Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 265

265 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: «أَعَاذَكَ اللَّهُ يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» قَالَ: وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي لَا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ - أَوْ قَالَ: بُرْهَانٌ - "

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے کعب بن عجر ہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا: اے کعب! اللہ تعالٰی تجھے بے وقوفوں کی امارت سے بچائے ۔ کعب بن عجر ہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! بے وقوفوں کی امارت کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: (بے وقوف)میرے بعد آنے والے دہ امراء ہوں گے جو میری تعلیمات پر عمل نہیں کریں گے، میری سنت کو سنت نہیں سمجھیں گے۔ جو شخص ان کے جھوٹ کوسچ قرار دے گا اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کرے گا، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا، نہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہوگا نہ ہی یہ شخص میرے حوض کوثر پر آ سکے گا اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم پر ان کی معاونت نہیں کرے گا ، وہ میری جماعت میں سے ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا(پھر آپ ﷺنے فرمایا) اے کعب بن عجر ہ! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے یا ( شاید یہ ) فرمایا: دلیل ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 265

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 266

266 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ يَجْرِي حَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَجْرَى الْمَاءِ، فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 266 - على شرطهما

حضرت انس ؓبیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے ایک جاری نہر نظر آئی ۔ اس کے دونوں کنارے موتیوں کے بنے ہوئے تھے اور جہاں سے پانی گزر رہا تھا وہاں پر میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو اس سے مشک کی لپٹیں آرہی تھیں ۔ میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ کوثر ہے جو الله تعالی ٰنے آپ کو عطا کیا ہے۔یہ حدیث صحیح ہے امام بخاری ؒاور مسلم ؒ کے معیار پر ہے لیکن دونوں نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 266

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 267

267 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ مِنْ أَعْلَاهَا دَرَجَةً، وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: جنت کے ۰۰ادرجے ہیں، ان میں سے ایک درجے سے دوسرے تک کا فاصلہ اتنا ہے جتنا ز مین اور آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ اور "فردوس"جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے، اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ، اس لئے جب بھی الله تعالیٰ سے مانگوتو"جنت الفردوس"مانگا کرو۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث اسی جیسی سند کے ہمراہ ابو ہریرہؓ اور ابوسعید سے بھی منقول ہے (حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 267

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 268

268 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 267 - على شرطهما

یہی حدیث سند کے ہمراہ حضرت عبادہ بن صامت سے بھی مروی ہے۔(حدیث درج ذیل ہے)

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ [التعليق من تلخيص الذهبي] على شرطهما ← النَّبِيِّ نَحْوَهُ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 268

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 269

269 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ مِنْ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ»

حضرت عبادہ بن صامتؓ کے حوالے سے بھی مذکورہ حدیث مروی ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 269

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 270

270 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا» فَقَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَبَاتَ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِحُيَيٍّ وَهُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَذْحِجِيُّ صَاحِبُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَيُقَالُ مَوْلَاهُ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 270 - على شرطهما

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جنت میں بھی کچھ محل (اتنے لطیف اور نفیس ہیں کہ)ان میں اندر سے باہر اور باہر سے اندر دکھائی دیتا ہے۔ ابو مالک اشعری ؓنے دریافت کیا: یا رسول اللهﷺیہ کن لوگوں کے لئے ہوں گے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ان کے لئے جو اچھی گفتگو کریں، لوگوں کو کھانا کھلائیں اور رات کے وقت جب ساری دنیا سوتی ہو،یہ عبادت کرتے ہوں۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ امام بخاری اور امام مسلم ؒ دونوں نے سلیمان بن عبد الملک کے ساتھی ،یحییٰ ابوعبدالرحمٰن المذ حجی کی روایات نقل کی ہیں ایک قول کے مطابق یحیی ٰ،سلیمان کے غلام تھے۔

أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ ← «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حُيَيٍّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 270

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 271

271 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى} [النجم: 14] ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَتْ لِي سِدْرَةٌ مُنْتَهَاهَا فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيلِ، يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ؟ قَالَ: أَمَا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ. وَلَهُ شَاهِدٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 271 - على شرطهما ولم يخرجاه بهذه السياقة

حضرت انس ؓ نے سورہ نجم کی اس آیت : "عند سدرة المنتهی" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: میرے لئے ایک بیری کو بلند کیا گیا کہ جس کی انتہاء ساتویں آسمان پر ہوتی ہے، اس کے پھل مٹکوں کے برابر اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح بڑے بڑے تھے، اس کے تنے سے چارنہریں نکلتی ہیں ، جن میں سے دو ظاہر ہیں اور دو پوشیدہ ہیں۔ (حضرت انس ؓ) کہتے ہیں: میں نے پوچھا یہ کون سی نہریں ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: جو ۲نہریں پوشیده ہیں، وہ جنت میں بہتی ہیں اور جو ظاہر ہیں وہ نیل اور فرات ہیں۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔صحیح الاسناد ہے، شعبہ نے قتادہ کے ذریعے انس کے حوالے سے روایت کی ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى} [النجم: ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 271

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 272

272 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْلَمِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَتْ لِيَ السِّدْرَةُ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأُتِيتُ بِثَلَاثَةِ أَقْدَاحٍ قَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ، وَقَدَحٍ فِيهِ عَسَلٌ، وَقَدَحٍ فِيهِ خَمْرٌ فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ فَقِيلَ لِي، أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ ". قَالَ الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " قُلْتُ لِشَيْخِنَا أَبِي عَبْدِ اللَّهِ لِمَ لَمْ يُخَرِّجَا هَذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: لِأَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ "، قَالَ الْحَاكِمُ: «ثُمَّ نَظَرْتُ فَإِذَا الْأَحْرُفُ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ غَيْرُ هَذِهِ وَلِيَعْلَمْ طَالِبُ هَذَا الْعِلْمِ أَنَّ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ قَدْ سَمِعَ أَنَسٌ بَعْضَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْضَهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، وَبَعْضَهُ مِنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ غَيْرُ هَذِهِ، وَبَعْضَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: جب مجھے سدرة المنتھی پر لے جایا گیا تو میں نے ان میں سے چارنہریں نکلتی دیکھیں، ان میں سے وہ نہریں ظاہر تھیں اور دو پوشیدہ ۔ ظاہرنہریں "نیل“ اور ”فرات "ہیں اور پوشیدہ نہریں جنت میں بہتی ہیں (پھر آپ ﷺنے فرمایا)میرے پاس تین برتن لائے گئے ، ایک میں دوھ تھا، دوسرے میں شہد اور تیسرے میں شراب ،میں نے دودھ والے برتن کا انتخاب کیا اور وہ دودھ پی لیا، اس پر مجھے کہا گیا:تم نے فطرت کو پالیا ہے، اس لئے تمہاری امت بھی فطرت پرر ہے گی۔ امام حاکمؒ کہتے ہیں :میں نے اپنے شیخ ابوعبداللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے اس حدیث کو نقل کیوں نہیں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اس لئے کہ حضرت انسؓ نے یہ فرمان خود رسول پاک ﷺسے نہیں سنا بلکہ انہوں نے یہ فرمان حضرت مالک بن صعصعہ ؓ سے سنا ہے۔ امام حاکمؒ کہتے ہیں۔پھر میں نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ چند حروف ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں، وہ انہوں نے مالک بن صعصعہ سے سنے ہیں ۔ اورعلم حدیث کے طالب کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ معراج والی حدیث کا کچھ حصہ حضرت انس ؓ نے خود رسول پاک ﷺکی زبان سے سنا ہے اور کچھ حصہ حضرت ابوذر غفاری ؓ سے اور کچھ حصہ حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کیا ہے اور بعض حصہ حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْلَمِيُّ، ← محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 272

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 273

273 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 273 - على شرط مسلم

حضرت ابو برید ہؓ اپنے والد کے حوالے سے رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جنتیوں کی کل ۱۲۰صفیں ہوں گی ان میں سے ۸۰ صفیں صرف میری امت کی ہوں گی۔ یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کی سند سفیان ثوری، پھر علقمہ بن مرثد پھر سلیمان بن بریدہ سے ہوتی ہوئی ان کے والد صاحب تک پہنچتی ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← أَبُو سِنَانٍ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 273

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 274

274 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا لَبِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَحدثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ» . «أَرْسَلَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ»

اس حدیث میں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن مہدی نے ثوری سے ارسال کیا ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← عمرو بن محمد العنقزي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الحسن بن الحارث، ← سُفْيَانَ، وَحدثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← لَبِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 274

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 275

275 - وَقَدْ رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ: «كَيْفَ أَنْتُمْ رُبْعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قُلْنَا: كَثِيرٌ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَالثُّلُثُ؟» قَالَ: قُلْنَا: ذَلِكَ أَكْثَرُ، قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرُ؟ " قُلْنَا: ذَاكَ أَكْثَرُ، قَالَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» قَالَ: قُلْنَا: فَذَاكَ الثُّلُثَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَجَلْ» . «عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ فِي أَكْثَرِ الْأَقَاوِيلِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 275 - لم يسمع عبد الرحمن من أبيه

حضرت عبدالرحمٰن ؓاپنے والد حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہﷺکے اردگرد حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺنے فرمایا: اگر جنتیوں میں تمہاری تعدادایک چوتھائی ہو، تو کیسارہے گا؟ ہم نے عرض کی:یا رسول اللهﷺ!یہ ایک اچھی تعداد ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:اگر ایک تہائی ہوتو؟ ہم نے کہا:یا رسول اللہﷺ!یہ بہت زیادہ ہے۔ آپﷺنے فرمایا:اگر نصف ہوتو؟ ہم نے عرض کی : یہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا:اہل جنت کی کل ۱۲۰صفیں ہوں گی، جن میں ۸۰ صفیں صرف تمہاری ہوں گی (عبدالله بن مسعود) کہتے ہیں:ہم نے کہا: یا رسول اللهﷺ! یہ تعدادتو دو تہائی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں۔عبدالرحمٰن بن عبد الله بن مسعود ؓنے اکثر واقعات اپنے والد سے نہیں سنے۔

قُلْنَا: فَذَاكَ الثُّلُثَانِ ← «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» ← كَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرُ؟ قُلْنَا: ذَاكَ أَكْثَرُ، ← قُلْنَا: ذَلِكَ أَكْثَرُ، ← «كَيْفَ أَنْتُمْ وَالثُّلُثُ؟» ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ حَوْلَهُ: «كَيْفَ أَنْتُمْ رُبْعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قُلْنَا: كَثِيرٌ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← وَقَدْ رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 275

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 276

276 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا وَمَا فَوْقَ مَا أَعْطَيْتَنَا؟ قَالَ: يَقُولُ: رِضْوَانِي أَكْبَرُ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ تَابَعَ الْأَشْجَعِيُّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيَّ عَلَى إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 276 - على شرطهما

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جب جنتی لوگ جنت میں چلے جائیں گے تو الله تعالیٰ ان سے فرمائے گا :تمہیں مز ید کسی نعمت کی خواہش ہوتو وہ بھی عطا کردوں ؟جنتی کہیں گے:یا الله !جنت تو تونے ہمیں عطا کر دی ہے، اب اس سے بڑھ کر وہ کون سی چیز ہے جو تو ہمیں عطا کرے گا؟ الله تعالیٰ فرمائے گا: میری خوشنودی سب سے بڑی نعمت ہے۔یہ حدیث امام بخاری و امام ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اشجعی نے اس حدیث کی سند اور متن روایت کرنے میں محمد بن يوسف فریابی کی متابعت کی ہے(اشجعی حدیث درج ذیل ہے)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 276

chevron_left Previous
1…21222324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section