Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 241

241 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّينَ وَخَطِيبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرُ فَخْرٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِتَفَرُّدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَلِمَا نُسِبَ إِلَيْهِ مِنْ سُوءِ الْحِفْظِ، وَهُوَ عِنْدَ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنْ أَئِمَّتِنَا ثِقَةٌ مَأْمُونٌ»

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی سند میں عبدالله بن محمد بن عقیل ،طفیل بن ابی بن کعب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں اور ان کی طرف کسی نے بھی سوءحفظ کی نسبت نہیں کی اور یہ ہمارے آئمہ حدیث کے نزدیک ثقہ ہیں ، مامون ہیں۔

أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 241

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 242

242 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَلَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ» . إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ فِي آخِرِهِ " وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ «الْحَدِيثَ. وَقَدْ أَخْرَجَاهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَبِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ «.» وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عُمَرَ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُثْمَانَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 242 - على شرطهما

حضرت عمر بن خطاب ؓرسول اللہ صلى الله عليه وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں ”لا الہ ٰالا الله"کے سوا اور کوئی ایسا کلمہ نہیں جانتا ہوں جس کو انسان دل کے یقین کے ساتھ پڑھے اور اسی حالت پر مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے۔ یہ حدیث امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے یہ حدیث ان الفاظ اور اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کی ، تا ہم دونوں نےعتبان بن مالک کے حوالے سے محمود بن الربیع کی مفصل حدیث بیان کی ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم حرام کر دیتا ہے جو صمیم قلب سے "لا الہٰ الا اللہ" پڑھے اور امام بخاری ؒومسلم ؒ ان دونوں نے شعبہ، بشر بن المفضل اور خالد الحذاء کی روایت بھی نقل کی ہے جس کی سند ولید ابوالبشر، پھر حمران سے ہوتی ہوئی حضرت عثمان ؓ تک پہنچتی ہے (حدیث یہ ہے) نبی اکرمﷺنے فرمایا: جوشخص اس بات کا یقین رکھتے ہوئے فوت ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ جنتی ہے۔ اس روایت میں(حضرت عثمانؓ کے بعد) حضرت عمر ؓ کا ذکرنہیں ہے۔ اس کی ایک شاہد حدیث حضرت عثمان ؓسے بھی منقول ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے روایت نہیں کیا(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 242

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 243

243 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَا: ثنا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا جو شخص اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ اس پر نماز فرض ہیم ، وہ جنتی ہے۔

«مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 243

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 244

244 - حَدَّثَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ الْأَعْرَجِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الْعَاقُّ بوَالِدَيْهِ، وَالدَّيُّوثُ، وَرَجِلَةُ النِّسَاءِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالْقَلْبُ إِلَى رِوَايَةِ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ أَمْيَلُ حَيْثُ لَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُمَرَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 244 - صحيح الإسناد

حضرت عبد الله بن عمرؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے (1) ماں باپ کا نافرمان (۲) دیوث (۳) اور عورتوں کے بیچ میں چلنے والا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے نقل نہیں کیا ہے(اور اس کی سند میں)ایوب بن سلیمان کی طرف قلب زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں حضرت عمر ؓکا ذکر نہیں ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ الْأَعْرَجِ، أَنَّهُ ← سَلْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← مكرم بن أحمد القاضي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 244

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 245

245 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَتِفَيَّ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى الصِّرَاطِ دَاعٍ يَدْعُو يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْلُكُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَعْوَجُّوا، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ فَتْحَ شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ، قَالَ: وَيْلَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، فَالصِّرَاطُ: الْإِسْلَامُ، وَالسُّتُورُ: حُدُودُ اللَّهِ، وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ، وَالدَّاعِي الَّذِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللَّهِ، وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقُ وَاعِظُ اللَّهِ يَذْكُرِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 245 - على شرط مسلم ولا علة له

حضرت نواس بن سمعان ؓ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی مثال یوں بیان کی ہے، ایک پل ہے، اس کی دونوں جانب دو دیوار میں ہیں، ان دیواروں میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں۔ پل پر ایک منادی ندا دیتا ہے، کہتا ہے: اے لوگو! سب مل کر پل سے گز رو اور ادھر ادھر مت کابھٹکو، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھلوانا چاہتا ہے تو وہ منادی کہتا ہے : تو ہلاک ہو جائے ، اس کو مت کھولو کیونکہ اگر تو نے اسے کھولا تو اس میں گر جائے گا (اس مثال میں) پل "اسلام"ہے اور پردے "حدوداللہ" ہیں ۔ کھلے ہوئے دروازے ”محارم اللہ"اور پل پرندادینے والا" قرآن" ہے اور دوسر’’داعی" اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نیک سوچ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں اللہ کی یاد تازہ رکھتی ہے۔ یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور مجھے اس میں کوئی علت نہیں مل سکی۔

النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، صَاحِبِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← حرملة بن يحيى انبأ ابن وهب ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 245

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 246

246 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الرَّعْدُ وَالْحُمَّى، كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تَدْخُلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طِيبُهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا تَرَكَاهُ لِتَفَرُّدِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِيهِ بِالرِّوَايَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 246 - صحيح الإسناد

حضرت عبد الرحمٰن بن ازہرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جب کسی بندہ مومن کو بخار یا کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے لو ہے کو بھٹی میں ڈال دیا گیا ہو کہ اس سے لوہے کا زنگ دور ہو جا تا ہے اور خالص لوہا باقی بچ جا تا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخینؒ نے اسے روایت نہیں کیا ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے اس حدیث کو اس لئے ترک کیا ہے کہ حمیداپنے والد سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 246

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 247

247 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُوَ وَجِعٌ بِهِ الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أُمُّ مِلْدَمٍ» قَالَتِ امْرَأَةٌ: نَعَمْ، فَلَعَنَهَا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنِيهَا فَإِنَّهَا تَغْسِلُ - أَوْ تُذْهِبُ - ذُنُوبَ بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 247 - على شرط مسلم ولا علة له

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺایک خاتون کے پاس تشریف لائے، اس وقت اس کو شدید بخار ہورہا تھا، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "ام ملدم" (یعنی بخار)ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ بخار کو لعنتیں دینے لگی، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بیماری کو لعنت مت کرو کیونکہ یہ انسان کے گناہ اس طرح مٹادیتی ہے جسے بھٹی ،لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔ یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور مجھے اس میں کوئی علت بھی نہیں مل سکی۔ .

امْرَأَة نعم فلعنها الله ← النَّبِيُّ «أُمُّ مِلْدَمٍ» ← دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُوَ وَجِعٌ بِهِ الْحُمَّى، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ← خَالِد بن يزِيد أَنه ← نَافِعٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 247

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 248

248 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ الْعَدَوِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَخِلَّاءُ ثَلَاثَةٌ: فَإِمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ لَكَ: مَا أَعْطَيْتَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ فَذَلِكَ مَالُكَ، وَإِمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَتَّى تَأْتِيَ بَابَ الْمَلِكِ، ثُمَّ أَرْجِعُ وَأَتْرُكُكَ، فَذَلِكَ أَهْلُكَ وَعَشِيرَتُكَ يُشَيِّعُونَكَ حَتَّى تَأْتِيَ قَبْرَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَتْرُكُونَكَ، وَإِمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ فَذَلِكَ عَمَلُكَ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتَ مِنْ أَهْوَنِ الثَّلَاثَةِ عَلِيَّ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِالْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عَلَى هَذِهِ السِّيَاقَةِ وَلَهُ شَاهِدٌ قَدْ خَرَّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 248 - على شرطهما ولا علة له

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: دوست تین ہیں ۔ ایک دوست تجھے کہتا ہے:میں نے جو کچھ تجھے دیا ہے اور جو اپنے پاس روک رکھا ہے، اس میں سے کچھ بھی تیرا نہیں ہے(آپ ﷺنے فرمایا )یہ تیرامال ہے۔ دوسرا دوست کہتا ہے: ملک کے دروازے پر پہنچنے تک میں تیرے ساتھ ہوں پھر میں تجھے چھوڑ کر واپس آ جاؤں گا ( آپ ﷺنے فرمایا )یہ تیرے اہل وعیال اور تیرا خاندان ہے، جو تجھے قبر میں اتارنے تک تیرے ساتھ رہیں گے پھر تجھے اکیلا چھوڑ کر واپس چلے آئیں گے اور تیسرا دوست کہتا ہے :تو جہاں بھی رہے میں ہرقدم تیرے ساتھ ہوں ( آپ ﷺنے فرمایا )یہ تیراعمل ہے۔ پھر بندہ کہے گا: (اے میرے عمل)تو ان تینوں کی بہ نسبت میرے لئے زیادہ آسان تھا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے حجاج بن حجاج کی روایات نقل کی ہیں۔ مجھے اس حدیث میں کوئی علت نہیں مل سکی اور نہ ہی شیخین ؒ نے اس حدیث کو اس انداز میں بیان کیا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ الْعَدَوِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 248

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 249

249 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَتْبَعُ الْمُؤْمِنَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثَةٌ: أَهْلُهُ، وَمَالُهُ، وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدَةٌ، يَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ ". وَقَدْ تَابَعَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ الْحَجَّاجَ فَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

حضرت انس بن مالک ؓفر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : انسان کے مرنے کے بعد تین چیز میں اس کے پیچھے پیچھے آتی ہیں ۔ اہل وعیال، مال اورعمل ۔ ان میں سے ۲(اہل وعیال اور مال)و اپسں چلے جاتے ہیں اور"عمل" انسان کے پاس رہ جا تا ہے۔ حجاج سے عمران القطان نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے (ان کی حدیث درج ذیل ہے)

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 249

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 250

250 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، «وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ»

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا کسی بھی انسان کے تین دوست ہوتے ہیں اس کے بعد ابراہیم بن طہمان کی طرح پوری حدیث بیان کی ہے۔ اس حدیث کی ایک اور بھی شاہد حدیث موجود ہے جو کہ امام مسلمؒ کے معیار پر ہے(وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے)

«مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 250

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 251

251 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْأَجَلِ مَثَلُ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ قَالَ لَهُ مَالُهُ: أَنَا مَالُكَ خُذْ مِنِّي مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ أَحْمِلُكَ وَأَضَعُكَ فَإِذَا مِتَّ تَرَكْتُكَ، قَالَ: هَذَا عَشِيرَتُهُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: أَنَا مَعَكَ أَدْخُلُ مَعَكَ وَأَخْرُجُ مَعَكَ مِتَّ أَوْ حَيِيتَ، قَالَ: هَذَا عَمَلُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 251 - على شرط مسلم

حضرت نعمان بن بشیرؓفر ماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: مومن کی اور اس کی موت کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص کے تین دوست ہوں ۔ اس کا مال اس سے کہے گا: تو جو چاہتا ہے لے لے اور جو چاہتا ہے چھوڑ دے۔ دوسرادوست کہے گا: میں تیرے ساتھ ساتھ ہوں تیری خدمت کرتا رہوں گا لیکن جب تو مر جائے گا تو میں تجھے چھوڑ دوں گا ( آپ ﷺنے فرمایا)یہ اس کا خاندان ہے اور تیسرا کہے گا: تو زندہ رہے یا مر جائے، میں ہرلمحہ اور ہر قدم تیرے ساتھ ہوں ( آپﷺ نے فرمایا) یہ اس کاعمل ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 251

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 252

252 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحُرشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَةَ الْيَهُودِ، وَقَالَ: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي» فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ» . «وَقَدِ اسْتَشْهَدَا جَمِيعًا بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا أَعْرِفُ فِي الرُّخْصَةِ لَتَعَلُّمِ كِتَابَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 252 - هذا صحيح

حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں ،میں نے رسول اللہ ﷺکے حکم پر یہودیوں کی تحر یرسیکھی ۔ آپ ﷺنے فرمایا تھا: ”مجھے اپنے خطوط کے حوالے سے یہودیوں پراعتماد نہیں ہے"اس لئے میں نے ان کی تحریر سیکھ لی۔ ابھی پندرہ دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مجھے اس میں اچھی خاصی مہارت حاصل ہوگئی حضرت زید ) فرماتے ہیں: جب کچھ لکھوایا جاتا تو میں لکھ دیا کرتا تھا اور جب آپ کی طرف کوئی مکتوب آتا تو وہ بھی میں ہی آپ ﷺکو پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒنے عبدالرحمٰن بن ابی زیاد کی روایات نقل کی ہیں ۔ (امام حاکمؒ کہتے ہیں) میری نظر میں صرف یہی ایک حدیث ہے جس سے اہل کتاب کی تحریر سیکھنے کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔

خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 252

chevron_left Previous
1…2021222324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section