Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 420

420 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ الْأَعْمَشُ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلَنِي الْيَوْمَ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا مُؤَدَّبًا نَشِيطًا حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، يَقُولُ: يَعْزِمُ عَلَيْنَا أُمَرَاؤُنَا أَشْيَاءَ لَا نُحْصِيهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّهُ لَا يَأْمُرُ بِالشَّيْءِ إِلَّا فَعَلْنَاهُ، وَمَا أَشْبَهَ مَا غَبَرَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَزَالَ بِخَيْرٍ مَا اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا حَاكَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ أَتَى رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَشَفَاهُ، وَايْمُ اللَّهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ لَا تَجِدُوهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَأَظُنُّهُ لِتَوْقِيفٍ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 420 - على شرطهما

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن ایک شخص نےمجھ سے ایسا سوال کیا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں سے کیا جواب دوں؟ اس نے پوچھا : آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو دانشمند ، ہشاش بشاش اور جہاد پر حریص ہو اور کہے : ہمارے حکمران ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیتے ہیں جن پر عمل کرنےکی ہم میں اسطاعت نہیں ہے ۔حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : مین نے اس سے کہا : خدا کی قسم ! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تجھے کیا جواب دوں؟ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ زندگی گزار دی ہے ، آپ ﷺ ہمیں اتنا حکم دیتے تھے جتنا ہم کر سکتے تھے اور دنیا کی مثال تو پانی کے اس تالاب جیسی ہے جس کا صاف صاف پانی پی لیا جاتا ہے اور میل کچیل باقی رہ جاتی ہے ( پھر فرمایا) تم جب تک اللہ سے ڈرتےرہو گے ، ہدایت پر رہو گے اور جب کبھی کوئی عمل دل میں کھٹکے تو کسی سمجھدار آدمی سے پوچھ کر دل کی تسلی کر لینا لیکن خدا کی قسم ! ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ایسا آجائے کہ تمہیں ایسا کوئی آدمی نہ مل سکے جو تمہارے دل کی تشفی کروائے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کےمطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اس کی سند کے موقوف ہونے کی وجہ سے شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو ترک کیا ہے۔

فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا ← يَعْزِمُ عَلَيْنَا أُمَرَاؤُنَا أَشْيَاءَ لَا نُحْصِيهَا؟ ← أَرَأَيْتَ رَجُلًا مُؤَدَّبًا نَشِيطًا حَرِيصًا عَلَى الْجِهَادِ، ← شَيْءٍ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَهُ، ← سَأَلَنِي الْيَوْمَ رَجُلٌ ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ← جعفر بن عون انبا الاعمش ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 420

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 421

421 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّيَادِيُّ، عَنْ أَبِي قَتِيلٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا» . «وَمَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّيَادِيُّ مِصْرِيٌّ ثِقَةٌ، وَأَبُو قَبِيلٍ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 421 - مالك ثقة مصري

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے جو ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے ، بچوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے علماء کا حق نہ پہچانے۔ اس کی سند میں مالک بن خیر الزیادی مصری ہیں ، ثقہ ہیں اور ابو قبیل کبیر تابعی ہیں ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي قُتَيْلٍ، ← مالك بن خيرٍ الزيادي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 421

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 422

422 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59] قَالَ: «أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَهُ شَاهِدٌ، وَتَفْسِيرُ الصَّحَابِيِّ عِنْدَهُمَا مُسْنَدٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 422 - هذا صحيح وله شاهد

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت "﴿ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ٥٩﴾[النساء: 59]"( اولی الامر کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اولی الامر سے یہاں پر مراد ) علماء ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے اس کی ذیل میں شاہد حدیث بھی موجود ہے اور ویسے بھی شیخین رحمۃاللہ علیہما کے نزدیک صحابی کی تفسیر معتبر ہے ( شاہد حدیث درج ذیل ہے۔)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:{ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ [النساء: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 422

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 423

423 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59] يَعْنِي: «أَهْلَ الْفِقْهِ وَالدَّيْنِ، وَأَهْلِ طَاعَةِ اللَّهِ الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ مَعَالِيَ دِينِهِمْ وَيَأْمُرُونَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَوْنَهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَأَوْجَبَ اللَّهُ طَاعَتَهُمْ» . «وَهَذِهِ أَحَادِيثُ نَاطِقَةٌ بِمَا يَلْزَمُ الْعُلَمَاءُ مِنَ التَّوَاضُعِ لِمَنْ يُعَلِّمُونَهُمْ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ""﴿ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ٥٩﴾"کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ( کہ اولی الالمر سے یہاں پر مراد) فقہ اور دین والے لوگ ہیں ( یعنی علماء ہیں) اور اللہ تعالیٰ کے وہ اطاعت گزار بندے ہیں جو لوگوں کو دین کے معاملات سکھاتے ہیں : انہیں نیکی کی ترغیب دلاتے اور برائی سے منع کر تے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت واجب کردی ہے۔ ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص سے علم سیکھا ہو، اس کے سامنے ادب اور عاجزی کے ساتھ رہنا چاہیے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 423

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 424

424 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، قَالَتْ لِعُمَرَ: أَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا أَلْيَنَ مِنْ ثَوْبِكَ، وَتَأْكُلُ مِنْ طَعَامٍ أَطْيَبَ مِنْ طَعَامِكَ هَذَا، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْأَمْرَ، وَأَوْسَعَ إِلَيْكَ الرِّزْقَ؟ فَقَالَ: «سَأُخَاصِمُكِ إِلَى نَفْسِكِ. فَذَكَرَ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ يَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْعَيْشِ» فَلَمْ يَزَلْ يَذْكُرُ حَتَّى بَكَتْ، فَقَالَ: «إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَأُشَارِكَنَّهُمَا فِي مِثْلِ عَيْشِهِمَا الشَّدِيدِ لِعَلِّي أُدْرِكُ مَعَهُمَا عَيْشَهُمَا الرَّخِيَّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، فَإِنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ مِنْ أَوْلَادِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 424 - فيه انقطاع

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اس سے اچھے کپڑے پہن سکتے ہیں اور اس سے اچھا کھانا کھا سکتے ہیں کیونکہ اب تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر فتوحات وسیع کردی ہیں اور رزق میں وسعت دے دی ہے ۔ آپ نے فرمایا : اس کا فیصلہ میں آپ ہی سے کروانا چاہتا ہوں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ کے احکام اور آپ کی زندگی کی ان سختیوں کا ذکر شروع کیا جن سے آپ ﷺ دوچار رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی اتنی تکلیف کا ذکر کیا ، اتنی تکالیف کا ذکر کیا کہ ام المومنین رضی اللہ عنہ رو پڑیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں زندگی میں ان کا تکلیفوں کا ساتھی تو نہیں بن سکا ( کیونکہ مجھ پر وہ تکالیف نہیں آئین جو حضورﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر آئی تھیں ) لیکن اب امید رکھتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ آسودگی کی زندگی ( یعنی آخرت ) میں ان کی سنگت مجھے مل جائے گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اولاد صحا بہ میں سے ہیں ، کبارتابعین میں ہیں ، آپ ازواج مظہرات کے ہاں چلے جایا کرتے تھے۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَخِيهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 424

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 425

425 - وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبِي، قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خَلْقُهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 425 - بل مسلم يعني مسلم بن خالد الزنجي ضعيف وله شاهد

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی سخاوت ، اس کا دین ہے، اس کی مروت ، اس کی عقل ہے اور اس کی شرافت ، اس کے اخلاق ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ ( جو کہ درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبِي ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← وحدثنا علي بن حمشاذ العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 425

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 426

426 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خَلْقُهُ»

حضرت سعید المقبری رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مومن کی عزت اس کا دین ، اس کی مروت ، اس کی عقل اور اس کی خاندانی شرافت ، اس کا خلق ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الْمُعْتَمِرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، بِالْبَصْرَةِ، ← أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 426

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 427

427 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَا تَسَعُونَ النَّاسَ بِأَمْوَالِكُمْ وَلْيَسَعُهُمْ مِنْكُمْ بَسْطُ الْوَجْهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ» . رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 427 - قلت عبد الله يعني عبد الله بن سعيد المقبري واه

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگوں کی مدد اپنےمال کے ساتھ نہیں کرسکتے تو ( کم از کم ) کشادہ روئی اور حسن اخلاق کے ساتھ ہی ان کی مدد کردو۔ اسی حدیث کو سفیان الثوری نے عبداللہ بن سعید کےحوالے سے روایت کیا ہے ( سفیان الثوری کی روایت درج ذیل ہے۔)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 427

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 428

428 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغَوْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، قَالَ: «إِنَّكُمْ لَا تَسَعُونَ النَّاسَ بِأَمْوَالِكُمْ وَلْيَسَعُهُمْ مِنْكُمْ بَسْطُ الْوَجْهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مَعْنَاهُ يَقْرُبُ مِنَ الْأَوَّلِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ»

یہ حدیث صحیح ہے اور معنی و مفہوم کےاعبار سے گزشتہ حدیث سے ملتی جلتی ہے، تاہم امام بخار ی رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو عبداللہ بن سعید کے حوالے سے نقل نہیں فرمایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 428

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 429

429 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا سَمْعَانُ بْنُ بَحْرٍ الْعَسْكَرِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَعْرُوفُ إِلَى النَّاسِ يَقِي صَاحِبَهَا مَصَارِعَ السُّوءِ، وَالْآفَاتِ، وَالْهَلَكَاتِ، وَأَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ» . سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَابْنُهُ مِنَ الْبَصْرِيِّينَ لَمْ نَعْرِفْهُمَا بِجُرْحٍ، وَقَوْلُهُ «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا» . قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ الْمُنْكَدِرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ، جَابِرٍ. «وَالْمُنْكَدِرِ وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ فَإِنَّهُ يُذْكَرُ فِي الشَّوَاهِدِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ اس شخص کو اچھا جانتے ہیں جو اپنے دوست کا تکالیف ، آزمائیشوں اور مصیبتوں کے جھمیلوں سے بچا لے اور جو شخص دنیامیں اچھا ہے وہی آخرت میں بھی اچھا ہوگا۔ ( امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ) میں نے ابو علی الحافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حدیث میں نے صرف ابو عبداللہ الصفار سے لکھی ہے اور محمد اسحاق اور اس کا بیٹا بصریوں میں سے ہیں ، میری معلومات کےمطابق ان پر کسی نےجرح نہیں کی اور اس حدیث میں ایک جملہ ( اہل المعروف فی الدنیا ) متعدد طرق سے منکدر بن محمد پھر ان کے والد اور پھر حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور منکدر کی روایات اگرچہ شیخین رحمۃاللہ علیہما نے نقل نہیں کی ہیں تاہم ان کی روایات کو شواہد میں پیش کیا جاتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي ← إسحاق بن محمد بن إسحاق العمي ← سَمْعَانُ بْنُ بَحْرٍ الْعَسْكَرِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 429

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 430

430 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {خُذِ الْعَفْوَ} [الأعراف: 199] قَالَ: «أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَقَدِ احْتَجَّ بِالطُّفَاوِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ قِيلَ فِيهِ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 430 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس آیت " ان یاخذ ( الاعراف 199) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نےاپنے پیارے حبیب ﷺ کو حکم دیا کہ لوگوں کے اخلاقیات کے سلسلے میں درگزر سے کام لیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رضی اللہ عنہ کے معیار کےمطابق " صحیح " ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے طفاوی کی روایات نقل کی ہیں ۔ اسی سند کو عروہ کے ذریعے عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ان کی سند کے ہمراہ حدیث درج ذیل ہے۔

«أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 430

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 431

431 - أَخْبَرْنَاهُ عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَّا فِي أَخْلَاقِ النَّاسِ {خُذِ الْعَفْوَ} [الأعراف: 199] وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَلَيْسَ مِنْ شَرَطِهِ "

حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ١٩٩﴾[الأعراف: 199] لوگوں کےاخلاق کے متعلق نازل ہوئی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم دونوں کے معیار کےمطابق صحیح ہے اور یہی حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص سے بھی منقول ہے لیکن یہ سند ہماری اس کتاب کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← ابْنُ عُرْوَةَ ← وَكِيعٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 431

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section