Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 554

554 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبً، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّونَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا، وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ خَيْرًا فِي الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ هَذَا؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَ ذَلِكَ غَيْرُهُ؟» قَالُوا: لَا، غَيْرَ أَنَّ أَحَدَنَا إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِالْمَاءِ، قَالَ: «هُوَ ذَاكَ» . " هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ صَحِيحٌ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، وَعُتْبَةَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ مِنْ أَئِمَّةِ أَهْلِ الشَّامِ، وَالشَّيْخَانِ إِنَّمَا أَخَذَا مُخَّ الرِّوَايَاتِ، وَمِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ لَا يُتْرَكُ لَهُ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ: مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَعْرَفُ النَّاسِ بِحَدِيثِ الشَّامِيِّينَ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 554 - صحيح

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس آیت ﴿ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ١٠٨﴾ [التوبة: 108]" کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے انصاریو! اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت پسندی کی تعریف کی ہے۔ تو تمہاری طہارت کا طریقہ کیا ہے؟ انہوں نے جواباً عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نماز کے لئے وضو کرتے ہیں اور جنابت کاغسل کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :اس کے علاوہ کوئی اور عمل؟ انہوں نے جواب دیا: اور کوئی خاص عمل تو نہیں ہے البتہ ہم لوگ جب بول و براز سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں : آپ ﷺ نے فرمایا : یہی ہے ۔ کتاب الطہارت میں اس حدیث کا بہت مقام ہے کیونکہ اس کی سند میں محمد بن شعیب بن شابور اور عتبہ بن ابی حکیم اہل شام کے اَئمہ حدیث میں سے ہیں اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے روایات کے اصل مغز نقل کئے ہیں اور اس طرح کی حدیث کو ترک نہیں کرنا چاہیے ۔ ابراہم بن یعقوب کہتے ہیں : شامیوں کی حدیث کے سلسلے میں محمد بن شعیب سب سے زیادہ مشہور ہیں ۔ایک سند صحیح کے ساتھ مذکورہ حدیث کی شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّونِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو أَيُّوبَ، ← طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، أَنَّهُ ← عتبة بن أبي حكيم ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 554

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 555

555 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبِي، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْعِجْلِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَهْلِ قُبَاءَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ» وَقَالَ: {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: 108] حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ، فَقَالَ لَهُمْ: «مَا هَذَا الطُّهُورُ. . . . .»

حضرت عویف بن ساعد ہ انصاری العجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل قباء سے کہا:اللہ تعالیٰ نے تمہاری ستھرائی اور پاکیزگی کی تعیرف کرتے ہوئے فرمایا ہے : فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا ( آخر آیت تک آپ نے پڑھا) پھر حضور ﷺ نے ان سے پوچھا : تمہاری وہ کون سی طہارت ہے؟

عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْعِجْلِيِّ، ← شرحبيل بن سعد ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 555

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 556

556 - أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْمَازِنِيُّ مَازِنُ بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ وُضُوءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ، أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، عَنْ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْغَسِيلَ، حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان أَمَرَ بِالْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا كَانَ، أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَوَضَعَ عَنْهُمُ الْوُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ» . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً عَلَى ذَلِكَ فَفَعَلَهُ حَتَّى مَاتَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 556 - على شرط مسلم

محمد بن یحییٰ بن حبان انصاری المازنی رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے غور کیا ہے ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے لئے نیا وضو کیا کرتے تھے خواہ ان کو وضو کی حاجت ہو یا نہ ہو، وہ کس حوالے سے ایسا کرتے تھے؟ ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ نے ان کو جواب دیا ) ان کو اسماء بنت زید بن الخطاب نےعبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر کے حوالے سے رسول اکرم ﷺ کی یہ عادت کریمہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرتے تھے خواہ وضو کی ضرورت ہوتی یا نہ ہوتی ۔ پھر جب آپ ﷺ نے اس عمل میں ( امت کے لئے ) مشقت محسوس ک تو ہر نماز کے لئے مسواک کا حکم دے دیا اور وضو صرف اس شخص کے لئے لازم رکھا جس کا وضو نہ ہو اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرنے کی استطاعت رکھتےہیں ، اس لئے انہوں نے آخری وقت تک ہر نماز کےلئے تازہ وضو ہی کیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ جبکہ اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دنوں نے علقمہ بن مرثد کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے سلمان بن بریدہ پھر ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ عمل بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ ہر نماز کے لئے تازہ وضو کیا کرتے تھے اور فتح کا سال آیا تو آپ نے پانچوں نمازیں ایک وضو کے ساتھ ادا کی ہیں۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الْمَازِنِيُّ مَازِنُ بَنِي النَّجَّارِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 556

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 557

557 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ وَهُوَ عَقِيلُ بْنُ جَابِرٍ سَمَّاهُ سَلَمَةُ الْأَبْرَشُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ» فَانْتُدِبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ» قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ نَزَلُوا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ؟، قَالَ: اكْفِنِي أَوَّلَهُ، فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، قَالَ: وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيَّةُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ، قَالَ: فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: اجْلِسْ فَقَدْ أَثْبَتُ فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذَرَ بِهِ، فَهَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا، أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقُطِعَ نَفَسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا، أَوْ أُنْفِذَهَا «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَحَادِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَأَمَّا عَقِيلُ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ فَإِنَّهُ أَحْسَنُ حَالًا مِنْ أَخَوَيْهِ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهَذِهِ سُنَّةٌ ضَيِّقَةٌ قَدِ اعْتَقَدَ أَئِمَّتُنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ خُرُوجَ الدَّمِ مِنْ غَيْرِ مَخْرَجِ الْحَدَثِ لَا يُوجِبُ الْوُضُوءَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 557 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہً ذات الرقاع کے موقع پر ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک باغ میں گئے تو ایک مسلمان شخص نے ایک مشرک کی بیوی کو تیر مارا ۔ جب نبی اکرم ﷺ لوٹ کر قافلے میں آئے تو اس عورت کا شوہر جو اس وقت وہاں موجود نہیں تھا آگیا اور جب اس واقعہ کی خبر ملی تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک اصحاب رسول میں سے کسی کا خون نہیں بہائے گا ، چین سے نہیں بیٹھے گا۔ چنانچہ وہ آدمی رسول پاک ﷺ کے قدموں کےنشانات ڈھونڈتا ہوا ان نشانوں کے پیچھے پیچھے چل دیا ( ادھر ) نبی اکرم ﷺ نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور فرمایا : اس رات کون کون پہرہ دے گا؟ ایک مہاجر اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا اور کہا: یارسول اللہ ﷺ ! ہم پہرہ دیں گے ۔ حضور ﷺ نے انہیں ہدایت کی کہ تم دونوں درہً کوہ کےدرمیان کھڑے رہنا ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ وادی سے درہ کی طرف اتر گئے ۔ پھر جب وہ دونوں صحابی درہ کے آغاذ میں ( پہرہ دینے کے لئے ) آگئے انصاری نےمہاجر سے کہا : آپ رات کے کون سے حصے میں آرام کرنا چاہتے ہیں؟ اس نے جواب دیا : پہلے حصے میں ۔ تو مہاجر لیٹ گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ( یہ نماز پڑھ رہا تھا کہ ) اس عورت کا خاوند وہاں پر آن پہنچا ۔ جب اس نے ایک آدمی کی پرچھائی سی دیکھی تو سمجھ گیا یہ یہی ان کا محافظ ہے ۔ چنانچہ اس نے ایک تیر پھینکا جو اس انصاری صحابی کو آلگا انہوں نےتیر نکال کر پھینکا اور نماز جاری رکھی، اس نے ایک اور تیر مارا، یہ بھی ان کو لگا ، لیکن انہوں نے تیر نکال کر پھینک دیا اور نماز جاری رکھی، اس نےتیسرا تیر مارا ، انہوں نے اس کو بھی نکال کر پھینک دیا لیکن اس کے بعد نماز مکمل کرکے اپنے ساتھی کو آواز دی ، اس نے کہا: تم بیٹھے رہو ، میں آرہا ہوں ۔ پھر وہ اٹھ کر آگیا ۔ جب اس آدمی نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگ چوکنے ہو گئے ہیں ، اس لئے وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ، مہاجر نے جب انصاری کی خون سےلت پت یہ حالت دیکھی تو کہنے لگے : جب اس نے تمہیں پہلا تیر مارا تھا آپ نے اسی وقت مجھے آواز کیوں نہیں دی ؟ اس نے جواب دیا: میں نے ایک سورۃ شروع کر رکھی تھی، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ سورۃ چھوڑ دوں لیکن جب اس نے مسلسل تیر برسانا شروع کر دئیے تو میں نے نماز مکمل کرکےآپ کو آواز دی ۔ اور اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جس مقام کی حفاظت پر مامور کیا ہے ، وہ پوری نہ ہوپائے گی تو خدا کی قسم ! میں مر تو جاتا لیکن سورۃ درمیان میں نہ چھوڑتا ۔ یہ حدیث "صحیح الاسناد " ہے ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن اسحاق کی روایات نقل کی ہیں ۔ اس حدیث کی سند میں عقیل بن جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ اپنے دونوں بھائیوں محمد اور عبدالرحمٰن سے کہیں زیادہ بہتر مقام رکھتے ہیں ۔ ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں) یہ وہ کمزور طرز عمل ہے جس کا اعتقاد ہمارے اَئمہ نے اس حدیث کو بنیاد پر رکھا ہے کہ غیر سبیلین سے نکلنے والا خون ناقص وضو نہیں ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ جَابِرٍ وَهُوَ عَقِيلُ بْنُ جَابِرٍ، سَمَّاهُ سَلَمَةُ الْأَبْرَشُ ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 557

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 558

558 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ لَقَبُهُ حَمْدَانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ الْمَرُّوذِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَغَوِّطَيْنِ أَنْ يَتَحَدَّثَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک حدیث مروی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← سُفْيَانَ، ← قاسم بن يزيد الجرمي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو يَحْيَى عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ الْمَرُّوذِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ لَقَبُهُ حَمْدَانُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← جَابِرٍ ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ أَنْبَأَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 558

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 559

559 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الْمُتَغَوِّطَيْنِ أَنْ يَتَحَدَّثَا، وَقَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» . «هَذَا عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ شَيْخٌ مِنَ التَّابِعِينَ مَشْهُورٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَقَعَ إِلَى الْيَمَامَةِ وَبِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 559 - صحيح

ابو یحییٰ عبدالصمد بن حسان المروذی ،قاسم بن یزید الجرمی اور زید ابوالزرقاء نے سفیان کی سند سے حضر ت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کا یہ ارشا دنقل کیا ہے کہ نبی اکرم نے پیشاب اور پاخانہ کرنے والوں کو گفتگو سے منع فرمایا ہے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ اس عمل کو پسند نہیں کرتا۔ یہ عیاض بن ہلال انصاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ، اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مشہور بزرگ تابعی ہیں۔ بعد میں یہ یمامہ چلے گئے تھے۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث کی صحت ثابت کرنے کےلئے ایک حدیث نقل کی ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 559

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 560

560 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَخْرُجُ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَانِ عَوْرَتَهُمَا فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَإِنَّمَا أَهْمَلَاهُ لِخِلَافٍ بَيْنَ أَصْحَابِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ، وَقَدْ حَكَمَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي التَّارِيخِ أَنَّهُ عِيَاضُ بْنُ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ، سَمِعَ مِنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَهُ هِشَامٌ وَمَعْمَرٌ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَسَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حَمْشَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ مَرَّةً: عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ عِيَاضٍ ". وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ بِهِ عِيَاضَ بْنَ هِلَالٍ ثُمَّ شَكَّ فِيهِ، فَقَالَ: أَوْ هِلَالُ بْنُ عِيَاضٍ. رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، فَاتَّفَقُوا عَلَى عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ وَهُوَ الصَّوَابُ. قَالَ الْحَاكِمُ: «قَدْ حَكَمَ بِهِ إِمَامَانِ مِنْ أَئِمَّتِنَا مِثْلُ الْبُخَارِيِّ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ بِالصِّحَّةِ لِقَوْلِ مَنْ أَقَامَ هَذَا الْإِسْنَادَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلَالٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَذَكَرَ الْبُخَارِيُّ فِيهِ شَوَاهِدَ فَصَحَّ بِهِ الْحَدِيثُ، وَقَدْ خَرَّجَ مُسْلِمٌ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ» عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ» - الْحَدِيثَ -

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو آدمی اپنی شرمگاہوں کو کھولے پاخانہ کرتے ہوئے گفتگو مت کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ عمل پسند نہیں ہے۔ یہ حدیث یحییٰ ابن کثیر کی عیاض بن ہلال رضی اللہ عنہ کی سند کے ہمراہ روایت کی بنا ء پر درجہ صحت پر فائز ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ( اپنی کتاب ) " تاریخ " میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ ہلال بن عیاض رضی اللہ عنہ انصاری ہیں ، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے اور ان سے یحییٰ ابن ابی کثیر نے سماع کیا ہے اور ہشام ، معمر ، علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس کو یحییٰ ابن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ علی بن حمشاد موسیٰ بن ہارون کا یہ قول نقل کرتے ہیں : امام اوزاعی نے اس حدیث کو دو مرتبہ بیان کیا ہے جن میں سے ایک مرتبہ انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر کے بعد ہلال بن عیاض رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔ اور ایک مرتبہ انہوں نے اسی حدیث کو محمد بن الصباح پھر ولید پھر اوزاعی اور پھر یحییٰ بن ابی کثیر کے حوالے سے رسول پاک ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔پہلے تو عبدالرحمٰن بن مہدی اس حدیث کو عیاض بن ہلال کے حوالے سے بیان کیا کرتے تھے۔ پھر ان کو اس بارے میں شک پیدا ہوا تو وہ اس کی سند یوں بیان کیا کرتے تھے۔ او ہلال بن عیاض رواہ عن عبدالرحمٰن ، عبید اللہ اور محمد ) سب کی سند عیاض بن ہلال پر جمع ہو جاتی ہے اور یہی صواب بھی ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہمارے اَئمہ میں سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور موسیٰ بن ہارون جیسے جلیل القدر اماموں نے اس اسناد کے حوالے سے ان لوگوں کی تائید کی ہے او ر ان کے موقف کی تائید کی ہے جنہوں نے اس کی سند عیاض بن ہلال سے بیان کی ہے ۔اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلے میں کئی شواہد بھی درج کئے ہیں جن سے اس حدیث کا صحیح ہونا ثابت ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کردہ حدیث جو کہ اس کے ہم معنی ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی حدیث کی ایک ہم معنی حدیث نقل کی ہے جس کی سند ابو کریب ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، زید بن الحباب ، ضحاک بن عثمان ، زید بن اسلم ، عبدالرحمٰن بن ابو سعید اور پھر ابو سعید سے ہوتی ہوئی رسول پاک ﷺ تک پہنچتی ہے ( اس سند کے ہمراہ رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے ) آدمی ، دوسرے آدمی کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ ہی عورت ، عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھے اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی ہے۔

أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← عِيَاضِ بْنِ هِلاَلٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 560

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 561

561 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَرَّازُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَمَا تَرَى السَّمَاوَاتِ سَبْعًا، وَالْأَرَضِينَ سَبْعًا، وَالطَّوَافَ» وَذَكَرَ أَشْيَاءَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى» مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ «فَقَطْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 561 - منكر والحارث ليس بعمدة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب استنجاء کےلئے ڈھیلے استعمال کرنے ہوں تو طاق عدد میں کرے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ خود اکیلا ہے اور وہ اکیلے ہی کو پسند کرتا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ آسمان زمینیں اور طواف کے چکر ( طاق ہیں ) اس کے علاوہ بھی آپ نےمتعدد طاق چیزوں کا ذکر کیا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے صرف من استجمر فلیوتر " کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْخَرَّازُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمرو

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 562

562 - أَخْبَرَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: «غُفْرَانَكَ»

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بیت الخلاء سے نکلتے تو کہتے غفرانک۔

«غُفْرَانَكَ» ← دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← أَخْبَرَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 562

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 563

563 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ: «غُفْرَانَكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، فَإِنَّ يُوسُفَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ ثِقَاتِ آلِ أَبِي مُوسَى وَلَمْ نَجِدْ أَحَدًا يَطْعُنُ فِيهِ، وَقَدْ ذَكَرَ سَمَاعَ أَبِيهِ مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 563 - صحيح ويوسف ثقة

مذکورہ سند کے ساتھ یہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے ، یوسف بن ابو بردہ ، ابو موسیٰ کی اولاد امجاد میں سے ہیں ، ثقہ ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق کسی محدث کی جانب سے ان پر طعن ثابت نہیں ہے اور ان کے والد کا ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 563

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 564

564 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا قَبِيصَةُ، ثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَنَا عَبْدَانُ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،: «أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوِ اغْتَسَلَ مِنْ فَضْلِهَا» . تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی ازواج کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی کے ساتھ وضو یا غسل کر لیا کرتے تھے۔ یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کرنے میں شعبہ نے سفیان کی متابعت کی ہے ( ان کی روایت درج ذیل ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 564

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 565

565 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَحدثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ إِنَاءٍ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ: «الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِأَحَادِيثِ عِكْرِمَةَ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَحَادِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ فِي الطَّهَارَةِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَلَا يُحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے برتن سے ( پانی لے کر ) وضو کرنےکا ارادہ کیا تو آپ کی زوجہ نے کہا: یارسول اللہ ﷺ ! اس پانی سےمیں نے وضو کیا ہے۔ ( لیکن اس کے باوجود ) نبی اکرم ﷺ نے یہ کہتےہوئے ، اس سے وضو کرلیا" پانی کو کوئی ( پاک ) چیز ) نجس نہیں کرسکتی" امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کی احادیث نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سماک بن حرب کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث طہارت سے متعلق صحیح حدیث ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا اور اس حدیث میں کسی قسم کا کوئی ضعف بھی نہیں ہے۔

أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ إِنَاءٍ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ← أَبِي، وَحدثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 565

chevron_left Previous
1…91011…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section