Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 698

698 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ، صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ» . تَابَعَهُ رَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ. " هَكَذَا اتَّفَقَ رَقَبَةُ وَهُشَيْمٌ عَلَى رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَخَالَفَهُمَا شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ، فَقَالَا: عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 698 - وإسناده صحيح

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اس نماز کا وقت سب سے زیادہ اچھے طریقے سے جانتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عشاء کی نماز تیسری رات کا چاند غروب ہو جانے کے بعد پڑھا کرتے تھے ۔ یہ حدیث ابوبشر سے روایت کرنے میں " رقبہ بن مصقلہ " نے " ہشیم " کی متابعت کی ہے اور رقبہ اور ہشیم اس حدیث کو ابوبشر کے واسطے سے حبیب بن سالم سے روایت کرنے میں متفق ہیں اور یہ اسناد صحیح ہے جبکہ شعبہ اور ابوعوانہ نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے ابوبشر کی روایت ، بشر بن ثابت کے واسطے حبیب بن سالم سے نقل کی ہے ۔ شعبہ کی حدیث

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Hadith 698

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 699

699 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيَهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ، أَوْ رَابِعَةٍ» - شَكَّ شُعْبَةُ -

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں ، عشاء کی نماز کا وقت سب سے بہتر میں جانتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عشاء کی نماز تیسری یا چوتھی رات کا چاند غروب ہونے کے بعد پڑھا کرتے تھے ۔ اس میں شعبہ کو شک ہے ۔ ابوعوانہ کی حدیث :

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← يزيد بن هارون أنبأ شعبة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 699

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 700

700 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ»

ابوعوانہ کی سند سے بھی نعمان بن بشیر کا یہ فرمان منقول ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز

Hadith 700

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 701

701 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَا: ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى لِيَبْرُدَ فِي كَفِّي أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 701 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ پڑھا کرتا تھا ۔ ایک مٹھی کنکریاں اپنے ہاتھ میں لے کیا کرتا تھا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائے تو ان کو زمین پر رکھ کر ان کے اوپر سجدہ کروں کیونکہ ان دنوں گرمی بہت شدید ہوتی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 701

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 702

702 - أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ، أَنْ يُؤَخِّرَ الْعَصْرَ حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ كَثَرْبِ الْبَقَرَةِ صَلَّاهَا» . " أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ» الْحَدِيثَ "

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں منافقوں کی نماز کے بارے میں بتاؤں ؟ وہ عصر کی نماز اتنی لیٹ کرتے کہ سورج گائے کی چربی کی طرح ہو جاتا ، تب وہ نماز پڑھتے ۔ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے العلاء بن عبدالرحمن کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : کہ یہ منافق کی نماز ہے کہ کوئی شخص بیٹھا رہے اور جب سورج زرد پڑ جائے ( اس کے بعد پوری حدیث بیان کی )

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبِي النَّجَاشِيِّ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 702

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 703

703 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ أَبْعَدُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارًا أَبُو لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَأَهْلُهُ بِقُبَاءَ، وَأَبُو عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ، فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 703 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ میں سے ابولبانہ بن عبدالمنذر اور ابوعبس بن جبر سب سے زیادہ دور کے رہنے والے تھے ۔ ابولبابہ کا گھر قباء میں تھا اور ابوعبس کا بنی حارثہ میں ۔ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے اور پھر اپنے گھر چلے جاتے تھے ( یہ اس لئے ممکن تھا ) کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جلدی نماز عصر جلدی پڑھا دیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 703

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 704

704 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحَلِيمِ الْمَرْوَزِيَّانِ بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ لِلْعَصْرِ مِثْلَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءٌ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَدَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ، فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَهُ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ثُمَّ، قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّيْخَانِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ لِعِلَّةِ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَصْغَرِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ وَغَيْرُهُ ". وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعُقَيْلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِنَا، قَالُوا: «كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَشْبَهُ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بِهِ فِي التَّأَلُّهِ وَالتَّعَبُّدِ» . قَالَ الْحَاكِمُ: «لِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدَانِ مِثْلُ أَلْفَاظِهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَمَّا الشَّاهِدُ الْأَوَّلُ» .

حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس اس وقت تشریف لائے جب سورج ڈھل چکا تھا۔ کہنے لگے : اے محمد ! اٹھئے اور نماز ظہر ادا کیجیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اٹھے اور زوال کے بعد نماز ظہر ادا کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رکے رہے یہاں تک کہ عصر کے وقت جبکہ آدمی کا سایہ اس کے برابر ہوگیا پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا:”اےمحمد " نماز عصر ادا کیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز عصر ادا کی۔ پھر غروب آفتاب تک ر کے رہے، جب سورج غروب ہو گیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: " نماز مغرب ادا کیجئے " تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا کی ۔ پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی نماز عشاء ادا کر لیجیے آپ نے اس وقت عشاء کی نماز ادا کی ۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آئے جب صبح کی پوہ پھوٹی۔ انہوں نے کہا: اے محمد اٹھئے اور نماز ادا کیجیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر اگلے دن حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آئے جب آدی کا سایہ اس کے برابر ہو گیا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:اے محمد ! ظہر کی نماز ادا کیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز ظہر ادا کی ۔ اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدی کا سایہ دگنا ہو گیا اور کہا: اے محمد ! اٹھ کر نماز عصر ادا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز عصر ادا کی ، پھر مغرب کے وقت آئے جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا۔ جس وقت پچھلے دن آئے تھے، کہنے لگے : مغرب کی نماز پڑھ لیجیے۔ آپ نے مغرب کی نماز پڑھی پھر عشاء کے لئے اس وقت آئے جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا تھا اور کہا: نماز عشاء ادا کیجیے پھر اگلے دن صبح کے وقت جب آئے تو دن خوب روشن ہو چکا تھا۔ کہنے لگے: نماز فجر ادا کر لیجیے ۔ پھر کہنے لگے : ان دونوں وقتوں کے درمیان تمام وقت نماز کا ہے۔ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی سند کے ہمراہ صحیح مشہور ہے، جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے حسین بن علی اصغر کے ضعف کی وجہ سے نقل نہیں کیا۔ حالانکہ عبدالرحمان بن ابی الموال اور دیگر محدثین رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کو اپنی سند کے ساتھ موسی بن عبداللہ بن حسن کے حوالے سے ان کے والد اور دیگر محدثین رحمتہ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حسین بن علی بن حسین علی بن حسین کی تمام اولاد میں عبادت اور پرہیزگاری میں اپنے والد کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس حدیث کی دو شاہد حدیثیں میں بھی موجود ہیں جن کے الفاظ ملتے جلتے ہیں اور جابر بن عبداللہ عنہ سے مروی ہیں۔ پہلی شاہد حدیث:

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحَلِيمِ الْمَرْوَزِيَّانِ ← أبو العباس القاسم بن القاسم السياري

Hadith 704

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 705

705 - فَحَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلَاةَ، فَسَاقَ الْمَتْنَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ سَوَاءً «وَأَمَّا الشَّاهِدُ الثَّانِي» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 704 - صحيح مشهور

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس نماز کی تعلیم دینے کے لئے آئے ( اس کے بعد وہب بن کیسان کی حدیث کی طرح روایت نقل کی ) دوسری شاہد حدیث :

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبأ عبدان الأهوازي

Hadith 705

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 706

706 - فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ -. «عَبْدُ الْكَرِيمِ هَذَا هُوَ ابْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ بِلَا شَكٍّ، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُهُ شَاهِدًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 706 - عبد الكريم واه

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے مکہ میں دو مرتبہ نمازیں پڑھائیں ( پھر اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح پوری حدیث روایت کی ) اس حدیث کی سند میں جو عبدالکریم ہیں، یہ بلا شک و شبہ أبو المخارق کے بیٹے ہیں ۔ میں نے ان کی حدیث شاہد کے طور پر نقل کی ہے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 706

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 707

707 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ، إِلَّا الْمَغْرِبَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بِطُولِهِ وَاخْتَصَرَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ فَائِدَةَ الْحَدِيثِ بِهَذَا اللَّفْظِ، فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ فَإِنَّهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ مِنْ أَشْرَافِ قُرَيْشٍ وَالْمَقْبُولِينَ فِي الرِّوَايَةِ، وَحَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ هُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكِلَاهُمَا مَدَنِيَّانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 707 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے اور مغرب کے علاوہ بقیہ تمام نمازیں دو ( الگ الگ ) وقتوں میں پڑھائیں۔ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو سفیان ثوری رضی اللہ عنہ اور عبدالعزیز بن محمد در اور دی نے عبدالرحمان بن حارث سے روایت کی ہے ۔ یہ طویل حدیث ہے جبکہ سلیمان بن بلال نے یہ حدیث اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں عبدالرحمان بن حارث ، عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی کے بیٹے عبداللہ کے بیٹے ہیں ، یہ قریش کے باعزت لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور مقبول فی الروایت ہیں اور حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف کے بیٹے ہیں ۔ انصاری ہیں اور یہ دونوں مدنی ہیں ۔ ثوری کی حدیث ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 707

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 708

708 - فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ هَانِئٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّقَّاقُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا الصِّبْيَانَ بِالصَّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا فِي عَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» . سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ثِقَةٌ. قَالَ الْحَاكِمُ: " وَإِنَّمَا قَالُوا فِي هَذِهِ لِلْإِرْسَالِ، فَإِنَّهُ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَشُعَيْبٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. سَمِعْتُ الْأُسْتَاذَ أَبَا الْوَلِيدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ سُفْيَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ الرَّاوِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ثِقَةً فَهُوَ كَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا "

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دینے لگ جاؤ اور دس سال کی عمر میں اس حوالے سے ان پرسختی کرو اور ان کو الگ بستر پر سلاؤ ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ ) یحییٰ بن معین کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ امر بن شعیب ثقہ ہیں ۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : بعض محدثین رحمتہ اللہ علیہ کو اس حدیث پار ارسال کی وجہ سے کلام ہے کیونکہ عمرو ، شعیب کے بیٹے ہیں ، شعیب محمد کے ور محمد عبداللہ بن عمرو کے بیٹے ہیں اور شعیب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے حدیث کا سماع نہیں کیا اور میں نے اپنے استاد ابو ولید سے حسن بن سفیان کے حوالے سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی کا یہ فرمان سنا ہے " جب عمرو بن شعیب سے کوئی ثقہ راوی روایت کرے تو اس سند کا درجہ اس سند جیسا ہو جاتا ہے جو ایوب سے نافع کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سوار بن داود أبو حمزة، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← سهل بن مهران الدقاق، ← ابْنِ هَانِئٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← فَحدثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Hadith 708

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 709

709 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَيْرَانَ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيِّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيِّ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى الْقَارِئِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا الْإِقَامَةَ تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ أَبَا جَعْفَرٍ هَذَا عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ الْخَطْمِيُّ «. وَقَدْ رَوَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ.» وَأَمَّا أَبُو الْمُثَنَّى الْقَارِئُ فَإِنَّهُ مِنْ أُسْتَاذِيِّ نَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ وَاسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ الْمُثَنَّى رَوَى عَنْهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ وَغَيْرُهُمَا مِنَ التَّابِعِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 709 - صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں ازان ( کے الفاظ ) دو دو مرتبہ اور اقامت ( کے الفاظ ) ایک ایک مرتبہ کہ جاتے تھے ، تاہم اقامت میں " قد قامت الصلوۃ " دو مرتبہ بولا جاتا تھا، ہم جب اقامت سنتے تو وضو کر کے نماز کیلئے نکل پڑتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے راوی أبو جعفر ، یزید بن حبیب الخطمی کے بیٹے عمیر ہیں ۔ انہوں نے سعید بن مسیب اور عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے بھی احادیث نقل کی ہیں اور ان سے روایت لینے والوں میں سفیان ثوری ، شعبہ ، حماد بن سلمہ اور دیگر آئمہ مسلمین کے نام شامل ہیں اور ابو المثنیٰ القاری جو ہیں ، یہ میرے استاد نافع بن ابی نعیم ہیں ۔ ان کا نام مسلم بن المثنیٰ ہے ۔ اسماعیل بن ابوخالد اور سلیمان تیمی اور دیگر تابعین نے ان سے حادیث روایت کی ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى الْقَارِئِ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← أبو الموجه أنبأ عبدان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَيْرَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، ← محمد بن عيسى الطرسوسي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 709

chevron_left Previous
1234…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section