Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1254

1254 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: أَنْبَأَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِمْ وَعَبَّاسٌ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَكِي، فَتَمَنَّى عَبَّاسٌ الْمَوْتَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَمِّ، لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَزْدَدْ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ فَتُسْتَعْتَبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ، فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ قَيْسٍ، عَنْ خَبَّابٍ، لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ "

حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بہت شدید بیمار تھے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے موت کی تمنا کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے چچا موت کی تمنا مت کرو ، کیونکہ اگر تم نیک ہو تو موت جتنی دیر سے آئے گی ، آپ کی نیکیوں پر نیکیاں بڑھتے جائیں گی اور یہ آپ کے لئے بہت بہتر ہے ۔ اور اگھر تم گنہگار ہو تو موت جنتی دیر سے آئے گی ، تمہیں گناہوں کی معافی مانگنے کا اتنا ہی موقع مل جائے گا ، اس لئے موت کی تمنا مت کرو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ، جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہاور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے قیس کے حوالے سے خباب کا یہ بیان نقل کیا ہے " اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موت کی تمنا کرنے سے منع کیا ہوتا تو میں موت کی تمنا کرتا۔

أُمِّ الْفَضْلِ ← هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ

Hadith 1254

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1255

1255 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ بِلَالِ بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكِدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ عَمَلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں خبر دوں کہ تم میں سب سے بہترین شخص کون ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔مذکورہ حدیث کی ایک شاہد بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔( شاہد حدیث درج ذیل ہے )

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَيُّوبُ بْنُ بِلَالِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← مكرم بن أحمد القاضي،

Hadith 1255

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1256

1256 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَيُونُسٍ، وَثَابِتٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ» . قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: «مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سے سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :"جس کی عمر طویل اور عمل نیک ہوں "۔ اس نے پوچھا : سب سے برا شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کی عمر لمبی اور اعمال برے ہوں۔

أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← الْحَسَنِ، ← حميد ويونس وثابت ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Hadith 1256

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1257

1257 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، جَمِيعًا، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ» قَالَ: فَقِيلَ: كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟ قَالَ: «يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ "

حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے عمل کرواتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ تعالی اس سے کیسے عمل کرواتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی اس بندے کو موت سے پہلے نیک عمل کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اسناد صحیح کے ہمراہ گزشدتہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے ۔(جو کہ درج ذیل ہے )

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، جَمِيعًا، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← الْمُعْتَمِرُ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 1257

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1258

1258 - أَخْبَرْنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا عَسَلَهُ» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا عَسَلَهُ؟ قَالَ: «يُوَفِّقُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا بَيْنَ يَدَيْ أَجَلِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ جِيرَانُهُ» أَوْ قَالَ: «مَنْ حَوْلَهُ»

حضرت عمر بن حمق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو شہد کھلات ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : کیسے شہد کھلاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی موت سے پہلے اس کو نیک عمل کی توفیق دیتا ہے حتی کہ اس کے پڑوسی اس سے خوش ہو جاتے ہیں ۔یا (شاید فرمایا) اس کے ارد گرد والے لوگ خوش ہو جاتے ہیں ۔

عَمْرَو بْنِ الْحَمِقِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 1258

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1259

1259 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا الْأَعْمَشُ، وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر بندے کو اسی حالت پر آٹھایا جائے گا جس حالت پر وہ مرے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ،لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Hadith 1259

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1260

1260 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي يَمُوتُ فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :جب حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میت کو انہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِثِيَابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَهَا ثُمَّ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← ابن أبي مريم أنبا يحيى بن أيوب ← مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِىِّ الْعَدْلُ

Hadith 1260

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1260.1

1260 - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ان مراتب میں سے کسی مرتبے پر مرے گا ، قیامت کے دن اسی پر اٹھایا جائے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

النَّبِيِّ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ

Hadith 1260.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1261

1261 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، يَقُولُ: «إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْ ذَلِكَ مَرَضٌ، أَوْ سَفَرٌ، كُتِبَ لَهُ كَصَالِحٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ، وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دو مرتبہ نہیں (بلکہ کئی مرتبہ ) فرماتے سنا ہے کہ بندہ نیک عمل کرتا ہو پھر وہ بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ عمل نہ کر پائے تو اس کے نامہ اعمال میں بدستور وہ ثواب لکھا جاتا رہے گا جو وہ حالت صحت و اقامت میں کیا کرتا تھا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

ذَلِكَ مَرَضٌ، أَوْ سَفَرٌ، ← «إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا فَشَغَلَهُ ← النَّبِيَّ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّکْسَکِيِّ ← هُشَيْمٌ ← مُسَدَّدٌ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 1261

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1262

1262 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلَاعِبِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ، قَالَ: «قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ الْيَهُودِ» ، فَقَالَ: قَدْ أَبْغَضَهُمْ سَعْدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ، فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَدْ مَاتَ فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، «فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبداللہ ابن ابی کی مرض الموت میں عیادت کرنے تشریف لے گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس میں موت کے آثار پہچان لئے ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تجھے یہودیوں کی محبت سے منع کیا کرتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مزید ) فرمایا : ان میں سے بد ترین دشمن "سعد بن زرارہ "ہے ، اس کو چھوڑ دے ، جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبداللہ ابن ابی مر گیا ہے ، آپ مجھے اپنی قمیض عطا فرمائیں تا کہ میں اس میں اس کو کفن دوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قمیض اتار کر اس کو دے دی ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دو مرتبہ نہیں (بلکہ کئی مرتبہ ) فرماتے سنا ہے کہ بندہ نیک عمل کرتا ہو پھر وہ بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ عمل نہ کر پائے تو اس کے نامہ اعمال میں بدستور وہ ثواب لکھا جاتا رہے گا جو وہ حالت صحت و اقامت میں کیا کرتا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئِ بْنِ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلاعِبٍ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Hadith 1262

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1263

1263 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ، وَلَا بِرْذَوْنٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عبادت کے لئے نہ تو خچر پر سوار ہو کر تشریف لاتے اور نہ گھوڑے پر ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 1263

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1264

1264 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِأَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الرُّوَاةِ أَوْقَفُوهُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، وَمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْهُمَا، وَأَنَا عَلَى أَصْلِي فِي الْحُكْمِ لِرَاوِي الزِّيَادَةِ "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے ، اس کے ساتھ ستر ہزافر فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہوئے نکلتے ہیں اور صبح تک دعا کرتے رہتے ہیں اور اس شخص کے لئے جنت میں ایک باغ ہے اور جو شخص صبح کے وقت کسی مریض کی عیادت کرنے نکلے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہیں جو کہ شام تک اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا کیونکہ راویوں کی ایک جماعت ہے جنہوں نے اس حدیث کو حکلم بن عتیبہ اور منصور بن المعتمر سے ابن لیلی کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ تک موقوف رکھا ہے جس کی شعبیہ نے روایت کیا ہے اور میں راوی کی زیادتی کے سلسے میں اپنی اصل پر قائم ہوں۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← مُعَاوِيَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 1264

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section