Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 965

965 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَاسْتَنْسَبَنِي، فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتًى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ يُونُسُ أَحْسِبُهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ» قَالَ: " يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 965 - صحيح

انس بن حکیم الضبی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ میں آ گئے، یہاں ان کی ملاقات حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی (انس کہتے ہیں) انہوں نے مجھ سے میرا نسب پوچھا تو میں نے ان کو اپنا نسب بتا دیا، انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں؟ (انس کہتے ہیں) میں نے کہا: جی ہاں! "اللہ آپ پر رحم کرے" یونس کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے فرشتو! میرے بندے کی نماز کو دیکھو مکمل ہے یا کم؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ خود بھی جانتا ہے (پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) اگر اس کی نمازیں مکمل ہیں تو مکمل لکھ دی جائیں اور اگر کم ہیں تو دیکھو کہ میرے بندے کی کوئی نفلی عبادت ہے؟ اگر اس کی کوئی نفلی عبادت ہے تو اس میں سے میرے بندے کے فرائض کو پورا کر دو پھر اس کے بقیہ اعمال کا حساب کرو۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 965

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 966

966 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً، وَإِنْ لَمْ يُكْمِلْهَا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا تُكْمِلُوا بِهِ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ «.» قَصَرَ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَمُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْحُكْمَ فِي حَدِيثِهِ ".

حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کے متعلق حساب لیا جائے گا۔ اگر اس کی نمازیں مکمل ہوئیں تو اس کا ثواب پورا لکھ دیا جائے گا اور اگر کم ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفلی عبادت موجود ہے؟ (اگر ہے تو) اس کے ساتھ اس کے فرائض کی کمی کو پورا کر دو پھر اس کے بعد زکوٰۃ کا اور پھر دیگر اعمال کا اسی طرح حساب ہو گا۔ حماد بن سلمہ کے بعض راویوں نے اسی پر اکتفا کیا ہے اور موسیٰ بن اسماعیل اس حدیث میں حکم ہیں۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إبراهيم بن إسحاق الحربي ومحمد بن غالب ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 966

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 967

967 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا حَمْدُونُ بْنُ أَحْمَدَ السِّمْسَارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ [ص:395].

حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائےگا۔ اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ہے۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← حَمْدُونُ بْنُ أَحْمَدَ السِّمْسَارُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 967

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 968

968 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. «قَدْ ذُكِرَ هَذَا الْخِلَافُ فِيهِ عَلَى حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ لِيَعْلَمَ الْمُتَأَمِّلُ أَنَّ الَّذِي صَحَّحْنَاهُ حَدِيثُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ لَيْسَ فِيهِ خِلَافٌ عَلَى حَمَّادٍ، وَسَائِرُ الرِّوَايَاتِ فِيهِ أَسَانِيدُ لِحَمَّادٍ، عَنْ غَيْرِ دَاوُدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ أَجْمَعِينَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی طرح کا فرمان نقل کیا ہے۔ مذکورہ حدیث میں حماد بن سلمہ کی سند میں ہم نے اختلاف ذکر کیا ہے تاکہ محققین کو پتہ چل جائےکہ ہم نے جس حدیث کے متعلق صحیح ہونے کا موقف اختیار کیا ہے وہ " داؤد بن ابی ہند" کی حدیث ہے ، اس میں حماد پر کوئی اختلاف نہیں اور باقی تمام روایات جو حماد کی سند سے مروی ہیں وہ داؤد کے واسطے کے بغیر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 968

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 969

969 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، جُلَّهُ وَدِقَّهُ، أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا أَخْرَجَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ» أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 969 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ " اللھم اغفر لی ذنبی کلہ، جلہ ودقہ ، اولہ واٰخرہ ، علانیتہ وسرہ"۔ (یا اللہ میرے چھوٹے ، بڑے ، اول،آخر ،ظاہر، باطن سب گناہوں کو معاف فرما)۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ہے۔ تا ہم انہوں نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے کہ " بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 969

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 970

970 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 970 - على شرطهما

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب "سبح اسم ربک الاعلیٰ"پڑھتے تو اس کے بعد کہتے: سبحان ربی الاعلیٰ۔ یہ حدیث اما م بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو يَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 970

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 971

971 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 971 - على شرط مسلم

مطرف اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازپڑھتے دیکھا ہے، رونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے سے ہنڈیا کے ابلنے کی سی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 971

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 972

972 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ» . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِيمَا رَأَى أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا يُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَتَغْرِيرُ الرَّجُلِ بِصَلَاتِهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ هَذَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَشَكَّ فِي رَفْعِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 972 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز اور سلام پھیرنے میں "غرار" (کمی) نہیں ہونی چاہیئے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی سلام کہنے والے کو اس کے سلام کا جواب نہ دینا چاہتا ہو اور صرف "علیک" ہی کہہ دے اور کسی آدمی کا اپنی نماز میں کمی کرنا یہ ہے کہ جب وہ سلام پھیرے تو شک میں مبتلا ہو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اسی حدیث کو معاویہ بن ہشام نے ثوری سے روایت کیا ہے اور ان کو اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِيمَا رَأَى ← لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو بكر أحمد بن جعفر القطيعي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 972

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 973

973 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: «لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ، وَلَا صَلَاةٍ»

معاویہ بن ہشام اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بیان کیا ہے کہ "سلام کرنے میں اور نماز میں "غرار" (نقصان) نہیں ہونی چاہیئے۔

لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ ← أراه رفعه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 973

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 974

974 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ» . قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْدِيُّ: وَهُوَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ". وَهُوَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 974 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں "اختصار" سے منع کیا ہے، ابو عبداللہ عبدی کہتے ہیں: اختصار یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنے پہلو پر رکھے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور محدثین رحمۃ اللہ علیہم کی ایک جماعت نے محمد بن سیرین کے واسطے سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ "پہلو پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا ممنوع ہے۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْدِيُّ: وَهُوَ ← الاخْتِصَارِ فِي الصَّلاَة ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 974

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 975

975 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ غَنِيمَةٌ، فَدَفَعَنَا إِلَى وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ، فَنَظَرَ إِلَى دَلِّهِ فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةُ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ، وَبُرْنُسُ خَزًّ غُبُرٌ، وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلَاتِهِ، فَقُلْنَا لَهُ بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَمَّا أَسَنَّ، وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي الصَّلَاةِ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا لِوَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ لِفَسَادِ الطَّرِيقِ إِلَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 975 - على شرطهما

حضرت ہلال بن یساف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں رقہ (ایک مقام) میں گیا، میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا: کیا تم کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنا چاہتے ہو؟ میں کہا: یہ تو غنیمت ہے۔ وہ ہمیں حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا: چلو ہم پہلے چلتے ہیں اور ان کی زیارت کرتے ہیں ، جب ہماری نظر ان کی شخصیت پر پڑی تو (ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ) وہ سر پر چھوٹی سی ٹوپی پہنے ہوئے تھے جو کہ ان کے سر کے ساتھ چپکی ہوئی تھی، اور اسکے اوپر ریشم اور اون کی بنی ہوئی بڑی لمبی ٹوپی تھی جو کہ غبار آلود تھی اور وہ اپنے عصا سے ٹیک لگائے نماز پڑھ رہے تھے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا (آپ نماز میں ٹیک کیوں لگاتے ہیں؟) انہوں نے فرمایا: حضرت ام قیس بنت محصن نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک میں نقاہت آ گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے، تا ہم انہوں نے وابصہ بن معبد کی وجہ سے کہ حدیث نقل نہیں کی کیونکہ ان تک سند درست نہیں ہے۔

لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← قَدِمْتُ الرَّقَّةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 975

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 976

976 - حَدَّثَنِي عَلِي بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتْ: «مِنَ الْمُفَصَّلِ» ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: «حِينَ حَطَمَهُ السِّنُّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 976 - على شرطهما

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں پوری سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مفصل میں سے پڑھا کرتے تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا : کیا بیٹھ کر تماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آخری عمر میں (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے ان لفظون کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایوب کی حدیث عبداللہ بن شقیق کے واسطے سے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کا لمبا حصہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے اور یو ہی بیٹھ کر بھی"۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← کهمس بن الحسن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 976

chevron_left Previous
1…141516…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section