المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 348
348 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَإِذَا عِنْدَهُمْ جَوَارِي يُغَنِّينَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: أَتَفْعَلُونَ هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: «إِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ وَإِلَّا فَامْضِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ فِي الْعُرْسِ، وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمَيِّتِ»
عامر بن سعد الجبلی کہتے ہیں : میں حضرت قرظہ بن کعب اور حضرت ابو مسعود اور حضرت زید بن ثابتؓ کے پاس گیا تو ان کے پاس چھوٹی بچیاں گانا گا رہی تھیں ۔ میں نے ان سے کہا :تم رسول پاک ﷺکے صحابی ہو کر گانے سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اگرتم سننا چاہتے ہو تو سنو، ورنہ چپ کر کے چلے جاو۔ کیونکہ ہمیں رسول اللہﷺنے خوشی کے موقع پر"لہو" کی اور فوتگی کے وقت رونے کی اجازت دی ہے۔
أَبِي مَسْعُودٍ، ← دَخَلْتُ عَلَی قُرَظَةَ بْنِ کَعْبٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يحيى بن عبد الحميد ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ
Hadith 348
