Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 300

300 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا فِيهِ يَلْتَمِسُ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَاللَّفْظَةُ الَّتِي أَسْنَدَهَا زَائِدَةُ قَدْ وَقَفَهَا غَيْرُهُ، فَأَمَّا طَلَبُ الْعِلْمِ فَلَمْ يُخْتَلَفْ عَلَى الْأَعْمَشِ فِي سَنَدِهِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: جوشخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے، الله تعالٰی اس کے لئے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں زائده (نامی راوی) نے من ابطا بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ کے الفاظ بیان کئے ہیں، ان کے علاوہ اور کسی بھی محدث نے یہ الفاظ ذکر نہیں کئے۔ تا ہم طلب علم کے حوالے سے اعمش کی سند میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ وَاللَّفْظُ لَهُ،

Hadith 300

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ بْنِ بَكَّارٍ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَمَتَّ إِلَيْهِ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْرِفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا قُرْبَ لِرَحِمٍ إِذَا قُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجْهُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، وَإِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِأَكْثَرِ رِوَايَاتِهِ عَنْ أَبِيهِ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ مُخَرَّجٌ مِثْلُهُ فِي الشَّوَاهِدِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 301 - على شرط البخاري

اسحاق بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباسؓ کی خدمت میں موجود تھا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بڑے دُور کے تعلقات سے ان کے ساتھ رشتہ داری جوڑنے کی کوشش کی تو حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا جضور ﷺنے فرمایا: اپنے نسبوں کو پہچانو! اور صلہ رحمی کرو کیونکہ جب رحم ختم ہو جائے تو چاہے رشتہ دار کتنا ہی قریبی ہو، کوئی قرب نہیں رہتا اور جب ان سے ملاقات رہے تو کوئی بعد نہیں رہتا اگر چہ کتنی ہی دوری ہو۔ یہ حدیث امام بخاریؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ (اس کی سند میں جو) اسحاق بن سعيد (ہیں) وہ عمرو بن سعید بن العاص کے بیٹے ہیں۔ امام بخاری ؒ نے ان کی روایات ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی ہے اور اس طرح کی احادیث شواہد میں پیش کی جاسکتی ہیں،(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَمَتَّ إِلَيْهِ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ بْنِ بَكَّارٍ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 301

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 302

302 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ» . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ هُوَ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: سب کو جانو اور صلہ رحمی کرو۔ امام حاکمؒ علی بن عیسی ٰالحیر ی پھر حسین بن محمد بن زیاد پر محمد بن یحییٰ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس کی سند میں ابوالباسط الحارثی "بشر بن رافع" ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو الْأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← يوسف بن سلمان ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 302

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَا: ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ: «يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ وَإِنِّي قُلْتُ لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي فَقُلْتُ: أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ، فَقَالَ: «أَسْوَاقُهَا» . " قَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِرُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْبُخَارِيُّ بِالِاحْتِجَاجِ بِأَبِي حُذَيْفَةَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ فِي قَوْلِ الْعَالِمِ: لَا أَدْرِي، وَلَهُ شَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 303 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت محمد بن جبیر بن مطعم ؓفرماتے ہیں کہ ان کے والد بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں آیا اور عرض کی:یا رسول اللہﷺکون سی جگہ سب سے زیادہ بری ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺنے ان سے پوچھا: اے جبرائیل علیہ السلام: کون سی جگہ سب سے زیادہ بری ہے؟ انہوں نے بھی عرض کی : میں نہیں جانتا۔ میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر بتاؤں گا (یہ کہہ کر) حضرت جبرائیل علیہ السلام چلے گئے۔ ایک عرصہ کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آئے تو کہنے لگے: آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کون سی جگہ سب سے زیادہ بری ہے ، اس پر میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں، البتہ میں الله تعالیٰ سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھ لیا ہے، اس نے فرمایا: "بازار "(سب سے بری جگہ ہے) امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒدونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ البتہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایات نقل نہیں کی جبکہ ابوحذیفہ کی روایات صرف امام بخاریؒ نےنقل کی ہیں اور یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی عالم"میں نہیں جانتا "کہہ سکتا ہے۔ اس کی ایک شاہد حدیث موجود ہے جو کہ عبد الله بن محمد بن عقیل سے مروی ہے حدیث درج ذیل ہے۔

أبيه: أنَّ رجلاً أتى النبيَّ فقال: ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُقَيْلٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 303

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 304

304 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْجَبْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، وَسَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ قَالَ: «لَا أَدْرِي» فَلَمَّا أَتَى جِبْرِيلُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ وَإِنِّي قُلْتُ: لَا أَدْرِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «أَسْوَاقُهَا» . «عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ هَذَا هُوَ ابْنُ أَبِي الْمِقْدَامِ الْكُوفِيُّ، وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ شَاهِدًا، وَرِوَايَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْهُ حَتَّى حَثَّنِي عَلَى إِخْرَاجِهِ فَإِنِّي قَدْ عَلَوْتُ فِيهِ مِنْ وَجْهٍ لَا يُعْتَمَدُ» .

یہ عمرو بن ثابت ابومقدام کوفی کے بیٹے ہیں۔ یہ حدیث شیخین ؒکے معیار پر نہیں ہے، میں نے اسے مذکورہ حدیث کے شاہد کے طور پر ذکر کیا ہے اور عبداللہ بن مبارک نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ثابت سے روایت کیا ہے، اسی بناء پر میں نے یہ حدیث ذکر کی ہے کیونکہ اس میں میری سند ایک اعتبار سے عالی بھی ہے لیکن اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ عبدالصمد بن نعمان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عمرو بن ثابت ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، وَسَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْجَبْرِيُّ،

Hadith 304

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. «وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ» وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ آخَرُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 304 - عمرو هو ابن أبي المقدام ورواه عنه عبد الصمد بن النعمان وهو ضعيف

یہ مذکورہ حدیث عبدالصمد بن نعمان کے حوالے سے عمرو بن ثابت سے مروی ہے اور عبد الصمد بن نعمان اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں جبکہ اس حدیث کی اور بھی شاہد حدیث ہے جو کہ ابن عمرؓسے منقول ہے ۔(وہ حدیث درج ذیل ہے)

عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 305

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 306

306 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، بِمَكَّةَ، فِي دَارِ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» فَقَالَ: أَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» فَقَالَ: سَلْ رَبَّكَ، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَ جِبْرِيلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي سُئِلْتُ أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ وَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي " فَقَالَ: جِبْرِيلُ: وَأَنَا لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي، قَالَ: فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ انْتِفَاضَةً كَادَ أَنْ يُصْعَقَ مِنْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ يَسْأَلُكَ مُحَمَّدٌ أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي، فَسَأَلَكَ أَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي، وَإِنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ، وَشَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ "

حضرت ابن عمرؓ کی اس روایت میں باقی تمام مفہوم سابقہ حدیث والا ہے البتہ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ "بہترین جگہ مسجد اور بدترین جگہ بازار ہے"۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، بِمَكَّةَ، فِي دَارِ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ،

Hadith 306

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 307

307 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ النَّاسُ أَنْ يَضْرِبُوا أَكْبَادَ الْإِبِلِ فَلَا يَجِدُونَ عَالِمًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ رُبَّمَا يَجْعَلُهُ رِوَايَةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 307 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ایک وقت آئے گا کہ لوگ حصول علم کی خاطر لمبے لمبے سفر کریں گے لیکن مدینہ کے ایک عالم سے بڑا ان کو کہیں کوئی عالم نہیں ملے گا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ابن عیینہ سے درج ذیل روایت بھی منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، وَحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ،

Hadith 307

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 308

308 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَرَّاحِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً، قَالَ: «يُوشِكُ النَّاسُ أَنْ يَضْرِبُوا أَكْبَادَ الْإِبِلِ» الْحَدِيثَ. " وَلَيْسَ هَذَا مِمَّا يُوهِنُ الْحَدِيثَ فَإِنَّ الْحُمَيْدِيَّ هُوَ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِهِ لِمَعْرِفَتِهِ بِهِ وَكَثْرَةِ مُلَازَمَتِهِ لَهُ وَقَدْ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: نَرَى هَذَا الْعَالِمَ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ "

اس طرح کی سند سے حدیث کی صحت پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لئے کہ "حمیدی"علوم حدیث کے متبحر عالم تھے اور زندگی بھر اسی علم سے منسلک رہے اور ابن عیینہ کہا کرتے تھے : ہم وہ عالم حضرت مالک بن انسؓ کو سمجھتے ہیں۔

«يُوشِكُ النَّاسُ ← أَبِي هُرَيْرَة، رِوَايَةً، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله الجراحي ← كَمَا

Hadith 308

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 309

309 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ جَاءَ مَسْجِدَنَا هَذَا يَتَعَلَّمُ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ بِغَيْرِ هَذَا كَانَ كَالرَّجُلِ يَرَى الشَّيْءَ يُعْجِبُهُ وَلَيْسَ لَهُ وَرُبَّمَا قَالَ: يَرَى الْمُصَلِّينَ وَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَيَرَى الذَّاكِرِينَ وَلَيْسَ مِنْهُمْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 309 - تابعه حيوة عن أبي صخر وهو على شرطهما ولا أعلم له علة

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص ہماری مسجد میں علم سیکھنے یا سکھانے کے لئے آیاوہ مجاہد فی سبیل الله کی طرح ہے اور جو اس کام کے علاوہ کی دوسری غرض سے مسجد میں آیا وہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو دیکھے وہ اس کو بہت اچھی لگے لیکن وہ چیز اس کی نہ ہو (بعض مرتبہ روایت کرتے ہوئے ابو ہریرہ ؓ کہتے تھے )وہ ایسا ہے کہ نمازیوں کو نماز پڑھتےصرف دیکھتا ہے خود نمازی نہیں ہے اور ذکر کرنے والوں کو صرف دیکھتا ہے خود ذاکرین میں شامل نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبُو صَخْرٍ،

Hadith 309

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 310

310 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ سَعِيدَ الْمَقْبُرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ دَخَلَهُ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ ثُمَّ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً بَلْ لَهُ شَاهِدٌ ثَالِثٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا»

چند الفاظ کے تغیر کے ساتھ یہ حدیث ابن وہب کے طریق سے بھی مروی ہے۔ یہ حدیث شیخین ؒکے معیار پر ہے کیونکہ دونوں نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں لیکن اس حدیث کو چھوڑ دیا ہے۔ مجھے اس حدیث میں کوئی علت نہیں مل سکی بلکہ اس کی ایک تیسری شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ دونوں کے معیار پر ہے۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ سَعِيدَ الْمَقْبُرِيَّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ،

Hadith 310

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 311

311 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ إِلَّا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يَعْلَمَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُ مُعْتَمِرٍ تَامِّ الْعُمْرَةِ، فَمَنْ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ إِلَّا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ فَلَهُ أَجْرُ حَاجٍّ تَامِّ الْحِجَّةِ» . «قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ فِي الْأُصُولِ وَخَرَّجَهُ مُسْلِمٌ فِي الشَّوَاهِدِ، فَأَمَّا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الدِّيلِيُّ فَإِنَّهُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 311 - على شرط البخاري

حضرت ابوامامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص مسجد میں صبح کے وقت بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے لئے آیا اس کے لئے ایک مقبول عمرہ کا ثواب ہے اور جو بھلائی سیکھتے یا سکھاتے مسجد میں شام کر دے اس کے لئے ایک مقبول حج کا ثواب ہے۔ امام بخاری ؒ اپنے "اصول" میں ثور بن یزید کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے اس کو شواہد میں ذکر کیا ہے اور "ثور بن یزید الدیلی‘‘ کی روایات امام بخاری ؒاور مسلم ؒ دونوں نے نقل کی ہیں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري ببغداد

Hadith 311

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section