Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 470

470 - وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: «إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بو بھی "لمس" میں شمار ہوتا ہے ، اس لئے اس کے بعد وضو کیا کرو۔

«إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا» ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← وَمِنْهَا: مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 470

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 471

471 - وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا. . . «وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ» ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: 114] الْآيَةَ، قَالَ: فَقَالَ: " هِيَ لِي خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً» . «هَذِهِ الْأَحَادِيثُ وَالَّتِي ذَكَرْتُهَا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ اتَّفَقَا عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهَا مُخَرَّجَةٌ فِي الْكِتَابَيْنِ بِالتَّفَارِيقِ، وَكُلُّهَا صَحِيحَةٌ دَالَّةُ عَلَى أَنَّ اللَّمْسَ الَّذِي يُوجِبُ الْوُضُوءَ دُونَ الْجِمَاعِ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ وہ ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک شخص آیا اور آکر کہنے لگا : یا رسول اللہﷺ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایسی عورت سےجماع کر بیٹھا جو اس کےلئےحلال نہیں تھی۔ اس نےاس عورت کے ساتھ کوئی کسر نہیں چھوڑی (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصل کتاب میں یہاں جگہ خالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) اچھا وضو کرو ۔ پھر نماز پڑھو۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نےیہ آیت وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ طَرَفَيِ ٱلنَّهَارِ وَزُلَفٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِۚ الاٰیَۃَ "(ھود) نازل فرمائی اس نے پوچھا: کیا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا تمام مسلمانوں کے لئےحکم عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ حکم تمام مومنین کے لئے عام ہے۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : یہ احادیث اور جو میں نے ان سےپہلے ذکر کی ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے یہ روایات نقل کی ہیں البتہ یہ احادیث دونوں کتابوں میں متفرق طور پر موجود ہیں اور تمام احادیث صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ لمس جس سے وضو ٹوٹتا ہے اس سے مراد جماع نہیں ہے (بلکہ مطلق چھونا مراد ہے)

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← وَمِنْهَا: مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 471

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 472

472 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٌ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، كَانَ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسُئِلَ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا، فَقَالَ: عُرْوَةُ: إِنَّ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانٍ حَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ إِلَى ذَكَرِهِ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» فَبَعَثَ مَرْوَانُ حَرَسِيًّا إِلَى بُسْرَةَ فَرَجَعَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ هِشَامٌ: قَدْ كَانَ أَبِي يَقُولُ: «إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ» . " هَكَذَا سَاقَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ثِقَةٌ، وَهُوَ أَحَدُ أَئِمَّةِ الْقُرَّاءِ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ رِوَايَةِ الْجُمْهُورِ مِنْ أَصْحَابِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ، مِنْهُمْ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيُّ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلْقَمَةَ، وَعَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الْهُنَائِيُّ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ. . . .، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْجَزَرِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَحَارِثَةُ بْنُ هَرِمَةَ الْفُقَيْمِيُّ، وَأَبُو مَعْمَرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ وَغَيْرُهُمْ. وَقَدْ خَالَفَهُمْ فِيهِ جَمَاعَةٌ فَرَوَوْهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ مِنْهُمْ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَرِوَايَةً عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَرِوَايَةً عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَوَهْبِ بْنِ خَالِدٍ، وَسَلَامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، وَعُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَعَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ وَأَبِي أُسَامَةَ وَغَيْرِهِمْ. وَقَدْ ذُكِرَ الْخِلَافُ فِيهِ عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا الْقَوْمُ الَّذِينَ أَثْبَتُوا سَمَاعَ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ أَكْبَرُ، وَبَعْضُهُمْ أَحْفَظُ مِنَ الَّذِينَ جَعَلُوهُ عَنْ مَرْوَانَ إِلَّا أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الْأَئِمَّةِ الْحُفَّاظِ أَيْضًا ذَكَرُوا فِيهِ مَرْوَانَ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالثَّوْرِيُّ وَنُظَرَاؤُهُمَا فَظَنَّ جَمَاعَةٌ مِمَّنْ لَمْ يُنْعِمِ النَّظَرَ فِي هَذَا الِاخْتِلَافِ أَنَّ الْخَبَرَ وَاهٍ لِطَعْنِ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ عَلَى مَرْوَانَ، فَنَظَرْنَا فَوَجَدْنَا جَمَاعَةً مِنَ الثِّقَاتِ الْحُفَّاظِ رَوَوْا هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، ثُمَّ ذَكَرُوا فِي رِوَايَاتِهِمْ أَنَّ عُرْوَةَ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ بُسْرَةَ فَحَدَّثَتْنِي بِالْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَنِي مَرْوَانُ عَنْهَا، فَدَلَّنَا ذَلِكَ عَلَى صِحَّةِ الْحَدِيثِ وَثُبُوتِهِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَزَالَ عَنْهُ الْخِلَافُ وَالشُّبْهَةُ، وَثَبَتَ سَمَاعُ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ فَمَنْ بَيْنِ مَا ذَكَرْنَا مِنْ سَمَاعِ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ "

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ عروہ رضی اللہ عنہ ، مروان بن حکم کےپاس موجود تھے ان کی موجودگی میں " مس ذکر" سے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو مروان نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس پر حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے حضرت سبرۃ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنایا : جب تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو چھوئے تو وضو کئے بغیر نماز نہ پڑھے ۔ مروان نے ایک شاہی فوجی کو تصدیق کےلئے حضرت سبرۃ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ وہ حضرت سبرۃ رضی اللہ عنہا سے مل کر واپس آئے تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہا کی بات کی تصدیق کی۔ ہشام نے کہا : میرے والد کا بھی یہی موقف تھا کہ ذکر ، خصیتین یا فرج کو چھوئے تو وضو کئے بغیر نماز نہ پڑھے۔ حماد بن زید نے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے اور انہوں نے اس میں بسرہ سے عروہ کے سماع کا بھی ذکر کیا ہے اور ( اس سند میں موجود) خلف بن ہشام ، ثقہ راوی ہیں اور ان کا شمار ائمہ قرائ میں ہوتا ہے اور ہشام بن عروہ کے وہ اصحاب جن کی روایت جمہور کی روایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں اور ان کی سند ہشام پھر ان کے والد سے ہو کر سبرہ تک پہنچتی ہے، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں ( ۔۔۔۔۔اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے ۔۔۔۔) ابن ابی تمیمہ السختیانی ، قیس بن سعد المکی ، ابن جریج ، ابن عیینہ ، عبدالعزیز بن ابی حازم ، یحییٰ بن سعید ، حماد بن سلمہ ، معمر بن راشد ، ہشام بن حسان ، عبداللہ بن محمد ابو علقمہ ، عاصم بن ہلال البارقی ، یحییٰ بن ثعلبہ المازنی ، سعید بن عبدالرحمٰن الجمحی، علی بن المبارک الھنائی ، ابان بن یزید العطار ، محمد بن عبدالرحمٰن الطفاوی ، عبدالحمید بن جعفر الانصاری( ۔۔۔۔۔اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔) عبدالعزیز بن محمد الدراوری ، یزید بن سنان الجزری ، عبدالرحمٰن بن ابی الزناد ، عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز ، حارثہ بن ہرمہ الفقیمی ، ابو معمر ، عبادبن صھیب اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم ۔ اس سند میں بعض محدثین رحمۃ اللہ علیہم کا اختالف ہے ، ان کے نزدیک اس حدیث کی سندیوں ہے ۔ عن ہشام بن عروۃ ،عن ابیہ ، عن مروان ، عن بسرۃ، اختلاف کرنے والوں کے نام درج ذیل ہیں ۔سفیان بن سعد الثوری ، ان کی ایک روایت ہشام بن حسان سے ہے اور ایک روایت حماد بن سلمہ سے ۔ اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ ، وہب بن خالد ، سلام ابن ابی مطیع ، عمر بن علی المقدمی ، عبداللہ بن ادریس، علی بن مسھر، ابواسامہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم ۔ یہاں تک ہشام بن عروہ کے حوالے سے اس کے شاگر دوں میں جو اختلاف تھا اس کا ذکر ہوا ہے۔ ان دونوں فریقوں کی شخصیات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنہوں نے سبرہ سے عروہ کا سماع ثابت کیا ہے ، وہ زیادہ بزرگ لوگ ہیں اور ان میں سے بعض راوی زیادہ حافظے کے مالک ہیں بہ نسبت ان راویوں کےجنہوں نے عروہ کی سند مروان سے بیان کی ہے، تاہم مروان سے سند بیان کرنے والوں میں بھی ائمہ حفاظ کے اسماء گرامی موجود ہیں ۔ جن میں مالک بن انس رضی اللہ عنہ اور ثوری خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، ان کے علاوہ بھی ان کے ہم پلہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے مروان کا نام لیا ہے ۔چنانچہ جن لوگوں کی سند کے اس اختلاف پر گہری نظر نہین ہے وہ اس کو اس وجہ سے ضعیف سمجھنے لگے کہ اس میں مروان پر ائمہ حدیث کا طعن پایا جاتا ہے لیکن مزید غور خوض اور تحقیق کرنے پر ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ ثقہ حفاظ راویوں کی پوری ایک جماعت ہے، جس نےیہی حدیث ہشام بن عروہ سے پھر ان کے والد ( عروہ ) سے پھر مروان سے اور پھر بسرہ سے روایت کی ہے۔ اس کےبعد انہوں نے اپنی روایات میں عروہ کا یہ بیان بھی ذکر کیا کہ : میں نے اس کے بعد بسرہ سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھے یہ حدیث خود سنادی جیسا کہ مروان نے بسرہ کے حوالے سے بتائی تھی۔ ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتےہیں) اس حدیث کے بعد یہ حدیث صحیح قرار پائی ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ثابت ہوتی ہے اور اس حدیث کی سند میں پایا جانے والا اختلاف اور شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں اور عروہ کا بسرہ سے سماع ثاب ہوتا ہے اور جن لوگوں نے عروہ کے بسرہ سے سماع کی تصریح کی ہے ان میں شعیب بن اسحاق الد مشقی ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔

عُرْوَةُ: إِنَّ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانٍ حَدَّثَتْنِي، ← «فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا» ← مَسِّ الذَّ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ عُرْوَةَ، كَانَ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسُئِلَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← اللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 472

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 473

473 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَرْوَانَ، حَدَّثَهُ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَكَانَتْ قَدْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . قَالَ عُرْوَةُ: فَسَأَلْتُ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ بِمَا قَالَ

حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد عروہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مروان نے یہ حدیث بسرہ بنت صفوان ( بسرہ کو رسول پاک ﷺ کی صحبت حاصل تھی) کے حوالے سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے ۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے خود بسرہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کے حوالےسے پوچھا : تو انہوں نے مروان کی بات کی تصدیق کی۔ ربیعہ بن عثمان نے بھی مروان کے بسرہ سے سماع کی تصریح کی ہے ۔جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَكَانَتْ قَدْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ، أَنَّ مَرْوَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 473

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 474

474 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . قَالَ عُرْوَةُ فَسَأَلْتُ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ، وَمِنْهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِزَامِيُّ الْمَدِينِيُّ

ربیعہ بن عثمان ، ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: جو شخص اپنے ذکر کو چھوئے وہ وضو کرے ۔ عروہ کہتے ہیں : مین نےبسرہ سے ( اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے تصدیق کی۔ منذر عبداللہ الحزامی امدینی نے بھی مروان کےبسرہ سے سماع کی تصریح کی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ فِي آخَرِينَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 474

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 475

475 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» فَأَنْكَرَ عُرْوَةُ فَسَأَلَ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ

منذر بن عبداللہ الخزامی ہشام بن عروہ کےحوالے سے ان کے والد عروہ کا یہ بیان نقل کرتےہیں کہ مروان نے بسرہ کےحوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : جو اپنے ذکر کو چھوئے و ہ وضو کرے،عروہ کو اس بات کا یقین نہیں آیا اس لئے انہوں نے بذات خود "بسرہ" سے اس کی بابت پوچھا تو انہوں نے تصدیق کر دی۔ عبسہ بن عبدالواحد القرشی کی روایت میں بھی مروان کے بسرہ سے سماع کی تصریح کی ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث کی سند سے ظاہر ہے۔

«مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» فَأَنْكَرَ عُرْوَةُ فَسَأَلَ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ ← النَّبِيِّ ← بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِزَامِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 475

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» قَالَ: فَأَتَيْتُ بُسْرَةَ فَحَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَنِي مَرْوَانُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ

عبسہ بن عبدالواحد ، ہشام کے حوالے سے ان کے والد عروہ کا بیان نقل کرتےہیں کہ مروان نےبسرہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کئے بغیر نماز مت پڑھے ۔ عروہ کہتے ہیں : میں بسرہ کے پاس آیا تو انہوں نےبالکل وہی حدیث سنائی جو مروان نے سنائی تھی۔ کہنےلگی : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے ۔ ابوالاسود حمید بن الاسود البصری کی روایت بھی اسی طرح ہے اور یہ راوی ثقہ ہیں ، مامون ہیں۔

بُسْرَةَ أَنَّهَا ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 476

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 477

477 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، وَذَكَرَ حَدِيثَ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهِ سَمَاعَ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ قَدْ حَفِظَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَقَدْ كَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» . «فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُرْوَةُ فَسَأَلَ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ. . . حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، وَأَبُو الزِّنَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ الْقُرَشِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، وَأَبُو الْأَسْوَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيُّ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، وَغَيْرِهِمْ مِنِ التَّابِعِينَ وَأَتْبَاعِهِمْ، فَأَمَّا بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ فَإِنَّهَا مِنْ سَيِّدَاتِ قُرَيْشٍ» .

ابو جعفر محمد بن عبداللہ البغدادی اسماعیل بن اسحاق کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے علی بن المدینی سے سنا ہے پھر شعیب بن اسحاق کی ہشام بن عروہ سے روایت کردہ حدیث سنائی جس میں عروہ کےبسرہ سے سماع کی تصریح موجود ہے اس پر علی نے کہا : یہ وہ روایت ہے جو تجھے یہ ثابت کررہی ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان نے ہشام بن عروہ کی وہ روایت یا دکی ہے جو انہوں نے اپنے باپ ، انہوں نے مروان سے اور مروان نے بسرہ بنت صفوان سے سنی ہے اور بسرہ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل ہے۔ آپ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کوئی اپنےذکر کو چھوئےتو وضو کئے بغیر نماز مت پڑھے ۔ عروہ نے اس بات کا انکار کیا پھر انہوں نے خود بسرہ سے پوچھا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی ( ۔۔۔۔۔اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے ۔۔۔۔۔) حزم الانصاری ، محم دبن مسلم الزہری ، ابو الزناد ، عبداللہ بن ذکوان القرشی ،محمد بن عبداللہ بن عروہ ، ابوالا سود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل القرشی ،عبدالحمید بن جعفر الانصاری، حسن بن مسلم بن یناق اور دیگر تابعین اور بسرہ بنت صفوان سادات قریش سے تعلق رکھنے والی خاتوں تھیں۔

بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ وَقَدْ كَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ ← مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيٌّ: هَذَا مِمَّا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ قَدْ حَفِظَ، ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهِ سَمَاعَ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ، ← حَدِيثَ شُعْيَبِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 477

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 478

478 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: قَالَ لَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: «أَتَدْرُونَ مَنْ بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ؟ هِيَ جَدَّةُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أُمُّ أُمِّهِ فَاعْرِفُوهَا» . [ص:233]

منصور بن سلمہ خرعی کہتے ہیں : ہمیں مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ بسرہ بنت صفوان کون تھی؟ یہ عبدلملک بن مروان کی نانی ہیں ، اس لئے ان کو پہچانو۔

مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 478

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 479

479 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُؤَذِّنُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: وَبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، وَوَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ عَمُّهَا، وَلَيْسَ لِصَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلٍ عَقِبٌ إِلَّا مِنْ قِبَلِ بُسْرَةَ، وَهِيَ زَوْجَةُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيرَةَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، عَنْ بُسْرَةَ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى» وَقَدْ رَوِينَا عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةَ أَحَادِيثَ غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَكَرْنَاهُ اشْتِهَارَ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَارْتَفَعَ عَنْهَا اسْمُ الْجَهَالَةِ بِهَذِهِ الرِّوَايَاتِ " وَقَدْ رَوِينَا إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالصَّحَابِيَّاتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. . .، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، وَأُمُّ سَلَمَةَ وَأَرْوَى. . . . . حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا نَافِعُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " وَشَاهِدَهُ الْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ: عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ: «إِذَا مَسَّتِ الْمَرْأَةُ فَرْجَهَا تَوَضَّأَتْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 479 - حديث صحيح

مصعب بن عبداللہ الزبیری کہتےہیں : حضرت بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد بیعت کرنےوالی خواتین میں سے ہیں اور ورقہ بن نوفل ان کے چچا ہیں اور صفوان بن نوفل کی ان کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں ہے اور یہ معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص کی زوجہ ہیں ۔ اس حدیث کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کی ایک جماعت نے بسرہ سے روایت کیا ہے ان میں : عبداللہ بن عمر بن خطاب ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، سعید بن المصیب ، عمر و بنت عبدالرحمٰن الانصاریہ ، عبداللہ بن ابی ملیکہ ، مروان بن الحکم اور سلیمان بن موسیٰ (رضی اللہ عنہم ) کے اسمائے گرامی شامل ہیں ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں) ہم نے بسرہ بنت صفوان کے حوالے سے اس حدیث کے علاوہ 15 احادیث نبویہ روایت کی ہیں ۔ اس سے روایت حدیث میں بسرہ بنت صفوان کی شہرت ثابت ہوتی ہے اور ان پر جہالت کی جو چھاپ لگی ہوئی تھی وہ ختم ہو گئی ہے اور ہم نے ذکر کے چھونے سے وضو لازم ہونے کے متعلق صحابہ کرایم رضی اللہ عنہم اور صحابیات کے حوالے سے بھی رسول اکرم ﷺ کے ارشادات نقل کئے ہیں، ان میں حضرت عبداللہ بن عمر ، ابوہریرہ ، زید بن خالد الجھنی ، سعد بن ابی وقاص ، جابر بن عبداللہ ، ام حبیبہ ، ام سلمہ ، اردوق(رضی اللہ عنہم) ( ۔۔۔مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔۔۔) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نافع ابن نعیم نے سعید بن ابی سعید المقبری کےحوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے ۔یہ حدیث صحیح ہے اور اس ک شاہد حدیث یزید بن عبدالملک کی روایت کردہ وہ حدیث مشہور ہے جو انہوں نے سعید بن ابی سعید کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت کی ہے ۔ اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ عنہا کی یہ روایت ، جب عورت شرمگاں کو چھوئے تو وضو کرے : درجہ صحت کو پہنچی ہوئی ہے۔ ( یہ روایت درج ذیل ہے)

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ النَّسَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْمُؤَذِّنُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَحدثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِذَا مَسَّتِ الْمَرْأَةُ فَرْجَهَا بِيَدِهَا فَعَلَيْهَا الْوُضُوءُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 480 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں ، جب عورت اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کو لگائے تو وضو کرے ۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 480

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ مُحْرِزِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِذَا مَسَّتِ الْمَرْأَةُ فَرْجَهَا تَوَضَّأَتْ» . «وَهَذِهِ مُنَاظَرَةٌ جَرَتْ بَيْنَ أَئِمَّةِ الْحُفَّاظِ فِي هَذَا الْبَابِ»

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں ، جب عورت اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو کرے ۔ مس ذکر سے وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کےمتعلق اَئمہ حفاظ کے درمیان پیش آنے والا مناظرہ

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحْرِزِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَدَنِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، ← أبو عبد الله محمد بن احمد بن بطة الاصبهاني من اصل كتابه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 481

chevron_left Previous
1234…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section