المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 432
432 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ فِي تُهْمَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي؟ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَحْلِي بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُ؟» فَجَعَلْتُ أُعَرِّضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَفْهَمَهَا فَيَدْعُو عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُوا بَعْدَهَا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَهِمَهَا، فَقَالَ: «قَدْ قَالُوا؟ أَوَ قَائِلُهَا مِنْهُمْ؟ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِمْ خَلُّوا عَنْ جِيرَانِهِ» وَقَدْ تَقَدَّمَ الْقَوْلُ فِي صَحِيفَةِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ مَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ عَلَى أَنَّ شَوَاهِدَ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّجَةٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ ". فَمِنْهَا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ. وَمِنْهَا حَدِيثُ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَجَبَذَ أَعْرَابِيٌّ بُرْدَتَهَ - الْحَدِيثَ -. وَمِنْهَا حَدِيثُ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ حُنَيْنٍ عَلَى مَا تَضْطَرُّونِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ. «وَغَيْرُ هَذَا مِمَّا يَطُولُ ذِكْرُهُ»
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کسی تہمت کی وجہ سے قید کر وادیا۔ اس کے قبیلے کے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا: اے محمدﷺ! تم نے میرےپڑوسی کو قید کیوں کرایا؟ حضور ﷺ خاموش رہے ، وہ پھر بولا : لوگ تو کہتے ہیں کہ تو برائیاں ختم کرتا ہے جبکہ تم خود فتنہ پھیلا رہے ہو( معاز اللہ) حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے بات کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ ( جب وہ مزید گستاخانہ انداز میں بولنے لگا ) تو میں بیچ میں اونچی اونچی آواز سے بولنے لگ پڑا اور میرے یوں بولنےکا مقصد یہ تھا کہ اگر اس ( گستاخ کی ) باتیں حضور ﷺ کو سن گئیں اور آپ نے میری قوم کے لئے بد دعا کر دی تو میری قوم کبھی بھی فلاح نہیں پاسکے گی لیکن ( میری یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور اس کی بد تمیزی والی گفتگو سن لی اور وہ مسلسل گستاخانہ لہجے میں اپنے پڑوسی کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتارہا۔ اس کے متعلق گفتگو عجز بن حکیم کے صحیفہ میں گزر چکی ہے۔ البتہ اس حدیث کے شواہد صحیحین میں موجود ہیں ۔ ان میں سے ایک اعمش کی روایت ہے جس میں انہوں نے ابو وائل کے ذریعے عبداللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے ایک دفعہ مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک انصاری آدمی بولا: یہ تقسیم رضائے الٰہی کی خاطر نہیں کی گئی ۔ ان میں روایت مالک کی ہے: جس نے انہوں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے حوالے سے حضرت ان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جا رہا تھا ، آپ ﷺ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے، جس کے کناریوں پر کڑھائی کی ہوئی تھی۔ ایک دیہاتی نے وہ چادر آپ کے کندھوں سے کھینچ لی ۔ اس کے بعد مفصل حدیث ہے ۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زبانی حنین کا قصہ منقول ہے ( جس میں ہے ) تم مجھے اس درخت کی طرف مجبور کررہے ہو؟ اس کے علاوہ بھی بہت احادیث موجود ہیں ، ان سب کو ذکر کرنےسے بہت طوالت ہوجائے گی ( اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں)
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 432
