Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1313

1313 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ: «الْمَاشِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ، وَالرَّاكِبُ خَلْفَهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :پیدل چلنے والا ، جنازہ کے آگے ہو اور سوار پیچھے ہو اور بچے کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أبيه جبير بن حية، ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1313

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1314

1314 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ، فَأَبَى أَنْ يَرْكَبُهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا» ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، فَلَمَّا ذَهَبُوا - أَوْ قَالَ: عَرَجُوا - رَكِبْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِلَفْظٍ أَشْفَى مِنْ هَذَا»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ کے ہمراہ چلے تو آپ کی خدمت میں سواری پیش کی گئی ، لیکن آپ نے اس پر وار ہونے سے انکار کر دیا پھر جب جنازہ سے فارغ ہو کر واپس پلٹے تو دوبارہ سواری پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جنازہ کے ہمراہ ) فرشتے چل رہے تھے ۔ میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ملائکہ چل رہے ہوں اور میں سواری پر بیٹھوں پھر جب فرشتے چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اس سے بھی زیادہ جامع الفاظ میں اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے )

ثَوْبَانَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1314

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1315

1315 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا» ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْتَحْيُونَ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازے کے ہمراہ تشریف لے جا رہے تھے کہ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سواریوں پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں حیا نہیں ہے ؟ اللہ کے فرشتے تمہارے قدموں کے برابر ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر چڑھے ہو ئے ہو ۔

خرج رسول الله في جنازة فرأى ناسا ركبانا ← ثَوْبَانَ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عيسى بن يونس ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَفَّافُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1315

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1316

1316 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحُوشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مَعَ الْجِنَازَةِ لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى يُرْفَعَ أَوْ يُوضَعَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ہمراہ جاتے تو جب تک اس کو کندھوں سے اتار کر رکھ نہیں دیا جاتا تھا ، آپ بیٹھتے نہیں تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو الْحَوْشِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1316

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1317

1317 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اتَّبَعْتُمْ جِنَازَةً فَلَا تَقْعُدُوا حَتَّى تُوضَعَ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ «مَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ» ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ ذَاكَ الزِّيَادَةُ الدَّفْنُ وَغَيْرُهُ "

حضڑت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب تم کسی جنازہ میں کے ساتھ جاؤ تو اس وقت تک مت بیٹھو ، جب تک جنازہ (کندھوں سےاتار کت نیچے ) نہ رکھ دیا جائے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عامر بن ربیعہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : جو شخص جنازہ کے ہمراہ چلے وہ اس وقت تک مت بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے ۔ اور ذیل میں ایک حدیث پیش کی جا رہی ہے ، جس میں دفن وغیرہ کے الفاظ بھی موجود ہیں جو کہ گزشتہ حدیث کے الفاظ سے زائد ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1317

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1318

1318 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ وَقَفَ حَتَّى تَمُرَّ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَيْسَ هَذَا مَتْنُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْمَتْنَ فِي تَشْيِيعِ الْجِنَازَةِ، وَهَذَا فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ عَلَى كَثْرَةِ اخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ»

حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جب کوئی جنازہ گزرتا تو جب تک وہ گزرتا رہتا آپ کھڑے رہتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی عامر بن ربیعہ سے روایت کی گئی حدیث کا متن یہ نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ متن جنازہ کے ہمراہ چلنے کے متعلق ہے اور یہ جنازہ کے لئے قیام کا ہے اور اس میں روایات کا بہت زیادہ اختلاف ہے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ← أبو أحمد بن أبي الحسن الدارمي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1318

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1319

1319 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الزَّاهِدُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ الزَّاهِدُ، وَأَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ جِنَازَةً صَلَّى عَلَيْهَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَذَهَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَعَ مَرْوَانَ حَتَّى جَلَسَا فِي الْمَقْبَرَةِ فَجَاءَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لِمَرْوَانَ: أَرِنِي يَدَكَ فَأَعْطَاهُ يَدَهُ فَقَالَ: قُمْ، فَقَامَ، ثُمَّ قَالَ مَرْوَانُ: لِمَ أَقَمْتَنِي؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى جِنَازَةً قَامَ حَتَّى يُمَرَّ بِهَا وَيَقُولُ: «إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ» . فَقَالَ مَرْوَانُ: أَصَدَقَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي؟ قَالَ: كُنْتَ إِمَامًا فَجَلَسْتَ فَجَلَسْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ»

حضرت علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان روایت کرتے ہیں : وہ ایک ایسے جنازہ میں شریک ہوئے جس کی نماز مروان بن حکم نے پڑھائی تھی پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے ہمراہ قبرستان میں آ کر بیٹھ گئے ۔ ان کے پاس ابو سعید خدری آئے اور مروان سے کہنے لگے : اپنا ہاتھ مجھے دیجئے : مروان نے اپنا ہاتھ ابو سعید کے ہاتھ میں دیا ، ابو سعید ( ان کا ہاتھ پکڑ کر بولے ) اٹھئے!تو مروان کھڑا ہو گیا ۔ پھر مروان نے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں اٹھا یا ہے ؟ تو حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بولے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے (اور ) جب تک جنازہ گزر نہیں جاتا تھا ( اس وقت تک آپ کھڑے رہتے تھے ) مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ میرے امام ہیں ، آپ بیٹھے تو میں بھی بیٹھ گیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أبو مصعب أحمد بن أبي بكر ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ الزَّاهِدُ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1319

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1320

1320 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكُفَّارِ فَنَقُومُ لَهَا؟ . قَالَ: «نَعَمْ، قُومُوا لَهَا فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا، إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ النُّفُوسَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر ہمارے قریب سے کفار کا جنازہ گزرے تو کیا ہمیں کھڑے ہو نا چاہیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ۔ اس کے لئے بھی کھڑے ہوں ، کیونکہ تمہارا کھڑا ہونا ، اس کافر میت کے لئے نہیں بلکہ ان ملائکہ کے لئے ہوگا جنہوں نے اس کی روح قبض کی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم ْ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أبو بكر محمد بن عيسى الطرسوسي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1320

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1321

1321 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ جِنَازَةَ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ: «إِنَّمَا قُمْتُ لِلْمَلَائِكَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ فِي الْقِيَامِ لِجِنَازَةِ الْيَهُودِيِّ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تو ملائکہ کے احترام میں کھڑا ہوا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین اسے اس الفاظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا گیا ، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبید اللہ بن مقسم کی جابر سے یہودی کے جنازے کے لئے قیام سے متعلقہ روایت کردہ حدیث نقل کی ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ جِنَازَةَ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَقَامَ» فَقَالُوا: ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1321

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1322

1322 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " كُنَّا مُقَدَّمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حُضِرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَهُ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ، وَرُبَّمَا قَعَدُوا حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ، فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ، فَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيهِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نما ئندے ہوا کرتے تھے ۔ چنانچہ جب کسی کا آخری وقت آتا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع کرتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر اس کے لئے دعائے مغفرت فرماتے اور جب ہم لوگ وہاں پہنچتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جو لوگ آپ کے ہمراہ ہوتے وہ واپس آ رہے ہوتے تھے ۔ کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تدفین تک وہیں رکے رہتے اور کئی مرتبہ ( آپ کو جانکنی کے انتظار میں ) بہت دیر تک وہاں رکنا پڑتا ، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس مشقت کا بہت احسا ہوا ، ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں کسی کی روح قبض ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں بلانا چاہئے ،بلکہ جب روح قبض ہو جائے تب آپ کو بلایا جائے ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشقت نہیں ہو گی ۔ اور انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا ( اس کے بعد ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا کہ ) ہم کسی کے فوت ہوجانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلاتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر نما ز جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

كُنَّا مُقَدَّمَ النَّبِيِّ إِذَا حُضِرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ فَحَضَرَهُ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1322

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1323

1323 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، يَقُولُ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَجَهَرَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا جَهَرْتُ لِتَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ «وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ قَوْلَ الصَّحَابِيِّ سُنَّةٌ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ

حضرت سعید بن ابی سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک جنازہ پڑھایا ، اس میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھی۔ پھر (جنازہ سے فارغ ہو کر ) فرمایا : میں نے بلند آواز سے سورہ فاتحہ اس لئے پڑھی تا کہ تمہیں پتہ چل جائے کہ یہ "سنت " ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور اس بات پر اجماع ہے کہ صحابی کا قول سنت ہے ، حدیث ہے مسند ہے ۔اس حدیث کی ایک سند صحیح کے ہمراہ مشاہد بھی موجود ہے جس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے ( شاہد حدیث درج ذیل ہے )

صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَجَهَرَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابن عجلان، أنه ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1323

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1324

1324 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جِنَازَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: أَتَقْرَأُ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، إِنَّهُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ» وَلَهُ شَاهِدٌ مُفَسَّرٌ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى "

حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک نماز جنازہ پڑھی تو میں نے ان کو سورہ فاتحہ پڑھتے سنا ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑکر ان سے پوچھا :کیا آپ قرات کرتے تہیں ؟ انہوں نے جواباً کہا : جی ہاں ۔ یہ حق ہے اور یہ "سنت " ہے ۔ ابراہیم بن ابو یحیی کی سند کے ہمراہ اس حدیث کی ایک مفسر حدیث شاہد موجود ہے(جو کہ درج ذیل ہے )

يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: أَتَقْرَأُ؟ ← صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَی جَنَازَةٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1324

chevron_left Previous
1…567…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section