Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 778

778 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْجَنْزِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ قَائِمٌ أُصَلِّي فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: «يَا فَتَى لَا يَسُوءُكَ اللَّهُ، إِنَّ هَذَا عَهْدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ» ، فَقَالَ: " هَلَكَ أَهْلُ الْعَقْدِ - ثَلَاثًا - وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى، وَلَكِنِّي آسَى عَلَى مَا أَضَلُّوا» ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ تَعْنِي بِهَذَا؟ قَالَ: «الْأُمَرَاءَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، فَقَدِ احْتَجَّ بِيُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 778 - على شرط البخاري

قیس بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں اگلی صف میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا ، ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچ کر ایک طرف ہٹا دیا اور میری جگہ پر کھڑ ہو گیا۔ ( قیس کہتے ہیں ) : خدا کی قسم ! مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں نے نماز میں کیا غلطی کی تھی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ( تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ) کہ وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے مجھے کہا: اے نوجوان اللہ تعالیٰ تجھے کبھی پریشانی نہ دکھائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم صفوں میں مل کر کھڑے ہوں ، پھر وہ قبلہ رو ہو کر کہنے لگے : رب کعبہ کی قسم ! اہل عقد ہلاک ہو گئے ، یہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے ، پھر کہنے لگے : خدا کی قسم ! مجھے ان پر اور کوئی دکھ نہیں ہے ۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ یہ لوگ گمراہی پھیلا رہے ہیں ۔ ( قیس کہتے ہیں ) میں نے پوچھا : آپ یہ بات کن کے متعلق کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : امراء کے متعلق ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یوسف بن یعقوب سدوسی کی روایات نقل کی ہیں ۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ التَّيْمِيِّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الحسين بن محمد القباني ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْجَنْزِيُّ،

Hadith 778

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 779

779 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَنْظَلِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَفِيهِ سُنَّةُ عَزِيزَةٌ، وَهُوَ أَنْ يَقِفَ الْمَأْمُومُ حَتَّى يُكَبِّرَ الْإِمَامُ، وَلَا يُكَبِّرَ مَعَهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 779 - على شرطهما

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب امام " اللہ اکبر " کہے ، تو تم بھی " اللہ اکبر " کہو اور جب امام "سمع اللہ لمن حمدہ "کہے ، تو تم کہو "ربنا و لک الحمد"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس میں ایک سنت عزیزہ ہے وہ یہ کہ جب تک امام تکبیر کہتا رہے ، مقتدی خاموش رہے ، اس کے ساتھ تکبیر نہ کہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَنْظَلِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Hadith 779

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 780

780 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: «سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ عِنْدَ رُكُوعِهِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، وَحَدِيثُ سَمُرَةَ لَا يَتَوَهَّمُ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَمُرَةَ فَإِنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِنْهُ وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 780 - على شرطهما

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے ، سمرہ بن جندب نے بتایا : کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو سکتے سیکھے ہیں ( 1) اس وقت کا سکتہ جب امام تکبیر کہے اور ( 2) رکوع سے پہلے اس وقت کا سکتہ ، جب امام قرات سے فارغ ہو جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے " عمارہ بن قعقاع " کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے ابو زرعہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان کچھ دیر وقفہ کرتے ۔ سمرہ کی حدیث کے متعلق کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ حسن نے سمرہ نے حدیث کا سماع نہیں کیا ہے ( کیونکہ حقیقت بات یہ ہے کہ ) انہوں نے سمرہ سے حدیث کا سماع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ سابقہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ سند صحیح کے ساتھ مروی ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاکَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ ← الْحَسَنِ: أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 780

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 781

781 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: أَتَانَا أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَقَالَ: ثَلَاثاً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ، «يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَتَا أُذُنَيْهِ، وَيَسْكُتُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ هُنَيْهَةً، يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ»

سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بنی زریق کی مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے کہا: تین کام ایسے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے تھے اور لوگ انہیں چھوڑ چکے ہیں ( 1) تکبیر اولی کے وقت کانوں کے برابر ہاتھ اٹھایا کرتے تھے ( 2) قرات کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے ( 3) اللہ سے اس کا فضل مانگا کرتے تھے ۔

أتانا أبو هريرة في مسجد بني زريق ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 781

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 782

782 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا نَهَضَ فِي الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَمْ يَسْكُتْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 782 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو سورۃ فاتحہ سے شروع کرتے اور وقفہ نہ کرتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 782

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 783

783 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَتَّابٍ، وَسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتُمْ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمِصْرِيِّينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 783 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ہمارے ساتھ سجدہ کی حالت میں ملو تو سجدہ میں شامل ہو جاؤ لیکن اس کو کچھ شمار نہ کرو ( یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمہیں یہ رکعت مل گئی ) اور جس شخص نے ( جماعت کے ساتھ ) ایک رکعت بھی پا لی اس نے ( جماعت کے ساتھ ) نماز پا لی ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس کی مد میں عتیق بن ابو سلیمان ہیں یہ مصری ہیں اور ثقہ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زَيْدٍ أَبِي عَتَّابٍ، وَسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 783

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 784

784 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ» ، قَالَ: «وَصَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ يَقُومُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَثَبَ مَكَانَهُ كَأَنَّهُ يَقُومُ عَنْ رَضْفٍ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رُوَاتُهُ غَيْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخٍ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ لَا لِجَرْحٍ فِيهِ، وَهَذِهِ سُنَّةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لَا أَحْفَظُ لَهَا غَيْرَ هَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: كُنَّ النِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْمَكْتُوبَةَ قُمْنَ، قَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے خفیف نماز پڑھاتے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلام پھیرتے ہی اٹھ جاتے ، پھر میں نے ابو بکر کے ہمراہ بھی نماز پڑھی ۔ آپ جب سلام پھیرتے تو اپنی جگہ سے اتنی جلدی اٹھتے ، جیسے کوئی گرم پتھر سے اچھل کر اٹھتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے عبداللہ بن فروخ کے علاوہ ، اس حدیث کے تمام راویوں کی روایت نقل کی ہیں اور عبداللہ بن فروخ کی روایات تر کرنے کی وجہ " جرح " نہیں ہے ۔ یہ سنت مستعملہ اور اس کی سند اس کے علاوہ کوئی اور سند میری نظر میں نہیں اور ہند بن حارث کی وہ حدیث ، جس میں انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب فرض نماز کی جماعت ہو جاتی تھی تو عورتیں اٹھ جاتیں تھیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يحيى بن أبى أيوب ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 784

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 785

785 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنْتُ أُرَاهُ يُقَدِّمُ فِتْيَانًا مِنْ فَتَيَانِ قَوْمِهِ فَيُصَلُّونَ بِهِ، فَقُلْتُ: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكَ مِنَ الْفَضْلِ وَالسَّابِقَةِ تُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَانَ، فَيُصَلُّونَ بِكَ أَفَلَا تَتَقَدَّمُ وَتُصَلِّي لِقَوْمِكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْإِمَامَ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَتَمَّ كَانَ لَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ كَانَ عَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ، فَلَا أُرِيدُ أَنْ أَتَحَمَّلَ ذَلِكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 785 - على شرط مسلم

حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں سہیل بن سعد کو دیکھا کرتا تھا کہ وہ اپنی قوم کے کسی نوجوان کو آگے کر دیتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ۔ میں نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی ہیں ۔ اللہ نے آپ کو مرتبہ اور مقام عطا فرمایا ہے ، آپ ان کے بچوں کے آگے کر دیتے ہیں اور لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ، آپ خود اپنی قوم کی امامت کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے جواب دیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : امام ضامن ہوتا ہے ، اگر وہ نماز صحیح پڑھائے تو اس کا ثواب امام کو بھی ہے اور مقتدیوں کو بھی اور اگر کوئی کوتاہی رہ جائے تو اس کا وبال صرف امام پر ہے ۔ مقتدی اس سے بری الذمہ ہوتے ہیں ، اس لئے میں اتنا بڑا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ،

Hadith 785

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 786

786 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَاصُّوا فِي الصَّفِّ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ أَوْلَادُ الْحَذَفِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: «ضَأْنٌ جُرْدٌ سُودٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 786 - على شرطهما

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی صفوں کو جوڑ کر رکھو ، اپنے درمیان حذف کی اولاد کے لئے گنجائش مت چھوڑو ( براء کہتے ہیں ) میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! حذف کی اولاد کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بغیر بالوں کا کالے رنگ کا دنبہ جو کہ یمن میں پایا جاتا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← الْحَسَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ النَّخَعِیِّ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Hadith 786

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 787

787 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ، وَهُوَ أَنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 787 - على شرطهما

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفوں کو درست رکھنا بھی نماز کا حسن ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے بھی صفیں درست کرنے کے متعلق حدیث نقل کی ہے ۔ لیکن ان کے الفاظ ذرا مختلف ہیں ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : " ان تسویۃ الصف من تمام الصلوۃ "

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Hadith 787

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 788

788 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا وَلِلثَّانِي مَرَّةً» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ لِعِلَّةِ الرِّوَايَةِ، عَنِ الْعِرْبَاضِ، وَهُوَ مِمَّا قَدَّمْتُ فِيهِ الْقَوْلَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 788 - على شرطهما

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ دعائے مغفرت کیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث ہر اعتبار سے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے صرف اس وجہ سے نقل نہیں کیا کہ یہ عرباض سے مروی ہے ، اس سلسلے میں ہماری گفتگو پہلے ہو چکی ہے ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← جعفر بن محمد بن نصر الخلدي

Hadith 788

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 789

789 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنْزِلِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً، وَأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» الْبِئْرُ جُبَارٌ «وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 789 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص گھرے سے مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی ہے اور دوسرے قدم پر گناہ معاف ہوتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسود بن علاء کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس میں انہوں نے ابو سلمیٰ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا " البشر جبار " والا ارشاد نقل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الأسود بن العلاء بن جارية الثقفي ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 789

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section