Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1372

1372 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ لَهُ التَّثْبِيتَ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازے کے ہمراہ ایک قبر کے پاس پہنچے، میت کے ساتھی اس کو دفن کر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی ثابت قدمی کی دعا مانگو کیونکہ اس سے ابھی سوالات کیے جائیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بِجِنَازَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَصَاحِبُهُ يُدْفَنُ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← هَانِئٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1372

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1373

1373 - وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هَانِئًا مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، يَقُولُ: كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَيُقَالُ لَهُ قَدْ تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ»

حضرت عبداللہ بن بحیر رضی اللہ عنہ ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کسی قبر پر کھڑے ہو تے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی۔ آپ سے کہا جاتا: جنت اور دوزخ کے تذکرے پر تو آپ نہیں روتے اور قبر کے ذکر پر رو رہے ہیں؟ آپ فرماتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبر آخرت کی منازل میں سے سب سے پہلی منزل ہے، اگر اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد والی ساری منزلیں اس سے آسان ہیں۔ اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو اس کے بعد کی منزلیں بہت دشوار ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے قبر سے بڑھ کر پریشان کن منظر نہیں دیکھا۔

هَانِئًا مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1373

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1374

1374 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ، أَمْ كَافِرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ متعدد سفر کیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی انسان کی نعش دیکھتے تو اس کو دفن کرنے کا حکم دیتے آپ یہ تحقیق نہیں کرتے تھے کہ یہ نعش کسی مسلمان کی ہے یا کافر کی۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِيهِ ← عمر بن يعلى بن مرة ← المفضل بن محمد الضبي ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1374

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1375

1375 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ: أمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ وَذَلِكَ مَالُهُ، وَأمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ فَذَاكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ، وَأمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ، وَحَيْثُ خَرَجْتَ فَذَاكَ عَمَلُهُ، فَيَقُولُ: إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا بِتَمَامِهِ لِانْحِرَافِهِمَا عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ وَلَيْسَ بِالْمَجْرُوحِ الَّذِي يُتْرَكُ حَدِيثُهُ، وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ تَبِعَهُ ثَلَاثَةٌ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر انسان کے تین دوست ہوتے ہیں۔ ایک دوست ہوتا ہے جو کہتا ہے : جو تو نے خرچ کیا وہ تیرا ہے اور جو تونے روک رکھا ہےوہ تیرا نہیں ہے یہ اس کا مال ہے اور ایک دوست وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے : میں تیرے ساتھ ہوں لیکن جب تو ملک کے دروازے پر پہنچے گا (یعنی قبر میں جائے گا) تو میں لوٹ آؤں گا۔ یہ اس کے اہل و عیال اور دوست احباب ہیں۔ ایک دوست وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے: تو جہاں بھی رہے ، میں تیرے ساتھ ہوں، یہ اس کا عمل ہے تو آدمی اس سے کہے گا: تو میرے لئے بہت آسان تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے یہ پوری حدیث نقل نہیں کی۔ کیونکہ یہ دونوں عمران قطان سے انحراف کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ایسے مجروح نہیں ہیں کہ ان کی احادیث کو چھوڑا جائے۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے سفیان بن عینیہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے عبداللہ بن ابو بکرمحمد بن عمرو بن حزم کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مر جاتا ہے تو تین چیزیں اس کے پیچھے رہ جاتی ہیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1375

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1376

1376 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الرَّجُلِ وَمَثَلُ الْمَوْتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ خِلَّانٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: هَذَا مَالِي فَخُذْ مِنْهُ مَا شِئْتَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ حَيَاتَكَ فَإِذَا مِتَّ تَرَكْتُكَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ أَدْخُلُ وَأَخْرُجُ مَعَكَ إِنْ مِتَّ، وَإِنْ حَيِيتَ، فَأَمَّا الَّذِي قَالَ خُذْ مِنْهُ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَإِنَّهُ مَالُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ عَشِيرَتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَهُوَ عَمَلُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی اور موت کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص کے تین دوست ہوں، ان میں سے ایک کہے : یہ میرا مال ہے، اس میں سے تو جتنا چاہے لے لے، دوسرا کہے: میں ساری زندگی تیرے ساتھ رہوں گا لیکن جب تو مر جائے تو میں تجھے چھوڑ دوں گا اور تیسرا کہے: تو چاہے زندہ رہے یا مر جائے، میں ہر مقام پر ہمیشہ تیرے ساتھ رہوں گا۔ تو ان میں سے جس نے یہ کہا کہ اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے یہ اس کا مال ہے اور دوسرا اس کا خاندان ہے اور تیسرا اس کا عمل ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ التَّبُوذَكِيُّ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1376

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1377

1377 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ الْمَخْزُومِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا نُعِيَ جَعْفَرٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَجَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ مِنْ أَكَابِرِ مَشَايِخِ قُرَيْشٍ، وَهُوَ كَمَا قَالَ شُعْبَةُ: اكْتُبُوا عَنِ الْأَشْرَافِ فَإِنَّهُمْ لَا يَكْذِبُونَ، وَقَدْ رُوِيَ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا "

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے بچوں کے لئے کھانے پکاؤ کیونکہ ان کو ایک ایسا معاملہ پیش آ گیا ہے جس نے ان کو مصروف کر رکھا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا اور جعفر بن خالد بن سارہ قریش کے اکابر مشائخ میں سے ہیں۔ اور ان کےمتعلق شعبہ کاقول ہے: ان اشراف سے حدیث لکھ لیا کرو کیونکہ یہ جھوٹ نہیں بولتے۔ اس کے علاوہ ایک اور تفصیلی حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے۔)

لَمَّا نُعِيَ جَعْفَرٌ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِي وَكَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ ← جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1377

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1378

1378 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ، وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْعَبَّاسِ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ: «احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ» فَجَعَلَنِي أَمَامَهُ، ثُمَّ قَالَ لِقُثَمَ: «احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ» فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ مَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ، وَتَرَكَ عُبَيْدَ اللَّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِي ثَلَاثًا، فَلَمَّا مَسَحَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ» . قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْهِدَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَانَ أَعْلَمَ بِخَبَرِهِ قَالَ: أَجَلْ

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ، قشم اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہمارے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو مجھے پکڑا دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا پھر "قثم" کے متعلق کہا: اس کو بھی مجھے پکڑاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کواپنے پیچھے بٹھا لیا، آپ کو اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس بات میں کوئی خدشہ نہیں تھا کہ "قثم" کو سوار کر لیا ہے اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا ہے۔ پھر آپ نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا اور ہر مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے ، آپ نے یہ دعا دی۔ "یا اللہ ! جعفر کی اولاد میں اس کا نائب پیدا فرما"۔ (جریج کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن جعفر سے پوچھا! "قثم"کا کیا ہوا؟ انہوں نےجواب دیا: شہید ہو گئے۔ میں نے عبداللہ سے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے انہوں نے کہا: جی ہاں!

أَبِي ← ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْهُ، ← جعفر بن خالد بن سارة وقد ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1378

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1379

1379 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِي قَالَ: - أَظُنُّهُ قَالَ ثَلَاثًا - فَلَمَّا مَسَحَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ» قَدْ أَتَى جَعْفَرُ بْنُ خَالِدٍ بِشَيْئَيْنِ عَزِيزَيْنِ: أَحَدُهُمَا مَسْحُ رَأْسِ الْيَتِيمِ، وَالْآخَرُ تَفَقُّدُ أَهْلِ الْمُصِيبَةِ بِمَا يَتَقَوَّتُونَ لَيْلَتَهُمْ «وَفَّقَنَا اللَّهُ لِاسْتِعْمَالِهِ عَنْهُ»

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا خالد کہتے ہیں: میر ا خیال ہے کہ عبداللہ نے کہا تھا: تین مرتبہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا) جب آپ نے ہاتھ پھیرا تو یہ دعا مانگی" اے اللہ! جعفر کی اولاد میں اس کا نائب پیدا فرما"۔ جعفر بن خالد کو دو پیاری چیزیں عطا ہوئیں۔ (1)یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا۔ (2) مصیبت کے عالم میں و ہ چیز بھی میسر نہ آنا جس کو کھا کر وہ اپنی رات گزار سکے اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ثَلَاثًا فَلَمَّا مَسَحَ ← أَظُنُّهُ ← مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِيهِ ← جعفر بن خالد ← أن ابن جريج ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1379

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1380

1380 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَقَالَ: «أَنْتَ بَشِيرٌ» فَكَانَ اسْمَهُ. قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . فَقُلْتُ: مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ، فَأَتَى عَلَى قُبُورٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ بِخَيْرٍ كَثِيرٍ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: «لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ» فَنَظَرَ، فَلَمَّا عَرَفَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَرَمَى بِهِمَا

حضرت بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ان کا جاہلیت میں نام زحم بن معبدتھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےان سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے کہا: زحم بن معبد۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو بشیر ہے۔ تو اس کے بعد انکایہی نام ہو گیا۔ بشیر کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے خصاصیہ کے بیٹے! تم اللہ تعالیٰ کی کس چیز کا انکار کرتے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چل رہے ہو میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی کسی چیز کا انکار نہیں کرتا ہوں ہر بھلائی اللہ کے رسول مجھے عطا فرما دی ہے ۔ پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ان لوگون نے بہت ساری بھلائیاں ضائع کر دیں آپ نے تین مرتبہ یہی کہا: پھر آپ مسلمانوں کی قبروں کےپاس آئے اور فرمایا: ان لوگوں نے بہت ساری بھلائیاں پا لی ہیں یہ بات تین مرتبہ کہی پھر آپ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نظر آیا جو قبرستان میں جوتے پہن کر چل رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے جوتیوں والے! تیرے لئے ہلاکت ہو، اپنی جوتیاں اتار دے، اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ، جب اس نے پہچان لیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو اس نے جوتیاں اتار کر پھینک دیں۔

أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ ← بَيْنَا ← «أَنْتَ بَشِيرٌ» فَكَانَ اسْمَهُ. ← زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، ← لَهُ رَسُولُ اللهِ مَا اسْمُكَ؟، ← بَشِيرُ رَسُولِ اللَّهِ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحْوِىُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1380

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1381

1381 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَمْشِي فِي نَعْلَيْنِ بَيْنَ الْقُبُورِ فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. فِي النَّوْعِ الَّذِي لَا يَشْتَهِرُ الصَّحَابِيُّ إِلَّا بِتَابِعِيَّيْنِ "

حضرت بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو جوتے پہنے قبرستان میں چلتے دیکھا تو فرمایا: اے جوتیاں پہننے والے ان کو اتار دے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو روایت نہیں کیا، اس کا تعلق حدیث کی اس قسم کے ساتھ ہے جس میں صحابی کی شہرت دو تابعین کے ذریعے ہوتی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← بَشِيرٍ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← يحيى بن يحيى أنبا وكيع ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1381

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1382

1382 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا وَحَاذَيْنَا بَابَهُ إِذْ هُوَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟» قَالَتْ: جِئْتُ مِنْ أَهْلِ الْمَيِّتِ رَحِمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ. قَالَ: «فَلَعَلَّكِ بَلَغْتَ مَعَهُمُ الْكُدَى؟» قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَبْلَغَ مَعَهُمُ الْكُدَى، وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهِ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: «لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَى جَدُّ أَبِيكِ» وَالْكُدَى: الْمَقَابِرُ " رَوَاهُ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سَيْفٍ

حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص کی تدفین کی، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے اور ان کے دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا، ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عورت کو نہیں پہچانتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! تو کہاں سے آ رہی ہے؟ اس نے جواب دیا: میں میت کے گھر والوں کے پاس سے آئی ہوں۔ میت کے لئے دعائے مغفرت کرنےاور تعزیت کرنے گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید کہ تو ان کے ساتھ قبرستان گئی تھی۔ اس نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ ان کے ساتھ قبرستان جاؤں۔ کیونکہ میں نے اس کے متعلق آپ کے ارشادات سن رکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کے ساتھ قبرستان جاتی تو اس وقت تک جنت نہ دیکھ سکتی جب تک کہ تیرے باپ کا دادا نہ دیکھ لیتا۔ مذکورہ حدیث میں ایک لفظ "الکدیٰ" استعمال ہوا ہے، اس کا معنی "قبرستان" ہے۔ اسی حدیث کو حیوۃ بن شریح حضرمی نے ربیعہ بن سیف سے نقل کیا ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ← رَبِيعة بْنِ سَيف ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1382

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1383

1383 - حَدَّثَنَاهُ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ امْرَأَةً مُنْصَرِفَةً مِنْ جِنَازَةٍ فَسَأَلَهَا: «مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟» فَقَالَتْ: مِنْ تَعْزِيَةِ أَهْلِ هَذَا الْمَيِّتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو جنازہ سے واپس آتے دیکھا۔ تو اس سے پوچھا: تو کہاں سے آ رہی ہے؟ اس نے جواب دیا: اس میت کے گھر والوں سے تعزیت کر کے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کے ساتھ قبرستان چلی جاتی تو اس وقت تک جنت نہ دیکھ سکتی جب تک کہ تیرے باپ کا دادا نہ دیکھ لیتا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1383

chevron_left Previous
1…101112…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section