Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 938

938 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يُصَلِّي وَعِنَانُ دَابَّتِهِ فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ انْفَلَتَ الْعِنَانُ مِنْ يَدِهِ، فَانْطَلَقَتِ الدَّابَّةُ فَنَكَصَ أَبُو بَرْزَةَ عَلَى عَقِبِهِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ حَتَّى لَحِقَ الدَّابَّةَ وَأَخَذَهَا، ثُمَّ مَشَى كَمَا هُوَ ثُمَّ أَتَى مَكَانَهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ فَقَضَى صَلَاتَهُ، فَأَتَمَّهَا ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي قَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوٍ كَثِيرٍ حَتَّى عَدَّ غَزَوَاتٍ فَرَأَيْتُ مِنْ رُخْصَتِهِ وَتَيْسِيرِهِ فَأَخَذْتُ بِذَلِكَ، فَلَوْ أَنِّي تَرَكْتُ دَابَّتِي حَتَّى تَلْحَقَ بِالصَّحْرَاءِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ شَيْخًا كَبِيرًا أَتَخَبَّطُ الظُّلْمَةَ كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 938 - على شرط البخاري

حضرت ارزق بن قیس فرماتے ہیں: انہوں نے حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے جانور کی لگام ہاتھ میں پکڑی ہوئی اور نماز پڑھ رہے تھے، جب وہ رکوع میں گئے تو ان کے جانور کی لگام ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ جانور بھاگ گیا۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے وہیں نماز چھوڑی اور اس سے بالکل توجہ ہٹا کر (جانور کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے)یہاں تک کہ وہ جانور تک پہنچ گئے اور اس کو پکڑ لیا پھر اسکو لے کر اسی جگہ پر آگئے جہاں پر نماز پڑھ رہے تھے اور نماز پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو فرمانے لگے: میں نے بہت سارے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی (ارزق بن قیس کہتے ہیں) انہوں نے کتنے ہی غزوات گنوا دئیے (آپ فرماتے ہیں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی رخصتیں اور آسانیاں دیکھی ہیں، اس لئے میں نے انہی کو اختیار کیا ہے، اب اگر میں جانور کو چھوڑ دیتا اور وہ صحرا میں نکل جاتا پھر میں اس بڑھاپے کے عالم میں اندھیروں میں بھٹکتا پھرتا تو یہ میرے لئے اس سے بھی زیادہ دشوار ہوتا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ يُصَلِّي ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 938

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 939

939 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةِ، وَالْعَقْرَبِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، سَمِعَ مِنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَرَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 939 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو کالے (جانوروں کو) نماز کے دوران (بھی) مار دینے کا حکم دیا۔ (1)سانپ اور (2) بچھو۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ضحضم بن جوس، اہل یمامہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں۔ انہوں ن ے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے اور یحییٰ بن کثیر نے ان سے حدیث روایت کی ہے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← مَعْمَرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 939

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 940

940 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نُصَيْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 940 - صحيح على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوران نماز (آنکھ کی پتلیاں گھما کر) دائیں بائیں متوجہ تو ہو جاتاکرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی گردن پیچھے کی طرف کبھی نہیں پھیری۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نُصَيْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 940

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 941

941 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَلَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْكَ» وَقَالَ: بِرِجْلِهِ كَأَنَّهُ يَحُطُّهُ بِقَدَمِهِ. «هَذَا اللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي الْعَبَّاسِ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا أَصَّلْتُهُ مِنْ تَفَرُّدِ التَابِعِيِّ عَنِ الصَّحَابِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 941 - صحيح

طارق بن عبداللہ المحار بی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوارن نماز اپنے آگے اور دائیں طرف تھوک مت پھینکو (ہاں ضرورت ہو تو) اگر بائیں جانب خالی ہو تو اس طرف پھینکو یا پاؤں کے نیچے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاؤں کو یوں رگڑا گویا کہ اس کو قدم سے مسل رہے ہیں۔ یہ الفاظ ابو العباس کے حدیث صحیح ہے اور ہم نے اس کو اس قانون کے مطابق یہاں پر ذکر کیا ہے کہ صحابی سے روایت کرنے والا تابعی منفرد ہو، جبکہ ان تک طریق درست ہو، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے۔

طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 941

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 942

942 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَتَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى أَبِي الْعَلَاءِ، فَإِنَّهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ الصَّحَابِيِّ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 942 - صحيح على شرطهما

ابو العلاء بن شخیر اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھنکار پھینکا پھر اس کو اپنے الٹے پاؤں کے جوتے کے ساتھ رگڑ دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیاہے جبکہ دونوں نے ابو العلاء کی روایات نقل کی ہیں۔ یہ ابو العلاء یزید بن عبداللہ بن شخیر ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن شخیر صحابی کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ؛ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 942

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 943

943 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهُنَّ حَتَّى أَنْقَاهُنَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، أَوْ عَلَى يَسَارِهِ، وَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَتْفُلْ هَكَذَا فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ» وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مُفَسَّرٌ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 943 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی ٹہنی بڑے شوق سے ہاتھ میں رکھا کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں وہی کھجور کی ٹہنی پکڑی ہوئی تھی (اس دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی قبلہ رخ کی دیوار پر رینٹھ لگی ہوئی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ تمام صاف کر دی اور ناراضگی کے عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں سے کسی کویہ بات پسند ہے کہ یہ کسی کی طرف متوجہ ہو اور وہ آگے سے اس کے منہ کے اوپر تھوک مل دے؟ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو اس کا رب اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں طرف ہوتا ہے، اس لئے اپنے آگے اور دائیں طرف مت تھوکا کرو، اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوک لیا کرو اور اگر بہت جلدی ہو ، تو یوں کپڑے کے ایک کنارے میں تھوک کر کپڑے کو مل لیا کرو۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں مفسر حدیث ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن انہوں نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 943

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 944

944 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَجَاءَ، وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَحَضَرَتِ الْغَائِطُ فَابْدَءُوا بِالْغَائِطِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ جُمْلَةِ مَا قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ مِنْ تَفَرُّدِ التَابِعِيِّ عَنِ الصَّحَابِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 944 - صحيح

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم ایک قبیلے کی امامت کروایا کرتے تھے (ایک دن) آپ مسجد میں آئے تو اقامت ہو چکی تھی۔ آپ نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھائے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے"جب نماز کا وقت ہو جائے اور اسی وقت قضائے حاجت کی بھی ضرورت پڑے تو پہلے قضائے حاجت کرو"۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔ اور یہ بھی اسی طرح کی حدیث ہے کہ صحابی سے روایت کرنے والا تابعی منفرد ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَرْقَمِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 944

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 945

945 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَنَّهُ رَكِبَ فِي طَلَبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: قَدْ سَارَ إِلَى مَكَّةَ، فَاتَّبَعَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ سَارَ إِلَى الطَّائِفِ، فَاتَّبَعَهُ فَوَجَدَهُ فِي زَرْعَةِ الَّذِي يُسَمَّى الْوَهْطُ، قَالَ ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَمْشِي مُحَاضِرًا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَالْقُرَشِيُّ يَزِنُ بِالْخَمْرِ، فَلَقِيتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَقَالَ: مَا غَدَا بِكَ الْيَوْمَ، وَمِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ وَأَخْبَرْتُهُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ: هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَتُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 945 - على شرطهما

حضرت عروہ بن رویم روایت کرتے ہیں کہ ابن دیلمی بیت المقدس میں رہائش پذیر تھے، وہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوئے (جب وہ مدینہ پہنچے تو ) لوگوں سے ان کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ مکہ کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ ابن دیلمی ان کے پیچھے چل دئیے۔ (جب آپ مکہ پہنچے تو پتہ چلا کہ) طائف کی طرف گئے ہوئے ہیں (ابن دیلمی) وہاں سے بھی ان کے پیچھے چل دئیے بالآخر طائف کے ایک باغ میں (جس کو وھط بھی کہتے ہیں) ان سے ملاقات ہو گئی (ابن دیلمی) کہتے ہیں: میں جب ان کے پاس پہنچا تو، تو وہ ایک قریشی نوجوان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جوکہ شراب خوری کے حوالے سے بدنام تھا، میں نے آپ سے ملاقات کی اور ان کو سلام کیا، انہوں نے بھی مجھے سلام کیا، وہ مجھے کہنے لگے: آج کہاں ہو؟ اور کہاں سے آ رہے ہو؟ مزید حال احوال دریافت کرنے اور ضروری گفتگو کے بعد میں نے ان سے پوچھا: اے عبداللہ بن عمرو! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سن رکھا ہے: میرا جوامتی شراب پیتا ہے، چالیسدن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 945

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 946

946 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا يَفْعَلُ» . «هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مَدَنِيُّونَ ثِقَاتٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 946 - رواته ثقات مدنيون

حضرت امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں قرآن میں حض(حالت اقامت( کی نماز اور خوف کی نماز تو مل گئی ہے لیکن قرآن میں کہیں بھی سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث فرمایا ہے، ہم کچھ نہیں جانتے۔ بس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عمل کرتے دیکھا وہی عمل ہم نے اپنا لیا (خواہ قرآن میں اس کا ذکرموجود ہو یا نہ ہو) ۔ اس حدیث کے راوی مدنی ہیں ثقہ ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے روایت نہیں کیا۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 946

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 947

947 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 947 - على شرطهما

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چارزانو بیٹھے نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 947

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 948

948 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 948 - على شرط مسلم

حرملہ بن عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ اپنے چچا عبدالملک بن ربیع سے وہ ان کے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات سال کی عمر سے بچوں کونماز سکھانا شروع کر دو اور دس سال کی عمر کے بعد ان پر سختی کرو۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 948

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 949

949 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، قَالَا: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَقَدْ زَنَتْ وَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيٌّ وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُتَرْجُمُ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ» ؟ قَالَ: صَدَقْتَ، فَخَلَّى عَنْهَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 949 - على شرطهما

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فلاں قبیلے کی ایک مجنونہ عورت کے پاس سے گزرے ، وہ زنا کی مرتکب ہوئی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا فیصلہ فرما دیاتھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس حکم پر عملدرآمد روک دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ اس کو رجم کروائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فرمان یاد نہیں ہے کہ تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ (1)وہ، جس کی عقل پر جنون کا غلبہ ہو۔ (2)سویا ہوا، جب تک کہ اٹھ نہ جائے۔ (3) بچہ، جب تک بالغ نہ ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ فرمایا:پھر انہوں نے فیصلہ واپس لے لیا اورعورت کو بر ی کر دیا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَوَ مَا تَذْکُرُ ← نَعَمْ ← لِعُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَرْجُمُ هَذِهِ ← أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيٌّ ← مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَقَدْ زَنَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 949

chevron_left Previous
1…222324…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section