Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1277

1277 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرِيضًا مِنْ وَعَكٍ كَانَ بِهِ، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت فرمائی ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمرہ تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خوش ہو جاؤ ، کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : یہ میری آگ ہے ، اس کو میں اپنے کسی بندے پر دنیا میں مسلط کرتا ہوں تا کہ وہ آخرت میں آگ سے بچ جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

النَّبِيُّ أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ ← عَادَ رَسُولُ اللَّهِ مَرِيضًا مِنْ وَعَكٍ كَانَ بِهِ، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ،

Hadith 1277

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1278

1278 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، أَنْ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «طَرَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعٌ، فَجَعَلَ يَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَخُشِيَ أَنْ تَجِدَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُشَدَّدُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ نَكْبَةٌ، أَوْ وَجَعٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ دَرَجَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید درد ا ٹھا جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ، میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی تکلیف اگر ہم میں سے کسی کو ہوتی تو آپ اس کو بھی اسی حال پر پاتے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک مومن پر سختی آتی ہے اور کسی بھی مومن کو کوئی درد یا تکلیف پہنچے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف فرما تا ہے اور اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

«طَرَقَ رَسُولَ اللَّهِ وَجَعٌ، فَجَعَلَ يَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ» فَقُلْتُ: ← عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ← أنَّ أبا قلابةَ ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، أَنْ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Hadith 1278

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1279

1279 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ» ، فَقَالَ لَهَا: «أَهِيَ أُمُّ مِلْدَمٍ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. فَلَعَنَهَا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبِّيهَا، فَإِنَّهَا تَغْسِلُ ذُنُوبَ الْعَبْدِ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری خاتون کی عیادت کو تشریف لے گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا :کیا اس کو بخار ہے ؟اس نے کہا :جی ہاں !وہ بخار کو گلیاں دینے لگی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بخار کو گلیاں مت دو ، کیونکہ یہ بندے کے گناہوں کو ایسے ختم کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کے زنگ کو ختم کر دیتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث حجاج بن ابی عثمان کے واسطے ابوالزبیر سے نقل کی ہے تاہم اس کے الفاظ مختلف ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Hadith 1279

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1280

1280 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَنْ أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ فَقَالَ: «أَتُهْدَيْنَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَأْتِيهِمْ فَحَمُّوا، وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَاشْتَكُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى. قَالَ: «إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ لَكُمْ طُهُورًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر سے روایت ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بخار حاضر ہوا اور (آنے کی )اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا: میں بخار ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اہل قبا کے پاس جاؤ گے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو جاؤ ان کے پاس ۔ چنانچہ وہ لوگ شدید بخار میں مبتلا ہوئے ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس کی شکایت کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں اور تم لوگ (فوراً) شفا یاب ہو جاو گے لیکن اگر تم چاہو (کچھ دن رہنے دو کیونکہ ) یہ تہمارے لئے طہارت دہندہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

فَأْتِيهِمْ فَحَمُّوا، وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَاشْتَكُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا ← نَعَمْ ← أُمُّ مِلْدَمٍ فَقَالَ: «أَتُهْدَيْنَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ؟» ← أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَنْ أَنْتِ؟» ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Hadith 1280

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1281

1281 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مومن اپنے جان و مال اور اولاد کے حوالے سے مسلسل آزمائش میں رہتا ہے ،حتی کہ جب وہ اللہ تعالی سے ملتا ہے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے ۔(جو کہ درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يزيد بن هارون أنبا محمد بن عمرو ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Hadith 1281

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1282

1282 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَصَبُ الْمُؤْمِنِ كَفَّارَةٌ لِخَطَايَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومن کی بیماری اس کے لئے گناہوں کا کفارہ ہے۔

«وَصَبُ الْمُؤْمِنِ كَفَّارَةٌ لِخَطَايَاهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 1282

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1283

1283 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَعْرَابِيٍّ: «هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ قَطُّ؟» قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: «حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ» . قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ قَالَ: «فَهَلْ أَخَذَكَ الصُّدَاعُ قَطُّ؟» قَالَ: وَمَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ: «عِرْقٌ يَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ» . قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضڑت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دیہاتی سے فرمایا :تجھے کبھی "ام ملدم " نے پکڑا ہے ؟ اس نے پوچھا "ام ملدم " کیا ہوتی ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جلد اور گوشت کے درمیان "حرارت "ہوتی ہے۔ اس نے کہا میں یہ کبھی محسوس نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تجھے کبھی صداع نے پکڑا ہے؟ اس نے پوچھا :"صداع " کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک رگ ہے ، جو انسان کے سر میں درد کیا کرتی ہے ۔ اس نے کہا : میں نے کبھی بھی یہ محسوس نہیں کیا ۔ جب وہ پلٹ کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہت ہو تو اس کو دیکھ لے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Hadith 1283

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1284

1284 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا ضَرَبَ مِنْ مُؤْمِنٍ عِرْقٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ بِهِ حَسَنَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهِ دَرَجَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «وَعِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ»

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مومن کی جب بھی آگ بھڑکتی ہے ( یا کوئی تکلیف آتی ہے تو ) اس کے بدلے میں اللہ تعالی اس کا ایک گنا ہ معاف کرتا ہے اور اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند کر دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور عمران بن زید تغلبی اہل مکہ میں سے ہیں اور شیخ ہیں ۔

«مَا ضَرَبَ مِنْ مُؤْمِنٍ عِرْقٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1284

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1285

1285 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے بدلے میں اس کے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ، ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← محمد بن عبد الوهاب أنبأ يعلى بن عبيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1285

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1286

1286 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ الْحَجْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَبْتَلِي عَبْدَهُ بِالسَّقَمِ حَتَّى يُكَفِّرَ ذَلِكَ عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی اپنے بندوں کو بیماری دے کر آزماتا رہتا ہے حتی کہ اس کے تمام گناہ معاف کت دئیے جاتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عبد الرحمن بن سلمان الحجري ← ابْنُ وَهْبٍ،

Hadith 1286

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1287

1287 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا قَبِيصَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ الْحَفَظَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ أَنِ اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ عَلَى مَا كَانَ يَعْمَلُ، مَا دَامَ مَحْبُوسًا فِي وَثَاقِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انسان کوکوئی بھی جسمانی تکلیف پہنچے تو اللہ تعالی اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک یہ اس تکلیف میں مبتلا ہے اس وقت تک اس کے سابقہ معمولات کے مطابق روزانہ نیکیاں لکھتے رہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← قَبِيصَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ نَجْدَةَ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Hadith 1287

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1288

1288 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الْوَعْكُ، أَوِ الْحُمَّى كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تَدْخُلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طِيبُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ رُوَاتُهُ مَدَنِيُّونَ ومِصْرِيُّونَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندہ مومن کو جب بخار یا کوئی اور تکلیف آتی ہے تو اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے لوہے کو آگ میں ڈال دیا جائے ، جس سے اس کا زنگ ختم ہو جائے اور صاف ستھرا لوہا باقی بچ جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ، اس کے تمام راوی مدنی ہیں "مصری "ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 1288

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section