المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1025
1025 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ قَالُوا: ثنا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ، أَوْ يُسَرُّ بِهِ، خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ «فَإِنَّ بَكَّارَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ صَدُوقٌ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ» وَإِنَّمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ لِشَرْطِهِمَا فِي الرِّوَايَةِ كَمَا ذَكَرْنَاهُ فِيمَا تَقَدَّمَ، وَلَيْسَ لِعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ رُوَاةٌ غَيْرُ ابْنِهِ، فَقَالَ: صَالِحُ الْحَدِيثِ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ يَكْثُرُ ذِكْرُهَا، وَمِنْهَا أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَأَى الْقِرْدَ فَخَرَّ سَاجِدًا» . وَمِنْهَا: أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَأَى رَجُلًا بِهِ زَمَانَةٌ فَخَرَّ سَاجِدًا» ، وَمِنْهَا أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ «جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عِنْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ فَخَرَّ سَاجِدًا» ، وَمِنْهَا أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُغَاشًا، فَخَرَّ سَاجِدًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1025 - صحيح
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی خوش کن معاملہ پیش آتا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کرتے۔ یہ حدیث صحیح ہے ، اگرچہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا، اس لئے وقار بن عبدالعزیز ائمہ کے نزدیک صدوق ہیں اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس لئے روایت نہیں کیا کہ روایت کے حوالے سے ان کا معیار پورا نہیں تھا جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم ذکر کر چکے اور عبدالعزیز بن ابو بکرہ سے روایت لینے والا اس کے بیٹے کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے تو فرمایا: کہ یہ صالح الحدیث ہے اور اس حدیث کے بہت شواہد ہیں۔ (1)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بندر کو دیکھا تو سجدے میں گر پڑے۔ (2)آپ نے ایک لونجے شخص کو دیکھا تو سجدہ ریز ہو گئے۔ (3)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جعفر ابو طالب فتح خیبر کے وقت آئے تو آپ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ (4)آپ نے ایک ٹھگنے شخص کو دیکھا تو سجدہ شکر ادا کیا۔
أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ
Hadith 1025
