Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 710

710 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ» هَذَا حَدِيثٌ أَسْنَدَهُ إِمَامُ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَمُزَكِّي الرُّوَاةِ بِلَا مُدَافَعَةٍ ". وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَيْهِ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 710 - وهو على شرط الشيخين

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک مرتبہ کہیں ۔ راویوں پر جرح اور طعن کرنے والوں کے اور محدثین رحمتہ اللہ علیہ کے امام نے اس حدیث کو مسند قرار دیا ہے اور کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ۔ اس حدیث کو عبدالوہاب ثقفی سے روایت کرنے میں قتیبہ بن سعید جیسے ثقہ اور مامون راوی نے یحییٰ بن معین کی متابعت کی ہے ۔ ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے )

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 710

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 711

711 - كَمَا حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْبَلْخِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ» . «وَالشَّيْخَانِ لَمْ يُخَرِّجَا بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا»

قتیبہ بن سعید نے عبدالوہاب ثقفی ، ایوب پھر ابوقلابہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دو دو مرتبہ اور اقامت ایک ایک بار کہنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْبَلْخِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْهَرَوِيُّ، ← كَمَا

Hadith 711

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 712

712 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا «.» هَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ «. وَقَدْ يُرْوَى عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَمُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ.» مِمَّنْ يُوجَدُ عَنْهُ الِتَفَرُّدُ، وَلَهُ شُهُودٌ مِنْهَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 712 - تفرد به موسى وله شواهد

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : دو دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں یا ( شاید یہ فرمایا ) بہت کم رد کی جاتی ہیں ( 1) اذان کے وقت کی دعا (2) جنگ کے وقت جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوں ( اس وقت کی دعا ) اس حدیث کو صرف موسیٰ بن یعقوب نے روایت کیا ہے اور مالک کی ابوحازم اور موسی بن یعقوب کے حوالے سے ایسے روایات ملتی یں جن میں ان کی طرف سے تفرد پایا جاتا ہے ۔ اس حدیث کے کئی شواہد موجود ہیں جن میں سلیمان تیمی کی انس سے روایت ، معاویہ بن قرہ کی حدیث اور یزید بن ابومریم کی انس کے حوالے سے حدیث قابل ذکر ہیں ۔

أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 712

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 713

713 - وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلَانِيُّ، بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدُّعَاءُ مُسْتَجَابٌ مَا بَيْنَ النِّدَاءِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اذان کے وقت مانگی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إبراهيمُ بنُ منقذٍ الخولانيُّ بمصرَ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وقد

Hadith 713

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 714

714 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ عِنْدَ آذَانِ الْمَغْرِبِ: «اللَّهُمَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ، وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ، وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِنْ أَشْرَافِ الْكُوفِيِّينَ وَثِقَاتِهِمْ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ، وَلَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ شَيْخِنَا أَبِي عَبْدِ اللَّهِ رَحِمَهُ اللَّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 714 - صحيح

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ تعلیم دی ہے کہ اذان مغرب کے وقت یوں دعا مانگو " یا اللہ یہ وقت تیری رات کے آنے کا ہے اور دن کے جانے کا اور تیرے منادیوں کی آواز کا ہے ، یا للہ تو میری مغفرت فرما" ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اس کی سند میں قاسم بن معن ، عبداللہ بن مسعود کے بیٹے عبدالرحمان کے بیٹے ہیں جو کہ اشراف کوفہ میں سے ہیں اور ثقہ لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ ان کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے ، میںنے ان کی احادیث اپنے شیخ ابو عبداللہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔

عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← أبي كثير مولى أم سلمة ← الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 714

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 715

715 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، قِرَاءَةً عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو رَبِيعَةَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: «أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا» عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے میری قوم کا امام بنا دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تو اپنی قوم کا امام ہے ۔ ان میں سے کمزور لوگوں کا لحاظ کرنا اور اذان کی ذمہ داری کسی ایسے شخص کو دینا جو اذان پر اجرت نہ لے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لین اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، وَأَبُو رَبِيعَةَ، ← أسمع ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، قِرَاءَةً عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Hadith 715

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 716

716 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعِيدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ، وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةُ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِأَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ فِي الصَّيْفِ، وَكَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 716 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز کی مقدار تین قدموں کے برابر اور سردیوں میں 5 سے 7 قدموں کی مقدار ہوا کرتی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے ابومالک اشجعی اور کثیر بن مدرک کی روایات نقل کی ہیں ۔

الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعِيدِ بْنِ طَارِقٍ ← عبيدة بن حميد ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 716

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 717

717 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مِمَّا عَلَّمَنِي «حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ» فَقُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، فَقَالَ: «حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ» وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا فَقُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: «صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَقَدْ خُرِّجَ لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 717 - على شرط مسلم

عبداللہ بن فضالہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں : رسول اللۃ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں تعلیم دی ہے ، آپ کی تعلیمات میں یہ بات بھی تھی کہ پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرو، میں نے عرض کیا : یہ أوقات میری مصروفیات کے ہیں ، اس لئے مجھےکوئی ایسا جامع حکم ارشاد فرما دیں کہ اس پر عمل کرنا ہی میرے لئے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : عصرین کی حفاظت کرو۔ ( فضالہ کہتے ہیں ) چونکہ یہ لفظ " عصرین " ہماری زبان کا لفظ نہیں تھا ، اس لئے میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم " عصران " کا کیا مطلب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی نمازیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اس کی سند میں موجود عبداللہ نامی راوی " فضالہ بن عبید " کے بیٹے ہیں اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ان کی دو حدیثیں نقل کی ہیں ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← هشيم أنبأ داود بن أبي هند ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو مَنْصُورٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 717

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 718

718 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالَا: أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ تُوُفِّيَ فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضِيلَةَ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، فَقَالَ: «أَلَمْ يَكُنِ الْآخَرُ يُصَلِّي؟» قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَوَاتُهُ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَاذَا تَرَوْنَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟، لَا تَدْرُونَ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا مَخْرَمَةَ بْنَ بُكَيْرٍ وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ لِصِغَرِ سِنِّهِ، وَأَثْبَتَ بَعْضُهُمْ سَمَاعَهُ مِنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 718 - صحيح

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی اصحاب رسول سے یہ بات سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں دو بھائی ہوتے تھے ، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا۔ ان میں سے جو افضل تھا وہ مر گیا اور اس کے چالیس دن بعد دوسرا فوت ہو گیا ، صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہلے کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیو وہ دوسرا نماز نہیں پڑھتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لیکن اس کو کبھی آزمائش نہیں آئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تمہیں کیا معلوم ؟ اس کی نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ، نماز کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی شخص کے دروازے کے قریب نہر بہتی ہو جو کہ صاف ستھرے پانی سے بھری ہو اور وہ بندہ روازنہ پانچ مرتبہ اس میں نہاتا ہو، تو تمہارا کیا خیال ہے اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟ تم نہیں جانتے کہ اس کی نمازوں نے اسے کہاں تک پہنچا دیا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ دراصل امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مخرمہ بن بکیر کی روایات نقل نہیں کیں اور اس میں علت یہ ہے کہ اہل مصر کی ایک جماعت ہےجنہوں نے یہ بات کہی ہے کہ کیونکہ " مخرمہ " بہت چھوٹے تھے ، اس لئے انہوں نے اپنے والد سے حدیث کا سماع نہیں کیا جبکہ بعض محدثین رحمتہ اللہ علیہ نے مخرمہ کا ان کے والد سے سماع ثابت کیا ہے ۔

أَبُو الرَّبِيعِ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 718

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 719

719 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ نُعَيْمًا الْمُجْمِرَ، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ سَكَتَ، فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حَزِينًا لِيَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَأْتِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى أَنَّهَا لَتَصْطَفِقُ ثُمَّ تَلَا {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتُكُمْ} [النساء: 31] «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا أَهْمَلَاهُ لِذِكْرِ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ بَيْنَ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُمَا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى صِحَّةِ رِوَايَةِ نُعَيْمٍ عَنِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 719 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منبر پر بیٹھے اور تین مرتبہ یوں قسم کھائی " اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے " پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاموش ہو گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس طرح قسم کھانے پر ہم میں سے ہر شخص غمزدہ ہو کر رونے لگا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جو شخص پانچ وقت کی نماز ادا کرے ، رمضان کے روزے رکھے اور سات بڑے کبیرہ گناہ ہوں سے بچتا رہے ، اس کے لئے قیامت کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے حتیٰ کہ جنت خود اس کے لئے بے چین ہو گی ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ ٣١﴾ [النساء: 31]" یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور میرا یہ خیال ہے کہ شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں عتواری کے آزاد کردہ غلام صہیب نے نعیم بن عبداللہ کا ذکر کای ہے ۔ نعیم بن عبداللہ ( ۔۔ اصل کتاب میں یہاں پر جگہ خالی ہے ۔۔) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ وہ دونوں نعیم کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے روایت کی صحت پر متفق ہیں ( ۔۔ اصل کتاب میں یہاں پر جگہ خالی ہے ۔۔۔)

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ،

Hadith 719

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 720

720 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ؟ قَالَ: «خَمْسَ صَلَوَاتٍ» قَالَ: هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: «افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا» فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا يَنْقُصُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ حَدَّثَ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِثَلَاثَةِ أُصُولٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 720 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : پانچ نمازیں ۔ اس نے پوچھا کیا ان سے پہلے اور بعد میں بھی کچھ چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرج کی ہیں ۔ اس شخص نے اللہ کی قسم کھا کر کہا: میں ان میں کچ بھی کمی و زیادتی نہ کروں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اگر اس شخص نے سچ کہا تو یہ جنتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں تین أصول اسی سند کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أحمد بن سلمة بن عبد الله ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Hadith 720

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 721

721 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا بَلَغَ أَوْلَادَكُمْ سَبْعَ سِنِينَ فَفَرِّقُوا بَيْنَ فُرُشِهِمْ، وَإِذَا بَلَغُوا عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ آبَائِهِ، ثُمَّ لَمْ يُخَرِّجْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا هَذَا الْحَدِيثَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 721 - على شرط مسلم

عبدالمالک بن ربیع بن سبرہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں " جب تمہاری اولاد سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو ان کے بستر الگ کرو اور جب دس سال کی عممر کو پہنچے تو نماز کے حوالے سے ان پر سختی کرو " ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے عبدالمالک بن ربیع بن سبرہ کی رویات ان کے باپ دادا کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔

جَدِّهِ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 721

chevron_left Previous
12345…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section