتیں عصر سے پہلے ، دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دورکعتیں صبح سے پہلے ۔دو اسنادیں امام کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے ان کو نقل نہیں کیا اور ان کی تمام شاہد حدیثیں بھی صحیح ہیں ،شاہد حدیثوں میں نعمان بن سالم ،مکحول الفقیہہ اور مسیب بن رافع کی مرویات قابل ذکر ہیں ۔نعمان بن سالم کی حدیث :

رَسُولِ اللَّهِ ← أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← اللَّيْثُ ← شعيب بن الليث بن سعد ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1173

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1174

1174 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بنت ابو سفیان بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص بارہ سجدے نفلی پڑھے (یعنی بارہ رکعتیں ادا کرے ) اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا ۔ مکحول کی حدیث ۔

أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، ← عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← يزيد بن هارون أنبأ داود بن أبي هند ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 1174

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section