Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 878

878 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِقُبَاءَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: أَمَا تَدَعُ هَذِهِ السُّورَةَ أَوْ تَقْرَأُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَتَتْرُكَهَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ وَإِلَّا فَلَا، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِهِمْ وَكَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ؟ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ؟» فَقَالَ: أُحِبُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مُسْتَشْهِدًا بِعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 878 - على شرط مسلم وأورده البخاري تعليقا

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد قبا میں ان کو نماز پڑھایا کرتا تھا ( اس کی یہ عادت تھی کہ ) کوئی بھی سورت شروع کرنے سے پہلے قل ھو اللہ احد ( یعنی سورۃ اخلاص) پڑھا کرتا تھا ، ہر نماز میں وہ اسی طرح کیا کرتا تھا ۔ اس کے مقتدیوں نے اس سے کہا: تم یہ سورۃ کیوں نہیں چھوڑتے ؟ یا صرف اسی سورت پر اکتفا کیوں نہیں کر لیتے ؟ اس نے ان کو جواب دیا : میں یہ عمل چھوڑنے کا نہیں ہوں ، اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو ٹھیک ہے لیکن میں ایسے ہی کروں گا ورنہ تمہاری مرضی ( اور صورت حال یہ تھی کہ ) یہ آدمی ان سب سے زیادہ صاحب فضل و کمال تھا وہ خود بھی اس کے علاوہ کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے تے ۔ اس کے مقتدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں آئے اور تمام صورت حال بیان کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو بلا کر فرمایا : اے فلاں ! کون سی چیز تمہیں اس بات پر عمل کرنے سے روک رہی ہے جس کا إصرار تمہارے مقتدی کر رہے ہیں اور کس بناء پر تم نے اس سورت کا التزام کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! میں اس سورت سے محبت کرتا ہوں ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اس سورۃ کی محبت تجھے جنت میں لے جائے گی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عبدالعزیز بن محمد کی روایات اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر بطور شاہد ذکر کی ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 878

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 879

879 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا وَالْآيَةُ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 879 - صحيح

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام رات صبح تک اسی ایت کا تکرار کرتے رہے ۔ " ان تعذبھم فانھم عبادک ، وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم " ( اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کر دے تو تو غالب حکمت والا ہے ) ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبَا ذَرٍّ ← حَدَّثَتْنَا جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ، ← قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَامِرِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 879

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 880

880 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ فَإِنِّي لَا أَقْرَأُ، قَالَ: " قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا الرَّجُلُ بِيَدِهِ وَقَالَ: هَذَا لِرَبِّي فَمَاذَا إِلَيَّ؟ قَالَ: " قُلِ: اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي " قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا بِيَدِهِ الْأُخْرَى وَقَامَ. " زَادَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: كُنْتُ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاسْتَثْبَتُّهُ مِنْ غَيْرِهِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 880 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں قرآن پڑھا ہو انہیں ہوں، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو قران کی جگہ مجھے کفایت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : پڑھو " سبحان اللہ، والحمد للہ ، ولا الہ الا اللہ ، واللہ اکبر ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ " اس پر شخص نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور کہا یہ تو میرے رب کے لئے اور میرے لئے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : پڑھو " اغفرلی ، وارحمنی ، واھدنی ، وارزقنی ، وعافنی " ( یا اللہ میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے ، مجھے رزق عطا فراما اور مجھے عافیت عطا فرما۔ ) اس نے دوسرا ہاتھ بھی سینے پر رکھا اور اٹھ کر چلا گیا۔ جعفر بن عون نے اس حدیث میں اضافہ کیا ہے : مسعر کہتے ہیں : میں ابراہیم کے ہاں موجود تھا اور وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے اس سند کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی اس کو ثابت رکھا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 880

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 881

881 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ وَرِجْلَهُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُمَجِّدُهُ، وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْكَعُ، وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَيَسْتَوِي ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُقِيمُ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى يَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ، وَيَسْتَوِي ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ " فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ، قَالَ: «لَا يَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ بَعْدَ أَنْ أَقَامَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى إِسْنَادَهُ فَإِنَّهُ حَافِظٌ ثِقَةٌ، وَكُلُّ مَنْ أَفْسَدَ قَوْلَهُ فَالْقَوْلُ قَوْلُ هَمَّامٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا فِيهِ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّارِيخِ الْكَبِيرِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ وَحَكَمَ لَهُ بِحِفْظِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُقِمْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ «[ص:369].

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں موجود تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے مسجد میں آ کر نماز پڑھی ۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دیگر لوگوں کو اس نے سلام کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے کہا : واپس جاؤ اور (دوبارہ )نماز پڑھو کیونکہ تیری نماز نہیں ہوئی ۔ یہی بات دوسری مرتبہ ( نماز پڑھنے کے بعد ) بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےاس سے کہی اور ( شاید ) تیسری مرتبہ بھی یہ بات کہی ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ نے میری نماز میں کون سی غلطی نوٹ کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کسی بھی شخص کی نماز مکمل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کامل وضو کرے ( یعنی اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے ، سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے ، پھر تکبیر کہے ، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرے ( یعنی ثناء اور فاتحہ پڑھے ) قرآن کی کسی سورۃ سے ( کم از کم ) اتنا ( ضرور ) تلاوت کرے ، جتنا پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم ارشاد فرمایا ہے ۔ پھر تکبیر کہے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ دے ، یہاں تک کہ اس کے اعضاء مطمئن ہو جائیں اور برابر ہو جائی پھر پڑھے " سمع اللہ لمن حمدہ " ۔ پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر درست ہو جائے اور اس کی پشت سیدھی ہو جائے ، پھر تکبیر کہے اور سجدے میں چلا جائے ، اپنی پیشانی کو زمین پر جما دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور درست ہو جائیں ۔ پھر تکبیر کہے اور سر کا اٹھائے اور پنی مقعد پر وزن ڈالتے ہوئے بیٹھ جائے اور اپنی کمر کو سیدھا رکھے ( رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ) یوں نماز کا مکمل طریقہ بیان فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکمل طریقہ بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا : جب تک اس طریقے سے نماز نہیں پڑھو گے ، تمہاری نماز نہیں ہو گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ مزید براں یہ کہ ہمام بن یحییٰ نے اس کی سند کو قائم بھی رکھا ہے ۔ حمام حافظ ہیں ، ثقہ ہیں۔ ان کے خلاف بات کوئی بھی کرے ، معتبر قول " ہمام " ہی کا ہے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے عبید اللہ بن عمر کی وہ روایت نقل کی ہیں ، جو انہوں نے سعید المقبری کے واسطے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے یہی حدیث تاریخ کبیر میں حجاج بن منہال کے حوالے سے نقل فرمائی ہے اور ان کے حافظ ہونے کا موقف اپنایا ہے ۔ پھر فرمایا : اس کو حماد بن سلمہ نے قائم نہیں رکھا۔

عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 881

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 882

882 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ،» أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى «ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ أَقَامَ هَذَا الْإِسْنَادَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.» أَمَّا حَدِيثُ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ "

یحییٰ بن خلاد اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھ چکے تھے اس نےنماز پڑھی ( پھر اس کے بعد کی تفصیلی حدیث بیان کی ) اس کی سند کو داؤد بن قیس الفراء محمد بن إسحاق بن یسار اور اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر نے قائم رکھا ہے ۔ داؤد بن قیس کی حدیث :

أَبِيهِ،» أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ فَصَلَّى «ثُمَّ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 882

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 883

883 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، قَالَ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. «وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ»

داؤد بن قیس کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث شریف گزشتہ حدیث کے مفہوم کے مطابق منقول ہے ۔ محمد بن إسحاق بن یسار کی حدیث :

بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 883

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 884

884 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ أَقْبَلْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَصَلَّى ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَامَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. «وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ» .

محمد بن إسحاق بن یسار کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث گزشتہ حدیث کے مفہوم کے مطابق منقول ہے ۔ اسماعیل بن جعفر کی حدیث:

عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ: ← أَبِيهِ ← علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الأنصاري ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 884

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 885

885 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا قَالَ رِفَاعَةُ: وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَالْبَدَوِيِّ فَصَلَّى، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 881 - على شرطهما

۸۸۵-اسماعیل بن جعفر کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث گزشتہ حدیث کے مفہوم کے موافق منقول ہے ۔

رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قتيبة بن سعيد الثقفي وعلي بن حجر السعدي ← أبو عيسى محمد بن عيسى الترمذي ← فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 885

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 886

886 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقُرْآنِ وَاحِدًا فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ وَاحِدًا فَأَفْقَهُهُمْ فِقْهًا، فَإِنْ كَانُوا فِي الْفِقْهِ وَاحِدًا فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا» . «قَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ هَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ» أَفْقَهُهُمْ فِقْهًا «وَهَذِهِ لَفْظَةٌ غَرِيبَةٌ عَزِيزَةٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الصَّحِيحِ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 886 - صحيح

۸۸۶-حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جوان میں سب سے بہترین قرآن پڑھنا جانتا ہو۔ اگر تمام لوگ قرآن پڑھنے (ادائیگی) میں برابر ہوں تو پھر وہ جو ، ان میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والا ہے، وہ امامت کروائے اور اگر سب لوگ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو، ان میں سب سے زیادہ فقہی سمجھ بوجھ رکھنے والاہے، وہ امامت کروائے اور اگر تمام لوگ فقہی سمجھ بوجھ میں بھی برابر ہوں تو پھر جو، ان میں س سے زیادہ عمر والا ہوگا، وہ امامت کرائے گا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل بن رجاء کی حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں "فافقہہم فقہا" کے الفاظ نہیں ہیں اور یہ لفظ اس سند کے ہمراہ غریب، عزیز ہے۔ حجاج بن ارطاۃ کی سند کے حوالے سے مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (جوکہ درج ذیل ہے)

أَبِي مَسْعُودٍ، ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 886

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 887

887 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، رَحِمَهُ اللَّهُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّينِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الدِّينِ سَوَاءً، فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُقْعَدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ»

حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل بن رجاء کی سند سے اوس بن ضمعج کے حوالے سے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ کرائے ، جو ان میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والا ہو، اگر تمام لوگ ہجرت میں برابر ہوں تو پھر جو دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے(وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے) اگر دینی سمجھ بوجھ میں برابر ہوں ت و سب سے بہتر قرآن پڑھنے والا، اور کوئی شخص اپنے امیر کی اموجودگی میں امامت نہ کرائے اور (اس کی تعظیم کے لئے جب کھڑا ہوا ہو تو) اس کی اجازت کر بغیر مت بیٹھے۔

عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← اَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ الْأَنْصَارِيُّ ← المنذر بن الوليد الجارودي ← أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 887

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 888

888 - أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 888 - على شرطهما

حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نبی انتقال نہیں کرتا، یہاں تککہ اس کی قوم میں سے کوئی شخص اس کی امامت کراتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے والی روایت نقل کی ہے۔

أَبِيهِ ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ← الْعَبَّاسُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 888

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 889

889 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَلَاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اسْتَوُوا وَتَعَادَلُوا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 889 - على شرطهما وأخرجا أصله

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقامت کے بعد دائیں بائیں ، یوں یوں مڑ کر صفیں درست کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

شِمَالِہٖ ثُمَّ ← یَّمِیْنِہٖ ← هَكَذَا وَهَكَذَا» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ، ← أبو العلاء محمد بن أحمد الكوفي بمصر ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الشَّيْبَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 889

chevron_left Previous
1…171819…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section