Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 869

869 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ» قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يَقْرَؤُهَا» . «وَقَدْ أَدْخَلَ مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُبَادَةَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ»

حضرت عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو قرات کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بہت دشواری ہوئی ، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم میرے پیچھے قرات کرتے ہو ، ہم نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : سورۃ فاتحہ کے سوا اور کچھ نہیں پڑھا کرو کیونکہ جو فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ ایک روایت میں محمود بن ربیع نے اپنے اور عبادہ بن صامت کے درمیان وہب بن کیسان کا بھی ذکر کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے )

«إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ» قُلْنَا: أَجَلْ وَاللَّهِ ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ -وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 869

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 870

870 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ مَعِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» وَمِنْهَا

حضرت عباد بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا : کیا نماز میں میرے ساتھ تم بھی قرات کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو۔ شاہد نمبر 3:

«فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» وَمِنْهَا ← «هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلَاةِ مَعِيَ؟» قُلْنَا: نَعَمْ ← النَّبِيِّ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي نُعَيْمٍ أَنَّهُ ← مَحْمُودٌ، ← مَكْحُولٌ ← غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 870

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 871

871 - مَا أَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الْخَزَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ إِلَى جَنْبِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَرَأَ مَعَ الْإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ، تَقْرَأُ وَتُسْمِعُ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّا قَرَأْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلِطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَبَّحَ، فَقَالَ لَنَا حِينَ انْصَرَفَ: «هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: " قَدْ عَجِبْتُ قُلْتُ: مِنْ هَذَا الَّذِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنَ، إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ فَلَا تَقْرَءُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا «. هَذَا مُتَابِعٌ لِمَكْحُولٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ عَزِيزٌ.» وَإِنْ كَانَ رِوَايَةُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ فَإِنِّي ذَكَرْتُهُ شَاهِدًا "

حضرت محمد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت عباد بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ( نماز پڑھ رہا ) تھا اور عبادہ امام کے ساتھ ساتھ قرات کر رہے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا : اے ابو ولید ! تم قرات کر رہے تھے ؟ حالانکہ تم سن رہے تھے کہ امام صاحب بلند آواز سے قرات کر رہے ہیں ۔ عباد نے کہا: جی ہاں ! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے بھی قرات کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قرات میں غلطی لگ گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تسبیح پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سے فرمایا : کیا میرے ساتھ کوئی قرات کر رہا تھا؟ ہم نے کہا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مجھے بڑا عجیب لگا ، میں نے سوچا کون ہے ؟ جو میرے ساتھ قرآن میں جھگڑ رہا ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ) جب امام قرات کر رہا ہو تو تم قرات نہ کرو ، سوائے سورۃ فاتحہ کے ، کیونکہ جو شخص فاتحہ نہیں پڑھتا ، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ حدیث محمود بن ربیع سے مروی ہونے میں مکحول کی متابع ہے اور یہ عزیز ہے اور یہ حدیث اگرچہ اسحاق بن ابو فروہ کی روایت کردہ ہے لیکن میں نے اس کو شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے ۔

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← عبد الله بن عمرو بن الحارث ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الْخَزَّارُ، ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 871

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 872

872 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَمَا زَادَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ، فَإِنَّ جَعْفَرَ بْنَ مَيْمُونٍ الْعَبْدِيَّ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ، وَيَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنِ الثِّقَاتِ» . وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّهُمَا كَانَا «يَأْمُرَانِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 872 - صحيح لا غبار عليه وجعفر ثقة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو حکم دیا کہ باہر نکل کر لوگوں میں یہ منادی کر دیں کہ سورۃ فاتحہ اور کچھ مزید آیات پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ یہ حدیث صحیح ہے ، اس پر کوئی غبار نہیں ہے کیونکہ جعفر بن میمون کا شمار ثقہ بصری راویوں میں ہوتا ہے اور یحییٰ بن سعید تو ثقہ کے علاوہ کسی اور سے روایت ہی نہیں کرتے تھے ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : کہ امیر المومنین عمر بن خطاب اور حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درج ذیل روایت صحیح ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کیا کرتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 872

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 873

873 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: " اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: «وَإِنْ كُنْتُ أَنَا» ، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: «وَإِنْ جَهَرْتُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 873 - صحيح

یزید بن شریک کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرات کرنے کے متعلق مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا : سورۃ فاتحہ پڑھا کرو ۔ میں نے کہا : اگرچہ ( امام ) آپ ہوں ؟ انہوں نے فرمایا : اگرچہ ( امام ) میں ہوں۔ میں نے کہا: اگرچہ آپ بلند آواز سے قرات کر رہے ہوں؟ انہوں نے فرمایا : اگرچہ میں بلند آواز سے ہی قرات کر رہا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث :

«وَإِنْ جَهَرْتُ» [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ ← «وَإِنْ كُنْتُ ← اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ ← الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ← يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← حَفْصٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 873

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 874

874 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنِي عَلِيِّ بْنِ حَمْشَاذَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، «أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ أَنْ يُقْرَأَ خَلْفِ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخَرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 874 - صحيح

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حکم دیا کرتے تھے کہ امام کے پیچھے پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور سورۃ اور آخری دو رکعتوں میں ( صرف ) سورۃ فاتحہ پڑھا کرو۔

أَبِيهِ ← ابْنِ اَبِیْ رَافِعٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← شُعْبَةُ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 874

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 875

875 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِالْوَاقِعَةِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا خَرَّجَ مُسْلِمٌ بِإِسْنَادِهِ: كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِالْوَاقِعَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 875 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمہاری طرح نماز پڑھایا کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز میں تخفیف کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فجر کی نماز میں سورۃ واقعہ اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز فجر میں سورۃ واقعہ پڑھا کرتے تھے ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 875

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 876

876 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ أَمِنَ الْقُرْآنِ هُمَا؟ «فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو أُسَامَةَ ثِقَةٌ مُعْتَمَدٌ» . وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِإِسْنَادٍ آخَرَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 876 - على شرطهما

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا : سورۃ الفلق اور سورۃ الناس قرآن پاک میں سے ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ( اگلے دن ) فجر کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اس حدیث کو ثوری سے روایت کرنے میں ابواسامہ منفرد ہیں اور ابواسامہ ثقہ ہیں معتمد ہیں ۔ اسی حدیث کو عبدالرحمان بن مہدی اور زید بن حبان نے معاویہ بن صالح سے ایک دوسری سند کے ہمراہ نقل کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 876

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 877

877 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: «يَا عُقْبَةُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ تَرَى يَا عُقْبَةُ» أَمَا حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ نَحْوَ هَذَا الْإِسْنَادِ. «وَهَذَا الْإِسْنَادُ لَا يُعَلِّلُ الْأَوَّلَ فَإِنَّ هَذَا إِسْنَادٌ لِمَتْنٍ آخَرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک سفر میں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سواری چلا رہا تھا ( اس دوران ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے عقبہ ! ( آج تک ) پڑھی گئی ، سورتوں میں سے دو بہترین سورتیں میں تمہیں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : (1) قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ۔ پھر جب آپ نے ایک جگہ پر قیام کیا تو فجر کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں۔ پھر فرمایا : اے عقبہ ! کیا خیال ہے ؟ زید بن حبا ب کی حدیث جو کہ معاویہ بن صالح سے مروی ہے ، کی سند بھی اس جیسی ہے اور یہ اسناد گزشتہ اسناد کو معلل نہیں کرتی کیونکہ یہ اسناد دوسرے متن کی ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 877

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 878

878 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِقُبَاءَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: أَمَا تَدَعُ هَذِهِ السُّورَةَ أَوْ تَقْرَأُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَتَتْرُكَهَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ وَإِلَّا فَلَا، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِهِمْ وَكَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ؟ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ؟» فَقَالَ: أُحِبُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مُسْتَشْهِدًا بِعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 878 - على شرط مسلم وأورده البخاري تعليقا

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد قبا میں ان کو نماز پڑھایا کرتا تھا ( اس کی یہ عادت تھی کہ ) کوئی بھی سورت شروع کرنے سے پہلے قل ھو اللہ احد ( یعنی سورۃ اخلاص) پڑھا کرتا تھا ، ہر نماز میں وہ اسی طرح کیا کرتا تھا ۔ اس کے مقتدیوں نے اس سے کہا: تم یہ سورۃ کیوں نہیں چھوڑتے ؟ یا صرف اسی سورت پر اکتفا کیوں نہیں کر لیتے ؟ اس نے ان کو جواب دیا : میں یہ عمل چھوڑنے کا نہیں ہوں ، اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو ٹھیک ہے لیکن میں ایسے ہی کروں گا ورنہ تمہاری مرضی ( اور صورت حال یہ تھی کہ ) یہ آدمی ان سب سے زیادہ صاحب فضل و کمال تھا وہ خود بھی اس کے علاوہ کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے تے ۔ اس کے مقتدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں آئے اور تمام صورت حال بیان کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو بلا کر فرمایا : اے فلاں ! کون سی چیز تمہیں اس بات پر عمل کرنے سے روک رہی ہے جس کا إصرار تمہارے مقتدی کر رہے ہیں اور کس بناء پر تم نے اس سورت کا التزام کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! میں اس سورت سے محبت کرتا ہوں ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اس سورۃ کی محبت تجھے جنت میں لے جائے گی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عبدالعزیز بن محمد کی روایات اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر بطور شاہد ذکر کی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 878

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 879

879 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا وَالْآيَةُ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 879 - صحيح

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام رات صبح تک اسی ایت کا تکرار کرتے رہے ۔ " ان تعذبھم فانھم عبادک ، وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم " ( اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کر دے تو تو غالب حکمت والا ہے ) ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبَا ذَرٍّ ← حَدَّثَتْنَا جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، ← قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَامِرِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 879

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 880

880 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا أَقْرَأُ، قَالَ: " قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا الرَّجُلُ بِيَدِهِ وَقَالَ: هَذَا لِرَبِّي فَمَاذَا إِلَيَّ؟ قَالَ: " قُلِ: اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي " قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا بِيَدِهِ الْأُخْرَى وَقَامَ. " زَادَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: كُنْتُ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاسْتَثْبَتُّهُ مِنْ غَيْرِهِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 880 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں قرآن پڑھا ہو انہیں ہوں، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو قران کی جگہ مجھے کفایت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : پڑھو " سبحان اللہ، والحمد للہ ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ " اس پر شخص نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور کہا یہ تو میرے رب کے لئے اور میرے لئے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : پڑھو " اغفرلی ، وارحمنی ، واھدنی ، وارزقنی ، وعافنی " ( یا اللہ میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے ، مجھے رزق عطا فراما اور مجھے عافیت عطا فرما۔ ) اس نے دوسرا ہاتھ بھی سینے پر رکھا اور اٹھ کر چلا گیا۔ جعفر بن عون نے اس حدیث میں اضافہ کیا ہے : مسعر کہتے ہیں : میں ابراہیم کے ہاں موجود تھا اور وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے اس سند کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی اس کو ثابت رکھا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 880

chevron_left Previous
1…678…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section