Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1301

1301 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبِي، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَغَمِّضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى دُعَاءِ أَهْلِ الْبَيْتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب تم کسی میت کے پاس حاضر ہو تو اس کی آنکھیں بند کر دیا کرو کیونکہ میت کے گھر والے میت کے لئے جو دعا کرتے ہیں اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← قزعة بن سويد ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبِي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 1301

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1302

1302 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ، وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَشُمُّونَهُ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ بَابَ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحُ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ؟ فَكُلَّمَا أَتَوْا سَمَاءً قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ ". قَالَ: «فَلَهُمْ أَفْرَحُ بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِ» . قَالَ: «فَيَسْأَلُونَهُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟» قَالَ: " فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ حَتَّى يَسْتَرِيحَ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَإِنَّهُ قَدْ مَاتَ ". قَالَ: «فَيَقُولُونَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ» . قَالَ: " وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَإِنَّ مَلَائِكَةَ الْعَذَابِ تَأْتِيِهِ فَتَقُولُ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطٌ عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ، وَسَخَطِهِ فَيَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ كُلَّمَا أَتَوْا عَلَى الْأَرْضِ قَالُوا ذَلِكَ حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ " وَقَدْ تَابَعَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ مَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ قَتَادَةَ: عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشاد فرمایا : مومن کا جب آخری وقت آتا ہے تورحمت کے فرشتے سفید رنگ کا ریشمی لباس لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں :تجھ پر اللہ راضی ہے ، تو برضا و خوشی اللہ تعالی کی باگاہ کی طرف چل ۔تو (اس کی روح) انتہائی عمدہ مشک کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ ملائکہ ایک دوسرے سے لے کر اس کی خوشبو سونگھتے ہیں ۔ پھر اس کو آسمان کے دروازے پر لے جایا جاتا ہے ۔ تو آسمان کے ملائکہ کہتے ہیں :یہ کتنی اچھی خوشبو ہے جو زمین سے آئی ہے ۔پھر جس بھی آسمان تک یہ روح پہنچتی ہے ، اس کو اچھے کلمات سے نوازا جاتا ہے حتی کہ اس روح کو ارواح مومنین میں شامل کر دیا جاتا ہے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : ارواح مومنین اس کی آمد پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتی ہیں جتنا کہ تم اپنے کسی عزیزی کے بہت عرصہ کے بعد ملنے پر خوش ہوتے ہو ۔ پھر مومنین کی روحیں اس سے دنیا کے حالات پوچھنے لگ جاتی ہیں توملائکہ ان کو کہتے ہیں : اس کو چھوڑ دو ! اس کو آرام کرنے دو ، کیونکہ یہ ابھی دنیا کے غموں سے چھوٹ کر آیا ہے ، مومن روح بھی ارواح مومنین سے پوچھتی ہیں :فلاں شخص مر گیا تھا کیا وہ تمہارے پاس نہیں پہنچا ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں : وہ جہنم میں جا چکا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کافر کا آخری وقت آتا ہے تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں :تجھ پر اللہ کی ناراضگی ہے تو ناراضگی کے عالم ہی میں اپنے رب کے غصے اور عذاب کی طرف نکل ، جب وہ نکلتی ہیں تو مردار کی طرح اس سے بد بو نکلتی ہے ، پھر فرشتے اس کو لے کر زمین کی طرف چلتے ہیں تو جس زمین تک بھی پہنچتے ہیں ، ملائکہ کہتے ہیں : یہ کتنی گندی بد بوہے ۔ فرشتے اس کو لے کر چلتے رہتے ہیں اور اس پر اسی طرح کی آوازیں کسی جاتی ہیں یہاں تک کہ اس کو کفار کی ارواح میں شامل کر دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث قتادہ سے روایت کرنے میں ہشام بن عبداللہ دستوائی نے معمر بن راشد کی متابعت کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ

Hadith 1302

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1303

1303 - أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ہشام کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے ۔تبصرہ ہمام بن یحیی نے اس کی سند میں قتادہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان "قسامہ " کی بجائے "ابو الجوزاء" کا واسطہ بیان کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← النَّبِيِّ نَحْوَهُ، وَقَالَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1303

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1304

1304 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ» ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، هَذِهِ «الْأَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ، وَشَاهِدُهَا حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَقَدْ أَمْلَيْتُهُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، پھر اس کے بعد سابقہ حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے ۔ یہ تمام اسانید "صحیح " ہیں اور ان کی شاہد حدیث حضرت براء بن عازب کی (وہ ) روایت ہے جس کو میں نے "کتاب الایمان "میں درج کر دیا ہے ۔

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ» ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1304

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1305

1305 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالُوا: تُوُفِّيَ وَأَوْصَى بِثُلُثِهِ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ لَمَّا احْتُضِرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَابَ الْفِطْرَةَ وَقَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَهُ عَلَى وَلَدِهِ» ، ثُمَّ ذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ» هَذَا «حَدِيثٌ صَحِيحٌ» فَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِنُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بِالدَّرَاوَرْدِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَا هَذَا الْحَدِيثَ، وَلَا أَعْلَمُ فِي تَوَجُّهِ الْمُحْتَضَرِ إِلَى الْقِبْلَةِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ "

حضرت یحیی بن عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں :جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : تو لوگوں نے بتایا کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہوں نے آپ کےلئے اپنے ایک تہائی مال مال کی وصیت بھی کی ہے اور انہوں نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ جب ان کا انتقال ہو جائے تو ان کا چہرہ قبلہ کی جانب کر دیا جائے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کا عمل فطرت کے عین مطابق ہے ۔ اور میں اس کا ثلث (تیسرا حصہ جو اس نے میرے لئے وصیت کیا ہے ) اس کے بچوں کو دیتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور یوں دعا مانگی "اللھم اغفرلہ وارحمہ ، واد خلہ جنتک "اے اللہ : اس کی مغفرت فرما اور اس کو اپنی جنت میں داخل فرما ۔ اور بے شک تو نے ایسا کر دیا ۔ یہ حدیث "صحیح" ہے کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے "نعیم بن حماد " کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ بن حجاج نے "دراوردی" کی روایات نقل کی ہیں ۔ لیکن یہ حدیث نقل نہیں کی ۔ اور میری نظر میں اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث ایسی نہیں ہے ، جس سے وت کے وقت چہرہ قبلہ کی طرف کرنا ثابت ہوتا ہو۔

أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Hadith 1305

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1306

1306 - أَخْبَرَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمَّا أَخَذُوا فِي غَسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُمْ بِمُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضڑت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ جب صحابی کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے لگے تو ایک نداء آئی (وہ نداء یہ تھی) "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قمیض مت اتارو "۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبو بردة بريد بن عبد الله، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ

Hadith 1306

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1307

1307 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ غُفِرَ لَهُ أَرْبَعِينَ مَرَّةً، وَمَنْ كَفَّنَ مَيِّتًا كَسَاهُ اللَّهُ مِنَ السُّنْدُسِ، وَإِسْتَبْرَقِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ حَفَرَ لِمَيِّتٍ قَبْرًا فَأَجَنَّهُ فِيهِ أُجْرِيَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ كَأَجْرِ مَسْكَنٍ أُسْكِنَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص میت کو غسل دے اور اس کی عیب پوشی کرے ، اس کی چالیس مرتبہ مغفرت کر دی جاتی ہے اور جو کسی میت کو کفن پہنائے، اللہ تعالی اس کو جنت کا ریشمی لباس پہنائے گا ، اور جو شخص کسی میت کےلئے قبر کھودے اور اس کو دفنائے تو اللہ تعالی اس کو قیامت تک اس شخص کے برابر ثواب دے گا جس نے مکان بنا کر کسی (ضرورت مند ) کو اس میں ٹھہرایا ہو )۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Hadith 1307

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1308

1308 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ، فَأَلْبِسُوهَا أَحْيَاءَكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ صَحِيحٌ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہارے لئے بہترین لباس "سفید " ہے اپنے زندوں کو بھی یہی لباس پہناؤ اور پنے مردوں کو بھی اس میں کفن دو ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مفروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے۔)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1308

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1309

1309 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ»

حضڑت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سفید لباس پہنا کر اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو کیونکہ(دورے رنگوں کی بہ نسبت )یہ زیادہ عمدہ اور پاکیزہ ہوتا ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1309

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1310

1310 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَجْمَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَأَوْتِرُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میت کو لے کرچلو ت تیز تیز قداٹھاؤ اور باری باری کندھا دو ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 1310

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1311

1311 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِالْجِنَازَةِ رَمَلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدَهُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الطَّيَّارِ "

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ وقت گزارا ہے ہم "جنازہ " کو بہت تیزی کے ساتھ لے کر چلا کرتے تھے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ او رامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، عبداللہ بن جعفر طیار کی سند ہمراہ ایک"صحیح " حدیث گذشتہ حدیث کی شاہد موجود ہے (جوکہ درج ذیل ہے )

لَنَكَادُ ← لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Hadith 1311

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1312

1312 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَقِيعِ، فَاطُّلِعَ عَلَيْنَا بِجِنَازَةٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا ابْنُ جَعْفَرٍ فَتَعَجَّبَ مِنْ إِبْطَاءِ مَشْيِهِمْ بِهَا، فَقَالَ: " عَجَبًا لِمَا تَغَيَّرَ مِنْ حَالِ النَّاسِ، وَاللَّهِ إِنْ كَانَ إِلَّا الْجَمْزُ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُلَاحِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ، لَكَأَنَّهُ قَدْ جُمِزَ بِكَ مُتَعَجِّبًا لِإِبْطَاءِ مَشْيِهِمْ "

حضرت ابن ابی زناد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کے ہمراہ بقیع میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ آ گیا ، ابن جعفر کو ان لوگوں کی سست روی پر بہت حیرانگی ہوئی اور کہنے لگے : مجھے تعجب ہے ،کہ لوگوں کے احوال اس قدر بدل چکے ہیں ،خدا کی قسم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ) جنازہ کو بہت تیز لے جایا جاتا تھا ۔ اور ایک شخص دوسرے کی سست روی پر متعجب ہو کر کہتا تھا : اے اللہ کے بندے خدا سے ڈرو ، لگتا ہے تم دوڑ لگا رہے ہو ۔

أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1312

chevron_left Previous
1…456…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section