Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 614

614 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَأْمُرُنَا فِي فَوْرِ حَيْضَتِنَا أَنْ نَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرَنَا، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا أَخْرَجَا فِي هَذَا الْبَابِ» حَدِيثَ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ نَتَّزِرَ، ثُمَّ يُضَاجِعُنَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 614 - على شرطهما

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں عین حالت حیض میں حکم دیتے تھے کہ ہم شلوار پہنیں رکھیں پھر آپ ہمارے ساتھ مباشرت فرماتے۔( پھر ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا) تم میں سے کون شخص اپنی خواہشات پر اس طرح قابو رکھ سکتا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ قابو رکھتے تھے۔) یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس سلسلے میں منصور وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے ابراہیم پھر اسود کے حوالے سے ام المومنین رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ ہمیں عین حالت حیض میں ازار پہننے کا حکم دیتے اور پھر ہمارے ساتھ لیٹ جاتے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 614

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 615

615 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو الْعَقَدِي، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ، وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا، قَدْ مَنَعْتَنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ، قَالَ: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ» قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيُّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا «هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ، وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ، فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي وَصُومِي، إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ» . «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الِاسْتِحَاضَةِ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي جَحْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِيهِ هَذِهِ الْأَلْفَاظُ الَّتِي فِي حَدِيثِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَرِوَايَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ مِنْ أَشْرَافِ قُرَيْشٍ وَأَكْثَرِهِمْ رِوَايَةً غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِهِ» . وَشَوَاهِدُهُ حَدِيثُ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرٍ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. وَحَدِيثُ أَبِي عَقِيلٍ يَحْيَى بْنِ الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ بُهَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ وَذِكْرُهَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ يَطُولُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 615 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، مجھے بہت شدید حیض آیا کرتا تھا تو میں اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی ۔میری آپ سے ملاقات میری بہن زینب بنت حجش کے گھر ہوئی ( حمبہ کہتی ہیں) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے اس قدر شدید حیض آتا ہے کہ میں نماز اور روزہ سے بھی عاجز آگئی ہوں ، آپ کا اس سلسلہ میں کیا مشورہ ہے: آپ ﷺ نے فرمایا : میرا مشورہ یہ ہے کہ روئی کا کوئی ٹکڑا رکھ لیا کرو کیونکہ وہ خون کو جذب کر لیتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا( یا رسول اللہ ﷺ) اس کا بہاؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ روئی سے کنٹر ول ہونیوالا نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو پھر میں تجھے دو مشورے دیتا ہوں ، تو ان میں سے کسی ایک پر عمل کر لے تو کافی ہے اور اگر دونوں پر عمل کرنے کی ہمت ہے تو بہت ہی بہتر ۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کی سازشوں میں سے ایک سازش ہے ( تم یوں کیا کرو) کہ چھ یا ست دن حیض کے شمار کیا کرو پھر غسل کر لیا کرو اور یوں سمجھا کرو کہ تم پاک ہو گئی پھر 23 ،24 دن نماز روزہ میں مشغول رہو، جیسے کہ عام عورتیں اپنے ایام حیض گزار تی ہیں اور مقررہ ایام میں طہر گزارتی ہیں ۔ تیرے لیے یہ کافی ہے اور اگر تیرے اندر ہمت ہو تو نماز ظہر کو اس کے آخری وقت تک لیٹ کر اور غسل کرلو، اس کے بعد ظہر کی نماز آخری وقت میں اور عصر کی نماز اول وقت میں( اسی غسل کے ساتھ ) ادا کر لو (یعنی) ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھو، اسی طرح مغرب کو لیٹ کرکے آخری وقت میں غسل کرکے ادا کرو اور عشاء کو اول وقت میں ( اسی غسل کے ساتھ ) ان دونوں نمازوں کو بھی اکٹھا کر لو، یوں نمازیں بھی ادا کرو اور روزے بھی رکھو، اگر تمہارے اندر اس بات کی طاقت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جو دو مشوریے دئیے ہیں ، ان میں سے مجھے یہ پسند ہے۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ دونوں نے استخاصہ کے متعلق حدیث ، امام زہری اور ہشام بن عروہ کے حوالے سے یوں بیان کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ( کہ یہ بات ) فاطمہ بنت ابی حجش رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھی اور اس حدیث میں وہ الفاظ نہیں ہیں جو حمنہ بنت حجش کی حدیث میں تھے اور عبداللہ بن محمد عقیل بن ابی طالب کی روایت میں ہیں اور یہ قریش کے مالدار لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کژیر الروایت تھے ، البتہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے ان کی روایا ت نقل نہیں کی۔اس حدیث کے شاہد کے طور پر امام شعبی کی وہ روایت پیش کی جاسکتی ہے جو انہوں نے مسروق کی بیوی قمیر کے حوالے سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور ابو عقیل یحییٰ بن المتوکل کی وہ حدیث جو انہوں نے بہیہ کے حوالے سے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، ان کو اس مقام پر ذکر کیا تو طوالت کا باعث بن جائے گا۔

فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ ← كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَفْتِيهِ، ← أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ← عمه عمران بن طلحة ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 615

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 616

616 - وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں ، ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا عبدالرحمٰن بن عوف کے نکاح میں تھیں ، ان کو سات سال تک مسلسل حیض آتا رہا ، رسول اللہﷺ نے ( اس کے متعلق ) فرمایا : یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ کسی رگ کا خون ہے، اس لئے تم ( نمازوں کے لئے غسل کر لیا کرو۔

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 616

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 617

617 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَحَاضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي» . «حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَالْأَوْزَاعِيِّ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا خَرَّجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ» . وَقَدْ تَابَعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَوْزَاعِيَّ عَلَى رِوَايَتِهِ هَذِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى هَذِهِ الْأَلْفَاظِ. «وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 617 - على شرطهما

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، ان کو سات سال حیض آتا رہا، نبی پاک ﷺ نے ان کو فرمایا: جب تک حیض آئے ، نماز چھوڑ دو اور جب ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔عمرو بن الحارث اور اوزاعی کی حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا، البتہ امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے سفیان بن عیینہ اور ابراہیم بن سعد کی حدیث زہری کے حوالے سے نقل کی ہے۔اس روایت کو انہی الفاظ کے ہمراہ اما م زہری سے روایت کرنے میں محمد بن عمرو بن علقمہ نے امام اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ( محمد بن عمرو کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے ۔)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 617

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 618

618 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 618 - على شرط مسلم

حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ ان کو مسلسل حیض آتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا : حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے ، جو پہچان میں آجاتا ہے ، اس لئے جب حیض کا خون آئے تو نماز مت پڑھو او ر جب کسی اور رنگ کا خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیو نکہ یہ کسی رگ کا خون ہوتا ہے۔

فاطمة بنت أبي حبيش: أنها كانت تستحاض ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 618

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 619

619 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَدِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتَحَاضَتْ مِنْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَسُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ وَتَتَوَضَّأُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 619 - على شرط مسلم

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا بڑے لمبے عرصے سے حیض میں مبتلا ہیں ، جس کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ پاتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ یہ شیطان کی طرگ سے ہے ۔ ان کو ایک ٹب میں بٹھا دو اگر پانی پر زردی غالب ہو تو اس کو چاہیے ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل کر لے ، یوں ہی مغرب اور عشاء کے لئے بھی ایک غسل کر لے اور ایک غسل فجر کےلئے او ر ان کے درمیان ( اگر طہارت کی حاجت ہو تو ) وضو کرلیا کریں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عدي بْنِ عَاصِمٍ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 619

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 620

620 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا»

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم ( خون میں ) گدلے پن کو اور زرد پن کو حیض میں شمار نہیں کرتی تھیں ۔

کُنَّا لَا نَعُدُّ الْکُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أيوب جميعا ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 620

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 621

621 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، - وَكَانَتْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَأُمُّ الْهُذَيْلِ هِيَ حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ فَإِنَّ اسْمَ ابْنِهَا الْهُذَيْلُ وَاسْمَ زَوْجِهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَقَدْ أَسْنَدَ الْهُذَيْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 621 - على شرطهما

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا ( وہ خاتوں ہیں جنہوں نے ) نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، آپ فرماتی ہیں : طہر کےبعد اگر گدلا یا زرد پانی آتا تو ہم اسے حیض میں شمار نہیں کرتی تھیں ۔ ) یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیچ کی سند میں ام الھذ یل ہیں ، یہ حفصہ بنت سیرین ہیں ، ان کے بیٹے کا نام حذیل ہے اور شوہر کا نام عبدالرحمٰن ہے حذیل بن عبدالرحمٰن نے بھی اپنی والدہ کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں ۔

أُمِّ عَطِيَّةَ وَکَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ ← أُمِّ الْهُذَيْلِ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 622

622 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُسَّةُ الْأَزْدِيَّةُ، قَالَتْ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْحَيْضِ، فَقَالَتْ: «لَا يَقْضِينَ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، لَا يَأْمُرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْرِفُ فِي مَعْنَاهُ غَيْرَ هَذَا وَشَاهِدُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 622 - صحيح

حضرت مسہ الازدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور عرض کیا: اے ام المومنین ، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہا عورتوں کو ایام حیض کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں ، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا:یہ نمازیں قضا نہیں کی جائیں گی کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج چالیس دن تک نفاس میں بیٹھی رہتیں ، لیکن نبی اکرم ﷺ ان کو ایام نفاس کی نمازیں قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یہ حدیث صحیح ہے ئ۔ لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اور مفہوم کی کوئی دوسری حدیث میرے علم میں نہیں،

حدثتني مسة الأزدية ← كثير بن زياد أبي سهل ← يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 622

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 622.1

622 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ يَعْنِي مِنَ الْكَلَفِ»

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ق کے زمانے میں عورتیں چالیس دن نفاس میں گزارتی تھیں اور ہم چھائیوں کی وجہ سے چہرے پر ورس ملا کرتی تھیں ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← مُسَّةَ، ← أَبِي سَهْلٍ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 622.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 623

623 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ لَا أُصَلِّي، فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَذِهِ فَاطِمَةُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلًا وَاحِدًا، ثُمَّ الطُّهُورَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِ، فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضٌ، أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ عَزِيزُ الْحَدِيثِ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 623 - كلا

حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری پھوپھی فاطمہ ابی حبیش رضی اللہ عنہا ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور کہنے لگیں : مجھے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ میں حہنمی نہ ہو جاؤں کیونکہ گزشتہ ایک دو سالوں سے میں نماز نہیں پڑھ سکی ۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ کے آنے کا انتظار کرو پھر جب آپ ﷺ تشریف لے آئے تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی خدمت میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تمام صورتحال بیان کر دی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اس کو کہہ دو کہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں کی مقدار میں نماز نہ پڑھا کرے پھر روزانہ ایک غسل کر لیا کرے اور ہرنماز کےلئے تازہ وضو کیا کرےاور خوب صفائی حاصل کیا کرے اور گھاس استعمال کی کرے کیونکہ یہ یا تو کوئی بیماری ہے یا شیطان کی حرکت ہے یا کوئی رگ کٹی ہے۔ ی) یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری و امام مسلم رحمۃاللہ علیہم نے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور اس سند میں عثمان بن سعید الکاتب بصری ہیں ، ثقہ ہیں ، عزیز الحدیث ہیں اور ان کی حدیث کو جمع کیا جاتا ہے۔

إِنِّي أَخَافُ ← جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 623

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 624

624 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وُقِّتَ لِلنِّسَاءِ فِي نِفَاسِهِنَّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا» . «هَذِهِ سُنَّةٌ عَزِيزَةٌ، فَإِنَّ سَلِم هَذَا الْإِسْنَادُ مِنْ أَبِي بِلَالٍ، فَإِنَّهُ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ، فَإِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ مِثْلِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 624 - تفرد به أبو بلال الأشعري عن ابن شهاب فإن سلم منه فإنه مرسل صحيح فإن الحسن لم يسمع من عثمان بن أبي العاص وله شاهد

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عورتوں کے لئے نفاس کی مدت چالیس دن ہے ۔یہ سنت عزیزہ ہے ، اگر اس اسناد کو ابو بلال کے حوالے سے تحفظ مل جائے تو یہ حدیث مرسل صحیح ہے کیونکہ حسن نے عثمان بن ابی العاص سے حدیث کا سماع نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی شاہد سند کے ہمراہ منقول ہے( شاہد حدیث درج ذیل ہے)

عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى التَّمِيمِيُّ ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 624

chevron_left Previous
1…141516…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section