المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 566
566 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ، فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ لَهُ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ، فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ ضَمَّنَهُ سُنَّةً غَرِيبَةً، وَهُوَ أَنَّ الْمَاءَ إِذَا خَالَطَهُ فَرْثُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَمْ يُنَجِّسْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ يُنَجِّسُ الْمَاءَ لَمَا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى يُنَجِّسَ يَدَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 566 - على شرطهما
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ساعۃ العسرۃ " ( تنگی کے حالات ) کے سلسلہ میں کوئی واقعہ ہمیں سنائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف نکے ۔ ہم ایک مقام پر پہنچے تو بہت شدید پیاس لگ رہی تھی۔ پیاس کی شدت اتنی تھی ، لگتا تھا کہ اس کی وجہ سے کئی لوگ مر جائیں گے ( اس شدت کا مداوا یوں کیا گیا کہ ) لوگوں نے اپنے اونٹ ذبح کرکے ان کے معدے سے گوبر نچوڑ کر پانی نکالا او ر پی کر پیٹ کی آگ بجھائی اور جو بچا ، اس کو اونٹ کے معدے میں محفوظ کر کے رکھ لیا( اس انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو دعا ئے خیر کا عادی بنایا ہے ، آپ ان کے لئے دعائے خیر فرمادیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں یہ بات پسند ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ( یارسول اللہ ﷺ ) چنانچہ پیارے آقاﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ( دعا مانگنا شروع کی ) تو بادل گرجے ، پھر پورے آسمان پر چھا گئے اور پھر موسلا دھار بارش ہوگئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے تمام برتن وغیرہ بھر لئے پھر وہاں سے چل دئیے تو دیکھا کہ بارش صرف اسی مقام پر ہوئی جہاں لشکر موجود تھا ، اس مقام سے آگے نکلے تو بارش کا کوئی نام و نشان تک موجود نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس حدیث کے ضمن میں ایک سنت غریبہ بھی ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ پانی میں جب ما یوکل لحمہ ( وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ) کی لید گوبر وغیرہ پاپنی میں شامل ہوتو پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر ان جانوروں کے گوبر سے پانی ناپاک ہو جاتا ہوتا تو حضورﷺ کسی مسلمان کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ پانی جانور کے معدے میں ڈال کررکھے کیونکہ اس سے تو ہاتھ بھی ناپاک ہو جاتے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← حرملة بن يحيى انبأ ابن وهب ← أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 566
