Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1384

1384 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «أَبُو صَالِحٍ هَذَا لَيْسَ بِالسَّمَّانِ الْمُحْتَجِّ بِهِ، إِنَّمَا هُوَ بَاذَانُ، وَلَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ لَكِنَّهُ حَدِيثٌ مُتَدَاوَلٌ فِيمَا بَيْنَ الْأَئِمَّةِ، وَوَجَدْتُ لَهُ مُتَابِعًا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ فَخَرَّجْتُهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں پر جانیوالی عورتوں پر اور ان کی طرف سجدہ کرنے والوں پر اور ان پر چراغ رکھنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں یہ "ابو صالح" وہ "سمان" نہیں ہیں جس کی روایات نقل کی جاتی ہیں۔ بلکہ وہ تو بازان ہیں اور لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی روایات نقل نہیں کیں۔ جبکہ یہ حدیث ائمہ حدیث کے درمیان معروف ہے۔ اور جب مجھے اس حدیث کےمتن میں سفیان ثوری کی سند کے ہمراہ ایک متابع حدیث مل گئی۔ جس کو میں نے (ذیل میں ) نقل کردیا ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد بن بالويه ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1384

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1385

1385 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ» وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ الْمَرْوِيَّةُ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ مَنْسُوخَةٌ " وَالنَّاسِخُ لَهَا حَدِيثُ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُكُمْ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا» فَقَدْ أَذِنَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُخَرَّجٌ فِي الْكِتَابَيْنِ الصَّحِيحَيْنِ لِلشَّيْخَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا "

۱۳۸۵-حضرت عبدالرحمان بن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کے لئے جانیوالی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ اور یہ احادیث جو کہ زیارت قبور سےممانعت سے متعلق ہیں، یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ حضرت علقمہ بن مرثد کی وہ حدیث ہے جس میں انہوں نے سلیمان بن بریدہ کے واسطے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا کرتا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ اور یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں نقل کی ہے۔

النَّبِيِّ «قَدْ كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُكُمْ، ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← زِيَارَةِ الْقُبُورِ مَنْسُوخَةٌ وَالنَّاسِخُ لَهَا حَدِيثُ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، ← «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ» وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ الْمَرْوِيَّةُ فِي النَّهْيِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1385

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1386

1386 - وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ وَاسِعَ بْنَ حِبَّانَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ أَلَا فَانْتَبِذُوا وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَكُلُوا وَادَّخِرُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

۱۳۸۶-حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :میں تمہیں زیارت ِقبور سے منع کیا کرتا تھا ۔اب تم زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں عبرت ہے ۔میں تمہیں نبید سے روکا کرتا تھا ،اب تم نبید بنا لیا کرو ۔اور نشے کو حلال نہیں کرتا ۔میں تمہیں قربانیوں کے گوشت سے منع کیا کرتا تھا ۔اب تم (جتنا چاہو )کھاو (اور جتنا چاہو )جمع کرو۔

النبيذ الا فانتبذوا ولا احل مسكرا ونهيتكم ← زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً، وَنَهَيتُكُمْ ← نَهَيْتُكُمْ ← إِنَّ رَسُولَ ← اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← أَنَّ وَاسِعَ بْنَ حِبَّانَ ← أسامة بن زيد أن محمد بن يحيى بن حبان الأنصاري ← أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1386

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1387

1387 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَأَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَعَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ، أَلَا فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِي، وَابْقُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ إِذِ الْخَيْرُ قَلِيلٌ تَوْسِعَةً عَلَى النَّاسِ، أَلَا إِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :میں تمہیں زیارت قبور سے اور قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے اور نبید کے برتنوں سے منع کیا کرتا تھا ،خبردار !قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا میں بے رغبتی پیدا کرتی ہے ۔اور آخرت کی یا د دلاتی ہے ۔اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جتنا چاہو بچا کر رکھ لو ،میں تو اس وقت تمہیں منع کیا کرتا تھا جب مالی حالات کمزور ہوا کرتے تھے تاکہ لوگوں پر وسعت رہے ۔خبردار !برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے ۔بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1387

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1388

1388 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَابِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتُ»

حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا اب تم اس کی زیارت کیا کروکیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← يَحْيَى بْنِ الْجَابِرِ، ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1388

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1389

1389 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فِي أَلْفِ مُقَنَّعٍ، فَلَمْ يُرَ بَاكِيًا أَكْثَرَ مِنْ يَوْمَئِذٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہزار افراد کی معیت میں اپنی والدہ محترمہ کی قبر مبارک کی زیارت کی ،اس دن کےعلاوہ کھبی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا زیادہ روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← أحمد بن عمران الأخنسي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1389

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1390

1390 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُنَيْنٍ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتُ» وَهَذَا الْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رویت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ رو پڑے ۔(اور آپ کے رونے نے )آپ کے ارد گرد (سب لوگوں )کو رلا دیا ۔پھر فرمایا :میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی ۔تو اللہ نے مجھے اجازت دے دی اور میں نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی ۔چنانچہ تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُنَيْنٍ: يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← محمد بن عبد الوهاب الفراء أنبأ يعلى بن عبيد ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1390

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1391

1391 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرِيبًا مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ، فَنَزَلَ بِنَا وَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَفَدَاهُ بِالْأُمِّ وَالْأَبِ، يَقُولُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَدَمَعَ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا، وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَتِهَا فَأَذِنَ لِي، وَإِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْيَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تقریباًایک ہزار سوار تھے ،ایک جگہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑا و ڈالا اور دو رکعتیں پڑھائیں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربا ن ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی ،لیکن مجھے اجازت نہ ملی تو والدہ کی محبت میں میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔میں نے ان کی زیارت کے لئے اجازت مانگی ،تو اس کی مجھے اجازت مل گئی۔میں تمہیں زیارت ِقبور سے منع کرتا تھا ،اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔اور ان کی زیارت سےتمہارے اندر اعمال صالح کا جذبہ بڑھےگا۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← زُبَيْدٍ، ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1391

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1392

1392 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْمَقَابِرِ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟ قَالَتْ: مِنْ قَبْرِ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، «كَانَ قَدْ نَهَى، ثُمَّ أُمِرَ بِزِيَارَتِهَا»

حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ روایات کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ قبرستان سے آرہی تھیں ۔میں نے ان سے پوچھا :اے اُم المومنین !آپ کہاں سے آرہی ہیں؟انہوں نے جواب دیا :اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کی قبر سے ۔میں نے ان سے کہا :کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور سے منع نہیں کیا ؟انہوں نے جواباًکہا ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے منع کیا کرتے تھے ۔لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ ← بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1392

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1393

1393 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا، فَإِنَّهُ يُرِقُّ الْقَلْبَ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :میں تمہیں زیارت قبور سے روکا کرتا تھا،اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے اور آنکھوں کو رلاتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبأ عبدان الأهوازي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1393

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1394

1394 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَزُورَ قَبْرًا فَلْيَزُرْهُ، فَإِنَّهُ يُرِقُّ الْقَلْبَ، وَيُدْمِعُ الْعَيْنَ، وَيُذَكِّرُ الْآخِرَةَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :میں تمہیں زیارت قبور سےمنع کیا کرتا تھا(لیکن اب ) اب جو قبر کی زیارت کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے ۔کیونکہ یہ دل کو نرم کرتی ہے اور آنکھوں کو رلاتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ← سعيد بن عثمان الأهوازي ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1394

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1395

1395 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زُرِ الْقُبُورَ تَذَكَّرْ بِهَا الْآخِرَةَ، وَاغْسِلِ الْمَوْتَى فَإِنَّ مُعَالَجَةَ جَسَدِهِ مَوْعِظَةٌ بَلِيغَةٌ، وَصَلِّ عَلَى الْجَنَائِزِ لَعَلَّ ذَلِكَ أَنْ يُحْزِنَكَ، فَإِنَّ الْحَزِينَ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَتَعَرَّضُ كُلَّ خَيْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ "

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قبروں کی زیارت کیا کرو جو آخرت یا د دلاتی ہے اور مردوں کو غسل دیا کروکیونکہ یہ میت کے جسم کو درست کرنا بہترین نصیحت ہے ۔اور نماز جنازہ پڑھا کرو شاید کہ اس وجہ سے تم غمگین ہو جاؤ کیونکہ غمگین شخص اللہ کے سائے میں ہوتا ہے اور ہر طرح کی بھلائی پاتا ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أبى مسلم الخولاني ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1395

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section