المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1384
1384 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «أَبُو صَالِحٍ هَذَا لَيْسَ بِالسَّمَّانِ الْمُحْتَجِّ بِهِ، إِنَّمَا هُوَ بَاذَانُ، وَلَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ لَكِنَّهُ حَدِيثٌ مُتَدَاوَلٌ فِيمَا بَيْنَ الْأَئِمَّةِ، وَوَجَدْتُ لَهُ مُتَابِعًا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ فَخَرَّجْتُهُ»
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں پر جانیوالی عورتوں پر اور ان کی طرف سجدہ کرنے والوں پر اور ان پر چراغ رکھنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں یہ "ابو صالح" وہ "سمان" نہیں ہیں جس کی روایات نقل کی جاتی ہیں۔ بلکہ وہ تو بازان ہیں اور لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی روایات نقل نہیں کیں۔ جبکہ یہ حدیث ائمہ حدیث کے درمیان معروف ہے۔ اور جب مجھے اس حدیث کےمتن میں سفیان ثوری کی سند کے ہمراہ ایک متابع حدیث مل گئی۔ جس کو میں نے (ذیل میں ) نقل کردیا ہے۔
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد بن بالويه ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1384
