Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1062

1062 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِهُرَيْمِ بْنِ سُفْيَانَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ «وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مُوسَى فِي إِسْنَادِهِ، وَطَارِقُ بْنُ شِهَابٍ مِمَّنْ يُعَدُّ فِي الصَّحَابَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1062 - صحيح

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جمعہ جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے سوائے چار قسم کے لوگوں کے۔ (1) غلام۔ (2) عورت ۔ (3) بچہ۔ (4) مریض۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے جھریم بن سفیان کی روایات نقل کیں اور اسی حدیث کو ابن عینیہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے حوالے سے روایت کیا ہے لیکن اپنی اسناد میں ابو موسیٰ کا ذکر نہیں کیا۔ طارق بن شہاب کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عبيد بن محمد العجلي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 1062

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1063

1063 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ. فَقَالَ: «مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1063 - صحيح

حضرت عباس بن ابو رملہ شامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : میں معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو وہ زید بن ارقم سے پوچھ رہے تھے۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک دن میں اکٹھی دو عیدیں پائیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے عید کی نماز پڑھا دی اور جمعہ کی رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← اِسْرَائِیْلُ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 1063

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1064

1064 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثنا بَقِيَّةُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مِقْسَمٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ «فَإِنَّ بَقِيَّةَ بْنَ الْوَلِيدِ لَمْ يُخْتَلَفْ فِي صِدْقِهِ إِذَا رَوَى عَنِ الْمَشْهُورِينَ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَالْمُغِيرَةِ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكُلُّهُمْ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1064 - صحيح غريب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کے دن دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں جو چاہے (صرف عید پڑھ لے کہ یہی نماز) جمعہ کی جگہ پر بھی کفایت کرے گی جبکہ ہم لوگ تو دونوں نمازیں پڑھیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، بقیہ بن ولید جب مشہور محدثین رحمۃ اللہ علیہم سے روایت لیں تو ان کی صداقت میں کوئی اختلاف نہیں ہےاور یہ حدیث شعبہ ، مغیرہ اور عبدالعزیز کی سند کے لحاظ سے محفوظ ہے اوریہ تمام راوی وہ ہیں جن کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← الْمُغِيرَةِ بْنِ مِقْسَمٍ الضَّبِّيِّ، ← شُعْبَةُ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← محمد بن يحيى بن كثير الحمصي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 1064

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1065

1065 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، قَالَ: «قُمْ أَوِ اذْهَبْ فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1065 - على شرطهما

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خطبہ دیتے ہوئے کہا: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جو ان کی نا فرمانی کرے وہ گمراہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھ جایا (شاید یہ فرمایا) چلا جا کیونکہ تو برا خطیب ہے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ ← تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1065

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1066

1066 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِقْصَارِ الْخُطَبِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1066 - صحيح

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ مختصرکرنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے (شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِي رَاشِدٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← العلاء بن صالح ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 1066

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1067

1067 - حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِنَّمَا هُنَّ كَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن طویل وعظ نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کا وعظ چند مختصر کلمات پر مشتمل ہوتا تھا۔

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يُطِيلُ الْمَوْعِظَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِنَّمَا هُنَّ کَلِمَاتٌ يَسِيرَاتٌ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شيبان أبو معاوية ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← جعفر بن محمد بن الحارث

Hadith 1067

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1068

1068 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «احْضُرُوا الذِّكْرَ، وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ يَتَبَاعَدُ حَتَّى يُؤَخَّرَ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ دَخَلَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1068 - على شرط مسلم

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جمعہ کے دن) ذکر میں حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو، اس لئے کہ بندہ دور ہوتے ہوتے (اتنا دور ہو جاتا ہے کہ) جنت میں بھی دیر سے حاضر ہو گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 1068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1069

1069 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الْحِبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1069 - صحيح

حضرت معاذ بن انس جھنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ کے وقت حبوہ سے منع کیا (یعنی کسی کپڑے کے ساتھ پیٹھ اور پنڈلیوں کو ملا کر باندھنے سے منع کیا ہے)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أبو مرحوم ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1069

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1070

1070 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1070 - على شرطهما

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا: کہ آپ منبر سے نیچے اترتے ، کوئی شخص آپ کو اپنی حاجت پیش کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا کام پورا ہونے تک اس کے ساتھ کھڑے رہتے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَنْزِلُ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 1070

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1071

1071 - أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1071 - على شرطهما

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ' (ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرہ میں نماز پڑھائی اور لوگ حجرے سے باہر آپ کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← هُشَيْمٌ أنبا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← مخلد بن جعفر الباقرحي،

Hadith 1071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1072

1072 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ «إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ فَصَلَّى الْجُمُعَةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، فَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ» فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَلِمُسْلِمٍ وَحْدَهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا " وَقَدْ تَابَعَ ابْنُ جُرَيْجٍ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ عَطَاءٍ هَكَذَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1072 - على شرطهما

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ میں ہوتے ہیں(اور جمعہ پڑھنے کےلئے آتے ہیں) اور جمعہ پڑھتے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں اور چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب آپ مدینہ میں ہوتے ہیں تو صرف جمعہ پڑھ کر گھر لوٹ جاتے ہیں اور گھر آکر دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور مسجد میں (جمعہ کے بعد) نماز پڑھتے، آپ سے کہا گیا (کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواباً )کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری و اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے لفظ نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گھر میں دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق حدیث نقل کی ہے جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریح کی متابعت: اس حدیث کو عطاء سے روایت کرنے میں ابن جریج نے یزید بن ابو حبیب کی متابعت کی ہے (ابن جریج کی روایت درج ذیل ہے)۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبُرْدِيُّ،

Hadith 1072

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1073

1073 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ:، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ «يُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَتَقَدَّمُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ» ، قَالَ: «ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ» قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِرَارًا

حضرت عطاء فرماتے ہیں: کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جمعہ کے دن (نماز ) جمعہ پڑھتے دیکھا کہ وہ (نماز جمعہ پڑھنے کے بعد) اس جگہ سے جہاں آپ نے جمعہ پڑھا تھا تھوڑا سا آگے ہوئے اور دورکعتیں پڑھیں پھر تھوڑا سا آگے ہوئے اور چار رکعتیں پڑھیں (ابن جریج کہتے ہیں) میں نے عطاء سے پوچھا : تم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کتنی مرتبہ ایسے کرتا دیکھا۔ انہوں نےجواب دیا : کئی مرتبہ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ،

Hadith 1073

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section