المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 420
420 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ الْأَعْمَشُ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلَنِي الْيَوْمَ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا مُؤَدَّبًا نَشِيطًا حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، يَقُولُ: يَعْزِمُ عَلَيْنَا أُمَرَاؤُنَا أَشْيَاءَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّهُ لَا يَأْمُرُ بِالشَّيْءِ إِلَّا فَعَلْنَاهُ، وَمَا أَشْبَهَ مَا غَبَرَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَزَالَ بِخَيْرٍ مَا اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا حَاكَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ أَتَى رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَشَفَاهُ، وَايْمُ اللَّهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ لَا تَجِدُوهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَأَظُنُّهُ لِتَوْقِيفٍ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 420 - على شرطهما
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن ایک شخص نےمجھ سے ایسا سوال کیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں سے کیا جواب دوں؟ اس نے پوچھا : آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو دانشمند ، ہشاش بشاش اور جہاد پر حریص ہو اور کہے : ہمارے حکمران ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیتے ہیں جن پر عمل کرنےکی ہم میں اسطاعت نہیں ہے ۔حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : مین نے اس سے کہا : خدا کی قسم ! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تجھے کیا جواب دوں؟ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ زندگی گزار دی ہے ، آپ ﷺ ہمیں اتنا حکم دیتے تھے جتنا ہم کر سکتے تھے اور دنیا کی مثال تو پانی کے اس تالاب جیسی ہے جس کا صاف صاف پانی پی لیا جاتا ہے اور میل کچیل باقی رہ جاتی ہے ( پھر فرمایا) تم جب تک اللہ سے ڈرتےرہو گے ، ہدایت پر رہو گے اور جب کبھی کوئی عمل دل میں کھٹکے تو کسی سمجھدار آدمی سے پوچھ کر دل کی تسلی کر لینا لیکن خدا کی قسم ! ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آجائے کہ تمہیں ایسا کوئی آدمی نہ مل سکے جو تمہارے دل کی تشفی کروائے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کےمطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اس کی سند کے موقوف ہونے کی وجہ سے شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو ترک کیا ہے۔
فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا ← يَعْزِمُ عَلَيْنَا أُمَرَاؤُنَا أَشْيَاءَ لَا نُحْصِيهَا؟ ← أَرَأَيْتَ رَجُلًا مُؤَدَّبًا نَشِيطًا حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، ← شَيْءٍ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَهُ، ← سَأَلَنِي الْيَوْمَ رَجُلٌ ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ← جعفر بن عون انبا الاعمش ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 420
