المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 181
181 - حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {إِلَّا اللِّمَمَ} [النجم: 32] قَالَ: " الَّذِي يُلِمُّ بِالذَّنْبِ ثُمَّ يَدَعُهُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ الشَّاعِرِ: [البحر الرجز] إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا ... وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا « .» وَهَذَا التَّوْقِيفُ لَا يُوهِنُ السَّنَدَ الْأَوَّلَ، فَإِنَّ زَكَرِيَّا بْنَ إِسْحَاقَ حَافِظٌ ثِقَةٌ، وَقَدْ حَدَّثَ بِهِ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا، وَقَدْ ذَكَرْتُ فِي شَرَائِطِ هَذَا الْكِتَابِ إِخْرَاجُ التَّفَاسِيرِ عَنْ الصَّحَابَةِ"
حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت ” إِلَّا اللِّمَمَ“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ آدی کسی گناہ میں مبتلا ہوا پھر اس کو چھوڑ دے۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے اے اللہ! اگر تو بخشنے پرآئے تو بے شمار گناہوں کو بخش دے اور اے اللہ ! وہ تیرا کون سا بندہ ہے جس کا تجھے خیال نہیں۔یہ سند اگر چہ موقوف ہے لیکن اس کی توقیف گزشتہ حدیث کی سند پر کسی طور پر اثر انداز نہیں ہوتی کیونکہ اس سند میں"زکریا بن اسحاق"حافظ ثقہ ہیں۔ یہ حدیث روح بن عبادہ نے زکریا کے حوالے سے روایت کی ہے اور میں نے اس کتاب کی شرائط میں ذکر کر دیا ہے کہ آیات قرانیہ کی تفسیر کے سلسلے میں صحابہ کرام ؓکا قول معتبر ہوگا۔
الَّذِي يُلِمُّ بِالذَّنْبِ ثُمَّ يَدَعُهُ، أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ الشَّاعِرِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 181
