Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 408

408 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيِّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمُزَنِيُّ، ثنا الْعَقَبِيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا الْعَقَبِيُّ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ فَارَقَ أُمَّةً، أَوْ عَادَ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ فَلَا حُجَّةَ لَهُ» . " قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مَوْتَةً جَاهِلِيَّةً» وَهَذَا الْمَتْنُ غَيْرُ ذَاكَ. الْحَدِيثُ السَّادِسُ فِيمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْإِجْمَاعَ حُجَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 408 - اتفقا على إخراج أبي هريرة في مثل هذا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جو امت سے الگ ہوا یا ہجرت کے بعد لوٹ کر اپنے وطن آ گیا (قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ سےچھوٹنے کیلئے) اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں نے "غیلان بن جریر "پھر" زیاد بن ریاح "پھر" حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول الللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: جو جماعت سے الگ ہوا ،وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اس کا متن گزشتہ متن سے تھوڑا مختلف ہے۔اجماع کی حجیت پر چھٹی حدیث۔

ابْنِ عُمَرَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الْعَقَبِيُّ، ← اللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← الْعَقَبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمُزَنِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 408

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 409

409 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ، ثنا كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ» . تَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ كَثِيرٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 409 - صحيح

حضرت ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس رات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کیا گیا، میں اس رات " حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، تو انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان سنایا: جس نے جماعت سے علحیدگی اختیار کی اور امارت کو برا جانا وہ اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں پیش ہوگا کہ اس نے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔ یہ حدیث " کثیر بن ابی کثیر " سے روایت کرنے میں " ابو عاصم " نے اسحاق بن سلیمان " کی متابعت کی ہے ( ان کی متابع حدیث درج ذیل ہے۔)

رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 409

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 410

410 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، أَنَّهُ أَتَى حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ بِبُرُودَةَ، وَكَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ حُذَيْفَةَ: يَا رِبْعِيُّ، مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ خَرَجَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ، قَالَ: قَدْ خَرَجَ مِنْهُمْ نَاسٌ، قَالَ: فِيمَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ فَإِنَّ كَثِيرَ بْنَ أَبِي كَثِيرٍ كُوفِيٌّ سَكَنَ الْبَصْرَةَ» . رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَلَمْ يُذْكَرْ بِجَرْحٍ. «الْحَدِيثُ السَّابِعُ فِيمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْإِجْمَاعَ حُجَّةٌ»

ابو عاصم کثیر بن ابی کثیر کے حوالے سے ربعی بن حراش کا یہ قول نقل کرتے ہیں : میں نے حذیفہ بن الیمان کے پاس گیا ( ربعی بن حراش کی بہن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ) حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ربعی ! تمہاری قوم نے کیا کیا؟ ( یہ زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کا تھا) انہوں نے جواب دیا : میری قوم میں سے کچھ لوگوں نے بغاوت کی ہے لیکن میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے جماعت سے بالشت بھر علحیدگی اختیار کی اور امارت کو برا جانا وہ اللہ کی بارگاہ میں جب پیش ہوگا تو( اپنے بچاؤ کے لئے) اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ " کثیر بن ابی کثیر " کوفی ، بصرہ میں رہا کرتے تھے ، ان سے یحییٰ بن سید لقطان اور عیسیٰ بن یونس نے بھی روایت کی ہے لیکن چونکہ ان پر جرح ثابت ہے ، اس لئے میں نے ان کی روایات نقل نہیں کی۔ اجماع کی حجیت پر ساتویں حدیث۔

رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← كَثِيرُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 410

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 411

411 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ فَمَاتَ عَاصِيًا، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ احْتَجَّا بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً. الْحَدِيثُ الثَّامِنُ عَلَى أَنَّ الْإِجْمَاعَ حُجَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین لوگوں سے سوال نہیں کیا جائے گا ( بلکہ بغیر حساب کے دوزخ میں ڈالا جائے گا) (1) ایسا شخص جو جماعت سے الگ ہوا اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی نافرمانی کی حالت میں مر گیا،(2) ایسا غلام یا لونڈی جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی حالت میں مر جائے،(3) ایسی عورت جس کا شوہر اس کی دنیا کی تمام ذمہ داریاں نبھا تا رہا ، وہ اس کی غیر موجودگی میں بن سنور کر غیر مردوں کے سامنے جائے۔ یہ حدیث امام بخاری او ر امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور اس حدیث میں مجھے کوئی علت نہیں مل سکی ۔ اجماع کی حجیت پر آٹھویں حدیث۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَبُو هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 411

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 412

412 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ - يَعْنِي مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا» ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: «إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ» فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ أَمْرٍ حَدَثَ، فَقَالَ: «إِلَّا مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَمَّا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا نَكْثُ الصَّفْقَةِ وَتَرْكُ السُّنَّةِ؟ قَالَ: " أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ: أَنْ تَبَايَعَ رَجُلًا بِيَمِينِكَ، ثُمَّ تَخْتَلِفَ إِلَيْهِ فُتَقَابِلَهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ: فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً. الْحَدِيثُ التَّاسِعُ فِي أَنَّ الْإِجْمَاعَ حُجَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 412 - على شرط مسلم ولا أعرف له علة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک فرضی نماز پڑھنے کے بعد دوسری فرضی نماز تک کے گناہوں کےلئے ( دوسری نماز کفارہ ہے) اور ایک جمعہ ، دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کفارہ ہے ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سوائے تین گناہوں کے ۔ میں سمجھ گیا کہ آج کوئی نیا حکم ارشاد فرمانے لگے ہیں ۔ فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور " نکث صفقہ " اور تر ک سنت" ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) میں نےکہا : حضور ﷺ " اشراک باللہ " کے بارے میں تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ "نکث صفقہ " اور" ترک سنت " کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : " نکث صفقہ " یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرے پھر وہ اختلاف کرکے اس کے خلاف تلوار اٹھا لے اور "ترک سنت" جماعت سے نکلنا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے عبداللہ بن السائب بن السائب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں اور اس حدیث میں مجھے کوئی علت نہیں ملی۔ اجماع کی حجیت پر نویں حدیث۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 412

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 413

413 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَاةِ أَوْ بِالنَّبَاوَةِ، يَقُولُ: «يُوشِكُ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» أَوْ قَالَ: «خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَاذَا؟، قَالَ: «بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: أَبُو زُهَيْرٍ الثَّقَفِيُّ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْمُهُ مُعَاذٌ، فَأَمَّا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ فَمِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ، وَإِسْنَادُ الْحَدِيثِ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. فَقَدْ ذَكَرْنَا تِسْعَةَ أَحَادِيثَ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى الْحُجَّةِ بِالْإِجْمَاعِ وَاسْتَقْصَيْتُ فِيهِ تَحَرِّيًا لِمَذَاهِبِ الْأَئِمَّةِ الْمُتَقَدِّمِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 413 - صحيح

ابوبکر بن ابوزہیر الثقفی اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مقام "نباہ" یا "نباوہ" پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم لوگو جنتیوں اور جہنمیوں کی پہچان کر لو گے یا ( شاید یہ فرمایا) اچھے اور برے کی پہچان کر لو گے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: حضور یہ پہچان کیسے ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کسی اچھے ذکر یا برے ذکر سے، تم خود ہی ایک دوسرے پر گواہ ہو۔یہ اسناد " صحیح " ہے اورامام بخاری رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ، ابو زہیر الثقفی نے حضور ﷺ کی حدیث سنی ہیں ۔ ان کا نام معاذ ہے اور ابوبکر بن ابو زہیر کبار تابعین میں سے ہیں اور حدیث کی اسناد " صحیح " ہے ۔ لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے روایت نہیں کیا ہے۔ ہم نے حجیت اجماع پر 19 احادیث اسناد صحیح کے ساتھ بطور دلیل پیش کی ہیں اور ائمہ متقدمین کے مذہب میں تہہ تک پہنچنے کی کو شش کی ہے۔

«خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ» قِيلَ: ← «يُوشِكُ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» أَوْ ← النَّبِيَّ بِالنَّبَاةِ أَوْ بِالنَّبَاوَةِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ← أمية بن صفوان ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 413

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 414

414 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قَدْ ثَبَتَ صِحَّةُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ وَأَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت کے لئے گئے، ہم قبر پر پہنچ گئے لیکن ابھی تک قبر مکمل تیار نہیں ہوئی تھی۔ حضور ﷺ وہاں بیٹھ گئے اور ہم لوگ بھی آپ ﷺ کے اردگرد بیٹھ گئے ( اور یوں دم بخود بیٹھے تھے) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں، اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی۔ کتاب الایمان میں اس حدیث کی صحت ثابت کی جاچکی ہے ۔لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے روایت نہیں کیا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 414

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 415

415 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنْجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا قَعَدْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ نَرْفَعْ رُءُوسَنَا إِلَيْهِ إِعْظَامًا لَهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَحْفَظُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 415 - على شرطهما ولا أحفظ له علة

حضرت عبداللہ ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تو آپ ﷺ کی تعظیم کی خاطر اپنےسروں کو اوپر نہیں اٹھاتے تھے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور مجھ اس میں کوئی علت بھی نہیں مل سکی ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنْجَرْدِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 415

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 416

416 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزَّيْدِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ فَسَلَّمْتُ وَقَعَدْتُ فَجَاءَ أَعْرَابٌ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: أَنَتَدَاوَى، قَالَ: «تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً» فَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ وُضِعَ الْحَرَجُ، لَا امْرَأً اقْتَرَضَ امْرَأً ظُلْمًا فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهَلَكَ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَالْعِلَّةُ عِنْدَ مُسْلِمٍ فِيهِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ مَا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ زِيَادٍ وَقَدْ رَوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْهُ عَلَى أَنِّي قَدْ أَصَّلْتُ كِتَابِي هَذَا عَلَى إِخْرَاجِ الصَّحَابَةِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ غَيْرُ رَاوٍ وَاحِدٍ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ سَبِيلُنَا أَنْ نُخَرِّجَهَا بِمَشِيئَةِ اللَّهِ تَعَالَى فِي كِتَابِ الطِّبِّ» .

اسامہ بن شریک کہتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے پاس یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ، میں ان کو سلام کہہ کر بیٹھ گیا ، پھر کچھ دیہاتی لوگ آپ ﷺ سے چند باتیں معلوم کرنے کے لئے آئے وہ کہنے لگے : کیا ہم ( بیماری کی ) دوا لے سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں دوا لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :ہاں ، دوا لیا کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے ۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! حرج ختم کردیا گیا ہے ( یہ حرج) نہیں ہے بلکہ حرج تو یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے سے ظلم کے ساتھ قرضہ لے۔ یہ حرج اور ہلاکت ہے۔پھر انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے اس میں سے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام مسلم کے نزدیک تو اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے صرف زیاد ہی نے روایات نقل کرنے کے متعلق اپنا قانون بیان کردیا ہے اگرچہ ان سے روایت کرنے والا صرف ایک ہی شخص ہو ( امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ) اس حدیث کے اور بھی طریق ہم جانتے ہیں ، ان طریق کے ساتھ یہ حدیث ہم ان شاءاللہ " کتاب الطب " میں ذکر کریں گے۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزَّيْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 416

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 417

417 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّمَاحِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَامِرٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا حَلْقَةٌ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ، فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ فَإِذَا هُوَ حُذَيْفَةُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ «- وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ -.» مَتْنُ هَذَا الْحَدِيثِ مُخَرَّجٌ فِي الْكِتَابَيْنِ وَإِنَّمَا خَرَّجْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ لِلْإِصْغَاءِ إِلَى الْمُحَدِّثِ وَكَيْفِيَّةِ التَّوْقِيرِ لَهُ، فَإِنَّ هَذَا اللَّفْظَ لَمْ يُخَرِّجَاهُ فِي الْكِتَابَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 416 - صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں گیا تو چند لوگ ایک حلقے میں یوں دم بخود بیٹھے تھے گویا کہ ان کے سر کاٹ دئیے گئے ہوں ۔ ان میں سے ایک شخص حدیث بیان کررہا تھا، میں نے غور کیا تو وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ، وہ کہہ رہے تھے کہ دوسرے لوگ رسول اللہ ﷺ سے " خیر " کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے اور میں آپ ﷺ سے" شر" کے متعقل پو چھا کرتا تھا۔ اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی ل۔ یہ حدیث کا متن صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں نقل کیا گیا ہے میں نے اس مقام پر یہ حدیث اس لئے بیان کی ہے تاکہ محدث کو متوجہ کیا جاسکے اور اس کو توقیر کی کیفیت کا بھی پتہ چل جائے کیونکہ ان لفظوں کے ہمراہ شیخین رحمۃاللہ علیہما نے یہ حدیث نقل نہیں کی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ: ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← عَامِرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّمَاحِيُّ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عتاب العبدي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 417

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 418

418 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَنْبَأَ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ مِنَّا رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّهُمَا كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا» . «هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ الشَّيْخُ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 418 - تفرد به الحكم وليس من شرط هذا الكتاب

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لاتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرا کوئی شخص اپنا سر بھی اوپر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول پاک ﷺ کو دیکھ کر اور رسول اللہ ﷺ ان کو دیکھ کر تبسم فرمایا کرتے تھے۔ اس حدیث کو صف شیخ حکم بن عطیہ نے روایت کیا ہے اور حدیث اس کتاب کےمعیار کی نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَنْبَأَ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 418

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 419

419 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: كَانَ سَلْمَانُ فِي عِصَابَةٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَمَرَّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُمْ قَاصِدًا حَتَّى دَنَا مِنْهُمْ فَكَفُّوا عَنِ الْحَدِيثِ إِعْظَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ الرَّحْمَةَ تَنْزِلُ عَلَيْكُمْ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَارِكَكُمْ فِيهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا بِجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، فَأَمَّا أَبُو سَلَمَةَ سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، فَإِنَّهُ عَابِدُ عَصْرِهِ وَقَدْ أَكْثَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ الرِّوَايَةَ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 419 - صحيح

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ ایک ایسی جماعت میں بیٹھے ہوئےتھے جو ذکر اللہ میں مشغول تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو اس جماعت کےپاس تشریف لے آئے ( جب آپ ﷺ ان میں تشریف لے آئے ) تو وہ لوگ آپ ﷺ کے احترام کے پیش نظر خاموش ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم سب مل کر کیا پڑھ رہے تھے؟ کیونکہ میں نے تم پر رحمت الٰہی کا نزول دیکھا۔ اس لئے میں نے چاہا کہ میں بھی رحمت باری تعالیٰ میں تمہارے ساتھ شریک ہو جاؤں۔یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ جعفر بن سلیمان کی روایات نقل کی ہیں اور اس کی سند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ یسار بن حاتم اپنے زمانے کے عابد و زاہد محدث تھے اور امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے ان سے کثیر روایا ت نقل کی ہیں ۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 419

chevron_left Previous
1…1011121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section