Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 809

809 - ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَوْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَاتَلْتُ شَيْئًا مِنْ قِتَالٍ ثُمَّ جِئْتُ مُسْرِعًا لِأَنْظُرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ فَجِئْتُ فَأَجِدُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ» لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى الْقِتَالِ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ سَاجِدٌ، يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَى الْقِتَالِ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ ذَلِكَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَيْسَ فِي إِسْنَادِهِ مَذْكُورٌ بِجَرْحٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 809 - القزاز كذبه أبو داود وأما ابن وهب فاختلف قولهم فيه وإسماعيل فيه جهالة

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ بدر کے دن میں کچھ دیر لڑتا رہا پھر میں جلدی سے پلٹ کر آیا تاکہ دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا کر رہے ہیں ۔ میں آیا تو ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حالت سجدہ میں " یا حی یا قیوم " پکار رہے تھے ، اس کے علاوہ او ر کچھ نہیں پڑھ رہے تھے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) میں دوبارہ میدان جنگ کی طرف لوٹ گیا ( کچھ دیر بعد ) پھر آ کر دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہی ورد کر رہے تھے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) میں پھر میدان جنگ کی طرف چلا گیا ( تھوڑی دیر بعد ) پھر آ کر دیکھا ! تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہی پڑھ رہے تھے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسلسل یہی پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ( جنگ بدر میں ) فتح عطا فرمائی ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔اور اس کی سند میں کوئی مجروح راوی مذکور نہیں ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَوْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 809

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 810

810 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَتَبِعْتُهُ أَمْشِي وَرَاءَهُ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ وَأَنَا وَرَاءَهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ تَوَفَّاهُ فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جِئْتُهُ فَطَأْطَأْتُ رَأْسِي أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ» فَقُلْتُ: لَمَّا أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ تُوُفِّيَ نَفْسُكَ فَجِئْتُ أَنْظُرُ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمَّا دَخَلْتُ النَّخْلَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: إِنِّي أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْلَمُ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ أَصَحُّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ حَدِيثَ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ بَعْدَ هَذَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 810 - على شرطهما

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا ، تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسجد سے نکل رہے تھے ، میں چکپے سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چلتے چلتے ایک باغ میں پہنچے اور قبلہ رو ہو کر سجدے میں گر پڑے اور بہت لمبا سجدہ کیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے کھڑا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا ) مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فوت ہو گئے ۔ اس لئے میں چلتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قریب آ گیا اور اپنا سر جھکا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سجدے سے سر اٹھایا اور فرمایا : اے عبدالرحمان ! تجھے کیا پریشانی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ نے سجدہ اتنا لمبا کیا کہ مجھے تو خدشہ ہو گیا تھا کہ شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے ۔ اس لئے میں آپ کو دیکھنے آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جب میں اس باغ میں داخل ہوا تھا تو میری ملاقات جبرائیل علیہ السلم سے ہوئی ، اس نے مجھے کہا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے " جو شخص آپ پر سلا م بھیجے گا ، میں اس پر سلام بھیجوں گا اور جو آپ پر درود بھیجے گا ، میں اس پر رحمتیں بھیجوں گا۔ " یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) سجدہ شکر دا کرنے کے متعلق اس حدیث سے زیادہ صحیح حدیث میری نظر سے نہیں گزری اور اس کے بعد میں نے وقار بن عبدالعزیز بن ابو بکرہ کی حدیث نقل کی ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الرحمن بن الحويرث ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 810

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 811

811 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ: ثَلَاثَةً فِي الْمُفَصَّلِ، وَسُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ «.» هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مِصْرِيُّونَ قَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِأَكْثَرِهِمْ، وَلَيْسَ فِي عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ أَتَمُّ مِنْهُ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 811 - رواته مصريون احتجا بأكثرهم

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن میں پندرہ آیات سجدہ تلاوت کیں ( جن میں سے ) تین مفصل ہیں اور سورۃ الحج میں دو سجدے ۔ اس حدیث کے تمام راوی مصری ہیں ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ ان میں سے اکثر کی روایت نقل کی ہیں : اور قرآن پاک کے سجدوں کی تعداد کے بارے میں اس حدیث سے جامع کوئی دوسری حدیث نہیں ہے ۔ شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عبد الله بن منين ← الحارث بن سعيد ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أبو عبد الله محمد بن علي الجوهري ببغداد

Hadith 811

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 812

812 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: «آمِينَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَاتَّفَقَا عَلَى تَأْمِينِ الْإِمَامِ، وَعَلَى تَأْمِينِ الْمَأْمُومِ، وَإِنْ أَخْفَاهُ الْإِمَامُ، وَقَدِ اخْتَارَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِأَنَّ تَأْمِينَ الْمَأْمُومِينَ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَإِذَا قَالَ الْإِمَامُ: وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 812 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذا اللفظ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سورۃ فاتحہ پڑھ لیتے تو بلند آواز سے " امین " کہتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ امام اور متقدی دونوں کے " آمین " کہنے کے قائل ہیں اگرچہ ( ان کے نزدیک ) امام آمین آہستہ کہے گا اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ ( جو کہ محدثین رحمتہ اللہ علیہ کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ) نے مقتدیوں کے آمین کہنے کی یہ حدیث دلیل بنائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جب امام " ولالضالین " کہے تو تم " آمین " کہو۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا فَرَغَ مِنْ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 812

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 813

813 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَحِينَ رَكَعَ، وَحِينَ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَحِينَ سَجَدَ، وَحِينَ رَفَعَ، وَحِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُبَالِي اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ، أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» . إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ مُخْتَصَرًا. " وَقَدْ تَفَرَّدَ الْبُخَارِيُّ بِحَدِيثِ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، الْحَدِيثَ عَلَى الِاخْتِصَارِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 813 - على شرطهما وشاهده في الصحيح

حضرت سعید بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیماری یا کسی اور وجہ سے غیر حاضر تھے تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی ، انہوں نے تکبیر اولیٰ بلند آواز سے کہی اور رکوع کے وقت بھی تکبیر کہی اور " سمع اللہ لمن حمدہ " بلند آواز سے کہا ! ( یونہی ) جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا اور جب سجدہ کیا اور جب وہ سجدے سے اتھے اور جب وہ دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لئے ) اٹھے ، یہاں تک کہ اسی طرح ( تمام مقامات پر بلند آواز سے تکبیرات کہتے ہوئے ) نما زمکمل کی ، آپ سے کہا گیا : لوگ اپ کی نماز کے حوالے سے اختلاف میں ہیں ۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہو کر کہنے لگے : اے لوگو ! خدا کی قسم ! مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تمہاری نماز میں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں ؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو اس انداز میں نقل کیا ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور مام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عمران بن حصین رحمتہ اللہ علیہ کی وہ مختصر حدیث نقل کی ہے ، جس کی سند " غیلان بن جریر " کے واسطے سے " مطرف " سے ہوتی ہوئی ، ان تک پہنچتی ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عکرمہ سے یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں نے ابن اعباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ظہر کی نماز بیابان کے اندر ایک احمق بڈھے کے پیچھے پڑھی ۔ اس نے ( اس نماز میں ) بائیس مرتبہ تکبیر کہی ، اس کے بعد مختصر حدیث مکمل بیان کی ۔

سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَلِيمِيُّ،

Hadith 813

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 814

814 - حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 814 - على شرط مسلم

حضرت علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب رکوع کرتے تو اپنی انگلیاں کشادہ رکھتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیاگیا۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، بِمَكَّةَ،

Hadith 814

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 815

815 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «فَكَبَّرَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَرَكَعَ» قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا نُطَبِّقُ ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْإِمْسَاكِ بِالرُّكَبِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 815 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز سکھائی ( حضرت عبداللہ نے ) تکبیر کہی ، پھر جب انہوں نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا ۔ پھر رکوع کیا ،( آپ کہتے ہیں : ) یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا ، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے ۔ پھر ہمیں گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو اس انداز سے نقل نہیں کیا۔ دونوں نے اسماعیل بن ابوخالد کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے مصعب ابن سعید کے حوالے سے ان کے والد کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ہم رکوع کے وقت ہاتھوں کو گھٹنو کے درمیان دے لیا کرتے تھے پھر ہمیں گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔

«فَكَبَّرَ، فَلَمَّا أَرَادَ ← عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ الصَّلاَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبِي ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Hadith 815

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 816

816 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قَالَ: أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِ «فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ، وَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ جَافَى مِرْفَقَيْهِ» ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَفِيهِ أَلْفَاظٌ عَزِيزَةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِإِعْرَاضِهِمَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ» . سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، فَقَالَ: «ثِقَةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 816 - صحيح

حضرت سالم البراد کہتے ہیں : ہم عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ ہم نے ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ نماز کے متعلق کچھ بتائیں ۔ تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی پھر رکوع کے وقت تکبیر کہی اور اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر کھ دیں اور اپنی انگلیوں کو اس سے نیچے رکھا اور اپنی کہنیوں کو دور رکھا ، پھر فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس میں کچھ عزیز الفاظ ہیں اور شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس لئے ترک کیا ہے ( کہ اس کی سند میں عطاء بن سائب موجود ہیں ) اور وہ ان کی حادیث نقل کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) عباس بن محمد دوری نے یحییٰ بن معین سے عطاء بن سائب کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ ثقہ ہیں ۔

سَالِمٍ الْبَرَّادِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Hadith 816

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 817

817 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} [الواقعة: 74] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ»

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب یہ آیت "﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ٥٢﴾ [الحاقة: 52] " نازل ہوئی تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ تسبیح ، رکوع میں پڑھا کرو۔

لَنَا رَسُولُ اللَّهِ "اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ". ← لَمَّا نَزَلَتْ (فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ) [الواقعة: ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ،

Hadith 817

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 818

818 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} [الواقعة: 74] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ» فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1] قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ حِجَازِيٌّ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِرُوَاتِهِ غَيْرِ إِيَاسِ بْنِ عَامِرٍ، وَهُوَ عَمِّ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْقَاضِي، وَمُسْتَقِيمُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَسَلَّمَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 818 - إياس ليس بالمعروف

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب یہ آیت "﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ٥٢﴾ [الحاقة: 52] " نازل ہوئی تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ تسبیح ، رکوع میں پڑھا کر و اور جب یہ آیت " ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى١﴾ [الأعلى: 1]" نازل ہوئی تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ سجدہ میں پڑھا کرو۔ یہ حدیث حجازی ہے ۔ صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں ے ایاس بن عامر کے علاوہ باقی تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور یہ موسیٰ بن ایوب قاضی کے چچا ہیں اور ان کی سند درست ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس انداز سے نقل نہیں کیا۔ دونوں نے اعمش پھر سعید بن عبیدہ پھر مستورد بن احنف پھر صلہ بن زفر کے واسطے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رکوع میں " سبحان ربی العظیم " پڑھا کرتے تھے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمِّہٖ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ← الحسن بن محمد بن حليم المروزي

Hadith 818

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 819

819 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَنِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَالَ رَجُلٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ جَزِيلًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعًا وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 819 - صحيح

حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب رکوع سے سر اٹھایا تو " سمع اللہ لمن حمدہ " کہا۔ ہم میں سے ایک شخص نے " ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ جزیلا " کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ابھی (نماز کے دوران ) کون بول رہا تھا ؟ اس شخص نے جواب دیا ۔ میں ہوں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھ اہے ، جو اس کی نیکیاں لکھنے میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، اس حدیث کی سند مدنی ہے ۔

رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ ← نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← مَالِكٍ، ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَنِيُّ،

Hadith 819

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 820

820 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» صَلَّى الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ، وَكَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ. قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 820 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پورا ایک مہینہ ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر تمام نمازوں میں دعائے قنوت پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آخری رکعت کے رکوع سےاٹھتے تو " سمع اللہ لمن حمدہ " کہنے کے بعد بنی سلیم کے قبیلے رعل ، ذکوان اور عصیہ کے لئے بد دعا کیا کرتے تھے ۔ اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے ہوتے وہ " آمین " کہا کرتے تھے ، کیونکہ ان کی طرف اسلام کے جن مبلغین کو بھیجا تھا ، ان کو انہون نے قتل کر دیا تھا ۔ عکرمہ کہتے ہیں : یہ " مفتاح القنوت " ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیاگیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Hadith 820

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section