Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 566

566 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدِّثْنَا عَنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا أَصَابَنَا فِيهِ عَطَشٌ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَنْحَرُ بَعِيرَهُ، فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا فَادْعُ لَهُ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ، فَأَظَلَّتْ ثُمَّ سَكَبَتْ فَمَلئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ ضَمَّنَهُ سُنَّةً غَرِيبَةً، وَهُوَ أَنَّ الْمَاءَ إِذَا خَالَطَهُ فَرْثُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَمْ يُنَجِّسْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ يُنَجِّسُ الْمَاءَ لَمَا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى كَبِدِهِ حَتَّى يُنَجِّسَ يَدَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 566 - على شرطهما

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: ساعۃ العسرۃ " ( تنگی کے حالات ) کے سلسلہ میں کوئی واقعہ ہمیں سنائیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم شدید گرمی کے موسم میں تبوک کی طرف نکے ۔ ہم ایک مقام پر پہنچے تو بہت شدید پیاس لگ رہی تھی۔ پیاس کی شدت اتنی تھی ، لگتا تھا کہ اس کی وجہ سے کئی لوگ مر جائیں گے ( اس شدت کا مداوا یوں کیا گیا کہ ) لوگوں نے اپنے اونٹ ذبح کرکے ان کے معدے سے گوبر نچوڑ کر پانی نکالا او ر پی کر پیٹ کی آگ بجھائی اور جو بچا ، اس کو اونٹ کے معدے میں محفوظ کر کے رکھ لیا( اس انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو دعا ئے خیر کا عادی بنایا ہے ، آپ ان کے لئے دعائے خیر فرمادیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں یہ بات پسند ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ( یارسول اللہ ﷺ ) چنانچہ پیارے آقاﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے ( دعا مانگنا شروع کی ) تو بادل گرجے ، پھر پورے آسمان پر چھا گئے اور پھر موسلا دھار بارش ہوگئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے تمام برتن وغیرہ بھر لئے پھر وہاں سے چل دئیے تو دیکھا کہ بارش صرف اسی مقام پر ہوئی جہاں لشکر موجود تھا ، اس مقام سے آگے نکلے تو بارش کا کوئی نام و نشان تک موجود نہ تھا۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔اور اس حدیث کے ضمن میں ایک سنت غریبہ بھی ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ پانی میں جب ما یوکل لحمہ ( وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ) کی لید گوبر وغیرہ پاپنی میں شامل ہوتو پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اگر ان جانوروں کے گوبر سے پانی ناپاک ہو جاتا ہوتا تو حضورﷺ کسی مسلمان کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ پانی جانور کے معدے میں ڈال کررکھے کیونکہ اس سے تو ہاتھ بھی ناپاک ہو جاتے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُتْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← حرملة بن يحيى انبأ ابن وهب ← أَبُو سَعِيدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 567

567 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْهُ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ، وَالطَّوَّافَاتِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عَلَى أَنَّهُمَا عَلَى مَا أَصَّلَاهُ فِي تَرْكِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا قَدْ شَهِدَا جَمِيعًا لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا صَحَّحَهُ مَالِكٌ، وَاحْتَجَّ بِهِ فِي الْمُوَطَّأِ، وَمَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ شَاهِدًا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» [ص:264].

کبشتہ بنت کعب بن مالک ، ابن ابی قتادہ کے نکاح میں تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ابو قتادہ ان کے پاس تشریف لائے، انہوں نے ان کے وضو کے لئے برتن میں پانی بھر کر رکھ دیا ، ایک بلی آکر اس میں سے پینے لگی ۔ ابو قتادہ نےبلی کے لئے برتن کو مزید جھکا دیا تو بلی نے اس میں سے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ کبشہ کہتی ہیں : ابو قتادہ نے مجھےدیکھ لیا کہ میں انہیں دیکھ رہی ہوں تو آپ مجھے کہنے لگے: اے میری بھتیجی کیا تمہں ( میرے اس عمل پر ) تعجب ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ( بلی ) ناپاک نہیں ہے کیونکہ یہ ان جانوروں میں سے ہے جو عموماً گھروں میں آتے جاتے رہتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہم،حدیث ترک رکنے میں اپنے قانون اور اصول پر عمل پیرا ہیں ۔ تاہم ان دونوں نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ مدنی راویوں کی روایات میں مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حرف آخر ہوتی ہے اور اس حدیث کو مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے صحیح قرار دیا ہے اور مؤطا میں اس کو نقل کیا ہے ۔علاوہ ازیں اسناد صحیح کے ہمراہ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔( وہ حدیث درج ذیل ہے)

أتعجبين يا بنت أخي؟ فقلت: نعم، ← كبشة: فرآني أنظر إليه ← ضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْهُ، ← كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ ← كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 567

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 568

568 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. . . . . . . . «وَقَدْ صَحَّ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ضِدُّ هَذَا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ أَيْضًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 567 - صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ( ۔۔۔ اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے ۔۔۔۔۔ ) اس حدیث کی سند بھی شیخین رحمۃ اللہ علیہما کےمعیا ر کے مطابق صحیح ہے لیکن اس کو بھی دونوں نے روایت نہیں کیا ہے۔

أُمِّهِ صَفِيَّةَ، ← مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ببخارى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 569

569 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ بِبُخَارَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَاضِي الْفُسْطَاطِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَطُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الْأُولَى بِالتُّرَابِ، وَالْهِرَّةُ مِثْلُ ذَلِكَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَإِنَّ أَبَا بَكْرَةَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَمَنْ تَوَهَّمَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ يَنْفَرِدُ بِهِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَإِنَّمَا تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ حُجَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 569 - على شرطيهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب بر تن میں کتا منہ ڈال جائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے اس کو سات مرتبہ دھوئیں ان میں پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ صاف کریں اور بلی کے منہ ڈالے کا بھی یہی حکم ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے ( اس کی سند میں ایک راوی ) ابو بکرہ ثقہ اور مامون ہیں اور بعض کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اس کی سند میں ابو عاصم سے صرف ابو بکرہ ہی روایت کرنے والے ہیں ، حالانکہ اس حدیث کی روایت میں منفرد ابو عاصم ہیں اور ان کی روایت قابل حجت ہوتی ہے ( جبکہ ابوبکرہ کے ساتھ ابو عاصم سے روایت کرنے والے ایک اور صحابی بھی ہیں ان کی حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَاضِي الْفُسْطَاطِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 570

570 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُهُورُ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الْأُولَى بِالتُّرَابِ، وَالْهِرَّةُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ» . «قُرَّةُ يَشُكُّ»

بکار بن قتیبہ اور حماد بن الحسن بن عبسہ نے ابو عاصم کی سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : برتن میں جب کتا منہ ڈال جائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے سب سے پہلے مٹی سے ( بعد میں چھ مرتبہ پانی سے ) اور بلی کا ایک یا دو مرتبہ دھو لیں۔قرۃ بن خالد سے بھی مذکورہ مفہوم والی ایک حدیث منقول ہے لیکن ان کے الفاظ میں تردد پایا جاتا ہے ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بكار بن قتيبة وحماد بن الحسن بن عنبسة ← أبو بكر عبد الله بن محمد بن زياد الفقيه ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 571

571 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْهِرَّةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ» - يَعْنِي غَسْلَ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْهِرَّةُ. «وَقَدْ شُفِيَ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ قُرَّةَ فِي بَيَانِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ»

ابو عاصم قرۃ بن خالد کے حوالے سے محمد بن سسیرین کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے بلی کے متعلق ایک مرتبہ یا ( شاید ) دو مرتبہ دھونے کا کہا ہے یعنی جب کسی برتن میں بلی منہ ڈال جائے تو اس کو ایک یا ( شاید ) دو مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ۔ علی بن نصر الجھضمی نے بھی قرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے اور تردد والے الفاظ انہوں نے بھی ذکر کئے ہیں ۔ ( ان کی روایت کردہ حدیث درجذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 572

572 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّارِمِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ» ثُمَّ ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْهِرَّ لَا أَدْرِي، قَالَ: مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ. قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ أَبِي فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْكَلْبِ مُسْنِدًا، وَفِي الْهِرَّةِ مَوْقُوفًا. تَابَعَهُ فِي تَوْقِيفِ ذِكْرِ الْهِرَّةِ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قُرَّةَ

نصر بن علی اپنے والد کے ذریعے قرہ بن خالد سے محمد بن سیرین کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب برتن میں کتا منہ ڈال جائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن کو سات مرتبہ دھوئیں ا ن میں سے پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ صاف کریں ۔ پھرابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلی کے متعلق میں کچھ نہیں جانتا ۔ آپ نے فرمایا: ایک مرتبہ یا ( شاید یہ فرمایا ) دو مرتبہ ۔ نصر بن علی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی کتاب ایک دوسرے مقام پر قرہ ، پھر ابن سیرین اور پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کتے کے بارے میں متصل اور بلی کے بارے میں موقوف حدیث دیکھی ہے۔بلی کا ذکر موقو فاً کرنے کے سلسلے میں قرہ سے روایت کرنے میں مسلم بن ابراہیم نے علی کی متابعت کی ہے۔ ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو مَعْشَرٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 572

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 573

573 - أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، وَثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالُوا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْهِرِّ يَلَغُ فِي الْإِنَاءِ، قَالَ: «يُغْسَلُ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ» . «فقَدْ ثَبَتَ الرُّجُوعُ فِي حُكْمِ الشَّرِيعَةِ إِلَى حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِي طَهَارَةِ الْهِرَّةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ»

مسلم بن ابراہیم قرہ کے ذریعے محمد بن سیرین کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: کہ انہوں نےبلی کے برتن میں منہ ڈالنے کے متعلق فرمایا: اس کو ایک مرتبہ ( شاید فرمایا ) دو مرتبہ دھولو۔ ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ) بلی کی طہارت کے حوالے سے مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف حکم شریعت کا رجوع ثابت ہوا (اور نتیجہ یہ نکلا کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْهِرِّ يَلَغُ فِي الْإِنَاءِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 574

574 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَخِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ مَيْتَةٌ، فَقَالَ: «دِبَاغُهُ يَذْهَبُ بِخَبَثِهِ، أَوْ نَجَسِهِ، أَوْ رِجْسِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 574 - صحيح لا أعرف له علة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم ﷺ نے ایک مشکیزے سے وضو کرنے کا ارادہ کیاتو کسی نے آپ ﷺ سے کہا : یہ مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو رنگنے سے اس کی نجاست ختم ہو جاتی ہے۔ ( راوی کو شک ہے کہ اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے خبث کا لفظ بو لا یارجس بولا تھا) یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے۔

أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيْتَةٌ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَخِيهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 575

575 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ الْمُدُّ، وَمَنَ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَا يَكْفِينَا ذَلِكَ يَا جَابِرُ، فَقَالَ: «قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعْرًا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 575 - على شرطهما

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا : وضو کے لئے ایک "مد" اور غسل کے لئے ایک " صاع" پانی کافی ہے ۔ ایک شخص کہنے لگا : اے جابر ! ہمارے لئے تو اتنا پانی نا کافی ہے ۔ اس پر جابر نے جواباً کہا: اتنا پانی اس ذات کو تو کفایت کر گیا جو تجھ سے بہتر ہے ( یعنی جس کو تجھ سے زیادہ طہارت کی فکر ہوتی ہے) اور جس کے بال تجھ سے زیادہ گھنے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں ، ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 576

576 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْهِسِنْجَانِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ، فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِحَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 576 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اپنے بازوں کو ملتے ہوئے ، اس کے ساتھ وضو کر لیا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حبیب بن زید کی روایات نقل کی ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْهِسِنْجَانِيُّ، ← فَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 577

577 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا نَتَوَضَّأُ رِجَالًا وَنِسَاءً وَنَغْسِلُ أَيْدِيَنَا فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» . إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ. «وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ يَنْفَرِدُ بِهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَأَنَا أَذْكُرَهُ مُحْتَسِبًا لِمَا أُشَاهِدُهُ مِنْ كَثْرَةِ وَسْوَاسِ النَّاسِ فِي صَبِّ الْمَاءِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 577 - على شرطهما

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہم ( گھر کے) مرد اور عورتیں ایک ہی برتن میں وضو کر لیتے تھے اور ہاتھ دھولیا کرتے تھے۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کےمطابق صحیح ہے ۔ لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ہمراہ اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کی سند میں خارجہ بن مصعب منفر ہیں ( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ) میں نے اس حدیث کو اس لئے ذکر کیا تاکہ عوام الناس پانی بہانے کے حوالے سے اس وسوسہ سے بچ جائیں جس کا عام طور پر میں نے مشاہدہ کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الحسين بن محمد القباني ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 577

chevron_left Previous
1…101112…20
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section