Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1348

1348 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، وَأَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ إِلَى جِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا صَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ لِأَهْلِهَا: «شَأْنَكُمْ بِهَا» وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کسی جنازے کے لئے بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے، اگر لوگ اس کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا جنازہ پڑھا دیتے اور اگر لوگ اس کو برا بھلا کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر والوں سے کہہ دیتے کہ اس کا جنازہ تم خود پڑھ لو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا جنازہ نہ پڑھاتے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1348

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1349

1349 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " قَدْ كُنَّا مُقَدَّمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حُضِرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ، فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ، فَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ، فَفَعَلْنَا ذَلِكَ وَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ، فَرُبَّمَا انْصَرَفَ، وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ، فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا، ثُمَّ قُلْنَا لَوْ لَمْ يَشْخَصِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمَلْنَا جَنَازَتَنَا إِلَيْهِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عِنْدَ بَيْتِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَوْفَقَ بِهِ، فَفَعَلْنَا فَكَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عِنْدَ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ أَمْلَيْتُهُ فِيمَا مَضَى مُخْتَصَرًا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہوتے تھے، چنانچہ جب کسی کا آخری وقت آتا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دیتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے اور جب ہم لوگ وہاں پہنچتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جو لوگ ہمراہ ہوتے وہ واپس آ رہے ہوتے تھے۔ اور س کو دفن کر دیا جاتا تھا۔ اور کئی مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکفین و تدفین کے سلسلے میں بہت دیر تک انتظار کرنا پڑتا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس مشقت کا بہت احساس ہوا، ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں کسی کی روح قبض ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں بلانا چاہئے اور جب روح قبض ہو جائے تب آپ کو بلانا چاہیے تو اس میں آپ کو مشقت نہیں ہو گی اور انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا (اس کے بعد ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا کہ) کسی کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کو بلاتے تھے، تو آپ تشریف لا کر نماز جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے۔ پھر کئی مرتبہ آپ (جنازہ پڑھا کر) واپس آ جاتے اور کئی مرتبہ تدفین تک وہیں رہتے ، ایک عرصہ تک یہی سلسلہ جاری رہا۔ پھر ہم نے مشورہ کیاکہ اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ بلائیں بلکہ جنازہ اٹھا کر آپ کے پاس لے جائیں اور آپ اپنے گھر کے قریب ہی اس کا جنازہ پڑھا دیں تو زیادہ بہتر ہو گا پھر ہم نے ایسے ہی کرنا شروع کر دیا اور آج تک اسی پر عمل ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور میں نے گذشتہ صفحات میں یہ حدیث مختصراً بیان کر دی ہے۔

رُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ← اسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، ← قَدْ كُنَّا مُقَدَّمَ النَّبِيِّ إِذَا حُضِرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ فَحَضَرَهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1349

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1350

1350 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ «دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ تُوُفِّيَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فِي مَنْزِلِهِمْ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَاءَهُ وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَرَاءَ أَبِي طَلْحَةَ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَسُنَّةٌ غَرِيبَةٌ فِي إِبَاحَةِ صَلَاةِ النِّسَاءِ عَلَى الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمیر بن ابی طلحہ کے جنازے کے لئے بلایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور ان کے گھر میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی (نماز کے لئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے ہوئے، ان کے پیچھے ابو طلحہ تھے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ابو طلحہ کے پیچھے تھیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا اور یہ عورتوں کے لئے نماز جنازہ کے جواز میں سنت غریبہ ہے۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1350

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1351

1351 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَا: ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ» ، فَكَفَّنَهُ فِي نَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا خُمِّرَتْ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، فَخُمِّرَ رَأْسُهُ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ، وَقَالَ: «أَنَا شَاهِدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ» ، وَكَانَ يَجْمَعُ الثَّلَاثَةَ وَالِاثْنَيْنِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَيَسْأَلُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا؟» فَيُقَدِّمُهُ فِي اللَّحْدِ، وَكَفَّنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے اعضاء کاٹ کر آپ کا مثلہ (چہرہ بگاڑنے کومثلہ کہتے ہیں) کر دیا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر حضرت صفیہ کی پریشانی کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو اسی طرح چھوڑ دیتا تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے اٹھاتا، ان کو اون کی دھاری دھار چادر میں کفن دیا گیا (جو اتنی چھوٹی تھی کہ) ج ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جات تو سر ننگا ہو جاتا، چنانچہ ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے علاوہ شہدائے بدر میں سے اور کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج میں تمہارے اوپر گواہ وہ اور (اس دن) ایک ایک قبر میں دو دو ،تین تین (صحابہ کرام) کو دفن کیا گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھ لیتے اور ان میں سے جو صحابی قرآن کا زیادہ قاری ہوتا لحد میں اسکو آگے کی طرف لٹایا جاتا اور دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا جاتا۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1351

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1352

1352 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ: «أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ وَحْدَهُ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ الْأَلْفَاظُ الْمَجْمُوعَةُ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ " قَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ» وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے شہداء کو غسل نہیں دیا گیا اور انہیں "خون" سمیت دفن کیا گیا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اس میں وہ الفاظ موجود نہیں ہیں جس کو زہری سے روایت کرنے میں اسامہ بن زید لیثی منفرد ہیں جب کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے لیس بن سعد کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے یزید بن ابی حبیب کے ذریعے ابو الخیر کے حوالے سے عقبہ بن عامر جھنی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء احد کی اسی طرح نماز جنازہ پڑھی جس طرح کسی (عام) میت کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1352

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1353

1353 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً، فِي شَوَّالٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثَبْتٌ مَأْمُونٌ إِذَا أَسْنَدَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ لَا يُعَلَّلُ بِأَحَدٍ إِذَا أَوْقَفَهُ شُعْبَةُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میت کو قبر میں رکھو تو "بسم اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ "پڑھا کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کےمطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ہمام بن یحییٰ قابل اعتماد ہیں اور مامون ہیں۔ اس طرح کی کسی حدیث کو جب مسند کر دیا جائے تو اس کو کسی ایسی حدیث کے ساتھ معلل نہیں کر سکتے جس کو شعبہ نے موقوف کیا ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هشام بن علي السدوسي، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1353

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1354

1354 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ " إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي قَبْرِهِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ " حَدِيثُ الْبَيَاضِيِّ وَهُوَ مَشْهُورٌ فِي الصَّحَابَةِ شَاهِدٌ لِحَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ مُسْنَدًا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ میت کو قبر میں اتارتے تو "بسم اللہ وعلیٰ سنۃ رسو اللہ " پڑھتے۔ ہمام نے قتادہ سے جو حدیث مسندً ا روایت کی ہے، اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ بیاضی سے مروی ہے اور بیاضی مشہور صحابی رضی اللہ عنہم ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1354

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1355

1355 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ مَوْلَى الْغِفَارِيِّينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَيَاضِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي قَبْرِهِ فَلْيَقُلِ الَّذِينَ يَضَعُونَهُ حِينَ يُوضَعُ فِي اللَّحْدِ: بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

حضرت بیاضی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میت کو قبر میں اتارا جائے تو اتارنے والے اتارتے وقت" بسم اللہ وباللہ ، وعلیٰ ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" پڑھیں۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← البياضي ← أَبِي حَازِمٍ مَوْلَى الْغِفَارِيِّينَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَابْنُ بُكَيْرٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1355

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1356

1356 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: «قَبْرُ مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: فُلَانٌ الْحَبَشِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى تُرْبَتِهِ الَّتِي مِنْهَا خُلِقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ هُوَ عَمُّ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، وَأُنَيْسٌ ثِقَةٌ مُعْتَمِدٌ» وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ، وَأَكْثَرُهَا صَحِيحَةٌ مِنْهَا "

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس (رکھی ہوئی)ایک میت کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا، یہ کس کی قبر ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ فلاں حبشی کی قبر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اللہ کی زمین اور آسمان سے اس کو اس مٹی کی طرف بھیج دیا گیا ہے جس سے اس کو پیدا کیا گیا ہے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا اور انیس بن یحییٰ اسلمی، ابراہیم بن ابی یحییٰ کے چچا ہیں اور انیس ثقہ اور معتمد راوی ہیں۔ اور اس حدیث کی متعدد شواہد حدیثیں موجود ہیں،جن میں سے اکثر صحیح ہیں ، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

مَرَّ النَّبِيُّ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ: «قَبْرُ مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: فُلَانٌ الْحَبَشِيُّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← أَنَسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، ← عَبْدُ الْعَزِيرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1356

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1357

1357 - مَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ بَشَّارٍ الْخَيَّاطُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا أَوْ بِهَا حَاجَةً»

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کسی مخصوص جگہ پر روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہاں اس کی کوئی ضرورت رکھ دیتا ہے۔

جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ← الْحَسَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← الْحُسَيْنُ بْنُ بَشَّارٍ الْخَيَّاطُ، ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1357

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1358

1358 [ص:522] مَا أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ الْعَدْلُ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحِمْصِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَتْ مَنِيَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أُتِيحَتْ لَهُ الْحَاجَةُ، فَيَقْصِدُ إِلَيْهَا فَيَكُونُ أَقْصَى أَثَرٍ مِنْهُ فَيُقْبَضُ رُوحُهُ فِيهَا، فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي " وَمِنْهَا:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کی موت کسی مخصوص جگہ پر لکھی جاتی ہے تو اس کے لئے وہاں پر کوئی ضرورت ڈال دیتی ہے، آدمی اس کے ارادے سے وہاں جاتا ہے، جب وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے تو وہاں پر اس کی روح کو قبض کر لیا جاتا ہے، اس لئے قیامت کے دن زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ ہے وہ امانت جو تونے میرے سپرد کی تھی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحِمْصِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ الْعَدْلُ، بِمَكَّةَ، ← [ص:1066] مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1358

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1359

1359 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جُعِلَ أَجَلُ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ إِلَّا جُعِلَتْ لَهُ فِيهَا حَاجَةٌ» وَمِنْهَا:

حضرت مطر بن عکاس عبدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ انسان کی موت جس مقام پر لکھتا ہے، اس کے لئے وہاں پر کوئی ضرورت رکھ دیتا ہے۔

مطر بن عكامس العبدى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى الباشاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1359

chevron_left Previous
1…8910…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section