المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1289
1289 - حَدَّثَنِي أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً، إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے عیسی علیہ السلام !میں تمہارے بعد ایک ایسی امت پیدا کرنے والا ہوں کہ ان کو اگر ایسی چیز پہنچے جو ان کو پسند ہو تو وہ اللہ کی حمد کریں گے اور شکر کریں گے اور اگر ان کو کوئی ایسی چیز پہنچے جو ان کو ناپسند ہو تو وہ اس پر شکر کریں گے ، حالانکہ ان میں نہ علم ہو گا نہ حلم۔(حضرت عیسی علیہ السلام نے ) عرض کی !اے میرے رب ! جب ان میں علم و حلم نہیں ہو گا تو پھر وہ اتنے صابر و شاکر کیسے ہوں گے؟اللہ تعالی نے فرمایا : میں ان کو اپنے حلم و علم میں سے (حصہ)عطا کروں گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔
أبي حلبسٍ يزيد بن ميسرة، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بشر بن سهل اللباد ← أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ
Hadith 1289
