المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 965
965 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَاسْتَنْسَبَنِي، فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتًى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ يُونُسُ أَحْسِبُهُ ذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ» قَالَ: " يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 965 - صحيح
انس بن حکیم الضبی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ میں آ گئے، یہاں ان کی ملاقات حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی (انس کہتے ہیں) انہوں نے مجھ سے میرا نسب پوچھا تو میں نے ان کو اپنا نسب بتا دیا، انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں؟ (انس کہتے ہیں) میں نے کہا: جی ہاں! "اللہ آپ پر رحم کرے" یونس کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے فرشتو! میرے بندے کی نماز کو دیکھو مکمل ہے یا کم؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ خود بھی جانتا ہے (پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا) اگر اس کی نمازیں مکمل ہیں تو مکمل لکھ دی جائیں اور اگر کم ہیں تو دیکھو کہ میرے بندے کی کوئی نفلی عبادت ہے؟ اگر اس کی کوئی نفلی عبادت ہے تو اس میں سے میرے بندے کے فرائض کو پورا کر دو پھر اس کے بقیہ اعمال کا حساب کرو۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔
أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 965
