Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 169

169 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَإِنَّمَا أَوْدَعْتُهُ كِتَابَ الْإِيمَانِ لِلَفْظِ الشِّرْكِ فِيهِ، وَفِي حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ» فَقَدْ كَفَرَ " فَأَمَّا الشَّيْخَانِ فَإِنَّمَا أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعُمَرَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» فَقَطْ، وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ "

اس سند کے ساتھ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے تاہم اس میں"شرک‘‘ کی بجائے "کفر "کے الفاظ ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے نقل نہیں کیا ہے اور کیونکہ اس میں شرک کے الفاظ موجود ہیں اس لئے میں نے یہ حدیث" کتاب الایمان "میں ذکر کی ہے اور یہی حدیث مصعب بن المقدام سے بھی منقول ہے البتہ اس میں ”فقد کفر“ کے الفاظ ہیں جبکہ شیخین ؒنے اس حدیث کو سالم نافع اور عبد الله بن دینار کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺنے حضرت عمرؓ سے فرمایا :الله تعالیٰ تمہیں اپنے آبا کی قسمیں کھانے سے منع کرتا ہے (شیخین ؒ کی روایت صرف یہیں تک ہے اس میں شرک اور کفر کے الفاظ نہیں ہیں ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں اور گزشتہ حدیث میں فرق ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 169

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 170

170 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِيُّ وَالْحَيَاءُ: شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْجَفَاءُ: شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ «.» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت ابو امامہ باہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: عجز اور حیاء ایمان کی شاخیں ہیں جبکہ بے حیائی اورظلم نفاق کی شاخیں ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو کہ امام بخاری ؒ اور مسلمؒ دونوں کے معیار پر"صحیح " ہے۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← أبو غسان، ← سعيد بن أبي مريم المصري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 170

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 171

171 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، قَالَا: ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» . «وَلَهُ شَاهِدٌثَانٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 171 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا باعث ہے اور بے حیائی ظلم ہے او ظلم جہنم میں جانے کا سبب ہے۔: اس حدیث کی ایک اور حدیث بھی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) اور یہ امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 171

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 172

172 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ»

مذ کورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 172

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 173

173 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنِ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ» . «رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 173 - فيه انقطاع

حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشادفرمایا: وہ شخص کامل الایمان لوگوں میں سے ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جو اپنے اہل وعیال پر سب سے زیادہ مہربان ہو۔ اس حدیث کے از اول تا آخر تمام راوی امام بخاری ؒ اور مسلم ؒکے معیار کے مطابق ثقہ ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ حدیث ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کی۔

عَائِشَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 173

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 174

174 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ بِكَ، قَالَ: «أَتَفْعَلُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ الصَّفَا ذَهَبًا فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ، قَالَ: «بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ»

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :قریش نے نبی اکرم کﷺسے مطالبہ کیا کہ اگر وہ ہمارے لئے کوہ صفا کو سونا بنا دیں تو ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ﷺنے پوچھا: کیا تم واقعی ایمان لے آو گے؟ وہ کہنے لگے: جی ہاں۔ چنانچہ آپ ﷺنے ( کوہ صفا کے سونا بنے کی الله تعالیٰ کی بارگاہ میں) دعا کی ، اس پر جبریل امین علیہ السلام تشریف لے آئے اور آ کر عرض کیا: الله تعالیٰ آپ کو سلام فرماتا ہے اور کہتا ہے: اگر آپ چاہیں تو کوہ صفاسونا بن جائے گا(لیکن یہ لوگ اتنی بات یادرکھیں کہ ) پھر اس کے بعد اگر کسی نے آپ کا انکار کی تو ان کو اتناسخت عذاب دوں گا کہ کائنات میں کبھی کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کیلئے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں ۔ اس پر رسول اکرم ﷺنے عرض کی : (ان کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے ، ایمان کا موقع دے کر ،ان کے گرفتار ہلاکت ہونے کی بجائے ) توبہ اور رحمت کے دروازے کھلےر ہیں۔

قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ ادْعُ رَبَّكَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 174

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 175

175 [ص:120] حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَنَحْوِهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مَحْفُوظٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَعِمْرَانَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ مُحْتَجٌّ بِهِ، وَإِنَّمَا أَهْمَلَا هَذَا الْحَدِيثَ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - لِخِلَافٍ وَقَعَ مِنْ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ فِي إِسْنَادِهِ وَيَحْيَى كَثِيرُ الْوَهْمِ عَلَى أَبِيهِ»

مذکور و سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے صرف چند الفاظ مختلف ہیں۔یہ حدیث صحیح ہے اور ثوری کی اس حدیث سے محفوظ ہے جو انہوں نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے اور عمران بن الحکم اسلمی کبیرتابعی ہیں، ان کی روایات کومحدثین ؒ نقل کرتے ہیں اور اس حدیث کوشیخینؒ نے ترک کر دیا ہے ۔ واللہ اعلم۔ اس سند میں یحییٰ بن سلمہ بن کہیل سے اختلاف واقع ہوا ہے اوریحییٰ کو اپنے باپ سے روایت کرنے میں کثیر الوہم قرار دیا گیا ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 175

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 176

176 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ، بِبَغْدَادَ، وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَفْعَلُونُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَى جِبْرِيلُ، فَقَالَ: اسْتَوْثِقْ، ثُمَّ أُتِيَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَاكَ مَا سَأَلْتَ إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَكَ الصَّفَا ذَهَبًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالْإِنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ» . «هَذَا الْوَهْمُ لَا يُوهِنُ حَدِيثَ الثَّوْرِيِّ، فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ عِمْرَانَ بْنَ الْجَعْدِ فِي التَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا رَوَى إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، فَأَمَّا عِمْرَانُ بْنُ الْجَعْدِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ»

مذ کورہ سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ اور یحییٰ کا وہم ثوری کی حدیث کو کمزور نہیں کرتا کیونکہ میری معلومات کے مطابق عمران بن جعد کا شمار تابعین میں نہیں ہوتا کیونکہ اسماعیل بن خالد، جعد کے بھائی"عمران "سے روایت کرتے ہیں (جن کو عمران بن ابی جعد کہا جاتا ہے) اور جعد کے بھائی خود تبع تابعین میں سے ہیں (توجب جعد کا بھائی تبع تابعین میں سے ہے تو ان کا بیا تابعین میں سے کیسے ہو سکتا ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ الْجَعْدِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرَوَيْهِ الصَّفَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 176

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 177

177 - أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَمَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَكَرِهَهَا حِينَ يَعْمَلُ وَعَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَقَدْ ذَكَرْتُ فِيمَا تَقَدَّمَ مِنْ خِطْبَةِ عُمَرَ بِالْجَابِيَةِ وَأَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَهَذَا بِغَيْرِ ذَلِكَ اللَّفْظِ أَيْضًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 177 - على شرطهما

حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جو شخص گناہ کرنے پر پریشان ہو اور نیکی کرنے پرخوشی محسوس کرے وہ "مومن"ہے۔ حدیث امام بخاری ؒاور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخینؒ نے اس حدیث کو ان لفظوں کے ہمراہ ذکر نہیں کیا۔ میں نے حضرت عمر ؓکے خطبہ کے ضمن میں اسے ذکر کر دیا ہے اس کو بھی شیخینؒ نےنقل نہیں کیا جبکہ اس حدیث کے اور اُس کے الفاظ بھی الگ الگ ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَمَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ← دعلج بن أحمد السجزي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 177

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 178

178 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا قَبِيصَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُ كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 178 - على شرطهما

حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اے ابوذر! کہیں بھی رہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور(اگر کبھی گناہ کر بیٹھوتو) گناہ کے فورا بعد کوئی نیکی کروتویہ نیکی اس گناہ کو مٹادے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← قَبِيصَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 178

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 179

179 - حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنَّ أَبَا السِّمْطِ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَرَادَ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، قَالَ: «اعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي، قَالَ: «إِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي، قَالَ: «اسْتَقِمْ وَلْتُحَسِّنْ خُلُقَكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِنْ رِوَايَةِ الْبَصْرِيِّينَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 179 - صحيح الإسناد

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل ؓایک مرتبہ کہیں سفر کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمایئے؟ آپ ﷺنے فرمایا: صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراوّ(حضرت ابوذرؓ نے)عرض کیا: یا رسول الله ! مزید وصیت فرمائیے؟آپ ﷺنے فرمایا: جب کوئی گناہ کر بیٹھ تو فوراً کوئی نیک عمل کرو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مزید کوئی وصیت ؟ ۔ آپ ﷺنے فرمایا: اسی پر ثابت قدم رہو اورحسن اخلاق اپناؤ۔یہ حدیث صحیح ہے اس کی اسناد بصری ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، أَرَادَ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِيهِ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنَّ أَبَا السِّمْطِ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيَّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 179

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 180

180 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ} [النجم: 32] قَالَ: هُوَأَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْفَاحِشَةَ ثُمَّ يَتُوبُ مِنْهَا، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنْ تَغْفِرْ تَغْفِرْ جَمَّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا؟» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا خَرَّجَا حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَرَ شَيْئًا أَقْرَبَ بِاللَّمَمِ مِنَ الَّذِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، الْحَدِيثَ. وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا تَرَكَا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ لِلْحَدِيثِ الَّذِي " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 180 - على شرطهما

حضرت عطا ؓسے مروی ہے کہ ابن عباس ؓ نے(اس آیت ): الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ’’وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:(اس آیت میں گناہوں سے اجتناب کا مطلب یہ ہے کہ) اگر کسی شخص سے گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اس سے فورا ًتوبہ کر لے۔ پھر حضرت ابن عباس ؓنے کہا: رسول اللہ ﷺنے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا مانگی ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو بے شمار گناہوں کو معاف کردے اور ایسا کوئی بند ہ نہیں ہے جس کا تجھے خیال نہیں" یہ حدیث امام بخاری و امام مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے عبدالله بن طاوّس سے ان کے والد کے ذریعے حضرت ابن عباس ؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہؓ کے قول’’اللہ تعالیٰ نے انسان کی تقدیر میں اس کے زنا کا حصہ بھی لکھ دیا ہے ۔الخ۔ سے زیادہ گناہ کے قریب کوئی چیزنہیں ہے (امام حاکم ؒ کہتے ہیں) میرا یہ خیال ہے کہ شیخین ؒنے عمرو بن دینار کی حدیث مندرجہ ذیل حدیث کی وجہ سے چھوڑی ہے۔

الَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا تَرَكَا حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ لِلْحَدِيثِ الَّذِي على شرطهما ← عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، الْحَدِيثَ. ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← لَمْ أَرَ شَيْئًا أَقْرَبَ بِاللَّمَمِ مِنَ الَّذِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← هُوَأَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الْفَاحِشَةَ ثُمَّ يَتُوبُ مِنْهَا، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 180

chevron_left Previous
1…141516…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section