Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: " اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ، وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ إِنَّمَا أُرْسِلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا، فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ فَقَالَ يَحْيَى عَنْ مَنْ، فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ، فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ، وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: مَا أُبَالِي مَسِسْتُهُ أَوْ أتَّقِي، فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارُ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا، فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ

رجائ بن مرجی الحافظ بیان کرتےہیں : ایک دفعہ مسجد خیف میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ، میں ، علی بن امدینی اور یحییٰ بن معین جمع ہوئے اور ان کےدرمیان " مس ذکر" کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ یحییٰ بن معین کا موقف یہ تھا کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ علی بن المدینی نے احناف کا موقف اختیار کیا اور انہی کے قول کی تقلید کی۔ یحییٰ بن معین نے بسرہ بن صفوان کی حدیث سے دلیل دی اور علی بن المدینی نےقیس بن طلق کی ان کےوالد سے روایت کردہ حدیث بطور دلیل پیش کی اور یحییٰ بن معین سے کہا : آپ بسرہ کی روایت سے استدلال کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ مروان نے ایک فوجی بھیج کر معلوم کیا تھا اور اس نےآکر بسرہ کا جواب ان کو سنایا تھا؟ یحییٰ نے جواب دیا : تو عروہ نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود بسرہ سے جا کر ملے تھے اور وہ حدیث بالمشافہ خود ان سے حاصل کی تھی۔ پھر یحییٰ نے کہا : اکثر لوگوں کو قیس بن طلق پر اعتراض ہے اور ان کی حدیث کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: تم دونوں کا موقف درست ہے اور پھر یحییٰ نے مالک کے حوالے سے یہ قول نقل کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے "مس ذکر" سے وضو کیا تھا۔ علی نے جواب دیا : عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ( مس ذکر) سے وضو لازم نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی تو تمہارے جسم ہی کا ایک حصہ ہے ۔ یحییٰ نےکہا: اس کی سند کیا ہے؟ علی نے جواب دیا: عن سفیان عن ابی قیس عن ھزیل عن عبداللہ اور جب کسی مسئلہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ میں اختالف ہو تو اولیٰ یہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار کیا جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا ۔ ہاں ( یہ بات ٹھیک ہے لیکن ) ابو قیس الاودی کی حدیث کو دلیل نہیں بنا سکتے ۔ علی نے جواب دیا : مجھے ابو نعیم نے مسعر کے حوالے سے عمیر بن سعید کی روایت سنائی کہ عمار بن یاسر کہا کرتے ہیں : میں ذکر کو چھونےسے کوئی حرج محسوس نہیں کرتا ہوں۔ اس پر احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بولے: عمار اور ابن عمر رضی اللہ عنہ درجہ میں برابر ہیں ، جو چاہے عمار کی روایت اختیار کرے اور جو چاہے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت اختیار کر لے۔ یحییٰ نے جواب دیا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بہت فرق ہے۔

رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ الْعَدْلُ الْحَافِظُ،

Hadith 482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ» . تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ. «أَمَا حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ» . [التعليق - من تلخيص الذهبي] 483 - على شرطهما

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھا کرتےتھے تو ہم ذکر کو ہاتھ لگانے کے باعث ، وضو نہیں کرتے تھے۔ اعمش سے روایت کرنے میں ابو معاویہ اور عبداللہ بن ادریس نے بھی سفیان کی متابعت کی ہے۔ ابو معاویہ کی روایت درج ذیل ہے۔

الْأَعْمَشِ. «أَمَا حَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ» على شرطهما ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ فَلَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ» تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Hadith 483

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 484

484 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. «وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ» [ص:235].

ابو ادریس کی روایت یہ ہے۔

أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. «وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ» [ص:235]. ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Hadith 484

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 485

485 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 485 - على شرطهما

یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Hadith 485

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْلَعْ نَعْلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً خَلَعَ فَخَلَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: «مَا لُكُمْ» قَالُوا: خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا - أَوْ أَذًى» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، فَقَدِ احْتَجَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدَهُ الْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ عَنْ مَيْمُونٍ الْأَعْوَرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 486 - على شرط البخاري

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز کےلئے کبھی بھی نعلین مبارک نہیں اتارے ۔ صرف ایک مرتبہ اتارے تھے تو لوگوں نے بھی اتار دئیے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے جوتے کیوں اتارے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ( یارسول اللہﷺ ) آپ نےاپنےنعلین اتارے تو ہم نے بھی اتار دئیے ، حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتایا تھا کہ ان میں نجاست یا گندگی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کےمطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن المثنی ٰ کی روایت نقل کی ہیں اور اس کی ایک شاہد حدیث مشہور بھی موجود ہے جو میمون الا عورسے منقول ہے ۔ ( وہ روایت درج ذیل ہے)

أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ ← عبد الله بن المثنى الأنصاري، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Hadith 486

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: خَلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعْلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ. . . . .»

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے نعلین مبارک اتارے ( ۔۔۔۔۔ اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔۔) آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبرائیل نے بتایا ( ۔۔۔۔۔ اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے۔۔۔۔)

إِنْ ← خَلَعَ النَّبِيُّ نَعْلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Hadith 487

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 488

488 - ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ". وَشَاهِدَهُ حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 488 - على شرط مسلم

حضرت مغیرہ بن شیبہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کےلئے نکلتے تو کافی دور تک چلے جاتے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کی شاہد حدیث بھی ہے ۔ جو کہ اسماعیل بن عبدالملک نے ابو الزبیر سے روایت کی ہے ۔( وہ حدیث درج ذیل ہے)

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف

Hadith 488

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 489

489 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ أَبْعَدَ حَتَّى لَا يَرَاهُ أَحَدٌ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، نبی اکرم ﷺ کی یہ عادت کریمہ تھی کہ جب قضائے حاجت کرنا ہوتی تو اتنا دور نکل جاتے کہ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو جایا کرتے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 489

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 490

490 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: «مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَشَوَاهِدُهُ كَثِيرَةٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ فَأَوَّلُ شَوَاهِدِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 490 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے دریا کے پانی کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : دریا کا پانی پاک ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس کی پہلی شاہد حدیث درج ذیل ہے۔

مَاءِ الْبَحْرِ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 490

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 491

491 - مَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، كُلُّهُمْ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مَوْلًى لِآلِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . وَقَدْ تَابَعَ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ. أَمَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ زَاذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: وَأَنْبَأَ أَبُو يُوسُفَ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک شخص نےنبی اکرم ﷺ سے کہا : یارسول اللہ ﷺ ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں تو اپنے ساتھ زیادہ پانی نہیں لے جا پاتے ( وہ اتنا ہی ہوتا ہے کہ) اگر اس سے وضو کر لیں تو پیا سےرہ جانےکا خوف ہوتا ہے ، تو کیا ہمیں سمندر کےپانی سے وضو کرنے کی اجازت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا شکار حلال ہے۔یہ حدیث صفوان بن سلیم سے روایت کرنے میں عبدالرحمٰن بن اسحاق اور اسحاق بن ابراہیم المزنی نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی متابعت کی ہے، ان میں سے عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت درج ذیل ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مَوْلًى لِآلِ الْأَزْرَقِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← القعنبي كلهم ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ نَصْرٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مَا

Hadith 491

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 492

492 - الْكِيلِينِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِمَّنْ يَرْكَبُ الْبَحْرَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَتَزَوَّدُ شَيْئًا مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا فَهَلْ يَصْلُحُ لَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» وَقَدْ تَابَعَ الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ عَلَى رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں کچھ لوگ آئے جو اکثر سمندر کا سفر کیا کرتے تھے، وہ کہنے لگے:یار سول اللہ ﷺ ہم لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا بہت پانی رکھ لیتے ہیں ( لیکن اس کی مقدار اتنی ہوتی ہےکہ ) اگر اس پانی کے ساتھ ہم وضو کرلیں تو پینے کےلئے کچھ نہیں بچے گا، و کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کرنے کی اجازت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک اور اس کا میتہ حلال ہے۔ اس حدیث کو سعید ابن سلمہ المخزومی سے روایت کرنے میں الجلاح ابو کثیر نے صفوان بن سلیم کی متابعت کی ہے ( ان کی حدیث درج ذیل ہے)

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ نَفَرٌ مِمَّنْ يَرْكَبُ الْبَحْرَ، فَقَالُوا: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، ← سعيد بن سلمة ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ الْأَنْصَارِيُّ ← الْكِيلِينِيُّ بِالرِّيِّ،

Hadith 492

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 493

493 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ، أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَجَاءَهُ صَيَّادٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَنْطَلِقُ فِي الْبَحْرِ نُرِيدُ الصَّيْدَ فَيَحْمِلُ مَعَهُ أَحَدُنَا الْإِدَاوَةَ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يَأْخُذَ الصَّيْدَ قَرِيبًا، فَرُبَّمَا وَجَدَهُ كَذَلِكَ، وَرُبَّمَا لَمْ يَجِدِ الصَّيْدَ حَتَّى يَبْلُغَ مِنَ الْبَحْرِ مَكَانًا لَمْ يَظُنَّ أَنْ يَبْلُغَهُ، فَلَعَلَّهُ يَحْتَلِمُ أَوْ يَتَوَضَّأُ، فَإِنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ بِهَذَا الْمَاءِ فَلَعَلَّ أَحَدُنَا يُهْلِكُهُ الْعَطَشُ فَهَلْ تَرَى فِي مَاءِ الْبَحْرِ أَنْ نَغْتَسِلَ به أَوْ نَتَوَضَّأَ بِهِ إِذَا خِفْنَا ذَلِكَ، فَزُعِمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اغْتَسِلُوا مِنْهُ وَتَوَضَّئُوا بِهِ فَإِنَّهُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . «وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ وَقَدْ تَابَعَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ سَعِيدَ بْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ عَلَى رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ» .

جلاح ابو کثیر کی سعید ابن سلمہ کی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن ہم بارگاہ رسالت میں حاضر تھے تو ایک مچھیرا آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ﷺ ہم شکار کی غرض سے سمندروں کا سفر کرتےہیں ۔ اس لئے چھوٹے برتن میں پانی بھر کر ساتھ رکھ لیتے ہیں کیونکہ ہمیں امید ہوتی ہے کہ قریب ہی کہیں شکار مل جائے گا۔ کبھی ایسا ہو بھی جاتا ہے ( کہ قریب ہی شکار مل جاتا ہے) لیکن کئی مرتبہ شکار کی تلاش میں اتنی دور دور تک نکل جاتے ہیں کہ خود ہمارے وہم و گمان میں نہیں ہوتا کہ ہم ایسی جگہ پہنچ جائیں گے۔ اسی صورت میں کسی کو غسل یا وضو کی حاجت ہوتی ہے تو اگر ہم اس رکھے ہوئے پانی سے نہائیں یا وضو کریں تو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کوئی آدمی پیاس کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوجائے ۔ حضور ﷺ! جب حالات اس قدر سخت ہوں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے نہا نے یا وضو کرنے کی اجازت ہے؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ ) رسول اکرم ﷺ نے فرمایا سمندر کے پانی سے نہا بھی سکتے ہو اور وضو بھی کرسکتے ہو کیونکہ اس کا پانی پاک کنندہ ہے اور اس کا میتہ حلال ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے الجلاح ابو کثیر کی روایات نقل کی ہیں ۔ اس حدیث کی روایت میں یحییٰ بن سعید الانصاری اور یزید بن محمد القرشی نے سیعد بن سلمہ المخزومی کی متابعت کی ہے لیکن لفظوں میں تھوڑی تبدیلی ہے۔( یحییٰ بن سعید کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔)

كنا عند رسول الله يوما فجاءه صياد فقال ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، ← الْجُلَاحُ أَبُو كَثِيرٍ، أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيَّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بَكْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ،

Hadith 493

chevron_left Previous
12345…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section