Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 432

432 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ فِي تُهْمَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي؟ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّرِّ وَتَسْتَحْلِي بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُ؟» فَجَعَلْتُ أُعَرِّضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَفْهَمَهَا فَيَدْعُو عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُوا بَعْدَهَا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَهِمَهَا، فَقَالَ: «قَدْ قَالُوا؟ أَوَ قَائِلُهَا مِنْهُمْ؟ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِمْ خَلُّوا عَنْ جِيرَانِهِ» وَقَدْ تَقَدَّمَ الْقَوْلُ فِي صَحِيفَةِ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ مَا أَغْنَى عَنْ إِعَادَتِهِ عَلَى أَنَّ شَوَاهِدَ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّجَةٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ ". فَمِنْهَا حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ. وَمِنْهَا حَدِيثُ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَجَبَذَ أَعْرَابِيٌّ بُرْدَتَهَ - الْحَدِيثَ -. وَمِنْهَا حَدِيثُ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ حُنَيْنٍ عَلَى مَا تَضْطَرُّونِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ. «وَغَيْرُ هَذَا مِمَّا يَطُولُ ذِكْرُهُ»

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو کسی تہمت کی وجہ سے قید کر وادیا۔ اس کے قبیلے کے ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا: اے محمدﷺ! تم نے میرےپڑوسی کو قید کیوں کرایا؟ حضور ﷺ خاموش رہے ، وہ پھر بولا : لوگ تو کہتے ہیں کہ تو برائیاں ختم کرتا ہے جبکہ تم خود فتنہ پھیلا رہے ہو( معاز اللہ) حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے بات کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ ( جب وہ مزید گستاخانہ انداز میں بولنے لگا ) تو میں بیچ میں اونچی اونچی آواز سے بولنے لگ پڑا اور میرے یوں بولنےکا مقصد یہ تھا کہ اگر اس ( گستاخ کی ) باتیں حضور ﷺ کو سن گئیں اور آپ نے میری قوم کے لئے بد دعا کر دی تو میری قوم کبھی بھی فلاح نہیں پاسکے گی لیکن ( میری یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور اس کی بد تمیزی والی گفتگو سن لی اور وہ مسلسل گستاخانہ لہجے میں اپنے پڑوسی کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتارہا۔ اس کے متعلق گفتگو عجز بن حکیم کے صحیفہ میں گزر چکی ہے۔ البتہ اس حدیث کے شواہد صحیحین میں موجود ہیں ۔ ان میں سے ایک اعمش کی روایت ہے جس میں انہوں نے ابو وائل کے ذریعے عبداللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے ایک دفعہ مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک انصاری آدمی بولا: یہ تقسیم رضائے الٰہی کی خاطر نہیں کی گئی ۔ ان میں روایت مالک کی ہے: جس نے انہوں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے حوالے سے حضرت ان رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جا رہا تھا ، آپ ﷺ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے، جس کے کناریوں پر کڑھائی کی ہوئی تھی۔ ایک دیہاتی نے وہ چادر آپ کے کندھوں سے کھینچ لی ۔ اس کے بعد مفصل حدیث ہے ۔ شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زبانی حنین کا قصہ منقول ہے ( جس میں ہے ) تم مجھے اس درخت کی طرف مجبور کررہے ہو؟ اس کے علاوہ بھی بہت احادیث موجود ہیں ، ان سب کو ذکر کرنےسے بہت طوالت ہوجائے گی ( اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں)

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 433

433 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ آوَاهُ اللَّهُ فِي كَنَفِهِ، وَسَتَرَ عَلَيْهِ بِرَحْمَتِهِ، وَأَدْخَلَهُ فِي مَحَبَّتِهِ» قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ إِذَا أُعْطِي شُكَرَ، وَإِذَا قَدَرَ غَفَرَ، وَإِذَا غَضِبَ فَتَرَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ رَاشِدٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، قَدْ رَوَى عَنْهُ أَكَابِرُ الْمُحَدِّثِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 433 - بل واه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نےارشاد فرمایا : تین عادتیں ایسی ہیں کہ یہ جس میں ہونگی ، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی حفظ وامان میں پناہ دے گا، رحمتوں سے اس کو ڈھانپ لے گا اور اس کو اپنی محبت عطا کرے گا۔ آپ سے عرض کی گئی : یارسول اللہ ﷺ ! وہ کونسی عادتیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (1) جب کوئی نعمت عطا کی جائے تو اس کا شکر ادا کرے ۔(2) جب ( ستانے والے پر ) قابو پائے تو اس کو معاف کر دے (3) جب غصہ آئے تو اپنے آپ کو نرم کرے۔ یہ حدیث "صحیح الا سناد" ہے ۔ اس میں عمر بن راشد مدینہ کے نواحی علاقے حجاز کے شیوخ میں سے ہیں ، اکابر محدثین کرام رحمۃاللہ علیہم نے ان سے حدیث پاک روایت کی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← محمد بن علي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 434

434 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ مِنْكُمْ أَنَّكُمْ تُؤْنِسُونَ مِنِّي شِدَّةً وَغِلْظَةً، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ عَبْدَهُ وَخَادِمَهُ، وَكَانَ كَمَا قَالَ اللَّهُ {بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} فَكُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ إِلَّا أَنْ يَغْمِدَنِي أَوْ يَنْهَانِي عَنْ أَمَرٍ، فَأَكُفَّ وَإِلَّا أَقْدَمْتُ عَلَى النَّاسِ لِمَكَانِ لِينِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَأَبُو صَالِحٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِهِ الْبُخَارِيُّ، فَأَمَّا سَمَاعُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ فَمُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَأَكْثَرُ أَئِمَّتِنَا عَلَى أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِنْهُ، وَهَذِهِ تَرْجَمَةٌ مَعْرُوفَةٌ فِي الْمَسَانِيدِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 434 - حديث منكر

حضرت سعید ابن مسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو منبر رسول ﷺ پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا ۔ اللہ کی حمد و ثناء کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم لوگ میری سختی اور شدت سے خائف ہو۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک غلام اور خادم کی حیثیت سے رہتا تھا اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان بالمومنین روف رحیم " کے مصداق انتہائی شفیق اور مہربان تھے اور میں آپ ﷺ کے ہاں ایک سنتی ہوئی تلوار کی طرح ہوتا تھا ہاں اگر کسی بات سے رسول اکرم ﷺ منع فرمادیتے تو میں اس سے رک جاتا تھا ورنہ میں سب لوگوں سے آگے ہوتا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور ﷺ بہت نرم مزاج تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، اس میں ابو صالح وہ راوی ہیں جن کی روایات امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے نقل کی ہیں تاہم سعید کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔ اکثر ائمہ حدیث کا موقف ہے کہ سماع ثابت ہے اور یہ عنوان مسانید میں معروف ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 434

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 435

435 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ هَيِّنًا لَيِّنًا قَرِيبًا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 435 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص کشادہ رو، نرم مزاج اور ہنس مکھ ہوگا اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کردے گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سعد بن سعيد الأنصاري ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن شعيب الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 435

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 436

436 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْتَى النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 436 - على شرطهما ولا أعرف له علة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو لوگوں کو بے علم فتوے دے گا ، اس کا گناۃ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور مجھے اس میں کوئی علت بھی نہیں ملی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 436

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 437

437 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ مَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ أَخْبَارُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي إِجَازَةِ الْكِتَابَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 437 - على شرطهما

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا : میرے حوالے سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو اور جو کچھ ابھی تک لکھ چکے ہو اس کو مٹادو۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کےمطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور عبداللہ بن عمرو کی روایات پیچھے کتابت کی اجازت کے ضمن میں گزر چکی ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ العباس بن الفضل الأسفاطي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 437

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 438

438 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْمَفْلُوجُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «لَيْسَ كُلُّنَا سَمِعَ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ لَنَا ضَيْعَةٌ وَأَشْغَالٌ، وَلَكِنَّ النَّاسَ كَانُوا لَا يَكْذِبُونَ يَوْمَئِذٍ، فَيُحَدِّثُ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ وَابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ مُحْتَجٌّ بِهِمَا، فَأَمَّا صَحِيفَةُ إِبْرَاهِيمِ بْنَ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ فَقَدْ أَخْرَجَهَا الْبُخَارِيُّ فِي الْجَامِعِ الصَّحِيحِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 438 - على شرطهما

حضرت براءرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ہم میں سے ہر شخص رسول اللہ ﷺ کی احادیث نہیں سن رکھیں ، کیونکہ ہمیں اپنے کام کاج وغیرہ بھی ہوتے تھے لیکن آج ( یہ اس زمانے کی بات ہے) لوگ جھوٹ نہیں بولتے ، اس لئے جو حاضر ہے ، وہ غائب تک احادیث پہنچا دے ، یہ حدیث امام بخاری و امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور محمد بن سالم اور ان کے بیٹے عبداللہ کی روایات نقل کی جاتی ہیں اور ابراہیم بن یوسف بن ابو اسحاق کے صحیفہ کی تخریج امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے اپنی جامع الصحیح میں کی ہے۔

«لَيْسَ كُلُّنَا ← الْبَرَاءِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ الْمَفْلُوجُ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 438

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 439

439 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرَيْدَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ «إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ فَكَانَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَكَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ بِمَا قَالَ بِهِ أَبُو بَكْرِ وَعُمَرُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ بِرَأْيِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَفِيهِ تَوْقِيفٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 439 - على شرطهما

عبید اللہ ابن ابی بریدہ کا بیان ہے : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اگر کوئی مسئلہ پوچھا جاتا ، اگر وہ قرآن پاک میں ہوتا تو اس کے حوالے سے بیان کردیتے، اگر وہ مسئلہ قرآن پاک میں نہ ہوتا لیکن رسول اکرم ﷺ کی حدیث شریف میں اس کا حل موجود ہوتا تو وہ حدیث کے حوالے سے اس کا جواب دے دیتے اور اگر حدیث رسول ﷺ میں بھی وہ مسئلہ نہ ملتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اقوال میں اس کو ڈھونڈتے، اگر ان کے اقوال میں مل جاتا تو ان کے حوالے سے بیان کردیتے اور اگر ابوبکر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بھی اس حوالے سے کوئی وضاحت نہ ملتی تو پھر ایسے مسئلہ کا حل اپنے رائے سے کردیتے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث میں "توقیف " ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرَيْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 439

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 440

440 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ مِنْهُ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ، وَلَا أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ ابْنَهُ ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ، إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، إِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ: كَذَبَ وَفَجَرَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صَدِيقًا أَوْ يَكْذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَإِنَّمَا تَوَاتَرَتِ الرِّوَايَاتُ بِتَوْفِيقِ أَكْثَرِ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ، فَإِنْ صَحَّ سَنَدُهُ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 440 - على شرطهما

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے موفوعاً منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جھوٹ بول کر قسمت کو اچھا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی یہ ہوسکتا ہے کہ باپ اپنے بیٹے سےکوئی وعدہ کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے۔ سچائی نیکی کی طرف لےجاتی ہے اور نیکی جنت تک لے جاتی ہے۔ جھوٹ گناہ تک اور گناہ ھہنم تک لے جاتا ہے۔ سچے آدمی کو لوگ " دادق اور نیک " کے لفظوں سے یاد کرتے ہیں اور جھوٹے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ اس کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں صدیقین کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہےاور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کے اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کذابوں کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے اور اس حدیث میں وارد ہونے والے الفاظ اتفا قاً اکثر روایات میں آئے ہیں ، اس لئے اس طرح کی روایات حد تواتر تک پہنچتی ہیں اگر اس کی سند صحیح ہو تو یہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 440

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 441

441 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيَّانِ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَوَاهِدُ فَمِنْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 441 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودی 71 یا 72 فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے ۔عیسائی 71 یا 72 فرقوں میں بٹے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کی کئی شاہد حدیثیں بھی موجود ہیں ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيَّانِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 441

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 442

442 - مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ قَاسِمٍ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارَى مِثْلُ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودی اور عیسائی 71 فرقوں میں بٹے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گیل

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ قَاسِمٍ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 442

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 443

443 - وَمِنْهَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْبَهْرَانِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، أُخْبِرَ بِقَاصٍّ يَقُصُّ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ مَوْلًى لِبَنِي فَرُّوخٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: أُمِرْتَ بِهَذِهِ الْقِصَصِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَقُصَّ بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ: نُنْشِئُ عِلْمًا عَلَمَنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ لَقَطَعْتُ مِنْكَ طَائِفَةً، ثُمَّ قَامَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ تَفَرَّقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، وَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَتَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ، فَلَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ، وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَيْرُ ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا تَقُومُوا بِهِ» . «هَذِهِ أَسَانِيدُ تُقَامُ بِهَا الْحُجَّةُ فِي تَصْحِيحِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ بِإِسْنَادَيْنِ تَفَرَّدَ بِأَحَدِهِمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْأَفْرِيقِيُّ، وَالْآخَرُ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَلَا تَقُومُ بِهِمَا الْحُجَّةُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 443 - هذه أسانيد تقوم بها الحجة

ابو عامر عبداللہ بن یحییٰ کا بیان ہے : ہم نے معاویہ بن ابوسفیان کی معیت میں حج کیا ، جب ہم مکہ پہنچے تو ہمیں بنی فروخ کے ایک قصہ گو غلام کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ اہل مکہ کے خلاف لوگوں کو قصے سناتا ہے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسن کی طرف پیغام بھیج کر پوچھا کہ کیا تجھے اس طرح قصے سنانے کا کسی نے حکم دیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ( پیغام رساں نے پوچھا ) پھر تو بلا اجازت اس طرح قصہ گوئی کیسے کر رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو علم دیا ہے ہم وہ علم پھیلا رہے ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے پیغام بھیجا کہ اگر میں خود وہاں آگیا تو تجھے چھوڑوں گا نہیں ۔ پھر مکہ مین نماز ظہر پڑھنے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر نبی اکرم رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان سنایا : اہل کتاب اپنےدین کے بارے میں 72 فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت 73 فرقوں میں بٹے گی۔ ایک فرقہ کے علاوہ باقی سب جہنمی ہوں گے اور وہ فرقہ اہل سنت " جماعت " ہے اور میری امت میں ایسے لوگ بھی پیدا ہونگے جو خواہشات نفسانیہ کےساتھ ساتھ اس طرح زندگی گزاریں گے جیسے کتا دوسرے کتوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ، ان کے ہرجوڑ اور ہر رگ میں خواہشات رچ بس چکی ہوں گی۔( پھر آپ نے اہل عرب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا) اے اہل عرب ! اگر محمد ﷺ کی تعلیمات کو تم نے ترک کردیا تو عجمی لوگ تو بدرجہ اولیٰ بے عمل ہو جائیں گے۔ ان مذکورہ اسانید کو اس حدیث کی تصحیح کے لئے پیش کیا گیا ہے جبکہ یہ حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عمر و بن عوف المزنی سے دو الگ الگ سندوں کے ساتھ مروی ہیں ۔ ان میں ایک سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد الافریقی متفرد ہیں اور دوسری کثیر بن عبداللہ المزنی متفرد ہیں ۔ ان دونوں کے ساتھ حجت قائم نہیں کی جاسکتی۔( عبداللہ بن عمرو کی روایت درج ذیل ہے۔)

أبي عامر عبد الله بْنِ لُحَيٍّ ← الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وَمِنْهَا: مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 443

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section