المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1001
1001 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ذُو قَرَابَةٍ لَهَا شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ فَقَامَ يُصَلِّي فَنَفَخَ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، لَا تَنْفُخْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ: «أَيْ رَبَاحُ، تَرِبَ وَجْهُكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1001 - صحيح
ابو صالح کہتے ہیں: میں ام مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ پاس موجود تھا کہ انکا ایک قریبی رشتہ دار گھنے بالوں والا نوجوان آیا۔ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا تو پھونک رہا تھا انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! مت پھونکو! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے سیاہ غلام"رباح" کو اس بات پر ڈانٹتے دیکھا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔
اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 1001
