Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 253

253 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ أَبَا سَبْرَةَ بْنَ سَلَمَةَ الْهُذَلِيَّ، سَمِعَ ابْنَ زِيَادٍ، يَسْأَلُ عَنِ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أُرَاهُ حَقًّا بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو، فَقَالَ: مَا أُصَدِّقُ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ شِفَاءٍ؟ بَعَثَنِي أَبُوكَ بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي بِفِيهِ وَكَتَبْتُهُ بِقَلَمِي مَا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ، حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَلَا الْمُتَفَحِّشَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ، وَيُخَوَّنُ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ الْخَائِنُ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا وَوَقَعَتْ طَيِّبًا، فَلَمْ تَفْسُدْ وَلَمْ تُكْسَرْ، وَمَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْقِطْعَةِ الْجَيِّدَةِ مِنَ الذَّهَبِ نُفِخَ عَلَيْهَا فَخَرَجَتْ طَيِّبَةً وَوُزِنَتْ فَلَمْ تَنْقُصْ» وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْعِدُكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، وَهُوَ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، وَذَلِكَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، فِيهِ أَمْثَالُ الْكَوَاكِبِ أَبَارِيقُ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الْفِضَّةِ مَنْ وَرَدَهُ، وَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا» . فَقَالَ ابْنُ زِيَادٍ: مَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ بِحَدِيثٍ مِثْلِ هَذَا، أَشْهَدُ أَنَّ الْحَوْضَ حَقٌّ وَاجِبٌ، وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ الَّتِي جَاءَ بِهَا أَبُو سَبْرَةَ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ فَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرِ أَبِي سَبْرَةَ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ مُبَيَّنٌ ذِكْرُهُ فِي الْمَسَانِيدِ وَالتَّوَارِيخِ غَيْرُ مَطْعُونٍ فِيهِ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ» [ص:148].

حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓبیان کرتے ہیں مجھے ابوسبرہ بن سلمہ الهذ لی نے بتایا کہ انہوں نے حوض سے متعلق ابن زیاد کا یہ موقف سنا ہے کہ "حوض سے مرادمحمدﷺکا حوض ہے"۔ ابوسبرہ نے کہا: میں اس کوحق نہیں سمجھتا کیونکہ ان سے پہلے یہی بات میں ابو برزہ اسلمی، براء بن عازب اور عائذ سے پوچھ چکا ہوں۔ ابن زیاد نے کہا: انہوں نےسچ نہیں کہا۔ اس پر ابوسبرہ بولے: میں تمہیں حدیث شفابیان کروں؟ مجھے تمہارے والد نے کچھ مال دے کر حضرت معاویہ ؓ کی طرف بھیجاتو میری ملاقات عبداللہ بن عمرو سے ہوگئی انہوں نے خود مجھے یہ حدیث سنائی اور میں نے خود اپنے قلم سے لکھی (انہوں نے کہا)میں نے جو کچھ رسول اللہ ﷺسے سنا ہے بغیر کمی زیادتی کے حرف بہ حرف بیان کروں گا۔ پھر انہوں نے مجھے رسول الله ﷺکا یہ فرمان سنایا: الله تعالیٰ کسی بے حیاء، بد کار کو پسندنہیں کرتا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک یہ علامات ظاہر نہ ہو جائیں ۔ فحاشی اور بے حیائی عام ہوگی ، رشتہ داری کا لحاظ ختم ہو جائے گا، پڑوسیوں کے آپس میں تعلقات ٹھیک نہیں ہوں گے، امانت داروں کو خائن سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا۔ مومن کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کا پھل بھی اچھا ہو، بیج بھی اچھا ہو اور اس کا تنا بھی اچھا ہو، اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور توڑ انہیں جاتا اور مومن بندے کی مثال اس خالص سونے جیسی ہے جس میں پھونک ماریں تو اچھی ہوا آئے، اس کا وزن کریں تو کم نہ ہو۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا: قیامت کے دن میرے ساتھ تمہاری ملاقات میرے حوض پر ہوگی ، جس کی چوڑائی اور لمبائی برابر ہے اور یہ ایلہ سے لیکر مکہ تک کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ کم وبیش ایک مہینے کی مسافت ہے اس کے پیالوں کی تعداد ستاروں سے زیادہ ہے، اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہے۔ جوشخص ایک مرتبہ وہاں سے پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس پر ابن زیاد نے کہا: مجھے آج تک کسی نے حوض سے متعلق ایسی حدیث نہیں سنائی ۔ میں گواہی دیتا ہوں "حوض حق ہے، سچ ہے" (یہ کہتے ہوئے ) ابن زیاد نے ابوسبرہ سے وہ صحیفہ پکڑ لیا۔ اور ابواسامہ کی حدیث کی سند عبد اللہ بن بریدہ دلیل کے ذریعے ابوسبر ہ تک پہنچتی ہے۔،یہ حدیث صحیح ہے۔ ابوسبرہ ہزلی کے علاوہ اس کے تمام راویوں کی روایات امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے روایت کی ہیں اور ابوسبرہ کبیرتا بعی ہیں ۔ ان کا ذکرتاریخ کی کتابوں میں اور مسانید میں موجود ہے اور کسی طرف سے ان پرطعن ثابت نہیں ۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کی قتادہ نے ابن بریدہ سے روایت کی ہے (حدیث درج ذیل ہے)

مَا أُصَدِّقُ هَؤُلَاءِ، ← عائذ بن عمرو ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مَا أُرَاهُ حَقًّا بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ ← الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ ← ابْنَ زِيَادٍ، يَسْأَلُ ← لِي أَنَّ أَبَا سَبْرَةَ بْنَ سَلَمَةَ الْهُذَلِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 253

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 254

254 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ الْهُذَلِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ

ابن بریدہ نے ابوسبر ہ ہذلی کے حوالے سے یہ حدیث طوالت کے ہمراہ نقل کی ہے۔

أَبِي سَبْرَةَ الْهُذَلِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 254

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 255

255 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ، ثنا أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «حَوْضِي مِنْ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ، فِيهِ مِيزَابَانِ يَصُبَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا وَرِقٌ وَالْآخَرُ ذَهَبٌ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَلْيَنُ مِنَ الزُّبْدِ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ» . قَالَ: وَزَادَ فِيهِ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَنْزُو فِي أَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِحَدِيثَيْنِ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الرَّاسِبِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَهُوَ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 255 - غريب صحيح على شرط مسلم

حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا : میراحوض اللہ سے صنعاء تک چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی اور لمبائی برابر ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں ، ان میں سے ایک سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ہے جس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ ملائم ہے۔ اس کے پیالوں کی تعدادستاروں کے برابر ہے جو اس سے ایک مرتبہ پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی حتیٰ کہ وہ جنت میں چلا جائے گا۔ اس حدیث کو ایوب نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند ابوالوازع کے ذریعے ابو برزہ تک پہنچتی ہے۔ اس نے نبی پاک ﷺکے فرمان میں يَنْزُو فِي أَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ کا اضافہ ہے۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے امام مسلمؒ نے دونوں حدیثیں ابوطلحہ کے ذریعے ابوالوازع کی سند سے ابو برزہ کے حوالے سے روایت کی ہیں اور یہ حدیث اس سند کے لحاظ سے غریب صحیح ہے جو ایوب سختیانی نے ابوالوازع کے حوالے سے روایت کی ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبَا بَرْزَةَ ← أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ، ← شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 255

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 256

256 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفٍ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ» فَسَأَلُوهُ: كَمْ كُنْتُمْ، قَالَ: «ثَمَانَ مِائَةٍ أَوْ تِسْعَ مِائَةٍ» . «أَبُو حَمْزَةَ الْأَنْصَارِيُّ هَذَا هُوَ طَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ الْبُخَارِيُّ»

حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: قیامت کے دن جتنے لوگ میرے حوض پرآئیں گے تم اس وقت ان کے مقابلے میں لاکھواں حصہ بھی نہیں ہے۔ لوگوں نے زید بن ارقم سے پوچھا: (جس دن حضور ﷺنے تم سے یہ کہا تھا اس دن ) تمہاری تعدادکتنی تھی؟ زید بن ارقم نے کہا: ہم ۸۰۰ یا ۹۰۰ تھے۔ یہ ابوحمزه انصاری طلحہ بن زید ہیں ۔ امام بخاری ؒنے ان کی روایات نقل کی ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← عَمَّارُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 256

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 257

257 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحدثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالَ: فَقُلْنَا لِزَيْدٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِلَى التِّسْعِ مِائَةٍ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَكِنَّهُمَا تَرَكَاهُ لِلْخِلَافِ الَّذِي فِي مَتْنِهِ مِنَ الْعَدَدِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 257 - لعلهما تركاه لاختلاف العدد

حضرت زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جو لوگ میرے حوض پر آئیں گے ان کے مقابلے میں (اس وقت) تمہاری تعداد ہزارویں حصے کے برابر بھی نہیں ہے۔ ابوحمزہ کہتے ہیں: ہم نے زید بن ارقم سے پوچھا تم اس دن کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ۶۰۰اور۹۰۰ کے درمیان تھے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ شاید امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے اس حدیث کو اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ اس کے متن میں اختلاف ہے (ایک روایت میں لاکھویں حصہ کا ذکر ہے اور دوسری میں ہزارویں حصہ کا) اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ زید بن ارقم سے مروی ہے اور امام مسلم ؒ کے معیار پر ہے۔ البتہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 257

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 258

258 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: شَهِدْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَبَعَثَ إِلَيْهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، فَقَالَ: مَا أَحَادِيثُ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزْعُمُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَعَدْنَاهُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یزید بن حیان بیان کرتے ہیں ،میں زید بن ارقم کی خدمت میں موجود تھا، وہاں پر عبید اللہ بن زیاد کا ایک قاصد آیا اس نے (ابن زیاد کا پیغام دیتے ہوئے کہا )ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم کچھ احادیث رسول اللہ ﷺکے حوالے سے بیان کرتے ہوں جن کی بناء پرتم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ رسول اللہ ﷺکا جنت میں کوئی حوض ہے۔ وہ احادیث کیا ہیں؟ زید بن ارقم نے جواباً فر مایا: وہ احادیث ہمیں رسول اللہ ﷺنے بیان کی ہیں اور ہم سے حوض کوثر کا وعدہ بھی کیا ہے (ابن زیاد کے قاصد نے کہا)تم جھوٹ بول رہے ہو یہ تمہاری اپنی خرافات ہیں ۔ زید بن ارقم نے فرمایا: کیا میں نے رسول اللہ کا یہ فرمان نہیں سن رکھا"جس نے مجھ پر جھوٹ باندھادہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے" (یعنی ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺکایہ فرمان میں نے بھی سنا ہوا ہے اور میں نے رسول اللہﷺپر جھوٹ نہیں باندھا ہے)

إِمَّا ← كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ. ← ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ وَوَعَدَنَاهُ. ← مَا أَحَادِيثُ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا ← بَعَثَ إِلَيْه عُبَيد اللهِ بنُ زِيَادٍ, ← شَهِدْتُ زَيدَ بنَ أَرْقَم, ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 258

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 259

259 - حَدَّثَنِي أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثنا أَبُو سَهْلٍ حَسَنُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ حَتَّى يُرَاجِعَهُ» قَالَ: «وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامُ جَمَاعَةٍ فَإِنَّ مَوْتَتَهُ مَوْتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ» وَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ سَعَتَهُ مَا بَيْنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، وَآنِيَتُهُ كَعَدَدِ النُّجُومِ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي لَمَّا دَنَوْا مِنِّي خَرَجَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ قَالَ: بِهِمْ عَنِّي، ثُمَّ أَقْبَلَتْ زُمْرَةٌ أُخْرَى فَفَعَلَ بِهِمْ كَذَلِكَ، فَلَمْ يَفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا كَمَثَلِ النَّعَمِ " فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ لِعَلِّي مِنْهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: «لَا وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَخْرُجُونَ بَعْدَكُمْ وَيَمْشُونَ الْقَهْقَرَى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَقَدْ حَدَّثَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَيْضًا، عَنِ اللَّيْثِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 259 - على شرطهما

حضرت ابن عمر ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جو (مسلمانوں کی بڑی )جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹا اتار دیا جب تک وہ واپس نہ لوٹ آئے۔ اور فرمایا: جوشخص اس حالت میں مرے کہ وہ کسی امام جماعت کی پیروی میں نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ رسول اللہ ﷺنے مزید خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔ میرے حوض کی چوڑائی اتنی ہے جتنی مسافت کوفہ سے حجر اسود تک ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ میں اپنے کچھ امتیوں کو وہاں پر دیکھوں گا، جب وہ میرے قریب آئیں گے تو ایک شخص ان کے پاس آ کر میرے متعلق ان سے کچھ کہے گا، پھر دوسری جماعت آئے گی ان کے ساتھ بھی اسی طرح معاملہ ہو گا۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے ہوئے وہاں سے چلے جائیں گے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق ؓنے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺکہیں میں تو ان میں سے نہیں ہوں؟ آپ ﷺنے فرمایا نہیں۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو تمہارے بعد دین سے نکل جائیں گے اور الٹے قدموں پلٹ جائیں گے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور یہ روایت حجاج بن محمد نے بھی لیث سے روایت کی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو سَهْلٍ حَسَنُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 259

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 260

260 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ، قَالَ: فَقَالَ: جَاءَكُمْ أَنَسٌ، قَالَ: يَا أَنَسُ مَا تَقُولُ فِي الْحَوْضِ؟ قَالَ: قُلْتُ: «مَا حَسِبْتُ أَنِّي أَعِيشُ حَتَّى أَرَى مِثْلَكُمْ يَمْتَرُونَ فِي الْحَوْضِ، لَقَدْ تَرَكْتُ بَعْدِي عَجَائِزَ مَا تُصَلِّي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ صَلَاةً إِلَّا سَأَلْتَ رَبَّهَا أَنْ يُورِدَهَا حَوْضَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ عَنْ حُمَيْدٍ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا» .

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس گیا تو وہاں پر"حوض‘‘ کے متعلق بحث ہورہی تھی(حضرت انس ؓ) کہتے ہیں ( عبید الله بن زیاد نے میرے آنے پر)کہا (لیجیے ) تمہارے پاس انس (بھی) آ گئے ۔ پھر (ابن زیادنے) کہا: اے انس! آپ کا حوض کے سلسلے میں کیا نظریہ ہے؟ (انس) کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: میں نے اپنی پوری زندگی میں تم جیسے لوگ نہیں دیکھے (بڑے افسوس کی بات ہے)تم لوگ حوض کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو۔ (حوض کی بات تو اتنی واضع، مشہور اوریقینی ہے کہ مردتو مرد ) ایسی کتی عورتیں ہیں جو ہر نماز میں حوض کوثر کی دعا مانگا کرتی تھیں۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ حمید سے مروی ہے اور شیخینؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

جَاءَكُمْ أَنَسٌ، ← الْحَوْضِ». ← دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِي ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى، ومُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 260

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 261

261 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ، ثُمَّ ذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 260 - على شرطهما

حمید کے حوالے سے بھی حضرت انسؓ کامذکورہ بیان منقول ہے۔

الْحَوْضِ، ثُمَّ ذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ [التعليق من تلخيص الذهبي] على شرطهما ← دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ فِي ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس السياري بمرو

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 261

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 262

262 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَبَّابٌ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجَ وَنَحْنُ قُعُودٌ، فَقَالَ: «اسْمَعُوا» قُلْنَا: سَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدِي فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَشَاهِدَهُ الْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ مَعَ الْخِلَافِ عَلَيْهِ فِيهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 262 - على شرط مسلم

حضرت خباب ؓ بیان کرتے ہیں ،وہ نبی اکرم ﷺکے دروازے کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول الله ﷺ(اپنے کاشانہ اقدس سے) باہرتشریف لائے۔ آپ ﷺنے فرمایا:غور سے سنو! ہم نے عرض کیا: جو حکم ہو ہمارے آقا! ارشادفرمایا: میرے بعد امراء ہو نگے (جو جھوٹے اور ظالم ہو نگے ) تم ان کے کذب کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم میں معاونت بھی نہ کرتا کیونکہ جوشخص ان کے کذب کی تصدیق کرے گا اور جوان کے ظلم کا معاون ہوگا وہ میرے حوض پر نہیں آسکتا۔ یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ شعبی نے کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے۔ تاہم اس کے الفاظ میں کچھ تبدیلی ہے۔(حدیث درج ذیل ہے)

فَخَرَجَ وَنَحْنُ قُعُودٌ، فَقَالَ: «اسْمَعُوا» قُلْنَا: ← خَبَّابٌ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ النَّبِيِّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ، ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 262

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 263

263 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ: «أَتَسْمَعُونَ؟» قُلْنَا: سَمِعْنَا، مَرَّتَيْنِ، قَالَ: «اسْمَعُوا، إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» . رَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ. «أَمَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ» .

حضرت کعب بن عجر ہ ؓ بیان کرتے ہیں، ایک دن ہم مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول الله ﷺتشریف لے آئے (اس دن ہم ۵عربی اور ۴عجمی لوگ تھے ) آپ ﷺنے دو مرتبہ فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ ہم نے (دونوں بار ) عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ! آپ ﷺنے فرمایا: سنو! میرے بعد کچھ حکمران ہونگے ، جو شخص ان کی حمایت کرے، ان کے جھوٹ کوسچ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کرے، اس کا میرے ساتھ اور میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے حوض پرآ سکے گا اور جو شخص نہ ان کی حمایت کرے، نہ ان کے جھوٹ کو سچ ثابت کرے اور نہ ہی ظلم میں ان کی معاونت کرے، وہ میری جماعت سے ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں اور وہ میرے حوض کوثر پرآئے گا۔ اس حدیث کو مسعر بن کدام اور سفیان ثوری ؓنے بھی روایت کیا ہے، جس کی سند ابو حصین سےپھر شعبی سے پھر عاصم عدوی سے ہوتی ہوئی کعب بن عجر ہ تک پہنچتی ہے۔ (ثوری کی روایت درج ذیل ہے)

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أبو بكر محمد بن إبراهيم البزار

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 263

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 264

264 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَنَّادُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وَسَائِدُ مِنْ أَدَمٍ أَحْمَرَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ» . وَقَدْ شَهِدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ

معر کی روایت یہ ہے۔،،،،،،،،،،حضرت جابر بن عبد اللہ نے بھی کعب بن عجر ہ ؓ کے حوالے سے رسول اللہﷺکے اس ارشاد کی تصدیق کی ہے۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الوهاب القناد ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 264

chevron_left Previous
1…21222324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section