المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 253
253 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ أَبَا سَبْرَةَ بْنَ سَلَمَةَ الْهُذَلِيَّ، سَمِعَ ابْنَ زِيَادٍ، يَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أُرَاهُ حَقًّا بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، فَقَالَ: مَا أُصَدِّقُ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ شِفَاءٍ؟ بَعَثَنِي أَبُوكَ بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي بِفِيهِ وَكَتَبْتُهُ بِقَلَمِي مَا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ، حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَلَا الْمُتَفَحِّشَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ، وَيُخَوَّنُ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ الْخَائِنُ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ طَيِّبًا، فَلَمْ تَفْسُدْ وَلَمْ تُكْسَرْ، وَمَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْقِطْعَةِ الْجَيِّدَةِ مِنَ الذَّهَبِ نُفِخَ عَلَيْهَا فَخَرَجَتْ طَيِّبَةً وَوُزِنَتْ فَلَمْ تَنْقُصْ» وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْعِدُكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، وَهُوَ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، وَذَلِكَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، فِيهِ أَمْثَالُ الْكَوَاكِبِ أَبَارِيقُ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الْفِضَّةِ مَنْ وَرَدَهُ، وَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا» . فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ: مَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ بِحَدِيثٍ مِثْلِ هَذَا، أَشْهَدُ أَنَّ الْحَوْضَ حَقٌّ وَاجِبٌ، وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ الَّتِي جَاءَ بِهَا أَبُو سَبْرَةَ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ فَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرِ أَبِي سَبْرَةَ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ مُبَيَّنٌ ذِكْرُهُ فِي الْمَسَانِيدِ وَالتَّوَارِيخِ غَيْرُ مَطْعُونٍ فِيهِ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ» [ص:148].
حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓبیان کرتے ہیں مجھے ابوسبرہ بن سلمہ الهذ لی نے بتایا کہ انہوں نے حوض سے متعلق ابن زیاد کا یہ موقف سنا ہے کہ "حوض سے مرادمحمدﷺکا حوض ہے"۔ ابوسبرہ نے کہا: میں اس کوحق نہیں سمجھتا کیونکہ ان سے پہلے یہی بات میں ابو برزہ اسلمی، براء بن عازب اور عائذ سے پوچھ چکا ہوں۔ ابن زیاد نے کہا: انہوں نےسچ نہیں کہا۔ اس پر ابوسبرہ بولے: میں تمہیں حدیث شفابیان کروں؟ مجھے تمہارے والد نے کچھ مال دے کر حضرت معاویہ ؓ کی طرف بھیجاتو میری ملاقات عبداللہ بن عمرو سے ہوگئی انہوں نے خود مجھے یہ حدیث سنائی اور میں نے خود اپنے قلم سے لکھی (انہوں نے کہا)میں نے جو کچھ رسول اللہ ﷺسے سنا ہے بغیر کمی زیادتی کے حرف بہ حرف بیان کروں گا۔ پھر انہوں نے مجھے رسول الله ﷺکا یہ فرمان سنایا: الله تعالیٰ کسی بے حیاء، بد کار کو پسندنہیں کرتا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک یہ علامات ظاہر نہ ہو جائیں ۔ فحاشی اور بے حیائی عام ہوگی ، رشتہ داری کا لحاظ ختم ہو جائے گا، پڑوسیوں کے آپس میں تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے، امانت داروں کو خائن سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا۔ مومن کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کا پھل بھی اچھا ہو، بیج بھی اچھا ہو اور اس کا تنا بھی اچھا ہو، اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور توڑ انہیں جاتا اور مومن بندے کی مثال اس خالص سونے جیسی ہے جس میں پھونک ماریں تو اچھی ہوا آئے، اس کا وزن کریں تو کم نہ ہو۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی ، جس کی چوڑائی اور لمبائی برابر ہے اور یہ ایلہ سے لیکر مکہ تک کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ کم وبیش ایک مہینے کی مسافت ہے اس کے پیالوں کی تعداد ستاروں سے زیادہ ہے، اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہے۔ جوشخص ایک مرتبہ وہاں سے پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس پر ابن زیاد نے کہا: مجھے آج تک کسی نے حوض سے متعلق ایسی حدیث نہیں سنائی ۔ میں گواہی دیتا ہوں "حوض حق ہے، سچ ہے" (یہ کہتے ہوئے ) ابن زیاد نے ابوسبرہ سے وہ صحیفہ پکڑ لیا۔ اور ابواسامہ کی حدیث کی سند عبد اللہ بن بریدہ دلیل کے ذریعے ابوسبر ہ تک پہنچتی ہے۔،یہ حدیث صحیح ہے۔ ابوسبرہ ہزلی کے علاوہ اس کے تمام راویوں کی روایات امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے روایت کی ہیں اور ابوسبرہ کبیرتا بعی ہیں ۔ ان کا ذکرتاریخ کی کتابوں میں اور مسانید میں موجود ہے اور کسی طرف سے ان پرطعن ثابت نہیں ۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کی قتادہ نے ابن بریدہ سے روایت کی ہے (حدیث درج ذیل ہے)
مَا أُصَدِّقُ هَؤُلَاءِ، ← عائذ بن عمرو ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مَا أُرَاهُ حَقًّا بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ ← الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ ← ابْنَ زِيَادٍ، يَسْأَلُ ← لِي أَنَّ أَبَا سَبْرَةَ بْنَ سَلَمَةَ الْهُذَلِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 253
