Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 854

854 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذَ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ مَا لَا أُحْصِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، وَالْمَغْرِبِ فَكَانَ «يَجْهَرُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَبْلَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبَعْدَهَا» . وَسَمِعْتُ الْمُعْتَمِرَ يَقُولُ: مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلَاةِ أَبِي، وَقَالَ أَبِي: مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلَاةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: مَا آلُو أَنْ أَقْتَدِيَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ، وَمِنْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 854 - رواته ثقات

محمد بن ابو سری عسقلاتی کہتے ہیں : میں نے معتمر بن سلیمان کے پیچھے مغرب اور فجر کی بے شمار نمازیں پڑھی ہیں آپ سورۃ فاتحہ سے پہلے اور بعد میں جہراً بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے ۔ محمد کہتے ہیں : میں نے معتمد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں اپنے والد کی نماز کی اقتداء کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اور میرے والد نے یہ کہا تھا : کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کرنے میں سستی نہیں کرتا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے میں سستی نہیں کرتا ۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ ( ایک شاہد یہ بھی ہے )

مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ خُرَّزَاذ الْأَنْطَاكِيُّ، ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 854

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 855

855 - مَا حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مَكِّيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرْدَعِيُّ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَابِرٍ سَيْفُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، وَخَلْفَ عُمَرَ، وَخَلْفَ عُثْمَانَ، وَخَلْفَ عَلِيٍّ، فَكُلُّهُمْ كَانُوا «يَجْهَرُونَ بِقِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» . «إِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ شَاهِدًا لِمَا تَقَدَّمَهُ، فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا مُعَارَضَةٌ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ الَّذِي يَرْوِيهِ أَئِمَّتُنَا عَنْهُ، وَقَدْ بَقِيَ» . فِي الْبَابِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ الثُّمَالِيِّ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، وَبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. «كُلُّهَا مُخَرَّجَةٌ عِنْدِي فِي الْبَابِ تَرَكْتُهَا إِيثَارًا لِلتَّخْفِيفِ، وَاخْتَصَرْتُ مِنْهَا مَا يَلِيقُ بِهَذَا الْبَابِ، وَكَذَلِكَ قَدْ ذَكَرْتُ فِي الْبَابِ مَنْ جَهَرَ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، وَأَتْبَاعِهِمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 855 - أما استحيى المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع فأشهد بالله ولله بأنه كذب

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ابو بکر ، عمر ، عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں ادا کی ہیں ، یہ سب " بسم اللہ الرحمن الرحیم " بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے ۔ اس حدیث کو میں نے سابقہ حدیث کے شاہد کے طور پر لکھا ہے اور ان حدیثوں میں جن کا ابھی ہم نے ذکر کیا قتادہ کی اس حدیث کا معارضہ موجود ہے ، جو حدیث ہمارے ائمہ نے قتادہ سے روایت کی ہے جبکہ اس باب میں امیر المومنین عثمان ، علی ، طلحہ بن عبیداللہ ، جابر بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر، حکم بن عمیر ، شمالی ، نعمان بن بشیر ، عمرہ بن جندب ، بریدہ اسلمی ( رضی اللہ عنہ ) اور ام المومنین حضرت عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہ کی روایات ابھی باقی ہیں ۔ میرے نزدیک یہ تمام روایات اس بات میں نقل ہونی چاہیئں ، میں نے ان کو تخفیف کے لئے چھوڑ دیا ہے اور ان میں سے صرف ان احادیث پر اکتفا کیا ہے ، جو اس باب کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں اور اسی طرح اس باب میں ، میں نے ان صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کا بھی ذکر کیا ہے جو بلند آواز سے " بسم اللہ الرحمن الرحیم " پڑھا کرتے تھے ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← أَبُو جَابِرٍ سَيْفُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي، ← أَبُو بَكْرٍ مَكِّيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرْدَعِيُّ، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 855

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 856

856 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، فَقَالَ: ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ: كَانَ «إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ هَكَذَا - وَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ بِيَدِهِ، وَلَمْ يُفَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَلَمْ يَضُمَّهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَشَاهِدُهُ الْمُفَسِّرُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 856 - صحيح

سعید بن سمعان کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بنی زریق کی مسجد میں ہمارے پاس آئے کہنے لگے : تین عمل ایسے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے تھے اور لوگ انہیں چھوڑ چکے ہیں ، ( ان میں سے ایک یہ ہے کہ ) جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا: اس وقت ابو عامر نے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو نہ تو مکمل کھلا رکھا نہ مکمل بند کیا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إبراهيم بن مرزوق البصري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 856

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 857

857 - مَا أَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَنْشُرُ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ نَشْرًا» . «سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں اپنی انگلیوں کو پھیلا کر رکھتے تھے ۔ اس کی سند میں سعید بن سمعان معروف تابعی ہیں ، اہل مدینہ میں سے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يحيى بن اليمان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 857

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 858

858 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ - وَفِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ - أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 858 - صحيح

حضرت نافع بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو تین مرتبہ : " اللہ اکبر کبیراً ، والحمد للہ کثیراً، و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا " پڑھتے ( پھر کہتے ) " اللھم انی اعوذبک من الشیطان الرجیم من حمزہ و نفثہ و نفخہ " یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← ابْنِ جُبَيْرٍ وَفِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 858

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 859

859 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَرْضَى حَارِثَةَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَقَدْ رَضِيَهُ أَقْرَانُهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَلَا أَحْفَظُ فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَصَحَّ مِنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 859 - على شرطهما

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز شروع کرتے تو پڑھتے " سبحانک اللھم و بحمدک ، و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک " یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مالک بن انس رضی اللہ عنہ حارثہ بن محمد کو پسند نہیں کرتے تھے جبکہ ان کے ہم عصر دیگر ائمہ کرام ان کی روایات لیتے تھے اور نماز کے شروع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے " سبحانک اللھم و بحمدک " پڑھنے کے سلسلے میں ان دو حدیثوں سے زیادہ صحیح کوئی حدیث میری نظر سے نہیں گزری جبکہ اسی بارے میں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی روایت صحیح ہے کہ وہ (نماز کے شروع میں یہ ہی ) پڑھا کرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 859

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 860

860 - حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ مُعَاوِيَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» . «وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُمَرَ وَلَا يَصِحُّ»

حضرت اسود روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو " سبحانک اللھم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالی جدک ولا الہ غیرک " ( امام حام رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مسند بھی کیا گیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ۔

عُمَرَ، ← الْأَسْوَدِ، ← الْاَعْمَشِ ← يحيى بن يحيى أنبأ معاوية ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 860

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 861

861 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَى رَجُلًا كَانَ فِي آخِرِ الصُّفُوفِ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ، أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ أَلَا تَنْظُرُ كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي إِنَّمَا يَقُومُ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ يُنَاجِيهِ، إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنِّي لَا أَرَاكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عَلَى هَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 861 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلام پھیرا تو ایک شخص کو آواز دی جو کہ آخری صفوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اے فلاں تو اللہ سے نہیں ڈرتا ؟ تمہیں خیال نہیں کہ تم کسی طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ جب تم پڑھتے ہو تو اپنے رب سے محو گفتگو ہوتے ہو، اس لئے غور کرنا چاہئے کہ تم کس طرح بات کر رہے ہو، تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں ( صرف آگے سے ) دیکھتا ہوں ۔ خدا کی قسم میں اپنی پشت کی جانب سے بھی تمہیں ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے سے دیکھتا ہوں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں اس انداز سے نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 861

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 862

862 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ هَذَا مَوْلَى بَنِي اللَّيْثِ تَابِعِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَثَّقَهُ الزُّهْرِيُّ وَرَوَى عَنْهُ، وَجَرَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مُنَاظَرَةٌ فِي مَعْنَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 862 - صحيح

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جب تک بندہ خود توجہ نہ ہٹائے ، اس وقت تک اللہ تعالیٰ بندے کی طرف مسلسل متوجہ رہتا ہے اور جب بندہ توجہ ہٹا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی منہ پھیر لیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کی سند میں جو ابوالاحوص ہیں یہ بنی لیث کے غلام ہیں ، تابعی ہیں ، اہل مدینہ سے ہیں ۔ امام زہری نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ، ان کے اور سعد بن ابرہیم کے درمیان اس حدیث کے معنی ( کے تعین کے سلسلے ) میں مناظر ہ بھی ہوا تھا۔

سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 862

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 863

863 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ، فَإِذَا نَصَبْتُمْ وُجُوهَكُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْصِبُ وَجْهَهَ لِوَجْهِ عَبْدِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ لَهُ فَلَا يَصْرِفُ عَنْهُ وَجْهَهُ حَتَّى يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ الَّذِي يَنْصَرِفُ» . «وَقَدْ أَخْرَجَ الشَّيْخَانِ بِرُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ، وَلَمْ نَجِدْ لِلْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ رَاوِيًا غَيْرَ مَمْطُورٍ أَبِي سَلَّامٍ فَتَرَكَاهُ، وَقَدْ تَكَلَّمْتُ عَلَى هَذَا النَّحْوِ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ فَأَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ، وَالْحَدِيثُ عَلَى شَرْطِ الْأَئِمَّةِ صَحِيحٌ مَحْفُوظٌ»

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو پانچ باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ( ان میں سے ایک یہ بھی تھی ) جب اللہ کی بارگاہ میں متوجہ ہوں تو پھر اِدھر اُدھر دھیان مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کی توجہ کی وجہ سے متوجہ ہوتا ہے ۔ بندہ اللہ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے سے اپنی توجہ نہیں ہٹاتا جب تک کہ بندہ خود توجہ نہ ہٹائے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے ممطور ابو سلام کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں لی ۔ اس لئے شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو چھوڑ دیا ، اس موضوع پر میں نے کئی مقامات پر گفتگو کر دی ہے ، اس لئے اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے اور یہ حدیث ائمہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، محفوظ ہے ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 863

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 864

864 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ» . «وَهَذَا الِالْتِفَاتِ غَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ الْمُبَاحَ أَنْ يَلْحَظُ بِعَيْنِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 864 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز کے دوران ( آنکھ کے کنارے سے ) دائیں بائیں تو توجہ کر لیا کرتے تھے لیکن اپنی گردن کو پیچھے کی جانب نہیں گھماتے تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں نے اشعت بن ابی شعثاء کی وہ حدیث نقل کی ہے ، جس مین انہوں نے اپنے والد کی سند سے مسروق سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کی اہے ( آپ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ مبذول کرنے کے بارےمیں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ شیطان کی جھپٹ ہے ، جس سے شیطان آدمی کی نماز چھین لیتا ہے ( امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ) یہ التفات وہ نہیں ہے ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کرتے تھے ) کیونکہ جائز التفات یہ ہے کہ آدمی صرف آنکھوں کو دائیں بائیں گھمالے ۔ مذکورہ حدیث کے لئے سند صحیح کے ساتھ ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ يُوسُفُ بْنُ عِيسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 864

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 865

865 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ، قَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «انْطَلِقْ» فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ حَسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟» قَالُوا: لَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَيَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فَارِسَكُمْ قَدْ أَقْبَلَ» فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: «لَعَلَّكَ نَزَلْتَ؟» قَالَ: لَا إِلَّا مُصَلِّيًا، أَوْ قَاضِيًا حَاجَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ، فَإِذَا هَوَازِنُ بِظُعُنِهِمْ وَشَائِهِمْ، وَنَعَمِهِمْ مُتَوَجِّهُونَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَنِيمَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 865 - صحيح

حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب غزوہ حنین کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا : کون شخص رات کو پہرہ دے گا ؟ انس بن ابی مرثد غنوی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : چلو ! اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نکلے اور کہنے لگے : کیا تم نے اپنے پہرہ دار کو کہیں دیکھا ؟ صحابہ نے جواب دیا : نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھنے لگے اور ( دوران نماز ) وادی کی طرف توجہ رکھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تمہارا پہرہ دار آرہا ہے ۔ جب وہ پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تم اپنی جگہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ( میں صرف ) نماز پڑھنے کے لئے یا قضائے حاجت کے لئے گیا تھا، پھر وہ کہنے لگا : میں ہوازن کے دو قبیلوں کی اطلاع لے کر آیا ہوں جو کہ اپنی بھیڑ بکریوں ، اونٹوں ( اور دیگر سازو سامان ) کے ہمراہ حنین کی طرف آ رہے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : یہ سب کچھ ان شاء اللہ کل مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بنے گا۔

«أَلَا رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: ← لما سار رسول الله إلى حنين ← سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ. ← أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 865

chevron_left Previous
1…151617…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section