Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 336

336 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا "

حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں :علم اور ایمان اپنے مقام پر ہوتے ہیں، جو ان کو ڈھونڈتا ہے وہ حاصل کر لیتا ہے۔

الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 336

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 337

337 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمًا، فَقَالَ: «هَذَا أَوَانُ يُرْفَعُ الْعِلْمُ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ لَبِيدٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ فِي الْكِتَابِ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ» ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ يُرْفَعُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: الْخُشُوعُ حَتَّى لَا تَرَى خَاشِعًا. «هَذَا صَحِيحٌ وَقَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ، وَالشَّاهِدُ لِذَلِكَ فِيهِ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ فَقَدْ سَمِعَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ الْحَدِيثَ مِنْهُمَا جَمِيعًا» ، وَمِنْ ثَالِثٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَهُوَ أَبُو الدَّرْدَاءِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 337 - صحيح احتجا برواته

حضرت عوف بن مالک الشجعی ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے ایک دن آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا:یہ وہ وقت ہے، جب علم اٹھا لیا جائے گا۔ آپﷺان سے ابن لبید انصاری ؓ نے کہا یا رسول اللہﷺعلم کیسے اٹھا لیا جائے گا؟ حالانکہ یہ کتاب اللہ میں موجود ہے اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں تو تجھے تمام اہل مدینہ سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا۔ پھر آپ ﷺنے یہود ونصاری ٰکے گمراہ ہونے کا ذکر کیا، حالانکہ ان کے پاس بھی تو کتاب اللہ موجود تھی(جبیر ابن نفير ) کہتے ہیں: پھر ایک مرتبہ میری ملاقات شداد بن اوس کے ساتھ ہوئی تو میں نے ان کو عوف بن مالک ؓوالی حدیث سنائی تو وہ کہنے لگے :عوف نے سچ کہا ہے، کیا میں تجھے وہ چیز نہ بتاؤں جو سب سے پہلے اٹھائی جائے گی؟ (جبیر کہتے ہیں) میں نے کہا: بتایئے!شداد نے کہا: سب سے پہلے خشوع اٹھایا جائے گا حتیٰ کہ کوئی آدمی عاجزی وانکساری کا پیکر نہیں ملے گا۔ یہ حدیث "صحیح "ہے، امام بخاری ؒ اور مسلمؒ دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور اس حدیث کی شاہد حدیث بھی ہے جو کہ شداد بن اوس سے مروی ہے۔ انہوں نے (حضرت عوف بن مالکؓ ) جبیر حضرت بن نفیرؓ اور حضرت ابوالدرداء ؓ سے حدیث کا سماع کیا ہے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 337

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 338

338 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» قَالَ: فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ، فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ، إِنِّي كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، هَذَا التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فَمَاذَا يُغْنِي عَنْهُمْ؟» . قَالَ جُبَيْرٌ: فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ، قَالَ: صَدَقَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنْ شِئْتَ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِأَوَّلِ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْخُشُوعُ، يُوشِكُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَ الْجَمَاعَةِ فَلَا تَرَى فِيهِ رَجُلًا خَاشِعًا «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الْبَصْرِيِّينَ» . وَفِيهِ شَاهِدٌ رَابِعٌ عَلَى صِحَّةِ الْحَدِيثِ وَهُوَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، «وَلَعَلَّ مُتَوَهِّمًا أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ رَوَاهُ مَرَّةً عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، وَمَرَّةً عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَيَصِيرُ بِهِ الْحَدِيثُ مُطَوَّلًا، وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَإِنَّ رُوَاةَ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ثِقَاتٌ وَجُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ مِنْ أَكَابِرِ تَابِعِيِّ الشَّامِ، فَإِذَا صَحَّ الْحَدِيثُ عَنْهُ الْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا فَقَدْ ظَهَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الصَّحَابِيَّيْنِ جَمِيعًا، وَالدَّلِيلُ الْوَاضِحُ عَلَى مَا ذَكَرْتُهُ أَنَّ الْحَدِيثَ قَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي ذُكِرَ مُرَاجَعَتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 338 - إسناده صحيح

حضرت ابوالدرداء ؓ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے، آپ ﷺنے آسمان کی طرف نگا اٹھائی پھر کہنے لگے:یہ وہ وقت ہے جب لوگوں میں سے علم اٹھالیا جائے گا حتیٰ کہ سب جاہل رہ جائیں گے (حضرت ابوالدرداءؓ)کہتے ہیں: زیاد بن لبید انصاری ؓنے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺعلم کیسے اٹھا لیا جائے گا؟ حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور خدا کی قسم ! ہم اسے پڑھتے رہیں گے، اور ہم اپنے اہل وعیال کو یہ پڑھاتے رہیں گے، پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے روئے، میں تو تجھے اہل مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا۔ یہودیوں اور نصرانیوں کے پاس تورات اور انجیل بھی تو موجودتھی، پھر ان کو کس چیز نے گمراہ کر دیا؟ جبیر کہتے ہیں: میری ملاقات عبادہ بن صامت سے ہوئی ، میں نے ان سے کہا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جوتمہارے بھائی حضرت ابوالدرداء ؓ بیان کررہے ہیں؟ پھر میں نے ان کو ابوالدرداء والی حدیث سنائی۔ جبیر کہتے ہیں :عباده بن صامت نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ سب سے پہلے کون سی چیز اٹھائی جائے گی (پھر آپ ﷺنے فرمایا )خشوع اٹھا لیا جائے گا اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ مسجد میں جا کر پوری جماعت کو دیکھو گے تو ان میں (نمازی تو مل جائیں گے لیکن )کوئی خشوع وخضوع والا آدمی نہیں ملے گا۔یہ اسنادصحیح ہے، بصر یوں کی اسناد ہے اور اسی سلسلہ میں صحت حدیث پر ایک چوتھی شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ اس کے راوی عبادہ بن صامت ہیں ، ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ مغالطہ لگ جائے کہ یہ حدیث جبیر بن نفیر نے ایک مرتبہ تو عوف بن مالک اشجعی کے حوالے سے بیان کی ہے اور ایک مرتبہ ابوالدرداء سے، اس طرح حدیث طویل ہوگئی ، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے کیونکہ دونوں اسنادوں کے تمام راوی ثقہ ہیں او رجبیر بن نفیر حضرمی شامی اکابر تابعین میں سے ہیں، جب ان سے متعلق دونوں اسنادیں "صحیح"ثابت ہیں تو اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ انہوں نے پوری حدیث صحابہ سے سنی ہے اور اس سے بھی واضح دلیل وہ ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ حدیث سندصحیح کے ساتھ زیاد بن لبید انصاری ؓ سے ثابت ہے، دونوں حدیثوں میں زیاد بن لبید نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا ہے۔

فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ: ← «هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ» ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِيهِ جُبَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 338

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 339

339 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ» قَالَ شُعْبَةُ - أَوْ قَالَ: «أَوَانُ انْقِطَاعِ الْعِلْمِ» - قَالُوا: كَيْفَهُ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ تُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ، مَا كُنْتُ أَحْسِبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقِلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ لَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ» . «قَدْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ بِلَا رَيْبٍ فِيهِ بِرِوَايَةِ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ الْوَاضِحِ»

حضرت ابن لبید انصاری ؓکہتے ہیں:رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: یہ وقت علم کے اٹھ جانے کا ہے، شعبہ کہتے ہیں: یا (شاید ذہاب العلم کی بجائے )انقطاع العلم کا لفظ ارشاد فرمایا بصحابہ کرام ؓنے عرض کی (یارسول اللهﷺ) ہمارے پاس کتاب الله موجود ہے جو کہ ہماری نسل درنسل پڑھاجاتارہے گا، پھر علم کیسے اٹھ سکتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: میں تو تجھے تمام اہل مدینہ سے زیادہ عقل مند سمجھتا تھا، کیا یہود ونصاری ٰکے پاس اللہ کی کتاب تورات اور انجیل موجود نہ تھی ؟ لیکن اس کے باوجود وہ گمراہ ہو گئے۔ اس موضوع پر یہ حدیث بلاشک وشبہ ثابت ہو چکی ہے کیونکہ زیاد بن لبیدکی اتنی واضح اسناد کے بعد اب اس میں شک کی کوئی گنجایش نہیں رہتی۔

ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 339

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 340

340 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: مَا أَعْمَلَكَ إِلَيَّ إِلَّا ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَعْمَلْتُ إِلَيْكَ إِلَّا لِذَلِكَ، قَالَ: «فَأَبْشِرْ فَإِنَّهُ مَا مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، إِلَّا بَسَطَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَفْعَلُ حَتَّى يَرْجِعَ» . «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فَإِنَّ عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ بُخْتٍ مِنْ ثِقَاتِ الْبَصْرِيِّينَ وَأَثْبَاتِهِمٍ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ وَقَدِ احْتَجَّا بِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَا هَذَا الْحَدِيثَ، وَمَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، وَقَدْ أَعْرَضَا عَنْهُ بِالْكُلِّيَّةِ وَلَهُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ شُهُودٌ ثِقَاتٌ غَيْرُ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ فَمِنْهُمُ الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 340 - إسناده صحيح

زر بن حبیش کہتے ہیں : وہ صفوان بن عسال المرادی کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے گئے صفوان نے کہا: میں اس کے بتانے کے علاوہ تیرا دوسرا کوئی کام نہیں کروں گا ؟ میں نے جواب دیا: میں دوسری کسی غرض سے آپ کے پاس آیا بھی نہیں ہوں۔ صفوان نے کہا تو پھر تجھے خوشخبری ہو، اس لئے کہ جوشخص علم کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے، اس کے گھر واپس آنے تک فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کی راہوں میں پر بچھائے رکھتے ہیں۔یہ اسنادصحیح ہے کیونکہ عبد الوہاب بن بخت ثقہ بصری رادیوں میں سے ہیں ، قابل اعتماد ہیں ، ان کی مروی احادیث کو جمع کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے ان کی روایات نقل بھی کی ہیں لیکن اس حدیث کو ترک کر دیا ہے جبکہ اس حدیث کا سارامدارعاصم بن بہدلہ کی اس روایت پر ہے جوانہوں نے"زر "سے روایت کی ہے اور شیخینؒ نے ان کو سرے سے چھوڑ رکھا ہے اور اس حدیث کو زر بن حبیش سے روایت کرنے میں عاصم بن بہدلہ کے علاوہ بھی کئی ثقہ راوی موجود ہیں۔ ان میں "منہال بن عمر "بھی ہیں ، امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں ہی ان کی روایات نقل کرتے ہیں۔(ان کی مروی حدیث درج ذیل ہے)

شَيْءٍ ← صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ يَسْأَلُهُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عبد الوهاب بن بخت ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 340

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 341

341 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: «فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَصْنَعُ» . - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - «عَارِمٌ هَذَا هُوَ أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَصْرِيُّ حَافِظٌ ثِقَةٌ، اعْتَمَدَهُ الْبُخَارِيُّ فِي جُمْلَةٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ رَوَاهَا عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ، وَقَدْ خَالَفَهُ سِنَانُ بْنُ فَرُّوخٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرَوَاهُ عَنْ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ» [ص:181].

منہال بن عمرو کی سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اس کی سند میں جو"عارم" (نامی راوی ہیں) یہ ابو النعمان محمد بن فضل بصری ہیں، یہ حافظ ہیں ، ثقہ ہیں ۔ امام بخاری ؒنے بھی اس حدیث کے ایک جملہ پر اعتماد کیا ہے اور انہی کے حوالے سے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’سنان بن فروخ‘‘ نے اختلاف کیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ حدیث "صعق بن حزن“ کے حوالے سے نقل کی ہے۔"صعق بن حزن "کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← عَارِمٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 341

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 342

342 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالُوا: ثنا شَيْبَانُ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -. «وَقَدْ أَوْقَفَهُ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، وَأَبُو جَنَابٍ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ فِي هَذَا الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 341 - خالفه شيبان

صعق بن حزن کے حوالے سے بھی یہ حدیث منقول ہے۔ ابوجناب الکلبی نے بھی اس روایت کی موافقت کی ہے، انہوں نے اسے ”طلحہ بن مصرف‘‘ کے حوالے سے "زربن حبیش "سے روایت کیا ہے اور ابو جناب کی روایات اس کتاب میں اندراج کے معیار پرنہیں ہیں۔

طَلْحَۃَ بن مصرف ← الْحَدِيثَ «وَقَدْ أَوْقَفَهُ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← حَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← شَيْبَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 342

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 343

343 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَنَابٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، أَنَّ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، أَتَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقَالَ: «مَا غَدَا بِكَ إِلَيَّ؟» قَالَ: غَدَا بِي الْتِمَاسُ الْعِلْمِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يَصْنَعُ مَا صَنَعْتَ لَهُ أَحَدٌ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَصْنَعُ» . «وَذَكَرْنَا فِي الْحَدِيثِ هَذَا مِمَّا لَا يُوهِنُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَدْ أَسْنَدَهُ جَمَاعَةٌ وَأَوْقَفَهُ جَمَاعَةٌ وَالَّذِي أَسْنَدَهُ أَحْفَظُ وَالزِّيَادَةُ مِنْهُمْ مَقْبُولَةٌ»

ابو جناب کی سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے تاہم اس میں چند الفاظ کا تغیر ہے۔ اس حدیث کی تقویت کے لئے ہم نے جو بھی اسناد وغیرہ ذکر کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جو اس حدیث کو نقصان د ے رہی ہو کیونکہ ایک جماعت محد ثین ؒ نے اس کو موقوف رکھا ہے اور ایک جماعت نے اس کی سند کو متصل کیا ہے اور جنہوں نے اس کی سند کو متصل کیا ہے وہ اَحفط ہیں اور ان کی زیادتی قبول ہوتی ہے۔

غَدَا بِي الْتِمَاسُ الْعِلْمِ، ← «مَا غَدَا بِكَ إِلَيَّ؟» ← طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، أَنَّ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، أَتَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، ← أَبُو جَنَابٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 343

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 344

344 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: جَاءَ الْأَعْمَشُ إِلَى عَطَاءٍ فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ فَحَدَّثَهُ، فَقُلْنَا لَهُ تُحَدِّثُ هَذَا وَهُوَ عِرَاقِيٌّ؟ قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَدْ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ» . " هَذَا حَدِيثٌ تَدَاوَلَهُ النَّاسُ بِأَسَانِيدَ كَثِيرَةٍ تُجْمَعُ وَيُذَاكَرُ بِهَا، وَهَذَا الْإِسْنَادُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، ذَاكَرْتُ شَيْخِنَا أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ بِهَذَا الْبَابِ ثُمَّ سَأَلْتُهُ هَلْ يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْأَسَانِيدِ، عَنْ عَطَاءٍ، فَقَالَ: لَا، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ عَطَاءً لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 344 - على شرطهما

ایک مرتبہ اعمش ، عطاء کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا، انہوں نے ان کو حدیث بیان کر دی، ہم نے ان سے کہا:تم یہ حدیث بیان کیسے کر رہے ہو؟ جبکہ وہ عراقی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: اس لئے کہ میں نے ابو ہریرہ ؓکی زبانی سنا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جس سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا، اس نے اس کو چھپالیا تو قیامت کے دن اس کو اس کی لگام ڈال کر لایا جائے گا۔ : اس حدیث کو محد ثین ؓ عموما کثیر جامع اسنادوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ (امام حاکمؒ کہتے ہیں)میں نے اپنے شیخ ابوعلی حافظ سے اس باب سے متعلق پوچھا کہ عطا ءکیان اسنادوں میں سے کوئی"سند"صحیح بھی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے جواب دیا: اس لئے کہ عطاء کا حضرت ابو ہریرہؓ سے سماع ثابت نہیں ہے بلکہ عطاء اور ابو ہریرہؓ کے درمیان ایک واسطے سے یہ حدیث منقول ہے (جیسا کہ درج ذیل اسناد سے ظاہر ہے)

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← القاسم بن محمد بن حماد ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 344

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 345

345 - أَخْبَرْنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ» . «فَقُلْتُ لَهُ قَدْ أَخْطَأَ فِيهِ أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ أَوْ شَيْخُكُمُ ابْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، وَغَيْرُ مُسْتَبْعَدٍ مِنْهُمَا الْوَهْمُ» فَقَدْ حَدَّثَنَا بِالْحَدِيثِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عِنْدَهُ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . «فَاسْتَحْسَنَهُ أَبُو عَلِيٍّ وَاعْتَرَفَ لِي بِهِ، ثُمَّ لَمَّا جَمَعْتُ الْبَابَ وَجَدْتُ جَمَاعَةً ذَكَرُوا فِيهِ سَمَاعَ عَطَاءٍ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَجَدْنَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو»

میں نے ان سے کہا: اس میں از ہر بن مروان یا تمہارے شیخ ابن احمد الواسطی سے خطاء ہوئی ہے اور ان سے وہم کا ہونا کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے کیونکہ یہی حدیث میں مسلم بن ابراہیم پھر عبد الوارث بن سعیدپھرعلی بن الحکم پھر ایک شخص پھر عطاء نے ابو ہریرہ ؓکے حوالے سے بھی بیان کی ہے اور اس حدیث کو ابوعلی نے مستحسن سمجھا ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے میرا اعتراف بھی کیا ہے پھر جب میں نے باب جمع کرلیا تو محدثینؒ کی ایک تعداد کو پایا جنہوں نے عطاء کے ابو ہریرہؓ سے سماع کا ذکر کیا ہے علاوہ ازیں یہ حدیث میں ایک دوسری صحیح سند کے ہمراہ عبد الله بن عمرو کے حوالے سے بھی مل گئی جس پرکسی قسم کا کوئی غبار نہیں ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَجُلٌ: ← عَطَاءٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْوَاسِطِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 345

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 346

346 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَتَمَ عِلْمًا أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ» . «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الْمِصْرِيِّينَ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 346 - على شرطهما ولا علة له

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓ کے حوالے سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔یہ اسنادصحیح ہے ،مصری ہے، امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒکے معیار پر ہے اور اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے اور اس موضوع پر حضرت ابو ہریرہ ؓکے علاوہ بھی صحابہ کی ایک پوری جماعت سے روایات منقول ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 346

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 347

347 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ الْعِرَاقَ فَمَشَى مَعَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى صِرَارٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ، نَحْنُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَيْتَ مَعَنَا، قَالَ: «إِنَّكُمْ تَأْتُونَ أَهْلَ قَرْيَةٍ لَهُمْ دَوِيٌّ بِالْقُرْآنِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَلَا تَبْدُونَهُمْ بِالْأَحَادِيِثِ فَيَشْغَلُونَكُمْ، جَرِّدُوا الْقُرْآنَ، وَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَامْضُوا وَأَنَا شَرِيكُكُمْ» فَلَمَّا قَدِمَ قَرَظَةُ قَالُوا: حَدَّثَنَا، قَالَ: نَهَانَا ابْنُ الْخَطَّابِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، لَهُ طُرُقٌ تُجْمَعُ وَيُذَاكَرُ بِهَا وَقَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ صَحَابِيٌّ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ شَرْطِنَا فِي الصَّحَابَةِ أَنْ لَا نَطْوِيهِمْ، وَأَمَّا سَائِرُ رُوَاتِهِ فَقَدِ احْتَجَّا بِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 347 - صحيح وله طرق

حضرت قرظہ بن کعب فرماتے ہیں: ہم عراق کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے تو مقام صرار تک حضرت عمر بن خطاب ؓبھی ہمارے ساتھ تھے۔ ایک مقام پر آپ نے وضو کیا اور فرمانے لگے تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیوں آیا ہوں؟ صحابہ نے جواب دیا : اس لئے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے صحابی ہیں ۔ آپ نے فرمایا:(میرے تمہارے ساتھ آنے کی وجہ ایک نصیحت کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ) تم ایسی بستی میں جارہے ہو، جہاں کے رہنے والے قرآن پاک کی تلاوت (اتنے خوبصورت انداز سے کرتے ہیں جیسے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے ،تم ان کو احادیث سنا کر ان کی تو قرآن سے نہ ہٹانا ۔ وہاں پر صرف قرآن ہی پڑھنا اور ان کے ہاں زیادہ احادیث نہیں پڑھنا اور یاد رکھنا میں بھی تمہارا شریک ہوں ۔ پھر جب یہ لوگ قرظہ میں پہنچےتو انہوں نے ان سے حدیث سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہمیں"ابن خطاب ؓ"نے منع کیا ہے۔یہ حدیث "صحیح الاسناد "ہے، اس کے متعدد طرق ہیں اور محدثین کرامؓ اس حدیث کو عموماً بیان کرتے ہیں اور قرظہ بن کعب انصاریؓ صحانی رسول ہیں۔ ان کا رسول اللہﷺسے سماع ثابت ہے اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہماری شرط یہ تھی کہ ہم انہیں نظر انداز نہیں کریں گے اور اس حد یث کے تمام راویوں کی روایات امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے نقل کی ہیں ( قرظہ کی روایت درج ذیل ہے)

قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← بَيَانٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 347

chevron_left Previous
1…456…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section