Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1175

1175 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ»

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جو شخص ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد چار رکعتوں پر استقامت اختیار کرے ، اللہ تعالی اس کو جہنم پر حرام کر دے گا ۔

أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ← عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← مَكْحُولٌ ← النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1175

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1176

1176 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ بُرَيْدَةُ: خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ أَمْشِي فِي حَاجَةٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَظَنَنْتُهُ يُرِيدُ حَاجَةً، فَجَعَلْتُ أَكُفُّ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى رَآنِي، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ بَيْنَ أَيْدِينَا يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُرَى هَذَا يُرَائِي؟» فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَأَرْسَلَ يَدَهُ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيُصَوِّبُهُمَا وَيَقُولُ: «عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ایک دن کسی کام سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی چلے آرہے ہیں ۔ میں یہ سمجھتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام سے جارہے ہیں ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل دیا ۔ میں مسلسل یو نہی چلتا رہا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا پھر ہم دونوں اکھٹے چل دئیے ۔ ہم نے اپنے سامنے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جو بہت زیادہ رکوع و سجود کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :تم اس ریا کار کو دیکھ رہے ہو؟میں نے کہا :اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ چھوڑا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر تین مرتبہ اوپر کی طرف اٹھایا اور نیچے کیا :پھر فرمایا :متوسط راستہ اختیار کرو کیونکہ جو شخص دین پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، دین اس پر غالب آ جاتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1176

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1177

1177 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ «صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء تک نوافل پڑھتے رہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

زِرٍّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1177

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1178

1178 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا بُيُوتَكُمْ بِبَعْضِ صَلَاتِكُمْ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا» فَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخٍ «فَإِنَّ لَفْظَهُ عَجَبٌ، وَهُوَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ صَدُوقٌ، سَكَنَ مِصْرَ وَبِهَا مَاتَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ نمازیں گھر میں پڑھ کر اپنے گھروں کو عزت بخشو ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عبداللہ کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے نافع کے واسطے سے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے "اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبرستان نہ بناؤ" ۔ عبداللہ بن فروخ کی اس حدیث سے الفاظ پسندیدہ ہیں ، یہ اہل مکہ کے شیخ ہیں ، صدوق ہیں ۔ مصرمیں رہائش پذیر رہے اور وہیں وفات پائی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1178

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1179

1179 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: «يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي» . فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِهَذَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے بلال ! تم کس عمل کے سبب جنت میں مجھ سے آگے ہو ؟ میں گزشتہ رات جنت میں گیا تو اپنے آگے تیرے قدموں کی آہٹ سنی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں جب بھی آذان دیتا ہوں تو دو رکعت نوافل پڑھتا ہوں اور میں جب بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بس اسی وجہ سے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

بِلَالٍ ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي". ← "يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ ← أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1179

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1180

1180 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ ذَلِكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ» . قَالَ: فَادْعُهُ. قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آیا اور اس نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے تندرستی دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس موخر کر لے کیونکہ یہی بہتر ہے اور اگر تم چاہو تو میں دعا کر دتا ہوں ۔ اس نے کہا : آپ دعا کر دیجئے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نوافل پڑھ کو یوں دعا مانگا کرو "اللھم انی اسالک ،واتو جہ الیک بینیک محمد نبی الرحمۃ ، یا محمد انی توجھت بک الی ربی فی حاجتی ھذہ فتقضی لی ، اللھم شفعتہ فی شفعنی فیہ"( یا اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں اور تیرے نبی رحمت،محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!میں آپ کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں متوجہ ہوں ، آپ میری حاجت پوری کر دیں ۔ اے اللہ ! تو ان کے حق میں میری دعا قبول فرما اور انہیں میرا شفیع بنا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ ← فَادْعُهُ. ← «إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ ذَلِكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ» ← ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي. ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1180

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1181

1181 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اكْتُمِ الْخِطْبَةَ، ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِي فُلَانَةً تُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْدُرْهَا لِي، وَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي مِنْهَا فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي، فَاقْضِ لِي بِهَا " أَوْ قُلْ: «فَاقْدُرْهَا لِي» هَذِهِ سُنَّةُ صَلَاةِ الِاسْتِخَارَةِ عَزِيزَةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مِصْرَ، ورُوَاتُهُ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ایوب بن خالد بن ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خطبہ خاموشی سے سنو ، پھراچھی طرح وضو کرو ، پھرنماز یں جو اللہ نے تم فرض کی ہیں وہ پڑھو ، پھر اس کی حمد اور بزرگی بیان کرو ، پھر یوں دعا مانگو( اے اللہ تو قادر ہے ، میں قادر نہیں ، تو جانتا ہے اور میں نہیں اور تو غیب جانتا ہے اگر فلاں چیز ۔۔۔۔۔(یہاں پر تم اس چیز کا نام ذکر کرو) میرے حق میں تیری بارگاہ میں میرے دین ، دنیا اور آخرت کے حوالے سے بہتر ہے تو وہ میرے لئے مقدر کر دے اور اگر اس کے علاوہ ( کوئی دوسری چیز) میرے دین ، دنیا اور اخرت کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے تو میرے لئے اس کا فیصلہ کر دے یا (کہا کہ) وہ میرے مقدر میں کر دے ۔یہ نماز استخارہ کی سنت عزیزہ ہے ، اس کو فقط اہل مصر نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1181

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1182

1182 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحَافِظُ عَلَى صَلَاةِ الضُّحَى إِلَّا أَوَّابٌ» قَالَ: «وَهِيَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صلاہ الضحی پر استقامت صرف تو بہ کرنے والے اختیار کرتے ہیں (ابو ہریرہ) کہتے ہیں :یہ صلاۃ الاوابین ہے ۔ ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1182

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1183

1183 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، فَسَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَقْتُلَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ فِي ثَمَانِ رَكَعَاتِ الضُّحَى فَقَطْ "

حضرت انس بن مالک کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک سفر میں آٹھ رکعت نوافل پڑھتے دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا : میں نے شوق اور خوف کی نماز پڑھی ہے اور میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں جن میں سے اللہ تعالی نے مجھے دو عطا کر دی ہیں اور ایک سے منع کر دیا ہے ۔ میں نے دعا مانگی "میری امت قحط کے ساتھ قتل نہ ہو " تو قبول کر لی گئی اور میں نے یہ دعا مانگی " ان پر دشمن غالب نہ ہو "تو یہ دعا قبول ہو گئی اور میں نے یہ دعا مانگی " یہ آپس میں نہ لڑیں " تو مجھے اس سے منع کر دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو ان لفظوں کے ہمراہ بیان نہیں کیا ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے ضحی کی آٹھ رکعتیں پڑھنے کے متعلق ام ہانی کی حدیث نقل کی ہے ۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الضحاك بن عبد الله القرشي ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1183

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1184

1184 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ جَالِسًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : وفات سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر نمازیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو بكر أحمد بن محمد الصيرفي بمرو

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1184

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1185

1185 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِسَائِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ «وَقَدْ خَرَّجْتُهُ قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، وَهَذَا مَوْضِعُهُ، وَحَدِيثُ ابْنُ سِيرِينَ، هَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ لِمَا تَقَدَّمَ»

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی جب کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر نماز شروع کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے اان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔اور میں نے اس سے پہلے حمید کی روایت ، عبداللہ بن شفیق کے حوالے سے نقل کی ہے اور یہ مقام اسی حدیث کا ہے اور ابن سیرین کی یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شاہد ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← یزید بن اِبراھیم التستری ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِسَائِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1185

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1186

1186 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَجَالِسًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " إِنَّمَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ مُخْتَصَرًا

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ناسور کا عارضہ تھا (یعنی ایک گہرا زخم تھا جو ہر وقت رستا رہتا تھا )تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ( اس بارے میں پوچھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا :کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو ، اگر ایسا نہ ہوسکے تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کروٹ کے بل پڑھ لو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اسی واقعہ کو یزید بن زریع کی حسین العلم کی حدیث میں مختصراً نقل کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يحيى بن يحيى أنبا وكيع ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1186

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section