Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 986

986 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُخْفِيَ التَّشَهُّدَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 986 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: آہستہ آواز سے تشہد پڑھنا سنت ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 986

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 987

987 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ»

حضرت ابن اسحاق نے کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے کے متعلق فرمایا: کیونکہ مسلمان شخص اپنی نمازمیں ان پر درود پڑھتا ہے۔

وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ «إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلَاتِهِ» ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ، وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Hadith 987

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 988

988 - مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا عَلَيْكَ فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ: " إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ فَذِكْرُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَوَاتِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 988 - على شرط مسلم

ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عقبہ بن عمرو کہتے ہیں: ایک شخص آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ پر سلام پڑھنا تو ہم سیکھ چکے ہیں۔ہم اپنی نماز میں جب درود پڑھیں تو کس طرح پڑھیں؟ اللہ آپ پر رحمتیں ناز ل کرے۔ ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے (آپ اتنی دیر خاموش رہے کہ) ہم یہ سوچنے لگے کہ کاش اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا۔ پھر آپ نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود پڑھنا چاہو تو یوں کہو:" اللھم صلی علیٰ محمد النبی الامی ، وعلیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم ، وبارک علیٰ محمد النبی الامی، وعلیٰ آل محمد کما بارکت علی ابرا ہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید"۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل میں نقل نہیں کیا گیا۔ پھر نمازوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کا ذکر کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔

أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: ← أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 988

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 989

989 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا صَلَّى لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُمَجَّدْهُ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «عَجِلَ هَذَا» فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ، وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَدْعُو بِمَا شَاءَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَا تُعْرَفُ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 989 - على شرطهما

حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نماز پڑھی نہ اللہ کی حمد و ثناء کی اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا اور نماز ختم کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلدی کی۔ پھر اس کو بلایا اور اس کے سمیت تمام حاضرین کو سمجھایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اللہ کی حمد و ثناء کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے پھر جو چاہے دعا مانگے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے۔

فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← أبي علي عمرو بن مالك ← أَبِي هَانِئٍ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 989

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 990

990 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «يَتَشَهَّدُ الرَّجُلُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ» . «وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ»

ابو الاحوص اور ابو عبیدہ کہتے ہیں: عبداللہ نے کہا: آدمی تشہد پڑھتا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھتا ہے پھر اپنے لئے دعا کرتا ہے۔ اس حدیث کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے سند صحیح کے ساتھ مسند کیا ہے۔

أبي الأحوص وأبي عبيدة ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَوْنُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ أَبُو جَعْفَرٍ ← محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن محمد الكندي ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Hadith 990

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 991

991 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، وَارْحَمْ مُحَمَّدًا، وَآلَ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ، وَبَارَكْتَ، وَتَرَحَّمْتَ، عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ «.» وَأَكْثَرُ الشَّوَاهِدِ لِهَذِهِ الْقَاعِدَةِ لِفُرُوضِ الصَّلَاةِ "

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں تشہد پڑھ لے تو مجھ پر درود پڑھتے ہوئے یوں کہے:" اللھم صلی علی محمد وعلیٰ آل محمد ، وبارک علی محمد وعلیٰ آل محمد ، وارحم محمد ، وآل محمد کما صلیت ، وبارکت، وترحمت، علیٰ ابراہیم انک حمید مجید" فرضی نماز کے اس قعدہ کے متعلق اکثر شواہد موجود ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← رجل من بنى الحارث ← يحيى بن السباق ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ،

Hadith 991

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 992

992 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبُرِّيِّ، ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ فِي صَلَاتِهِ» . «لَمْ يُخَرَّجْ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى شَرْطِهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا عَبْدَ الْمُهَيْمِنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 992 - عبد المهيمن واه

عبدالمھیمن بن عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو اپنے دادا کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے"اس شخص کی نماز قبول نہیں جس کا وضو نہیں اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے بسم اللہ پڑھی اور اس شخص کی نماز قبول نہیں جس نے اپنی نماز میں اللہ کے نبی پر درود نہیں پڑھا"۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالمھیمن کی روایت نقل نہیں کی۔

جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبُرِّيِّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← مَا

Hadith 992

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 993

993 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قَالَ: قُلْنَا حَتَّى يَقُومَ، قَالَ: حَتَّى يَقُومَ " تَابَعَهُ مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

سعد بن ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ ابو عبیدہ نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل بیان کیا ہے کہ آپ پہلی دو رکعتوں میں یوں محسوس ہوتے گویا کہ گرم پتھر پر کھڑے ہیں: وہ کہتے ہیں ، ہم نے پوچھا: جب تک آپ کھرے رہتے؟ انہوں نے کہا(جی ہاں) جب تک آپ کھڑے رہتے۔ یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے روایت کرنے میں مسعر نے شعبہ کی متابعت کی ہے۔

سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← حَتَّى يَقُومَ تَابَعَهُ مِسْعَرٌ، ← قُلْنَا حَتَّى يَقُومَ، ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Hadith 993

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 994

994 [ص:403] حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 993 - رواه عثمان بن سعيد المري عن مسعر عن سعد نحوه على شرطهما

سعد بن ابراہیم کی سند کے ہمرا ہ بھی اسی جیسی روایت منقول ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں شعبہ کی وہ حدیث عمرو بن مرہ ، پھر ابو عبیدہ پھر عبداللہ کے حوالے سے روایت کی ہے جس میں یہ بیان ہے کہ وہ "لیلۃ الجن " میں آپ کے ہمراہ نہیں تھا۔

Hadith 994

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 995

995 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: «أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ، وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ إِمَامُ أَهْلِ الشَّامِ فِي عَصْرِهِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ بِمَا وَصَفَهُ أَبُو مُسْهِرٍ مِنْ سُوءِ حِفْظِهِ، وَمِثْلُهُ لَا يَنْزِلُ بِهَذَا الْقَدْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 995 - صحيح

سمرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں امام کے پاس جانے کا، اس کے ساتھ محبت کرنے کا اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور سعید بن بشیر اپنے زمانے کے اہل شام کے امام ہیں لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی حدیث نقل نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابو شھر نے ان کے متعلق حافظ نہ ہونے کا عیب لگایا ہے حالانکہ ان جیسے امام کی روایات اتنی سی بات سے نہیں چھوڑنی چاہئیں۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 995

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 996

996 - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكْنَى أَبَا رِمْثَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُتَقَدِّمِ، عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدِّهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَصْلٌ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَقَالَ: «أَصَابَ اللَّهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 996 - المنهال ضعفه ابن معين وأشعث فيه لين والحديث منكر

ارزق بن قیس کہتے ہیں: ہمیں ابو رمثہ نے نماز پڑھائی اور کہا: میں نے یہ نماز یا (شاید یہ کہا) اس جیسی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےہمراہ پڑھی (ابو رمثہ) کہتے ہیں: (اس دن) ابو بکر اور عمر اگلی صف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب کھڑے ہوئے تھے اور ایک شخص تکبیر اولیٰ سے جماعت کے ساتھ نماز میں شامل تھا جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو دائیں بائیں سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھ لی پھر آپ نے نوافل شروع کر دئیے جس طرح ابو رمثہ نے نوافل پڑھے یعنی انہوں نے اپنے ہی متعلق کیا۔ پھر ہو شخص کھڑا ہوا جس نے تکبیر اولیٰ سے جماعت شروع کی تھی اور نماز پڑھنے لگا (یہ دیکھ کر ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اچھل کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے کندھے کو پکڑ کر ہلایا اور کہا: بیٹھ جاؤ! اہل کتاب اس لئے ہلاک ہو گئے تھے کہ ان کی نماز کے درمیان وقفہ نہیں ہوتا تھا اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: اے ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ نے تیری رائے کو درست فرمایا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ

Hadith 996

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 997

997 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الضَّرِيرُ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَمَسَّ أَنْفُهُ الْأَرْضَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، وَقَدْ أَوْقَفَهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 997 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اس شخص کی نماز قبول نہیں جس کی ناک (سجدے میں) زمین پر نہ لگے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کو شعبہ نے عاصم کی سند سے موقوفاً بیان کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 997

chevron_left Previous
1…2627282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section