Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 181

181 - حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {إِلَّا اللِّمَمَ} [النجم: 32] قَالَ: " الَّذِي يُلِمُّ بِالذَّنْبِ ثُمَّ يَدَعُهُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ الشَّاعِرِ: [البحر الرجز] إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا ... وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا « .» وَهَذَا التَّوْقِيفُ لَا يُوهِنُ السَّنَدَ الْأَوَّلَ، فَإِنَّ زَكَرِيَّا بْنَ إِسْحَاقَ حَافِظٌ ثِقَةٌ، وَقَدْ حَدَّثَ بِهِ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا، وَقَدْ ذَكَرْتُ فِي شَرَائِطِ هَذَا الْكِتَابِ إِخْرَاجُ التَّفَاسِيرِ عَنْ الصَّحَابَةِ"

حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت ” إِلَّا اللِّمَمَ“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ آدی کسی گناہ میں مبتلا ہوا پھر اس کو چھوڑ دے۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے اے اللہ! اگر تو بخشنے پرآئے تو بے شمار گناہوں کو بخش دے اور اے اللہ ! وہ تیرا کون سا بندہ ہے جس کا تجھے خیال نہیں۔یہ سند اگر چہ موقوف ہے لیکن اس کی توقیف گزشتہ حدیث کی سند پر کسی طور پر اثر انداز نہیں ہوتی کیونکہ اس سند میں"زکریا بن اسحاق"حافظ ثقہ ہیں۔ یہ حدیث روح بن عبادہ نے زکریا کے حوالے سے روایت کی ہے اور میں نے اس کتاب کی شرائط میں ذکر کر دیا ہے کہ آیات قرانیہ کی تفسیر کے سلسلے میں صحابہ کرام ؓکا قول معتبر ہوگا۔

الَّذِي يُلِمُّ بِالذَّنْبِ ثُمَّ يَدَعُهُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ الشَّاعِرِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 181

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 182

182 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى» قَالُوا: وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 182 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میرا ہر امتی جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا (صحابہ کرامؓ نے )عرض کی:یا رسول اللہﷺ(جنت کا)انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت کا انکار کیا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک اور سندبھی ہے جو کہ حضرت ابو ہریرہؓ تک ہی پہنچتی ہے۔ وہ شیخینؒ کے معیار پر ہے۔(وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 182

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 183

183 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى وَشَرَدَ عَلَى اللَّهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ» . وَلَهُ شَاهِدٌ أَيْضًا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: تم لازمی جنت میں جاؤ گے، سوائے اس شخص کے جومنکر ہو اور بد کے ہوئے اونٹ کی طرح اللہ تعالیٰ سے بدک جائے۔ اس کی ایک شاہد حدیث ابوامامہ باہلی سے بھی منقول ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 183

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 184

184 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: مَرَّ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 184 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابوخالد کہتے ہیں: ایک مرتبہ ابوامامہ باہلیؓ خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس گئے تو ان سے کہا: مجھے کوئی لطیف بات بتایئے جو آپ نے رسول پاک ﷺسے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺکویہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے ہر شخص جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جو اللہ کی بارگاہ سے ایسے بدک جائے جیسے اونٹ اپنے مالک سے بدکتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مَرَّ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ ← أَبِي خَالِدٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 184

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 185

185 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، وَخِلَاسٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ أَهْلِ الدُّنْيَا فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ لِأَوْلِيَائِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَى تِسْعٍ وَتِسْعِينَ فَكَمَّلَهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا فِيهِ عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ مُخْتَصَرًا، ثُمَّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَكْمَلَ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى نَسَقِ حَدِيثِ عَوْفٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 185 - على شرطهما وأخرجا منه

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولﷺنے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ۱۰۰حصے ہیں، ان میں سے صرف ایک حصہ اہل دنیا کے لئے ہے، قیامت تک اسی حصہ رحمت سے اہل دنیا پر رحم ہوتا رہے گا اور بقیہ ۹۹ حصے اللہ تعالی ٰ نے اپنے دوستوں کے لئے رکھے ہوئے ہیں ۔ پھر یہ ایک حصہ بھی اللہ تعالیٰ ان ننانوے حصوں کے ساتھ ملا کر سو پورے کرلے گا پھر یہ سوحصے قیامت کے دن اپنے دوستوں کو عطا کرے گا۔یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخینؒ نے ان الفاظ کے ہمراہ اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے تا ہم امام بخاری ؒ اور مسلم ؒدونوں نے زہری کی وہ حدیث روایت کی ہے جس کی سند حمید بن عبد الرحمٰن کے ذریعے حضرت ابو ہریرہؓ تک پہنچتی ہے اور سلیمان التیمی کی وہ حدیث بھی روایت کی ہے جس کی سند ابوعثمان سے ہوتی ہوئی سلمان تک پہنچتی ہے پھر اس کو امام مسلم ؒنے عبدالملک بن سلیمان کے حوالے سے بھی نقل کیا ہے، جس کی سند عطاء بن ابی اباح کے ذریعے حضرت ابو ہریرہ ؓتک پہنچتی ہے اور یہ حدیث گزشتہ دونوں حدیثوں سے زیادہ جامع ہے۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث عوف کی طرز پر بھی موجود ہے۔( جو کہ درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ وَخِلَاسٍ ← عَوْفٌ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 185

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 186

186 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقُهَا طِبَاقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَقَسَمَ رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلَائِقِ وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِنَفْسِهِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ رَدَّ هَذِهِ الرَّحْمَةَ فَصَارَ مِائَةَ رَحْمَةٍ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ» . وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ مُفَسَّرٌ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 186 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پیدا کئے ، اس دن رحمت کے سوحصے پیدا فرمائے ۔ ہر حصہ رحمت کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ پھر الله تعالیٰ نے ایک رحمت مخلوقات میں تقسیم کر دی اور ننانوےرحمتیں اپنے پاس رکھیں، قیامت کے دن یہ ایک رحمت بھی ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا کر سو پوری کرے گا پھر یہ پوری۱۰۰ رحمتیں اپنے خاص بندوں کو عطا فرمائے گا۔ اس کی ایک اور شاہد حدیث بھی ہے جو کہ جندب بن عبد اللہ سے منقول ہے۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبا عثمان النهدي ← يزيد بن هارون أنبأ الحجاج بن أبي زينب ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 186

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 187

187 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ، ثنا جُنْدُبٌ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ عَقَلَهَا، فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا، ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُونَ أَهُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟» قَالُوا: بَلَى. فَقَالَ: «لَقَدْ حَظَّرَ رَحْمَةً وَاسِعَةً، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً تَعَاطَفَ بِهَا الْخَلَائِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا، وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، تَقُولُونَ أَهُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟»

حضرت جندبؓ بیان کرتے ہیں، ایک دیہاتی حضور ﷺکی بارگاہ میں آیا، اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کو باندھ دیا پھر حضور ﷺکے پیچھے نماز ادا کی ۔ جب رسول اللہ ﷺنے سلام پھیرا تو اس دیہاتی نے اپنا اونٹ کھولا اور اس پر سوار ہو گیا اور یوں پکارنے لگا:یا الله میرے اوپر اورمحمدﷺپر رحمت نازل فرما اور ہمارے حصے کی رحمت میں کسی اور کو شامل نہ کر۔ اس پر نبی اکرم ﷺنے صحابہ کرام ؓسے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ نا سمجھ ہے یا اس سے زیادہ اس کا اونٹ نا سمجھ ہے؟ تم نے سنا نہیں یہ کیا کہہ رہا ہے؟ صحابہ کرام ؓنے عرض کی:جی ہاں یا رسول اللدﷺ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اس نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو محدود سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورحمتیں پیدا فرمائی ہیں ، ان میں سے صرف ایک رحمت کی وسعت یہ ہے کہ جنات، انسان، جانور اور تمام مخلوقات کو اسی رحمت سے حصہ ملا ہے جس کی بناء پر یہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں جبکہ اس کی رحمت %99 الله تعالیٰ کے پاس موجود ہیں۔(اب بتاو ) یہ نا سمجھ ہے یا جانور؟

جُنْدُبٍ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 187

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 188

188 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ جَبْرَائِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَونَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»

حضرت ابن عباس ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ، فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس دیا کرتے تھے کہ یہ کہیں ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" نہ پڑھ لے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 188

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 189

189 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ " أَنَّ جَبْرَئِيلَ جَعَلَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَونَ الطِّينَ خَشْيَةَ أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ " أَوْ قَالَ: خَشْيَةَ أَنْ يَرْحَمَهُ اللَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 189 - على شرط البخاري ومسلم

اس مذکورہ سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ أَوْ ← أَنَّ جَبْرَئِيلَ جَعَلَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَونَ الطِّينَ خَشْيَةَ أَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 189

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 190

190 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ، قَالَ: «يُنْظَرُ فِي كِتَابِهِ وَيُتَجَاوَزُ عَنْهُ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُلْقِي اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 190 - على شرط مسلم

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺکو نماز میں یہ دعا مانگتے سنا"اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا" (يالله میرا حساب آسانی سے لینا) جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے پوچھا: آپ حساب میں کس طرح کی آسانی کی دعا مانگ رہے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: یہ کہ صرف نامہ اعمال کو دیکھ کر درگزر کر دیا جائے ۔ اے عائشہ! اس دن جس کے حساب کی تحقیقات شروع ہو گئیں وہ مارا جائے گا۔ مومن کو کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف پہنچے، اس کا اجروہ الله تعالی ٰکی بارگاہ میں پائے گا حتی ٰکہ کسی کے پاؤں میں اگر کانٹا بھی چبھ جائے (اس پر صبر کا اجر بھی بارگاالہیٰ میں ملے گا) یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین ؒنے اسے ان لفظوں کے ہمرانقل نہیں کیا ہے۔ تاہم دونوں نے ابن ابی ملیکہ کے ذریعے اُم المومنین سیدہ عائشہؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ ارشادنقل کیا ہے : "مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ "جس کے حساب کی تفتیش شروع ہوگئی وہ عذاب میں گرفتار ہوگا۔

فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 190

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 191

191 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 191 - لا والله يعني ليس على شرط البخاري كما قال الحاكم أبو بكر واه

حضرت شداد بن اوس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فر مایا عقل مند وہ ہے جو عاجزی اختیار کرے اور اپنی آخرت کیلئےعمل کرے اور محروم ہے وہ شخص، جونفسانی خواہشات سے باز نہ آئے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 191

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 192

192 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُؤْمِنُ مُكَفَّرٌ» . «قَدِ اتَّفَقَا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِجَهَالَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الزُّهْرِيِّ هَذَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 192 - غريب صحيح ما خرجاه لجهالة محمد

عامر بن سعد اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : مومن سخی ہوتا ہے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ دونوں نے عبدالرحمن بن حمید کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ شاید شیخین ؒ نے اس روایت کومحمد بن عبدالعزيز الزہری کے حالات معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ترک کیا ہے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← حُسَيْنُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 192

chevron_left Previous
1…151617…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section