Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1396

1396 - حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابرَانِ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ «تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ كُلَّ جُمُعَةٍ فَتُصَلِّي وَتَبْكِي عِنْدَهُ» هَذَا الْحَدِيثُ رُوَاتُهُ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ، وَقَدِ اسْتَقْصَيْتُ فِي الْحَثِّ عَلَى زِيَارَةِ الْقُبُورِ تَحَرِّيًا لِلْمُشَارَكَةِ فِي التَّرْغِيبِ، وَلِيَعْلَمَ الشَّحِيحُ بِذَنَبِهِ أَنَّهَا سُنَّةٌ مَسْنُونَةٌ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِهِ أَجْمَعِينَ "

حضرت علی بن حسن رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکر مصلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ کی قبر کی زیارت کے لئے جاتی تھیں ،آپ نماز بھی پڑھتی اور آپ کی قبر کے پاس روتی بھی تھیں۔

عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ← تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1396

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1397

1397 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قَالُوا: جِنَازَةُ فُلَانِيِّ الْفُلَانِ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَيَسْعَى فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، قَالُوا: جِنَازَةُ فُلَانٍ الْفُلَانِيِّ كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَيَسْعَى فِيهَا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ فِي الْجِنَازَةِ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهَا أُثْنِيَ عَلَى الْأَوَّلِ خَيْرٌ، وَعَلَى الْآخَرِ شَرٌّ فَقُلْتَ فِيهَا وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، فَقَالَ: «نَعَمْ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً تَنْطِقُ عَلَى أَلْسِنَةِ بَنِي آدَمَ بِمَا فِي الْمَرْءِ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا بیٹھا ہوا تھا ،تو آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیا کرتا تھا او ر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کیا کرتا تھا اور اس میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہ نے فرمایا :واجب ہوگئی (اس کے بعد )ایک اور جنازہ گزرا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ فلاں شخص کا جنازہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا اور بد عمل تھا اور اسی میں کوشش کیا کرتا تھا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:واجب ہوگئی ، واجب ہوگئی، واجب ہوگئی۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پہلے جنازے کے متعلق اچھائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا "وجبت"(یعنی واجب ہوگئی)اور دوسرے کے متعلق برائی بیان کی گئی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "وجبت"(یعنی واجب ہوگئی)اس کی کیا وجہ ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابو بکر !ہاں بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو بنی آدم کی زبانوں پر انسان میں پائی جانے والی اچھی یا بری خصلت جاری کر دیتے ہیں ۔

«وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» ← جِنَازَةُ فُلَانٍ الْفُلَانِيِّ كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَيَسْعَى فِيهَا، ← رَسُولُ اللَّهِ «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ» وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، ← جِنَازَةُ فُلَانِيِّ الْفُلَانِ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ، وَيَسْعَى فِيهَا، ← ما هذه ← كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ، ← أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1397

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1398

1398 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَابِدُ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ أَبْيَاتِ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا، إِلَّا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَتَبَارَكَ: قَدْ قَبِلْتُ قَوْلَكُمْ - أَوْ قَالَ: شَهَادَتَكُمْ - وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے لئے اس کے چار قریبی پڑوسی یہ گواہی دے دیں کہ ہم اس کے متعلق بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے :میں نے تمھاری گواہی قبول کرلی ہے اور میں نے اس کے وہ گناہ بھی معاف کردیئے ہیں جو تم نہیں جانتے ہو ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَابِدُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1398

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1399

1399 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ قَاسِمٍ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: «كُنَّ مُحْسِنًا» قَالَ: كَيْفَ أَعْلَمُ أَنِّي مُحْسِنٌ؟ قَالَ: " سَلْ جِيرَانَكَ، فَإِنْ قَالُوا: إِنَّكَ مُحْسِنٌ فَأَنْتَ مُحْسِنٌ، وَإِنَّ قَالُوا: إِنَّكَ مُسِيءٌ فَأَنْتَ مُسِيءٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :یا رسول اللہ :مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جس کو اپنا کر میں جنت کا مستحق ہو جاوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "محسن"بن جاو۔اس نے کہا میں مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں "محسن "ہوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنے پڑوسیوں سے پوچھ لو !اگر وہ کہیں کہ تو "محسن "ہے ۔تو "محسن "ہے اور اگر وہ کہیں کہ تو برا ہے تو سمجھ لینا کہ تو برا ہے ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← محمد بن موسى بن حاتم ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ قَاسِمٍ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1399

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1400

1400 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى تُمْلَأَ أُذُنَاهُ مِمَّا يُحِبُّ» قِيلَ: مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟ قَالَ: «مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى تُمْلَأَ أُذُنَاهُ مِمَّا يَكْرَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :عرض کیاگیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جنتی کون ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس کی موت سے پہلے لوگ اس کو برے لفظوں میں یاد کرتے ہوں ۔عرض کیا گیا جہنمی کون ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس کی موت سے پہلے لوگ اس کو برے لفظوں میں یاد کرتے ہوں ۔

قِيلَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1400

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1401

1401 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمُ اقْتَسِمُوا لِلْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ غُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟» فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي؟» قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَحَدًا أَبَدًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اُم العلا ء ایک انصاریہ خاتون ہیں ،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے ،آپ فرماتی ہیں :مہاجرین کے لیئے قرعہ اندازی کی گئی تو ہمارے حصہ میں عثمان بن مظنون کا نام نکلا ،ہم ان کو اپنے گھر لے گئے،ان کو ایسا شدید درد اٹھا کہ اسی میں ان کا انتقال ہو گیا ،جب ان کا انتقال ہو گیا تو ہم نے ان کو غسل دیا اور انہی کے کپڑوں میں ان کو کفن دے دیا۔(اسی اثنا میں )رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ،میں بولی :اے عثمان بن مظنون اے ابوالسائب !اللہ تعالیٰ کی تیرے اوپر رحمت ہو ،میری تیرے حق میں یہ گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت بخشی ہو گی ،اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تمہیں کیامعلوم کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی ہے ؟انہوں نے عرض کی :یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،اللہ تعالیٰ کس کو عزت دیتا ہے ؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جہاں تک اس کا تعلق ہے تو اس کو یقین حاصل ہو چکا ہے ،خدا کی قسم ! میں اس کے بارے میں صرف خیر ہی کی امید رکھتاہوں ۔اللہ کی قسم مجھے خود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔(یعنی اللہ کے بتائے بغیرتو مجھے بھی کچھی معلوم نہیں ہے )اُم العلاء کہتی ہیں :اس کے بعد میں نے کھبی بھی کسی کے بارے میں یقین کے ساتھ کسی کی صفائی پیش کی ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1401

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1402

1402 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ كَلِمَاتٍ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا، قُلْتُ: فِي الِاثْنَتَيْنِ كِلَاهُمَا؟ قَالَ: بَلْ فِي الْمُثَنَّى الْآخَرِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ، قَالَ: وَكَانَ يُعَظِّمُهُنَّ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ أَمْلَيْتُ مَا صَحَّ عَلَى شَرْطِهِمَا فِي هَذَا الْبَابِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ، وَلَمْ أُمْلِ هَذَا الْحَدِيثَ»

حضرت ابن طاوس رضی اللہ عنہ اپنے والد کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ وہ تشہد کے بعد کچھ کلمات پڑھا کرتے تھے جنکو بہت عظیم سمجھتے تھے ۔میں نے پوچھا :دونوں قعدوں میں ؟انہوں نے جواب دیا :بلکہ آخری قعدے میں تشہد کے بعد ۔میں نے پوچھا :وہ کون سے کلمات ہیں ؟انہوں نے بتایا :"اعوذ باللہ من عزاب جھنم ،واعوذوباللہ من عذاب القبر،واعذو باللہ من شر المسیح الدجال ،واعوذوباللہ من فتنتہالمحیاالممات"(میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اورمیں مسیح دجال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی و موت کےفتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں )ابن طاؤس کہتے ہیں :وہ ان کلمات کو بہت عظیم سمجھتے تھے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← عبد الرزاق أنبأ ابن جريج ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1402

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1403

1403 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسَهُ، وَكَانَ الصَّوْمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصَّلَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، وَيُؤْتَى مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، فَيَقُولُ الصَّوْمُ مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، وَيُؤْتَى مِنْ عَنْ يَسَارِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، وَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْعُدْ فَيَقْعُدُ، وَتُمَثَّلُ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ فَيُقَالُ لَهُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ، وَمَا تَشْهَدُ بِهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي، فَيَقُولُونَ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ وَلَكِنْ أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ قَالَ: وَعَمَّ تَسْأَلُونِّي عَنْهُ؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ، فَيَقُولُ: دَعُونِي أُصَلِّي. فَيَقُولُونَ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ وَلَكِنْ أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ، قَالَ: وَعَمَّ تَسْأَلُونِّي؟ فَيَقُولُونَ: أَخْبِرْنَا مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ وَمَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدًا، أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ، وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ قِبَلِ النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَنْزِلِكَ وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ، لَوْ عَصَيْتَ فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ قِبَلِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَنْزِلِكَ، وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَفِي الْآخِرَةِ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [إبراهيم: 27] " قَالَ: وَقَالَ أَبُو الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَيُقَالُ لَهُ: «أَرْقِدْهُ رَقْدَةَ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَعَزُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، أَوْ أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ» . ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، وَيُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْعُدْ فَيَقْعُدُ خَائِفًا مَرْعُوبًا، فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ، وَمَاذَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَيُّ رَجُلٍ؟ فَيَقُولُونَ: الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ. قَالَ: فَلَا يَهْتَدِي لَهُ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا، فَيَقُولُونَ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ، وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ، وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ قِبَلِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَنْزِلِكَ، وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ لَوْ كُنْتَ أَطَعْتَهُ فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا، قَالَ: ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا، وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124] "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب لوگ میت کو دفن کرکے واپس پلٹتے ہیں تو میت ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے پھر اگر وہ مومن ہو تو نماز اس کےسرکی جانب اور روزہ دائیں جانب اور زکوٰۃ بائیں جانب اور دیگر نیک کام یعنی صدقہ ،نوافل ،صلہ رحمی اور دیگر نیکیاں اور حسن سلوک اس کے پاؤں کی جانب آجاتی ہیں پھر اس کے سر کی طرف سے (قبرمیں )کوئی (تکلیف دہ )چیز آنا چاہتی ہے تونماز کہتی ہے :میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے ۔پھر وہ دائیں طرف سے آتی ہے تو روزہ کہتا ہے :میری طرف سےکوئی راستہ نہیں ہے ۔پھر وہ بائیں جانب سے آتی ہے تو زکوٰۃ کہتی ہے :میری طرف سے کوئی راستہ نہیں ہے ۔پھر اس کو کہا جاتا ہے :اٹھ کر بیٹھو۔تو وہ اٹھ جاتا ہے اور اس کو سورج یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غروب ہونے کے قریب ہو ،پھر اس کو کہا جاتا ہے کہ :تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟جو تمھارے اندر موجود تھےاور تو ان کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے ؟وہ کہے گا مجھے چھوڑ دو تا کہ میں نماز پڑھ لوں ۔وہ کہیں گے :تو یہ کام تھوڑی دیر بعد کرلینا،ہمیں ہمارے سوال کو جواب دو،وہ کہے گا :مجھے چھوڑ دو تاکہ میں نماز پڑھ لوں ۔وہ کہیں گے وہ کہیں گے :تو یہ کام تھوڑی دیر بعد کرلینا،ہمیں ہمارے سوال کو جواب دو،وہ کہے گا:تم مجھ سے کیا سوال کررہے ہو؟ وہ کہیں گے :تو یہ کام تھوڑی دیر بعد کرلینا،ہمیں ہمارے سوال کو جواب دو،وہ کہے گا :وہ کہے گا چھوڑو مجھے ابھی نماز پڑھنی ہے ،وہ کہیں گے :نماز بعد میں پڑھ لینا پہلےہمارے سوال کو جواب دو،وہ کہے گا :پوچھو کیا پوچھتے ہو،وہ کہیں گے : تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے؟جو تمھارے اندر تھےاور تو ان کے بارے میں کیا گواہی دیتا ہے ؟جو تمھارے اندر تھے ،وہ کہے گا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کےبندے ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے،اس کو کہا جائے گا توا سی نظریے پر زندہ رہا ،اسی پر تجھے موت آئی اور انشاء اللہ !اسی پر تو قیامت میں اٹھایا جائے گا،پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جائے گااگر تونافرمان ہوتا (تو یہ تیرا مقام ہوتا)تواپنے اس مقام کو اور اس میں جو کچھ اللہ نے تیار کررکھا ہے اس کو دیکھ لے ،تواس کی خوشی اور مسرت بڑھ جائے گی پھر جب وہ اس کو دیکھ لے گا تو اس کی خوشی میں اور اضافہ ہو جائے گا اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ":یثبت اللہ الذین امنوا بالمقول الثابت فی الحیاۃ الدنیا،وفی الاخرۃ ،ویضل اللہ الظالمین ویفعلُوویفعل اللہ مایشاءُ:اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت کے ساتھ دنیا کی زندگی میں اور اخرت میں ثابت قدمی عطا فرمائے گا اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔(راوی کہتے ہیں کہ ابوالحکم کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے )حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں یوں ہے )پھراس کو کہا جائےگا :تو اس دلہن کی طرح سو جاجس کو صرف وہی شخص بیدار کرتا ہے جو اس کے تمام رشتہ داروں سے زیادہ عزیز ہے (ان الفاظ کے بعد دوبارہ اسی حدیث کی طرف آئے جوابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے):حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر وہ شخص کافر ہو گا تو کوئی چیز (یعنی کوئی تکلیف دہ چیز )اس کے سر کی جانب سے آئے گی تو اس جانب کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی:اگر دائیں جانب سے آئے گی تو وہاں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی پھر بائیں سے آئے گی تو بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی پھر قدموں کی طرف سے آئے گی تو وہاں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ۔اس کو کہا جائے گا:اٹھ کر بیٹھو ،وہ مرعوب اور خوفزدہ ہو کر بیٹھے گا ۔اس کو کہا جائے گا :تو اس شخص کے بارے میں بتا ،جو تمھارے اندر مبعوث ہوئے ،اس کو کچھ سمجھ نہیں آئے گی ،وہ کہیں گے:محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔وہ کہے گا :میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا کرتا تھا جو کچھ وہ کہتے تھے ،میں بھی وہی کہا کرتا تھا ۔وہ کہیں گے تو اسی پر زندہ رہا اور سی پر مرا ہے اور انشااللہ اسی پر قیامت کے دن اٹھا یا جائے گا۔پھر اس کے لیئے (قبر میں )جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا اگر تو اطاعت گزار ہوتا تو دیکھ تیری یہ منزل ہوتی اوریہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے تیرے لیئے ہوتا ۔اس کی حسرت ویاس بڑھ جائے گی۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) پھر اس کی قبر اس قدر تنگ کردی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی۔اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول "فان لہ معیشۃ ضنکاً،و نحشرہ یوم القیاماۃ اعنمی"بے شک اس کے لیئے زندگی تنگ ہے اور ہم قیامت کے دن اس کو اندھا کرکے اٹھائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1403

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1404

1404 - عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ» ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،جب لو گ میت کو دفن کرکے لوٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتی ہے پھر اس کے بعد (حماد بن سلمہ)نے سعد بن عامر جیسی حدیث بیان کی تاہم سعید بن عامر کی حدیث تفصیلی ہے۔

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ» ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1404

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1405

1405 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] قَالَ: «عَذَابُ الْقَبْرِ»

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے قول"معیشۃ ضنعکاً"کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا :اس سے مراد "عذاب قبر"ہے۔

عَذَابُ الْقَبْرِ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1405

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1406

1406 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَقِيهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةٍ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَسَمِعَ نِسَاءً يَبْكِينَ، فَزَبَرَهُنَّ عُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ دَعْهُنَّ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لئے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے،انہوں نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا :اے عمر !ان کو چھوڑو ،کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل مصیبت محسوس کرتا ہے اور عہد بہت قریب ہے۔

نِسَاءً يَبْكِينَ، فَزَبَرَهُنَّ عُمَرُ، ← خَرَجَ النَّبِيُّ عَلَى جِنَازَةٍ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَقِيهُ الْإِسْمَاعِيلِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1406

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1407

1407 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ فَقَالَ: «لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ» فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ لِحَمْزَةَ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ: «يَا وَيْحَهُنَّ مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ، فَلْيَسْكُتْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَهُوَ أَشْهُرُ حَدِيثٍ بِالْمَدِينَةِ، فَإِنَّ نِسَاءَ الْمَدِينَةِ لَا يَنْدُبْنَ مَوْتَاهُنَّ حَتَّى يَنْدُبْنَ حَمْزَةَ، وَإِلَى يَوْمِنَا هَذَا» وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، مُنَاظَرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ، وَرُجُوعِهِمَا فِيهِ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَقَوْلِهَا: وَاللَّهِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ عِنْدَ اللَّهِ بُكَاءُ أَهْلِهِ عَذَابًا شَدِيدًا، وَإِنَّ اللَّهَ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب رسول اللہ غزوہ احد سے لوٹے تو انصاری خواتین کو روتے ہوئے سنا :تو فرمایا :حمز ہ کو رونے والا کوئی نہیں ہے؟تو انصاری خواتین حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیئے رونے لگیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر جب اٹھے تووہ (ابھی تک )رو رہی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کےلیئے ہلاکت ہو یہ اس وقت سے اب تک مسلسل روئے جارہی ہیں ان کو خاموش ہو جانا چاہیئے اور آج کے بعد کسی فوت ہونے والے پر رونے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أسامة بن يزيد ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1407

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section