Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 625

625 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا الْتَسْتُرِيُّ، وَثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَمَنْ رَأَتِ الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَهِيَ طَاهِرٌ، وَإِنْ جَاوَزْتِ الْأَرْبَعِينَ فَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ تَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلَاةٍ» . «عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُلَاثَةَ لَيْسَا مِنْ شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ شَاهِدًا مُتَعَجِّبًا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ق نے ارشاد فرمایا: نفاس والی عورتیں چالیس راتیں انتظار کریں ، اگر اس سے پہلے پاک ہو جائیں تو نماز پڑھیں اور اگر خون چالیس دن سے زیادہ تک آتا رہے تو یہ مستحاضہ کی طرح ہو گی۔ غسل کرکے نماز پڑھتی رہے گی اور اگر خوں کا غلبہ ہو تو ہر نماز کےلئے وضو کرے گی۔ عمرو بن الحصین اور محمد بن علاثہ شیخین رحمۃاللہ علیہما کے معیار کے راوی نہیں ہیں ، میں نے اس حدیث کو یہاں پر شاہد کے طور پر ذکر کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ← مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا الْتَسْتُرِيُّ، وَثنا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 625

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 626

626 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ وَلَقَبُهُ سُلَيْمٌ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَضَى لِلنُّفَسَاءِ سَبْعٌ، ثُمَّ رَأَتِ الطُّهْرَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ» . وَقَدِ اسْتَشْهَدَ مُسْلِمٌ بِبَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ فَإِنَّهُ شَامِيٌّ مَعْرُوفٌ، وَالْحَدِيثُ غَرِيبٌ فِي الْبَابِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 626 - غريب والأسود شامي معروف

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نفاس والی عورت کا خون اگر صرف سات دن میں بند ہو جائے تو وہ غسل کرکےنماز شروع کرلے۔ امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے نقیہ بن ولید کی روایت کو بطور شاہد پیش کیا ہے اور اس کے سند کے راوی اسود بن ثعلبہ شامی ہیں اور معروف ہیں اور حدیث اس باب میں غریب ہے۔

النَّبِيِّ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ وَلَقَبُهُ سُلَيْمٌ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 626

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 627

627 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: اجْتَمَعَتْ غَنِيمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيهَا» فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَأَمْكُثُ الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَبُو ذَرٍّ فَسَكَتُّ، فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ» فَدَعَا بِجَارِيَةٍ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ مَاءٍ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ، فَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، فَقَالَ: «الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِذْ لَمْ نَجِدْ لِعَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ رَاوِيًّا غَيْرَ أَبِي قِلَابَةَ الْجَرْمِيَّ وَهَذَا مِمَّا شَرَطْتُ فِيهِ، وَثَبَتَ أَنَّهُمَا قَدْ خَرَّجَا مِثْلَ هَذَا فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 627 - صحيح

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کافی سارا مال غنیمت آیا ، آپ ﷺ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم شروع کرو ، میں نے ربذہ ) وہ چیتھڑا جس سے اونٹ کو تار کول ملتے ہیں ) کی طرف سے آغاز کیا( حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) کیونکہ میں اس وقت حالت جنابت میں تھا، اس لئے میں نے وہاں سے ( جلدی جلدی ) پانچ چھ ( ربذات ) اٹھا ئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوذر ! میں خاموش رہا ، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اے ابو ذر ! تیری ماں تجھے روئے ( خاموش کیو ں کھڑے ہو ) پھر آپ ﷺ نے ایک لونڈی کو بلایا ، وہ لونڈی ایک ٹب میں پانی لے کر آئی ، پھر اس نے مجھے ایک کپڑے سے پردہ کیا اور میں نے اونٹ کی آڑ میں چھپ کر غسل کیا ( غسل کے بعد ) مجھے یوں لگتا تھا جیسے میرے اوپر ایک پہاڑ تھا جو ہٹ گیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پاک مٹی مسلمان کے وضو کا سامان ہے اگر دس سال تک کرتا رہے پھر جب پانی مل جائے تو جسم کو اس سے دھو لے کہ یہ بہتر عمل ہے۔یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، عمرو بن بجدان سے ابو قلابہ کے علاوہ اور کسی نے یہ حدیث روایت نہیں کی جبکہ یہ حدیث ہمارے معیار پر پوری ہے اور یہ بات بھی ثابت ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس طرح کی احادیث اپنی کتا بوں میں کئی مقامات پر نقل کی ہیں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 627

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 628

628 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَرَجُلٌ، آخَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهُ، فَخَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مِثْلَ هَذَا هَلْ مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ؟ قَالُوا: لَا، فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ، وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتَهُ لَكُمْ؟» فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَالَ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ} [النساء: 29] وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا عَلَّلَاهُ» . بِحَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الَّذِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 628 - على شرطهما

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ابو قیس بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ایک جنگی مہم پر تھے کہ ان کو اس قدر شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس سے پہلے کبھی اتنی سردی نہ دیکھی تھی، آپ نماز فجر کےلئے نکلے تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! مجھے تو گزشتہ رات احتلام ہو گیا ہے ، لیکن میں نے اتنی سردی بھی کبھی نہیں دیکھی تھی، کیا تمہارے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیش آیا؟ انہوں نےکہا :نہیں ۔ انہوں نے صرف بازو دھوئے اور وضو کرکے فجر کی نماز پڑھادی پھر یہ لوگ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان لوگوں سے "عمرو" اور اس کے حسن سلوک کے متعلق دریافت کیا، ان لوگوں نے حضرت عمرو بن العاص کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے : یارسول اللہ ﷺ ! انہوں نے ہمیں حالت جنابت میں نماز پڑھا دی ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوالیا، انہوں نے اس بات کی وضاحت کی اور اس سخت سردی کا حال بھی بتایا ( جس کی وجہ سے ان کو بغیر غسل کے نماز پڑھانا پڑی) اور کہنےلگے : یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو، اگر میں ( اس دن ) غسل کر لیتا تو مرجاتا، اس پر نبی اکرم ﷺ عمرو کی طرف دیکھ کر مسکرادئیے او ر کچھ نہ بولے۔) یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اورجہاں تک میریا خیال ہے شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس حدیث کو جریر بن حازم کی اس حدیث کی وجہ سے معلل سمجھا ہے جو انہوں نےیحییٰ بن ایوب کے ذریعے سے یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عمرو بن الحارث ورجل آخر

Hadith 628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 629

629 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: احْتَلَمَتْ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ، فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟» فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الِاغْتِسَالِ وَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: 29] فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا. «حَدِيثُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ هَذَا لَا يُعَلَّلُ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الَّذِي وَصَلَهُ بِذِكْرِ أَبِي قَيْسٍ فَإِنَّ أَهْلَ مِصْرَ أَعْرَفُ بِحَدِيثِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ»

حضرت یحییٰ بن ایوب رضی اللہ عنہ کی سند سے عمرو بن العاص کی اپنی زبانی بھی یہ واقعہ منقول ہے ، تاہم اس میں کچھ الفاط مختلف ہیں ۔ جریر بن حازم کی یہ حدیث عمرو بن الحارث کی اس حدیث کو معلل نہیں کرتی، جس میں " ابو قیس " کا نام مذکور ہے کیونکہ اہل مسر ، ان کی حدیثوں کو اہل بصرہ کی حدیثوں کی بہ نسبت زیادہ اچھے طریقے سے جانتے تھے۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← أسمع ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 629

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 630

630 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا، أَصَابَهُ جَرْحٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ» فَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ، وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجَرْحُ» . «وَقَدْ رَوَاهُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ مِنْ أَثْبَتِ أَصْحَابِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَمَاعَ الْأَوْزَاعِيِّ مِنْ عَطَاءٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 630 - على شرطهما

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کو زخم لگا پھر اس کو احتلام ہوا، اس نے غسل کرلیا ( زخموں کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے ) وہ مر گیا۔ یہ بات نبی اکرم ق تک پہنچی ، آپ ﷺ نے فرمایا : لوگوں نے اس کو قتل کیا۔اللہ انہیں قتل کرے ، کیا عاجز شخص کی شفاء سوال نہیں ہے( ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:اگر وہ اپنا جسم دھولیتا اور سر کا وہ حصہ چھوڑ دیتا جہاں زخم تھا ( تو بھی ٹھیک تھا) اس حدیث کو ہقل بن زیاد نے بھی اوزاعی سے روایت کیا ہے اور یہ اوزاعی کے معتمد علیہ شاگردوں میں سے ہیں ۔لیکن انہوں نے اوزاعی کے عطاء سے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ ( جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہے)

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 630

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 631

631 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِقْلٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَاسْتَفْتَى فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ» قَالَ عَطَاءٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ، وَتَرَكَ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجِرَاحُ أَجْزَأَهُ»

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک زخمی شخص پر غسل لازم ہو گیا ، اس نے کسی سے مسئلہ پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ غسل ضروری ہے ، اس نے غسل کر لیا، جس کی وجہ سے وہ مر گیا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے لوگوں نے مارا ہے ، اللہ ن کو مارے ۔ کیا پوچھ لینا عاجز کے لئے شفا نہیں ہے۔ عطا کہتے ہیں : مجھ تک یہ اطلاع بھی پہنچی ہے کہ بعد رسول اللہ ﷺ سے اس کےبارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اپنا جسم دھو لیتا اور زخم کی جگہ چھوڑ دیتا تو بھی اس کو کافی ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← هِقْلٌ ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ← هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ،

Hadith 631

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 632

632 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: «أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ» وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَعَادَ: «لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَافِعٍ ثِقَةٌ» ، وَقَدْ وَصَلَ هَذَا الْإِسْنَادَ عَنِ اللَّيْثِ وَقَدْ أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ [ص:287].

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : دو آدمی ایک سفر پر گئے ، نماز کا وقت ہوگیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا، اس لئے انہوں نے تیمم کرکے نماز ادا کی، ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ انہیں پانی مل گیا ، ان میں سے ایک نے دوبارہ وضو کرکے نماز دہرالی اور دوسرے نے نہ دہرائی پھر یہ دونوں رسول پاک ﷺ کےپاس آئے اور یہ واقعہ سنایا ، آپ ﷺ نےاس آدمی کو مخاطب کرکے، جس نے نماز نہیں دہرائی تھی، فرمایا: تو نے سنت ادا کی ، تیری وہ ہی نماز تیرے لئے کافی ہے اور جس نے وضو کرکےنماز دہرائی تھی، اس سے فرمایا: تیرے لئے دگنا اجر ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اس کے ایک راوی عبداللہ بن رافع ثقہ ہیں ، یہ حدیث لیث کی سند کےاعبار سےمتصل ہے اور ان کے علاوہ دیگر محدثین رحمۃاللہ علیہم کی سند کے اعتبار سے مرسل ہے۔( لیث کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ،

Hadith 632

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 633

633 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَمِيرَةَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 632 - على شرطهما وابن نافع ثقة تفرد بوصله

لیث کی سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے ایسا فرمان منقول ہے ۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عميرة بن أبي ناجية ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ،

Hadith 633

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 634

634 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ «.» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى حَدِيثِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ فِي التَّيَمُّمِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ ظَبْيَانَ وَهُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ أَوْقَفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ وَغَيْرُهُمَا، وَقَدْ أَوْقَفَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ فِي الْمُوَطَّأِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ غَيْرَ أَنَّ شَرْطِي فِي سَنَدِ الصَّدُوقِ الْحَدِيثَ إِذَا وَقَفَهُ غَيْرُهُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیمم دو ضربیں ہیں ، ایک ضرب چہرے کے لئے او ر ایک کہنی تک دونوں ہاتھوں کےلئے۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں نے تیمم کے حوالے سے " حکم " کی وہ حدیث نقل کی ہے جس کی سند "ذر " پھر سعید بن عبدالرحمٰن بن ابذیٰ پھر ان کے والد سے ہوتی ہوئی ابن عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور میری معلومات کے مطابق اس حدیث اس حدیث کی سند عبید اللہ کے حوالے سے علی بن ظبیان کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کی اور ی صدوق ہیں ۔ اسی حدیث کو یحییٰ بن سعید اور ہشیم بن بشیر اور دیگر محدثین رحمۃاللہ علیہما نے موقوف کر رکھا ہے۔ مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے بھی اس حدیث کو اپنے مؤطا میں نافع کے حوالے سے موقوفاً بیان کیا ہے لیکن الفاظ ذرا مختلف ہیں تاہم جس حدیث کو دیگر محدثین موقوف قرار دیں اس کو نقل کرنے کے لئے میرا یہ معیار تھا کہ وہ صدوق کی سند کے ہمراہ مروی ہو،

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 634

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 635

635 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَنْصُورٍ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي دَارِ الْمَنْصُورِ بِبَغْدَادَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا عَلَى الصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِهَا وُجُوهَنَا ثُمَّ ضَرَبْنَا ضَرْبَةً أُخْرَى الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا، فَمَسَحْنَا بِأَيْدِينَا مِنَ الْمِرْفَقِ إِلَى الْكَفِّ عَلَى نَابِتِ الشَّعْرِ مِنْ ظَاهِرٍ وَبَاطِنٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ شَاهِدًا لِأَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ، وَقَدِ اشْتَرَطْنَا إِخْرَاجَ مِثْلِهِ فِي الشَّوَاهِدِ»

۶۳۵-سالم اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تیمم کیا ، تو ہم نے اپنے ہاتھ پاک مٹی پر ملے اور جھاڑ کر چہروں پر مل لئے پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارے اور جھاڑ کر کہنیوں سے ہتھیلیوں تک بالوں کی جانب ، اندر اور باہر سے مسح کیا۔ یہ حدیث مفسر ہے ، میں نے اس کو شاہد کے طور پر نقل کیا ہے کیونکہ سلیمان بن ارقم اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں اور ہمارے بیان کیے ہوئے اصول کےمطابق ایسی احادیث شاہد کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ،

Hadith 635

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 636

636 - أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَايِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا شَبَابَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّيَمُّمِ: " ضَرْبَتَانِ: ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ «.» سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ أَيْضًا لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا ذَكَرْنَاهُ فِي الشَّوَاهِدِ «.» وَقَدْ رَوِينَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ "

۶۳۶-حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : تیمم میں دو ضربیں ہیں ، ایک چہرے کے لئے اور ایک کہنیوں تک دونوں ہاتھوں کے لئے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے سلیمان بن ابی داؤد کی حدیث بھی نقل نہیں کی اور میں نے اس کو شاہد کے طور پر نقل کیا اور ہم نے اس حدیث کا مفہوم سند صحیح کے ساتھ جابر بن عبداللہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ وَنَافِعٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ← شَبَابَةُ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَائِنِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ

Hadith 636

chevron_left Previous
1…151617…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section