المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ السَّهْوِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1214
1214 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ: «صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ» فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، «فَلَمْ يَجْلِسْ وَمَضَى عَلَى قِيَامِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ» ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي سَمِعْتُكُمْ آنِفًا تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لِكَيْمَا أَجْلِسَ لَكِنَّ السُّنَّةَ الَّذِي صَنَعْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت عبدالرحمان بن شماسہ مہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :حضرت عقبہ بن عامر جہنی نے نماز پڑھائی تو و ہ کھڑے ہو گئے اور باقی لوگ بیٹھے رہے، لوگوں نے "سبحان اللہ، سبحان اللہ " کہہ کر لقمے دئیے لیکن وہ نہ بیٹھے اور بدستور کھڑے رہے اور جب نماز مکمل کر لی تو آخری قعدے میں دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا تو فرمایا : میں ے ابھی تمہیں سنا ہے کہ تم لوگ مجھے بٹھانے کے لئے سبحان اللہ کہہ رہے تھے لیکن سنت وہی ہے جو میں نے کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔
«صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ» ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 1214
