المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 878
878 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّهُمْ بِقُبَاءَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْتَتِحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: أَمَا تَدَعُ هَذِهِ السُّورَةَ أَوْ تَقْرَأُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَتَتْرُكَهَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ وَإِلَّا فَلَا، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِهِمْ وَكَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَفْعَلَ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ أَصْحَابُكَ؟ وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ؟» فَقَالَ: أُحِبُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مُسْتَشْهِدًا بِعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 878 - على شرط مسلم وأورده البخاري تعليقا
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد قبا میں ان کو نماز پڑھایا کرتا تھا ( اس کی یہ عادت تھی کہ ) کوئی بھی سورت شروع کرنے سے پہلے قل ھو اللہ احد ( یعنی سورۃ اخلاص) پڑھا کرتا تھا ، ہر نماز میں وہ اسی طرح کیا کرتا تھا ۔ اس کے مقتدیوں نے اس سے کہا: تم یہ سورۃ کیوں نہیں چھوڑتے ؟ یا صرف اسی سورت پر اکتفا کیوں نہیں کر لیتے ؟ اس نے ان کو جواب دیا : میں یہ عمل چھوڑنے کا نہیں ہوں ، اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں تو ٹھیک ہے لیکن میں ایسے ہی کروں گا ورنہ تمہاری مرضی ( اور صورت حال یہ تھی کہ ) یہ آدمی ان سب سے زیادہ صاحب فضل و کمال تھا وہ خود بھی اس کے علاوہ کسی دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے تے ۔ اس کے مقتدی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں آئے اور تمام صورت حال بیان کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو بلا کر فرمایا : اے فلاں ! کون سی چیز تمہیں اس بات پر عمل کرنے سے روک رہی ہے جس کا إصرار تمہارے مقتدی کر رہے ہیں اور کس بناء پر تم نے اس سورت کا التزام کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! میں اس سورت سے محبت کرتا ہوں ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اس سورۃ کی محبت تجھے جنت میں لے جائے گی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ و امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دنوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عبدالعزیز بن محمد کی روایات اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر بطور شاہد ذکر کی ہیں ۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الصُّفْرِ السُّكَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 878
