المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1038
1038 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ فَسَأَلَا عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَحْسَنُ وَأَطْهَرُ، وَسَأُخْبِرُكُمَا: لَمَّا بَدَأَ الْغُسْلُ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ، يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، وَمِنْبَرُهُ قَصِيرٌ، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ، فَثَارَتْ أَبْدَانُهُمْ رِيحَ الْعَرَقِ وَالصُّوفِ حَتَّى كَادَ يُؤْذِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَنَّ أَحَدُكُمْ أَطْيَبَ مَا يَجِدُ مِنْ طِيبِهِ أَوْ دُهْنِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1038 - على شرط البخاري
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ عراق سے دو آدمی ان کے پاس آئے اور جمعہ کے دن غسل کے متعلق پوچھا : کہ یہ غسل واجب ہے؟ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کوکہا: جس نے غسل کیا، اس نے بہت اچھا کام کیا اور اچھی طہارت حاصل کی (مزید) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ غسل کیسے شروع ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ غریب ہوا کرتے تھے۔ وہ اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی کمر پر لاد لاد کر باغات کو پانی لگاتے تھے اور مسجد تنگ تھی چھت بھی بہت نیچی تھی ایک مرتبہ جمعہ کے دن شدید گرمیوں میں آپ مسجد میں تشریف لائے، آپ کا منبر چھوٹا ساتھا جس کے صرف تین زینے تھے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا لوگوں کا پسینہ صفوں پر گر رہا تھا تو ان کے جسم سے پسینے اور اون کی بدبو آنے لگی، یہاں تک کہ ان کو ایک دوسرے سے الجھن ہونے لگی، ان کی بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر تک پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب یہ دن آئے تو اچھے طریقے سے غسل کیا کرو اور اچھا تیل یا خوشبو جو میسر ہو وہ لگا کر آیا کرو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے میعار کے مطابق صحیح ہے۔
الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ فَسَأَلَا ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 1038
