Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 890

890 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْهَمْدَانِيُّ بِهَا، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْجَزَّارِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُوذِنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ كَمَا هُوَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ: «فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ» .

بنو الدیل کے ایک شخص بسر بن محجن اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ گئے اور نماز پڑھ کر آ گئے، لیکن وہ محجن بدستور اسی جگہ پر بیٹھا ہوا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کہا: تو نے نماز ہمارے ساتھ کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ اس نے جواباً کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیکن میں گھر میں نماز پڑھ کر آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جب مسجد میں آ جاؤ تو لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھا کرو اگرچہ گھر میں تم نماز پڑھ چکے ہو۔

أَبِيهِ ← بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْجَزَّارِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْهَمْدَانِيُّ بِهَا، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 890

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 891

891 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ، وَقَدِ احْتُجَّ بِهِ فِي الْمُوَطَّأِ وَهُوَ مِنَ النَّوْعِ الَّذِي قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ أَنَّ الصَّحَابِيَّ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ رَاوِيَانِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 891 - محجن تفرد عنه ابنه

حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح کی حدیث منقول ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ مدنی راویوں کی حدیث کے سلسلہ میں "حکم" ہیں اور انہوں نے اپنی مؤطا میں یہ حدیث نقل بھی کی ہے اور یہ بھی وہی قسم ہے جس کا پہلے کئی مرتبہ ذکر ہو چکا ہے کہ جب کسی صحابی کا ایک سے زیادہ کوئی راوی نہ ہو (تو اگر ان تک طریق درست ہو گا تو ہم وہ حدیث نقل کریں گے)۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 891

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 892

892 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَلَمَّا سَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ فِي أَوَاخِرِ النَّاسِ فَدَعَاهُمَا، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟» فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ» . هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَغَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، وَمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ. «وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِيَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ»

جابر بن یزید بن اسود ، اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا، تو آخری صفوں میں دو آدمیوں کو دیکھا(کہ انہوں نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی) آپ ﷺ نے ان کو اپنے پاس بلا کر پوچھا: تم نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے جواب دیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: آئندہ ایسے مت کرنا۔ جب کوئی شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے اور پھر امام کے ساتھ نماز پا لے ، اس کو چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ بھی نماز پڑھے، یہ نماز اس کے لئے نفل ہو جائے گی۔ اس حدیث کو شعبہ ،ہشام بن حسان، غیلان بن جامع، ابو خالد الدالانی، ابو عوانہ، عبدالملک بن عمیر، مبارک بن فضالہ، شریک بن عبداللہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے یعلی بن عطاء سے روایت کیا ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یعلی بن عطاء کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 892

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 893

893 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ قَدْ أَوْقَفَهُ غُنْدَرُ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ شُعْبَةَ وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُشَيْمٌ وَقُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ثِقَتَانِ، فَإِذَا وَصَلَاهُ فَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُهُمَا وَلَهُ فِي سَنَدِهِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ شَوَاهِدُ، فَمِنْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 893 - على شرطهما

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اذان سنے لیکن اس کا جواب نہ دے، اس کی نماز قبول نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو غندر اور شعبہ کے اکثر اصحاب نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ہشیم اور قرادابو نوح ثقہ راوی ہیں، جب یہ کسی مذکورہ حدیث کی شواہد حدیثیں، جن میں شعبہ نے عدی سے روایت کی ہے۔شاہد (1)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عمرو بن عون وعبد الحميد بن بيان، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 893

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 894

894 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارُ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا سَوَّارُ بْنُ سَهْلٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ» وَمِنْهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 894 - تابعه داود بن الحكم عن شعبة

حضرت اب عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:جو شخص اذان سننے کے باوجود مسجد میں نہ آئے، اس کی نماز قبول نہیں ، سوائے اس کے کہ کوئی عذر ہو۔ شاہد (2)۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 894

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 895

895 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانً دَاوُدُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ» وَفِي الشَّوَاهِدِ لِشُعْبَةَ فِيهِ مُتَابَعَاتٌ مُسْنَدَةٌ "، فَمِنْهَا

داؤد بن حکم نے بھی شعبہ کی مذکورہ سند کے ہمراہ بعینہ یہی حدیث نقل کی ہے اور شواہد میں شعبہ کی متابعات مسندہ بھی موجود ہیں۔ متابع (1)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو سُلَيْمَانً دَاوُدُ بْنُ الْحَكَمِ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ الْخَلِيلِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 895

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 896

896 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ فَلَا صَلَاةَ لَهُ» قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «خَوْفٌ، أَوْ مَرَضٌ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان سنے اور بغیر کسی عذر کے، جماعت میں حاضر نہ ہو، اس کی نماز قبول نہیں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی:(حضورﷺ) عذر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خوف یا بیماری۔ متابع نمبر (2)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ ← أَبِي جَنَابٍ ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 896

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 897

897 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ الصَّلَاةَ يُنَادَى بِهَا صَحِيحًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، فَلَمْ يَأْتِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً فِي غَيْرِهَا» قِيلَ: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «الْمَرَضُ أَوِ الْخَوْفُ» وَمِنْهَا:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صحت مند ہو اور کوئی عذر اس کو لاحق نہ ہو، وہ اذان سننے کے باوجود اگر مسجد میں آ کر نماز نہیں پڑھتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کسی دوسری جگہ (مسجد کے علاوہ) پڑھی ہوئی نماز قبول نہیں کرتا۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: عذرکیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مرض یا خوف۔ متابع (3)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي جَنَابٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 897

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 898

898 - مَا أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ» . وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ " - الْحَدِيثَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز مسجد کے علاوہ قبول نہیں کی جاتی۔ اس سلسلے میں ابو موسیٰ کی ان کے والد کے حوالے سے یہ روایت بھی صحیح ہے کہ جس نے اذان سنی لیکن اس کو قبول نہ کیا (اس کے بعد پوری حدیث ہے)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 898

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 899

899 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَارِغًا صَحِيحًا فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 899 - صحيح

ابو بردہ بن ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان سنے اور اس وقت وہ فارغ اور تندرست ہو لیکن اس کے باوجود وہ نماز پڑھنے مسجد میں نہ آئے، اس کی نماز قبول نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 899

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 900

900 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا فِي بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 900 - صحيح

حضرت ابو الدرداء کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان سنا ہے کہ :کسی شہر یاگاؤں میں تین آدمی موجود ہوں اور وہ نماز جماعت کے ساتھ نہ پڑھیں، تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے۔ اس لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ، ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 900

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 901

901 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ الْمُزَنِيُّ، بِالطَّابِرَانِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، قَالَ: «أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَحَيَّ هَلَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنْ كَانَ ابْنُ عَابِسٍ سَمِعَ مِنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 901 - صحيح

حضرت ابن ام مکتوم فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مدینہ میں بہت درندے اور جنگلی جانور ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم حی علیٰ الصلوٰۃ اوار حی علیٰ الفلاح کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو آنا ہی پڑے گا۔ اگر ابن عابس نے ابن ام مکتوم سے حدیث سنی ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت نہیں کیا۔ سند صحیح کے ساتھ مذکورہ حدیث کی شاہد حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے) شاہد (1)

قُلْتُ ← ابن أم مكتوم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← زيد بن أبي الزرقاء ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ الْمُزَنِيُّ، بِالطَّابِرَانِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 901

chevron_left Previous
1…181920…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section