Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 926

926 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ اللَّيْثِ الْكَرْمِينِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّنُّوعِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ، قَالُوا: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَتِرُوا بِصَلَاتِكُمْ وَلَوْ بِسَهْمٍ» عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 926 - على شرط مسلم

عبدالملک بن عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ جھنی اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی نمازوں کو چھپاؤ (سترہ گاڑو) اگرچہ کسی تیر کے ذریعے سے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّنُّوعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ اللَّيْثِ الْكَرْمِينِيُّ، ← أبو الموجه أنبأ عبدان ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 926

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 927

927 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ الْأَصَمُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا الشَّحَّامُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِإِسْنَادِهِ سَوَاءً سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 927 - على شرط مسلم

مسلم بن ابو بکرہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد یوں دعامانگا کرتے تھے۔ "اللھم انی اعوز بک من الکفر، والفقر، وعذاب القبر"۔ (اے اللہ میں کفر ، فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی پوری سند سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے (جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) عنقریب ایسا فتنہ برپا ہو گا کہ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا۔

أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← الشَّحَّامُ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ الْأَصَمُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 927

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 928

928 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ: فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي نَوْمِهِ فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَافْعَلُوا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ سُمَيٍّ» . عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ» . وَلَيْسَ فِيهَا الرُّؤْيَا وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 928 - صحيح

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا(زید کہتے ہیں) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کو کوئی شخص پوچھ رہا ہے کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کےبعد (فلاں فلاں چیز) اتنی اتنی بار پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اسکو پچیس مرتبہ پڑھ لیاکرو لیکن ساتھ ہی ساتھ "ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"۔ بھی پڑھ لیا کرو۔ جب صبح ہوئی تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور رات کا دیکھا ہوا خواب سنایا(اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) ایسے کر لیا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے بیان نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے سمی کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے ابو صالح کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی :ذھسب اھل الدثور بالاجور" (مالدار، اجر لے گئے) والی حدیث نقل کی ہے اور اس میں خواب اور یہ زائد الفاظ موجود نہیں ہیں۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 928

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 929

929 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْأُمَوِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا الْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ» . «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 929 - على شرط مسلم

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا: ہر نماز کے بعد "سورۃ العلق اور سورۃ الناس " پڑھا کرو۔ یہ حدیث اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ الْأُمَوِيِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 929

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 930

930 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيَشُدَّهُ عَلَى حَقْوِهِ، وَلَا تَشْتَمِلُوا كَاشْتِمَالِ الْيَهُودِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَا كَيْفِيَّةَ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 930 - على شرطهما

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کو اپنی کمر پر باندھ لے، یہودیوں کی طرح نہ لپیٹے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی کیفیت ذکر نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 930

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 931

931 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ السَّدْلِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَا فِيهِ تَغْطِيَةَ الرَّجُلِ فَاهُ فِي الصَّلَاةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 931 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سدل (یعنی کپڑا لٹکانا) کرنے اور چہرہ ڈھانپنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نماز میں چہرہ ڈھانپنے کا ذکر نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 931

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 932

932 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مِهْرَانُ، ثنا أَبِي، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو حَزْرَةَ يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: سِرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ، فَذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ أَطْرَافِهَا، ثُمَّ تَوَاثَقْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ ثُمَّ جِئْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا جَابِرُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ» . «هَذَا صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 932 - على شرط مسلم

حضرت عبادہ بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ کے سفر میں شریک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت میرے اوپر ایک چادر تھی، میں نے اس کے کنارے پکڑ کر اپنے اوپر اس طرح ڈال لئے کہ نیچے نہ گرے۔ دایاں کنارہ بائیں بازو پر اور بایاں کنارہ دائیں بازو پر پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب آکر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گھما کر بائیں جانب سے دائیں جانب کر لیا پھر ابن صخر آئے، وہ بھی بائیں جانب کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم دونوں کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کرلیا (عبادہ کہتے ہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیر تک دیکھتے رہے لیکن مجھے پتہ نہ چلا(کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں) پھر مجھے پتہ چل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا کہ میں گرہ لگا لوں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب چادر بڑی ہو تو اس کے کنارے (دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں) کندھے پر ڈال لیا کرو اور جب تنگ ہو تو کمر پر گرہ باندھ لیا کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← أَبُو حَزْرَةَ يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَبِي ← مِهْرَانُ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 932

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 933

933 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ إِلَى حَاشِيَةِ الْمَطَافِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافَيْنِ أَحَدٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَكَرَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ رِوَايَةَ الْمُطَّلِبِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 933 - صحيح

حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف سے فارغ ہو کر مطاف کے کنارے پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےدورکعت نماز پڑھی، اس وقت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور طوا کرنے والوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی(یعنی کوئی سترہ وغیرہ نہیں گاڑا تھا اور طواف کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزر رہے تھے) ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے "تاریخ" میں مطلب کی روایت سے نقل کی ہے۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 933

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 934

934 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُصَلِّي فَمَرَّتْ شَاةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا إِلَى الْقِبْلَةِ حَتَّى أَلْزَقَ بَطْنَهُ بِالْقِبْلَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 934 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے ایک بکری گزرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو روکتے روکتے قبلہ کی طرف سے بڑھتے رہے حتی کہ آپ خود قبلہ کے ساتھ جا لگے (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کو آگے سے گزرنے نہیں دیا) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 934

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 935

935 - حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْهِرَّةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ لِأَنَّهَا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ لِاسْتِشْهَادِهِ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ مَقْرُونًا بِغَيْرِهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 935 - قد استشهد مسلم بابن أبي الزناد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بلی (کے آگے سے گزرنے) سے نماز نہیں ٹوٹتی کیونکہ اس کی حیثیت گھر کے سامان جیسی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرحمٰن بن ابی زناد کی روایت بطور شاہد روایت کی ہے، جو ابن وہب کی حدیث کے بالکل قریب تر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ← أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيُّ، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 935

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 936

936 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «يُنْظُرُ فِي كِتَابِهِ وَيُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهُ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ، فَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 936 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا مانگی۔ "الھم حاسبنی حسابا یسیرا" (یا اللہ ! میرا حساب آسان لینا) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ "آسان حساب" کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کے نامہ اعمال کو دیکھ کر اس سے درگزر کر لیا جائے۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) اے عائشہ! اس دن جس کے حساب کی تفتیش شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو گیا۔ اس لئے مومن کو جو بھی تکلیف آتی ہے، اس کے بدلے اس کے گناہ مٹائے جاتے ہیں حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے (اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹتے ہیں) یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا گیا۔

فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 936

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 937

937 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، فَقَالَ: «سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، وَاحْمَدِي اللَّهَ عَشْرًا، وَكَبِّرِي اللَّهَ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِي اللَّهَ مَا شِئْتِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 937 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !مجھے کوئی دعا سکھائیں جومیں نماز کے بعد مانگا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 10 مرتبہ "سبحان اللہ" 10 مرتبہ "الحمد للہ" اور 10 مرتبہ " اللہ اکبر" پڑھو، پھر جو چاہو اللہ سے دعا مانگا کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيٌّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 937

chevron_left Previous
1…212223…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section