Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 686

686 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى يَشْتَبِكَ النُّجُومُ»

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : میری امت قیامت تک فطرت پر قائم رہے گی ، جب تک مغرب میں ستاروں کے روشن ہونے تک تاخیر نہیں کرے گی ۔

النَّبِيِّ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَمَعْمَرٍ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ،

Hadith 686

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 687

687 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ بِالْفُسْطَاطِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ تَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فِي عَدَالَةِ الرُّوَاةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَظُنُّ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ مَوْقُوفًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِلَفْظٍ مُفَسَّرٍ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 687 - على شرطهما

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : فجر ، دو طرح کی ہے ، ایک فجر وہ ہے جس میں کھانا حرام اور نماز حلال ہے اور ایک فجر وہ ہے جس میں کھانا حلال اور نماز حرام ہے ۔ راویوں کی عدالت کے حوالے سے یہ حدیث امام بخاری و امام مسم رحمتہ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ یہ حدیث عبداللہ بن ولید نے سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے موقوفاً بیان کی ہے ۔ مذکورہ حدیث کی اس سے بھی زیادہ واضح لفظوں کے ہمراہ شاہد حدیث موجود ہے جس کی سند صحیح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 687

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 688

688 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيِّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِي يَكُونُ كَذَنَبِ السَّرْحَانِ فَلَا تَحِلُّ الصَّلَاةُ فِيهِ وَلَا يَحْرُمُ الطَّعَامُ، وَأَمَّا الَّذِي يَذْهَبُ مُسْتَطِيلًا فِي الْأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلَاةَ، وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : فجر دو فرح کی ہے ۔ ایک فجر بھیڑئیے کی دم جیسی ہوتی ہے ، اس میں نماز جائز نہیں اور کھانا بھی حرام نہیں اور ایک وہ فجر ہے ، جو آسمان پر لمبائی میں پھیل جاتی ہے ، اس میں نماز جائز ہے اور کھانا حرام ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ← عبد الله بن روح المدائني ← أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم الداربردي بمرو

Hadith 688

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 689

689 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فَيُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ ثُمَّ يَجْلِسُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا وَالْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ عَنِ الثَّوْرِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 689 - على شرطهما

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ایسی بات کی رہنمائی نہ کروں جو تمہاری خطاؤں کو مٹا دے اور نیکیوں میں اضافہ کرے ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۔ اپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب وضو کرنا مشکل ہو ، اس وقت اچھے طریقے سے وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تم میں سے کوئی شخص گھر سے نکلتا ہے اور امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے ، پھر وہ بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے تو ایسے شخص کے لئے فرشتے دعا مانگتے ہوئے کہتے ہیں : یا اللہ اس کی مغفرت فرما، یا اللہ اس پر رحم فرما۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث ثور ی کی حدیث سے غریب ہے ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) میں نے ابوعلی حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث ثوری سے روایت کرنے میں ابوعاصم نبیل منفرد ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Hadith 689

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 690

690 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْجَلَّابُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ إِخْصَاصٌ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسَ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ» ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا، فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ فَتَزْوَرُّ الشَّمْسُ لِلْمَغِيبِ نَتَرَاءَاهَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بَعْدَ احْتِجَاجِهِمَا بِرُوَاتِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 690 - صحيح

حضرت زیاد بن ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم کوفہ کی جامعہ مسجد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان دنوں کوفہ " دارالخلافہ ہوا کرتا تھا " موذن آیا اور کہنے لگا : اے امیر المومنین : نماز عصر کا وقت ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " بیٹھ جاؤ " وہ بیٹھ گیا ۔ موذن نے پھر یاد دلایا۔ آپ نے اس کو پھر بٹھا دیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : " یہ کتا ہمیں سنت سکھا رہا ہے " پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز عصر پڑھائی ۔ اس کے بعد ہم دوبارہ اسی جگہ آ گئے جہاں بیٹھے تھے ۔ ہم انگلیوں کے بل کھڑے ہو کر سورج کی طرف دیکھنے لگے تو غروب ہونے کے مقام کے قریب سورج دکھائی دے رہا تھا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حالانکہ شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں ۔

ذَلِكَ ← «اجْلِسْ» فَجَلَسَ ثُمَّ عَادَ ← الصَّلَاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ← زِيَادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ← الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه الجلاب

Hadith 690

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 691

691 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ، فَنَقْسِمُ عَشَرَ قِسَمٍ، ثُمَّ نَطْبُخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ» . " قَدِ اتَّفَقَ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمُ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَأَحَدُنَا يُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ، وَلَهُ شَاهِدَانِ صَحِيحَانِ فِي تَعْجِيلِ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَالشَّاهِدُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا "

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ نماز عصر ادا کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد اونٹ ذبح کرتے ، اس کے گوشت کو دس حصوں میں تقسیم کرتے ، پھر اس کو پکا کر سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے پکا ہوا گوشت کھا کر فارغ ہو جاتے تھے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اوزاعی کی وہ حدیث نقل کی ہے جو انہوں نے ابو نجاشی کے واسطے سے رافع بن خدیج سے روایت کی ہے ( رافع بن خدیج کہتے ہیں ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی ہم اپنے قدمو ں کے نشانا دیکھ سکتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ نماز جلدی پڑھنے سے متعلق اس حدیث کی 2 صحیح حدیثیں شاہد ہیں ، جن کو شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیا ۔ پہلی شاہد حدیث :

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُو النَّجَاشِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 691

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 692

692 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْغُبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ «يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَهِيَ سِتَّةُ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ» . «قَدِ اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ فِي آخِرِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ، وَأَمَّا الشَّاهِدُ الثَّانِي»

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عصر کی نماز ، اتنی جلدی پڑھ لیتے تھے کہ سورج ابھی بہت بلند اور روشن ہوتا تھا ، عصر کی نماز پڑھ کے کوئی شخص ذوالحلیفہ کی طرف جاتا تو وہ مغرب سے پہلے پہنچ جاتا حالانکہ وہاں سے ذوالحلیفہ چھ میل کی مسافت پر ہے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے بشیر بن عبدالمسعود پر زہری کی اس حدیث کے آخر میں اتفاق کیا ہے جو انہوں نے عروہ سے روایت کی ۔ تاہم الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔ دوسری شاہد حدیث ۔

Hadith 692

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 693

693 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَمَّ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدْرِهِ، وَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدْرِهِ كَوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْعِشَاءَ لَثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الْفَجْرَ حِينَ أَسْفَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ «.» وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بیت اللہ میں دو مرتبہ نمازیں پڑھائیں ، ایک مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور دھوپ ایک تسمے کے برابر تھی اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ إفطار کرتے ہیں اور عشاء اس وقت پڑھائی جب آسمان سے شفق غائب ہو گئی اور فجر اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جات ہے ۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا۔ جس وقت گزشتہ روز عصر کی نماز پڑھی تھی ۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو گنا ہو گیا، پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ إفطار کرتے ہیں پھر عشاء کی نماز رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے پر پڑھائی ، پھر آپ نے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب دن خوب روشن ہو چکا تھا۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے : اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ وقت آپ سے پہلے انبیاء کا ہے اور ان دونوں وقتوں کے درمیان ( جتنا وقت ہے اس میں کسی بھی وقت نماز پڑھ سکتے ہیں )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ وَمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 693

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 694

694 [ص:307] فَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← جَدِّي، ← [ص:307] فَأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ،

Hadith 694

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 695

695 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الْبَرْنِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التُّوزِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَدَّمَ ثُمَّ أَخَّرَ وَقَالَ: «بَيْنَهُمَا وَقْتٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ الْعُذْرِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 695 - على شرطهما

حضرت مجمع بن جاریہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نمازوں کے اوقت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نمازوں کی ابتدائی اور آخری أوقات بیان کرنے کے بعد فرمایا : ان کے درمیان پورا وقت نمازوں کا ہے ۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا اور اس کی سند میں جوعبید اللہ ہے وہ عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر العذری کے بیٹے ہیں ۔

عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التُّوزِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الْبَرْنِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 695

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 696

696 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاهُ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَاةَ فِي وَقْتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ» ، قَالَ: «فَجَاءَنِي فَصَلَّى بِي سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ جَاءَنِي مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى بِي سَاعَةَ غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يُغَيِّرَهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَقَدْ قَدَّمْتُ لَهُ شَاهِدَيْنِ وَوَجَدْتُ لَهُ شَاهِدًا آخَرَ صَحِيحًا عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 696 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : ان کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام ائے اور مغرب کے علاوہ باقی نمازیں دو وقتوں میں پڑھائیں جبکہ مغرب کی نماز دونوں دن غرب آفتاب کے وقت پڑھائی اس کے وقت میں کوئی تبدیلی نہ تھی ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے محمد بن عباد بن جعفر کی روایات نقل کی ہیں اور ان کی دو شاہد حدیثین گزر دکی ہیں اور اس کی ایک مزید شاہد حدیث مجھے ملی ہے جو کہ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار پر صحیح ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنِ، أَنَّهُ ← عمر بن عبد الرحمن بن أسيد ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 696

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 697

697 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ» فَذَكَرَ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ لَمَّا جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 697 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں ، جو تمہیں دین کی تعلیم دیتے ہیں پھر نمازوں کے أوقات ذکر کئے اور بتایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک دن مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد پڑھائی اور اگلے دن بھی اسی وقت میں مغرب کی نماز پڑھائی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Hadith 697

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section