المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 881
881 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ وَرِجْلَهُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُمَجِّدُهُ، وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْكَعُ، وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَيَسْتَوِي ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُقِيمُ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى يَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ، وَيَسْتَوِي ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ " فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ، قَالَ: «لَا يَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ بَعْدَ أَنْ أَقَامَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى إِسْنَادَهُ فَإِنَّهُ حَافِظٌ ثِقَةٌ، وَكُلُّ مَنْ أَفْسَدَ قَوْلَهُ فَالْقَوْلُ قَوْلُ هَمَّامٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا فِيهِ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّارِيخِ الْكَبِيرِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ وَحَكَمَ لَهُ بِحِفْظِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُقِمْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ «[ص:369].
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے مسجد میں آ کر نماز پڑھی ۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دیگر لوگوں کو اس نے سلام کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے کہا : واپس جاؤ اور (دوبارہ )نماز پڑھو کیونکہ تیری نماز نہیں ہوئی ۔ یہی بات دوسری مرتبہ ( نماز پڑھنے کے بعد ) بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےاس سے کہی اور ( شاید ) تیسری مرتبہ بھی یہ بات کہی ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ نے میری نماز میں کون سی غلطی نوٹ کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کسی بھی شخص کی نماز مکمل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کامل وضو کرے ( یعنی اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے ، سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے ، پھر تکبیر کہے ، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرے ( یعنی ثناء اور فاتحہ پڑھے ) قرآن کی کسی سورۃ سے ( کم از کم ) اتنا ( ضرور ) تلاوت کرے ، جتنا پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم ارشاد فرمایا ہے ۔ پھر تکبیر کہے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ دے ، یہاں تک کہ اس کے اعضاء مطمئن ہو جائیں اور برابر ہو جائی پھر پڑھے " سمع اللہ لمن حمدہ " ۔ پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر درست ہو جائے اور اس کی پشت سیدھی ہو جائے ، پھر تکبیر کہے اور سجدے میں چلا جائے ، اپنی پیشانی کو زمین پر جما دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور درست ہو جائیں ۔ پھر تکبیر کہے اور سر کا اٹھائے اور پنی مقعد پر وزن ڈالتے ہوئے بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھا رکھے ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ) یوں نماز کا مکمل طریقہ بیان فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکمل طریقہ بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا : جب تک اس طریقے سے نماز نہیں پڑھو گے ، تمہاری نماز نہیں ہو گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ مزید براں یہ کہ ہمام بن یحییٰ نے اس کی سند کو قائم بھی رکھا ہے ۔ حمام حافظ ہیں ، ثقہ ہیں۔ ان کے خلاف بات کوئی بھی کرے ، معتبر قول " ہمام " ہی کا ہے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عبید اللہ بن عمر کی وہ روایت نقل کی ہیں ، جو انہوں نے سعید المقبری کے واسطے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہی حدیث تاریخ کبیر میں حجاج بن منہال کے حوالے سے نقل فرمائی ہے اور ان کے حافظ ہونے کا موقف اپنایا ہے ۔ پھر فرمایا : اس کو حماد بن سلمہ نے قائم نہیں رکھا۔
عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 881
