Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1289

1289 - حَدَّثَنِي أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً، إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے عیسی علیہ السلام !میں تمہارے بعد ایک ایسی امت پیدا کرنے والا ہوں کہ ان کو اگر ایسی چیز پہنچے جو ان کو پسند ہو تو وہ اللہ کی حمد کریں گے اور شکر کریں گے اور اگر ان کو کوئی ایسی چیز پہنچے جو ان کو ناپسند ہو تو وہ اس پر شکر کریں گے ، حالانکہ ان میں نہ علم ہو گا نہ حلم۔(حضرت عیسی علیہ السلام نے ) عرض کی !اے میرے رب ! جب ان میں علم و حلم نہیں ہو گا تو پھر وہ اتنے صابر و شاکر کیسے ہوں گے؟اللہ تعالی نے فرمایا : میں ان کو اپنے حلم و علم میں سے (حصہ)عطا کروں گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أبي حلبسٍ يزيد بن ميسرة، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بشر بن سهل اللباد ← أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ

Hadith 1289

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1290

1290 - حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ، وَلَمْ يَشْكُنِي إِلَى عُوَّادِهِ أَطْلَقْتُهُ مِنْ أَسَارِي، ثُمَّ أَبْدَلْتُهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، ثُمَّ يُسْتَأْنَفُ الْعَمَلَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے فرمایا : جب میں اپنے بندہ مومن کو آزماتا ہوں اور وہ اپنی تکالیف کی شکایت نہیں کرتا تو میں اس کو قید میں سے آزاد کر دیتا ہوں پھر اس کا گوشت اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کا خون اچھے خون میں بدل دیتا ہوں پھر وہ نئے سرے عمل شروع کر دیتا ہے ، عبدالرحمن بن ازھر سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندہ مومن کو جب بخار یا کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے لوہے کو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا زنگ ختم ہو اجائے اور صاف ستھرا لوہا باقی بچ جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَكَّةَ،

Hadith 1290

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1291

1291 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ - أَوْ مَرَّتْ بِهِ - فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَهْ إِنَّ اللَّهَ أَذْهَبَ بِالشِّرْكِ، وَجَاءَ بِالْإِسْلَامِ، فَتَرَكَهَا وَوَلَّى، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهَا حَتَّى أَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضڑت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ایک بدکار عورت تھی ، اس کے پاس سے ایک شخص گزرایا(شاید یہ فرمایا کہ )وہ کسی مرد کے پاس سے گزری تو اس مرد نے اس عورت کی جانب ہاتھ بڑھایا ، وہ آگے سے بولی :چھوڑو !کیونکہ اللہ تعالی نے شرک ختم فرما دیا ہے اور اسلام بھیج دیا ہے ۔ اس مرد نے عورت کو چھوڑ دیا اور پلٹ گیا ور اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تو چلتے چلتے وہ ایک دیوار سے ٹکرا گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارا ماجرا کہہ سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی تیرے ساتھ بھلائی کا اردہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ جب اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کی سزا فوراً دنیا ہی میں دیتا ہے جس کی وجہ سے قیامت کے دن وہ عذاب سے بچ جائے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 1291

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1292

1292 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلَالٍ: يُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيُشَيِّعُهُ إِذَا مَاتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ إِنَّمَا أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ "

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر 4 حق ہیں ۔(1)جب اس کو دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ۔(2) جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے ۔(3) جب اس کو چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جوب دے ۔(4) جب مر جائے تو اس کے (جنازے کے ) ساتھ جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیاامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اوزاعی کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے زہری ، پھر سعید کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ "مسلم کے مسلم پر پانچ حق ہیں "۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Hadith 1292

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1293

1293 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَجِئْتَ عَائِدًا، أَمْ شَامِتًا؟ فَقَالَ: بَلْ جِئْتَ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنْ جِئْتَ عَائِدًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَتَى أَخَاهُ عَائِدًا فَهُوَ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، وَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِخِلَافٍ عَلَى الْحُكْمِ فِيهِ "

حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا :تم عیادت کرنے آئے ہو یا ان کی تکلیف پر خوش ہونے آئے ہو ؟انہوں نے کہا :میں عیادت کی غرض سے آیا ہوں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم (واقعی) عیادت کے لئے آئے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرنے آئے تو وہ جنت کے پھل چنتا ہے پھر جب ویہ بیٹھ جاتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ۔ اگر وہ صبح کے وقت عیادت کرے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کے وقت عیادت کرے تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نےہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس لئے نقل نہیں کیا کہ اس کی سند میں "حکم " (نامی راوی ) سے اختلاف ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٌّ: إِنْ جِئْتَ عَائِدًا، فَإِنِّي ← بَلْ جِئْتَ عَائِدًا، ← لَهُ عَلِيٌّ: أَجِئْتَ عَائِدًا، أَمْ شَامِتًا؟ ← جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Hadith 1293

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1294

1294 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَزَائِرًا جِئْتَ أَمْ عَائِدًا؟ قَالَ: بَلْ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يُشَيِّعُونَهُ، إِنْ كَانَ مُصْبِحًا حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ مِنَ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ مِنَ الْجَنَّةِ» هَذَا مِنَ النَّوْعِ الَّذِي ذَكَرْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ أَنَّ هَذَا لَا يُعَلِّلُ ذَلِكَ، فَإِنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ أَحْفَظُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، وَالْأَعْمَشُ أَعْرَفُ بِحَدِيثِ الْحَكَمِ مِنْ غَيْرِهِ "

حضرت عبدالہہ بن نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو موسی سے کہا :صرف دیکھنے آئے ہو یا عیادت کرنے ؟ انہوں نے کہا : عیادت کرنے آیا ہوں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کوئی مسلمان کسی مریض کی عیادت کے لئے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ہمراہ چلتے ہیں ۔ اگر وہ صبح کے وقت عیادت کے لئے نکلتا ہے تو شام تک (فرشتے اس کے ساتھ رہتے ہیں ) اور اس کے لئے جنتی پھل ہیں ۔ اور شام کے وقت وہ عیادت کو جائے تو سبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس کے ہمراہ رہتے ہیں اور اس کے لئے جنتی پھل ہیں ۔ یہ حدیث اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کا متعدد بار ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس طرح کی حدیث ان وجوہات سے معلل نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ابو معاویہ اعمش کے اصحاب میں سے سب سے زیادہ حافظے والے ہیں ۔ اور اعمش دوسروں کی بہ نسبت"حکم : کی روایات سے زیادہ واقف ہیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← بل عائدا ← عَلِيٌّ: أَزَائِرًا جِئْتَ أَمْ عَائِدًا؟ ← عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ،

Hadith 1294

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1295

1295 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَارِئُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ (مریض کے پاس )بیٹھ جاتا ہے اور جب وہ بیٹھ جات ہے تو رحمت الہی میں غوطہ لگاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هُشَيْمُ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَارِئُ،

Hadith 1295

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1296

1296 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ، فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے مریضوں کو کھانے پر ناپسند مت کرو کیونکہ اللہ تعالی کھلاتا ہے اور پلاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Hadith 1296

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1297

1297 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْحَارِثِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَآهُ كَئِيبًا، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ لَعَلَّهُ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ، قَالَ: لَا، وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ، وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ» . فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةَ عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَأَعْرِفُهَا، فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «هَلْ تَعْلَمُ كَلِمَةً هِيَ أَعْظَمُ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» . فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ: هِيَ وَاللَّهِ هِيَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجْاهُ، فَأَمَّا الْوَهْمُ الَّذِي أَتَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ مِسْعَرٍ» . . . . . . . . . . . . . . . .

حضرت یحیی بن طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو رنجیدہ خاطر اور پریشان دیکھا تو کہنے لگے :تجھے کیا ہوا ہے ؟ شاید کہ تیرے چچا کے بیٹے کی بیوی نے تیرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، انہوں نے جواباً کہا : نہیں اور پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف و توصیف کی ، پھر کہنے لگے : لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک "کلمہ" بولتے سنا تھا ، اگر کوئی شخص موت کے وقت اس کو پڑھ لے تو موت کی سختی ختم ہو جاتی ہے ۔ اور اس کا رنگ نکھر جاتا ہے اور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کلمہ پوچھنے پر قادر بھی تھا لیکن پوچھ نہ سکا ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عمر نے فرمایا رضی اللہ عنہ : مجھے اس کلمہ کا پتہ ہے ،حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ حضرت عمر نے ان کو بتایا : کیا تمہیں اس سے بڑھ کر کسی کلمہ کے متعلق معلوم ہے جو کلمہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کو پڑھنے کا حکم دیا تھا "لا الہ الا اللہ " کی گواہی دینا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم یہی وہ کلمہ ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ میں میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ ← يحيى بن طلحة بن عبيد الله ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْحَارِثِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← محمد بن الخليل الأصبهاني

Hadith 1297

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1298

1298 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ فَيَمُوتُ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ» فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُخْبِرْنَاهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " أَنَا أُخْبِرُكَ بِهَا، هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَهِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا انْفَرَدَ مُسْلِمٌ بِإِخْرَاجِ» حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ: عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایک کلمہ جانتاہوں کہ انسان نے اس کو خلوص دل سے پڑھا ہو پھر اس کا انتقال ہو جائے تو اللہ تعالی اس پر جہنم کی آگ حرام فرما دیتا ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا لیکن اس کلمہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی وضاحت نہیں فرمائی تھی ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلمہ کیا ہے ۔ وہ کلمہ اخلاص ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کے وقت تلقین کی تھی ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعا لی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔ اسی کلمے کے ذریعے اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کو عزت بخشی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم صرف امام مسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص موت کے وقت جانتا ہو کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ جنتی ہے ۔

أَبِيهِ ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 1298

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1299

1299 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ كُنْتُ أَمْلَيْتُ حِكَايَةَ أَبِي زُرْعَةَ، وَآخِرَ كَلَامِهِ كَانَ سِيَاقَةُ هَذَا الْحَدِيثِ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا آخری کلام "لا الہ الا اللہ " ہو گا اللہ تعالی اس کو جنت میں داخل کرے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، میں ابو زرعہ کی حکایات املاء کیا کرتا تھا ، ان کا آخری کلام اسی حدیث کے مطابق تھا ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 1299

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1300

1300 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ عَتِيكَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ» ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوُجُوبُ؟ قَالَ: «إِذَا مَاتَ» . فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَوْقَعَ اللَّهُ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدَةٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» رُوَاتُهُ مَدَنِيُّونَ قُرَشِيُّونَ، وَعِنْدَ حَدِيثِ مَالِكٍ جَمَعَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بَدَأَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْ شُيُوخِ مَالِكٍ "

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ ان پر موت کا غلبہ ہو چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آواز دی ،لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے " انا للہ وانا الیہ راجعون " پڑھا ۔ اور فرمایا : اے ابو الربیع !ہمیں تجھ پر غلبہ دیا گیا ۔ تو عورتیں رونے اور چیخنے لگیں اور ابن عتیک ان کو خاموش کرانے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو ! کیونکہ جب واجب ہو جائے گا تو کوئی رونے والی نہیں روئے گی ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا !وجوب کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب وہ مر جائے گا ۔ اس کی بیٹی اپنے باپ کو مخآطب کر کے بولی : خدا کی قسم ! میں تو آپ کے شہید ہونے کی آرزو رکھتی تھی کیونکہ آپ نے اپنی مکمل تیاری کر رکھی تھی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نیت کے مطابق اجر و ثواب عطا فرماتا ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ) تم شہادت کس کو شمار کرتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی!"قتل فی سبیل اللہ "(یعنی اللہ کی راہ میں قتل ہونا )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات قسم کی شہادت ہے (1) طاعون زدہ شہید ہے ۔(2) ڈوب کر مرنے والا ۔(3) ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا (4) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا (5) جل کر مرنے والا(6) دب کر مرنے والا(7) اور وہ عورت جو بچہ پیدا کرتے ہوئے مر جائے ۔(سب شہید ہیں) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، اس کے تمام راوی مدنی ہیں قریشی ہیں ۔مسلم بن حجاج نے مالک کی حدیث جمع کی ہے اور یہ حدیث انہوں نے مالک بن شیوخ سے شروع کی ہے ۔

عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي، ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1300

chevron_left Previous
12345…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section