Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1265

1265 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: «عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنَيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ "

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میری آنکھوں میں درد تھا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث ، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Hadith 1265

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1266

1266 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنْ رَمَدٍ كَانَ بِهِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن ارقم کی آشوب چشم کی وجہ سے عیادت کی ۔

«عَادَ رَسُولُ اللَّهِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنْ رَمَدٍ كَانَ بِهِ» ← أَنَسٍ، ← الزبير بن عدي ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی

Hadith 1266

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1267

1267 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا قَالَ: «اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي» ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1267 - لم يخرجاه بهذا اللفظ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ میں مکہ میں بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری پیشانی پہ رکھا ، پھر میرے سینے اور پیٹ کو ملا پھر یوں دعا مانگی "یا اللہ سعد کو شفاء دے اور اس کی ہجرت کو پورا کر دے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ،أَنَّ أَبَاهَا ← الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 1267

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1268

1268 - 1268 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص کسی کی عیادت کو جائے اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا مانگے: " اسال اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک "( میں عرش عظیم کے مالک اللہ عظیم سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفاء عطا فرمائے) اگر اس کو موت نہ آئی ہوئی ہو ، اللہ اس مرض سے اس کو شفاء دے دے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ، بِمَرْوَ،

Hadith 1268

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1269

1269 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ عُوفِيَ إِنْ لَمْ يَكُنْ أَجَلُهُ حَضَرَ «هَذَا حَدِيثٌ شَاهِدٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ رِوَايَةِ الْمِصْرِيِّينَ، عَنِ الْمَدَنِيِّينَ، عَنِ الْكُوفِيِّينَ لَمْ نَكْتُبْهُ عَالِيًا إِلَّا عَنْهُ، وَقَدْ خَالَفَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ الثِّقَاتَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو»

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان بھائی کی عیادت کو جائے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا مانگے :" اسال اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک "( میں عرش عظیم کے مالک اللہ عظیم سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تھجے شفاء عطا فرمائے)سے شفاء دے دی جائے گی بشرطیکہ اس کی موت کا وقت نہ آ گیا ہو۔ یہ حدیث شاہد ہے ،صحیح ہے اور4 مصریوں کی مدنیوں سے روایت ہے کے معاملے میں غریب ہے ۔ہم سند عالی انہی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔یہ حدیث منہال بن عمرو سے روایت کرنے میں حجاج بن ارطاۃ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے(جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ

Hadith 1269

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1270

1270 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ مَرَضِهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ «هَذَا مِمَّا لَا يُعَدُّ خِلَافًا فَإِنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ دُونَ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ وَأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ، فَإِنْ ثَبَتَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، فَإِنَّهُ شَاهِدٌ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ»

حجاج بن ارطاۃ نے منہال بن عمرو کے بعد عبداللہ بن المحارث کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کو جائے اور سر کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا مانگے : " اسال اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفی فلانا من مرضہ " میں عرش عظیم کے مالک اللہ عظیم سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تھجے شفاء عطا فرمائے۔ اگر اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو تو اسے شفا دے دی جائے گی ۔ اس طرح اختلاف کو اختلاف شمار نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ حجاج بن ارطاۃ ، عبدر بہ بن سعید اور ابو خالد دالانی سے حفظ اور اتقان میں کم درجے رکھتے ہیں ۔ اور ان روایات میں سے اگر عبداللہ بن حارث کی روایات ثابت نہ ہوتو یہ سعید بن جبیر کی حدیث کی شاہد قرار دی جا سکتی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← يزيد بن هارون أنبأ الحجاج بن أرطأة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 1270

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1271

1271 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرِيءُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَهُ وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ضَعْ يَمِينَكَ عَلَى مَكَانِكَ الَّذِي تَشْتَكِي، وَامْسَحْ بِهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَقُلْ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ فِي كُلِّ مَسْحَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. بِهَذَا اللَّفْظِ إِنَّمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ»

حضرت نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس قدر شدیددرد میں مبتلا تھے کہ اس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو جاتی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو ان کا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھ کر سات مرتبہ ملو اور ہر دفعہ ملتے ہوئے "اعوذ بعزۃ اللہ وقدرتہ من شرما اجد "میں اللہ کی عزت اور قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو میں پاتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں جریری کی وہ حدیث نقل کی ہے جس سند یزید بن عبداللہ بن شخیر کے واسطے عثمان بن ابی العاص تک پہنچی ہے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔

عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرِيءُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ،

Hadith 1271

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1272

1272 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زِيَادَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ أَقْبَلَا يَلْتَمِسَانِ الشِّفَاءَ مِنَ الْبَوْلِ، فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَا وَجَعَ أُنْثَيَيْهِمَا لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا، أَوِ اشْتَكَاهُ أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ: رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ، فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ، وَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا، إِنَّكَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ، فَأَنْزِلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ فَيَبْرَأُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى «قَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِجَمِيعِ رُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرِ زِيَادَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَهُوَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَلِيلُ الْحَدِيثِ»

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ایسے دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی جو پیشاب سے شفاء ڈھونڈ رہے تھے ۔ (یعنی ان کو پیشاب کا کوئی عارضہ لاحق تھا )فضالہ فرماتے ہیں: میں ان کو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا انہوں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو اپنی تکلیف کے بارے میں بتایا ،توحضرت ابو الدرداء بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو تکلیف ہو یا تمہارے کسی بھائی کو تکلیف ہو تو اس کو چاہیے کہ یوں دعا مانگے "ربنا اللہ الذی فی ا لسماء تقدس اسمک امرک فی السما ء والارض کما رحمتک فی السماء فاجعل رحمتک فی الارض واغفرلنا ذنوبنا وخطایانا ، انک رب الطیبین ، فانزل رحمۃ من رحمتک وشفاء من شفاتک علی ھذا الوجہ فیبرا ان شاء اللہ تعالی " (اے وہ اللہ! جس کی حکومت آسمانوں میں بھی ہے ، تیرا نام مقدس ہے ، تیری حکومت آسمانوں اور زمینوں میں ہے جس طرح تیری رحمت آسمانوں میں ہے ، اسی طرح اپنی رحمت زمین پر بھی عطا فرما اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما ، بت شک تو طیبین کا رب ہے ، ہم پر تو اپنی رحمت اور شفاء نازل فرما ۔ انشا اللہ تعالی اس کی تکلیف جاتی رہے گی ) ۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں زیادبن محمد کے علاوہ اس حدیث کت تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور " زیاد "اہل مصر کے شیوخ میں سے ہیں ، ان کی روایت کردہ احادیث کی تعداد بہت کم ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ،

Hadith 1272

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1273

1273 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَادَ أَحَدُكُمْ مَرِيضًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلَاةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کوجائے تو یوں دعا مانگے"اللھم اشف عبدک وینکالک عدوا ویمشی لک الی الصلوۃ"۔ اے اللہ : اپے بندے کو شفا عطاء فرما تا کہ یہ تیرے دشمنوں سے لڑ سکے یا نماز کے لئے چل کر جا سکے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو الطَّاهِرِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ

Hadith 1273

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1274

1274 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ تَكُونُ لَهُ الْمَنْزِلَةُ عِنْدَ اللَّهِ فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلٍ فَلَا يَزَالُ يَبْتَلِيهِ بِمَا يَكْرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی شخص کے لئے اللہ تعالی کی بار گاہ میں ایک مقام لکھا ہوا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے عمل کے سبب اس مقام تک نہیں پہنچتا تو اس کو مسلسل آزمائشوں میں مبتلا کیا جاتا ہے حتی کہ وہ ان کے سبب اس مقام کو پا لیتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1274

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1275

1275 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ قَالُوا: بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ". قَالَ: " فَرَجَعُوا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى آدَمَ، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ ذُعِرَتْ مِنْهُمْ وَجَعَلَتْ تَدْنُو إِلَى آدَمَ وَتَلْتَصِقُ بِهِ، فَقَالَ لَهَا آدَمُ: إِلَيْكِ عَنِّي إِلَيْكِ عَنِّي، فَمِنْ قِبَلِكِ أُتِيتُ خَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ، ثُمَّ غَسَّلُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَكَفَّنُوهُ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ، فَكَذَاكُمْ فَافْعَلُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ مِنَ النَّوْعِ الَّذِي لَا يُوجَدُ لِلتَّابِعِيِّ إِلَّا الرَّاوِي الْوَاحِدُ، فَإِنَّ عُتَيَّ بْنَ ضَمْرَةَ السَّعْدِيَّ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ الْحَسَنِ، وَعِنْدِي أَنَّ الشَّيْخَيْنِ عَلَّلَاهُ بِعِلَّةٍ أُخْرَى، وَهُوَ أَنَّهُ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيٍّ دُونَ ذِكْرِ عُتَيٍّ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب آدم علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا : جاؤ میرے لئے جنت کے کچھ پھل لے کر آؤ ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے (پھل لینے ) چل دئیے ۔ آگے سے فرشتوں سے ملاقات ہوگئی ، فرشتوں نے پوچھا :اے آدم علیہ السلام کے بیٹو! تم کہا ں جا رہے ہو ؟انہوں نے جواب دیا :ہمارے والد نے ہمیں جنت کے پھل لینے کے لئے بھیجا ہے ، فرشتوں نے کہ ا: تم لوٹ جاؤ ، کیونکہ جتنے پھل تم نے کھانے تھے ، کھا لئے ہیں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں : یہ لوگ فرشتوں کے ہمراہ واپس لوٹ آئے اور آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، جب حضرت حوا رضی اللہ عنہا نے ان کو دیکھا تو ان سے خوفزدہ ہو کر آدم علیہ السلام کے قریب آ گئیں اور ان کے ساتھ چپکنے لگیں ، آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان راستہ چھوڑ دو ، آپ فرماتے ہیں : پھر نے آپ علیہ السلام کی روح کو قبض کیا پھر ان کو غسل دیا ، ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن پہنایا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر ان کے لئے قبر کھود کر آپ علیہ السلام کو اس میں دفن کر دیا ۔پھر فرمایا : اے نبی آدم ! مردوں کے متعلق تمہارا یہ طریقہ ہے لہذا اسی طریقے پر تم عمل کرتے رہنا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کا تعلق اس نوع کے ساتھ ہے کہ جب تابعی سے روایت کرنے والا صرف یاک شخص ہو کیونکہ اس کی سند میں عتی بن ضمرہ السعدی کا "حسن " کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس حدیث کو ایک دوسری وجہ سے معلل قرار دیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث حسن کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کی گئی ہے ۔اس میں "عتی " کاذکر نہیں ہے ۔

ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ← بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ ← فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ ← لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← لَمَّا حُضِرَ آدَمُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← هشيم أنبأ يونس بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبُرْدِيُّ،

Hadith 1275

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1276

1276 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ آدَمُ رَجُلًا طُوَالًا» - فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا وَفِي آخِرِهِ - أَنَّهُ قَالَ: «خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ رُسُلِ رَبِّي، فَإِنَّكِ أَدْخَلْتِ عَلَيَّ هَذَا، فَقَبَضُوا نَفَسَهُ وَغَسَّلُوهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ ثَلَاثًا، وَكَفَّنُوهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ، ثُمَّ قَالُوا هَذِهِ سُنَّةُ بَنِيكَ مِنْ بَعْدِكَ» هَذَا لَا يُعَلِّلُ حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ أَعْرَفُ بِحَدِيثِ الْحَسَنِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمِصْرَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :آدم علیہ السلام بہت لمبے قد والے تھے پھر اس کے بعد آپ نے طویل حدیث ذکر فرمائی اور اس کے آخرمیں فرمایا : میرے اور میرے رنب کے فرشتوں کے بیچ میں سے ہٹ جاؤ کیونکہ تو نے اس کو میرے اوپر داخل کر دیا ہے ۔ پھر انہوں نے آپ کی روح قبض کیا، آپ کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین مرتبہ غسل دیا ، آپ کو کفن پہنایا ، نماز جنازہ پڑھی اور دفنا دیا ۔ پھر بولے !تمہارے بعد یہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ۔(اسی پر عمل کرتے رہنا )۔ یہ حدیث یونس بن عبید کی حدیث کو معلل نہیں کرتی کیونکہ اہل مدینہ اور اہل مصر میں سے حسن کی احادیث کے سبب سب سے زیادہ واقف یہی تھے ۔(واللہ اعلم )

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ← عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ الْمَعَافِرِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← أبو بكر بن عبد الله أنبأ الحسن بن سفيان

Hadith 1276

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section