المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 482
482 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: " اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ إِنَّمَا أُرْسِلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ فَقَالَ يَحْيَى عَنْ مَنْ، فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: مَا أُبَالِي مَسِسْتُهُ أَوْ أتَّقِي، فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارُ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا، فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ
رجائ بن مرجی الحافظ بیان کرتےہیں : ایک دفعہ مسجد خیف میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ، میں ، علی بن امدینی اور یحییٰ بن معین جمع ہوئے اور ان کےدرمیان " مس ذکر" کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ یحییٰ بن معین کا موقف یہ تھا کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ علی بن المدینی نے احناف کا موقف اختیار کیا اور انہی کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے بسرہ بن صفوان کی حدیث سے دلیل دی اور علی بن المدینی نےقیس بن طلق کی ان کےوالد سے روایت کردہ حدیث بطور دلیل پیش کی اور یحییٰ بن معین سے کہا : آپ بسرہ کی روایت سے استدلال کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ مروان نے ایک فوجی بھیج کر معلوم کیا تھا اور اس نےآکر بسرہ کا جواب ان کو سنایا تھا؟ یحییٰ نے جواب دیا : تو عروہ نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود بسرہ سے جا کر ملے تھے اور وہ حدیث بالمشافہ خود ان سے حاصل کی تھی۔ پھر یحییٰ نے کہا : اکثر لوگوں کو قیس بن طلق پر اعتراض ہے اور ان کی حدیث کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: تم دونوں کا موقف درست ہے اور پھر یحییٰ نے مالک کے حوالے سے یہ قول نقل کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے "مس ذکر" سے وضو کیا تھا۔ علی نے جواب دیا : عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ( مس ذکر) سے وضو لازم نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی تو تمہارے جسم ہی کا ایک حصہ ہے ۔ یحییٰ نےکہا: اس کی سند کیا ہے؟ علی نے جواب دیا: عن سفیان عن ابی قیس عن ھزیل عن عبداللہ اور جب کسی مسئلہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ میں اختالف ہو تو اولیٰ یہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار کیا جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ۔ ہاں ( یہ بات ٹھیک ہے لیکن ) ابو قیس الاودی کی حدیث کو دلیل نہیں بنا سکتے ۔ علی نے جواب دیا : مجھے ابو نعیم نے مسعر کے حوالے سے عمیر بن سعید کی روایت سنائی کہ عمار بن یاسر کہا کرتے ہیں : میں ذکر کو چھونےسے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ہوں۔ اس پر احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: عمار اور ابن عمر رضی اللہ عنہ درجہ میں برابر ہیں ، جو چاہے عمار کی روایت اختیار کرے اور جو چاہے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت اختیار کر لے۔ یحییٰ نے جواب دیا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بہت فرق ہے۔
رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ،
Hadith 482
